۔ ”دریا بولتا ہے“ ۔۔ محمد یعقوب آسیؔ

محمد یعقوب آسی نے 'آپ کی شاعری' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏14 نومبر 2018

  1. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی رکن

    مراسلے:
    169
    بھری محفل میں تنہا بولتا ہے
    وہ اپنے قد سے اونچا بولتا ہے

    وہ اپنی ذات کے زنداں کا قیدی
    پسِ دیوار تنہا بولتا ہے

    یہ ہونا تھا مآلِ گریہ بندی
    سرِ مژگاں ستارہ بولتا ہے

    مہِ کامل کو چپ سی لگ گئی ہے
    مرے گھر میں اندھیرا بولتا ہے

    مرے افکار کی موجیں رواں ہیں
    مرے لہجے میں دریا بولتا ہے

    یہ کیا کم ہے کہ میں تنہا نہیں ہوں
    یہاں کوئی تو مجھ سا بولتا ہے
    محمد یعقوب آسیؔ ۔۔ ۲۸ اگست ۱۹۹۶ء​
    ٘لفظ کھو جائیں گے“ (2015ء) صفحہ 83۔
  2. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی رکن

    مراسلے:
    169
    مری حیات کی لکھی گئی کتاب عجیب
    غریب متن ہے اس کا تو انتساب عجیب

    کسی کے ہجر نے کانٹے خیال میں بوئے
    حصارِ خار میں مہکے مگر گلاب عجیب

    اَزَل کے حبس کدوں میں چلی ہوا تازہ
    نگاہِ ناز نے وا کر دئے ہیں باب عجیب

    قدم تو کوچۂ جاناں کو اُٹھ گئے از خود
    انا کی جان پہ ٹوٹے مگر عذاب عجیب

    وفورِ شوق میں آنکھیں سوال ہوتی ہیں
    لبوں پہ کانپتے رہتے ہیں اضطراب عجیب

    فرازِ طور پہ لفظوں کو افتخار ملا
    سوالِ شوخ سے بڑھ کر ملا جواب عجیب

    رگِ حیات کہاں، لامکاں کی بات کہاں
    جنابِ شیخ نے پیدا کئے حجاب عجیب​
    محمد یعقوب آسیؔ ۔۔ ۲۰ مارچ ۱۹۹۵ء​
    ٘لفظ کھو جائیں گے“ (2015ء) صفحہ 78، 79۔
  3. مدثر حسین

    مدثر حسین رکن

    مراسلے:
    2
    عمدہ جناب
  4. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی رکن

    مراسلے:
    169
    ایک شعر مرتجل: منگل ۲۰ نومبر ۲۰۱۸ء
    فغاں جہاں سے بھی اٹھتی ہو، اُس پہ کیا موقوف
    یہاں سماعتیں بیگانہ ہوتی جاتی ہیں
    ۔۔۔۔
    ایک اور شعر مرتجل: منگل ۲۰ نومبر ۲۰۱۸ء
    صدا پلٹ کے خیاباں سے اب نہیں آتی
    پکار کر سرِ صحرا بھی دیکھتے چلئے
    ۔۔۔۔


اس صفحے کی تشہیر