ہوٹل ریویو

ابو یاسر نے 'دیس دیس کے رنگ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏1 مارچ 2011

  1. ابو یاسر

    ابو یاسر رکن

    مراسلے:
    622
    یہاں آپ کو میں اپنی پسند کے ہوٹلس سے متعارف کرواونگا۔ جہاں میں گیا ہوں اور ٹیسٹ کیا ہے۔ آپ بھی یہاں اپنا ٹیسٹ شیئر کریں۔
    ممبئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بمبئی کا شالیمار ہوٹل
    [​IMG]
    اوسط سے کچھ مہنگے اور اعلی سے کافی سستے ہوٹل میں سے ایک ، بریانی لاجواب اور سروس میں بھی اچھا ہے۔ صاف صفائی اعلیٰ نیز کریڈٹ وڈیبٹ کارڈ کی سہولیات کے ساتھ یہ ایک بہت ہی اچھا ریسٹورنٹ ہے۔ کم از کم ہمارے جیسے اوسط درجے کے لوگوں کے لیے تو ٹھیک ہی ہے مگر میں بھی کبھی کبھار ہی وہاں کھاتا تھا کیونکہ وسط ممبئی بھنڈی بازار جیسے مشغول ترین علاقہ جو کہ میرے ٹھکانے سے کافی دور ہے۔ نیز ہم دوستوں کا کھانے کا پروگرام جب بھی بنتا (زیادہ تر کریڈٹ کارڈ کے بل ولیڈیٹی کے دن)
    ہم وہاں پہنچ جاتے۔ اس طرح کسی کو بھاری بھی نہیں پڑتا اور سب سے ملاقات بھی ہوجاتی تھی۔
  2. ابو یاسر

    ابو یاسر رکن

    مراسلے:
    622
    آج میں آپ کو ریاض کے نیو دکن ریسٹورینٹ سے متعارف کرانے جا رہا ہوں۔
    ریاض کا بطحاء نامی علاقہ ایک ایسا مقام ہے کہ جس کے بارے میں ہر کوئی جانتا ہے اور ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ کوئی پردیسی ریاض آئے اور اسے بطحاء کے بارے میں نہ معلوم ہو۔ یہاں مختلف ملکوں کے نام سے مارکیٹس ہیں جیسے بنگالی مارکیٹ ، فلپینی مارکیٹ ، نیپالی مارکیٹ وغیرہ
    ظاہر ہے، جب کئی طرح کے لوگ ہونگے تو کئی طرح کے کھانے بھی ہونگے اور اسی مناسبت سے ذائقے بھی
    ہندی ، پاکستانی ذائقوں میں لگ بھگ ہر چیز کامن ہے مگر کچھ وہ چیزیں جو کسی مخصوص علاقے کی خاص ہوتی ہیں وہ وہیں کھائیں تو مزہ دیتی ہیں۔
    جیسے کہ ممبئی کا مشہور وڈا پاوں ، وہاں کے ساحلوں (چوپاٹی) کی بھیل پوری اور پانی پوری ۔اس موضوع پر ان شاء اللہ آگے لکھتا ہوں ابھی ذرا ارجنٹ کام ہے۔
  3. اسحاق

    اسحاق رکن

    مراسلے:
    40
    بھائی جلدی لکھیں کیونکہ کھانے وقت ہو رہا ہے -
  4. عندلیب

    عندلیب رکن

    مراسلے:
    866
    شکریہ بھائی ۔
    بھائی یہ وڈا پاوں بنانے کی ترکیب بھی شئیر کردیں تو ہم جیسوں کا بھلا ہوجائے گا۔
  5. ابو یاسر

    ابو یاسر رکن

    مراسلے:
    622
    بطحاء کی بڑی کبری (بریج) جو کہ منفوحہ کی طرف جاتی ہے اس کے عین نیچے جنکشن نما ایریا ہے سونے کےزیورات کی ماکیٹ بھی اسی سمت میں ہے ذرا آگے چلنے پر "نیو دکن ریسٹورنٹ" آپ کو نظر آ جائے گا اس محلے میں ہوٹل زیادہ ہیں۔
    پانی پری :
    [​IMG]
    مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ یہاں پانی پری بھی ملتی ہے ۔ اسے گول گپے بھی کہتے ہیں یہ سخت قسم کی پوریاں ہوتی ہیں جنہیں میں آلو چاٹ ڈال دیتے ہیں اور پھر کھانے والا اس میں تیکھی اور کچھ کھٹی چٹنی کا پانی ڈال کر سرو کرتا ہے۔ چٹپٹا کھانے والوں کی مرغوب غذا ہے اسی لیے بمبئی میں شام کے وقت عام طور پر جگہ جگہ اس کے ٹھیلے لگے نظر آتے ہیں۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ اس سے پیٹ نہیں بھرتا۔

    بات دکن ریسٹورنٹ کی تھی، ابھی ایک نئی ڈش سے تعارف ہوا ہے ۔ "ہریس" نام کے اس ڈش کو کھا کر ویسا ہی لگا جیسا کہ محرم (غیر محرم میں بھی) کھچڑا کھا کر لگتا ہے صرف اس میں دلیہ ، چاول کی جگہ صرف اور صرف چکن کے ریشے تھے۔یہاں یہ بات بتاتا چلوں کہ پیالی کی ڈیزائن دیکھ کر لگا کہ کافی بھری ہوئی ہے مگر اسے عرف عام میں "چور ڈیزائن" کہہ لو 5 ریال میں بس اتنا ملا کہ دانت گیلے ہوجائیں۔ ویسے اس کے ذائقے کا کیا کہنا

    [​IMG]
    ایک بینر
    [​IMG]

    اس ہوٹل کی خاص بات یہ لگی کہ یہاں بمبئی کے ان چیزوں کے بھی دیدار ہوئے جو مجھے نہیں لگتا تھا کہ سعودی میں بھی بنتے ہونگے جیسے کہ بھجیا (پیاز کے بنے پکوڑے) گو کہ نیسٹو میں وڈا کھا چکے تھے مگر اس میں "وہ" بات نظر نہیں آئی اور وڈا بنا پاوں کے بے کار میرے خیال سے نیسٹو والوں کو ایک عدد مراٹھی باورچی ہائر کر لینا چاہیے۔
  6. ابو یاسر

    ابو یاسر رکن

    مراسلے:
    622
    [​IMG]
    زیادہ کچھ خاص نہیں مگر بنانے والے کے ہاتھ کی کاریگری ہوتی ہے۔
    صرف آلو کے بھرتے کو چنے کے بیسن میں ڈبا کر تل دیتے ہیں پھر اسے برگر جیسے ڈبل بریڈ میں رکھ دیتے ہیں(اسے پاو) کہتے ہیں جوکہ ممبئی میں ہر جگہ مل جاتا ہے اور اسے غریبوں کی خوراک کہتے ہیں۔ اس کے ساتھ پڑنے والا "گھاٹی" مصالحہ بھی خاص اہمیت کا حامل ہے نیز گجراتی لوگ اس میں میٹھی چٹنی یوز کرتے ہیں جو کہ سعودی میں نہیں ابھی تک نہیں ملی۔
  7. عندلیب

    عندلیب رکن

    مراسلے:
    866
    بھائی ہمیں بھی بتائیں کہ اس میں کونسی خاص قسم گھاٹی یا مصالحہ استعمال کیا جاتا ہے۔ آپ کو تو اس بات کا علم ہوگا ۔۔؟
    اور ہوسکے تو پاو بھاجی بنانے کی ترکیب بھی شئیر کریں۔ پیشگی شکریہ!
  8. ابو یاسر

    ابو یاسر رکن

    مراسلے:
    622
    مجھے پاو بھاجی پسند نہیں
    وجہ ، یہ نہیں کہ اس کا ذائقہ ٹھیک نہیں بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ جہاں بھی ملتی ہے بہت مہنگی ملتی ہے۔
    دراصل یہ ٹماٹر ، پیاز ، آلو ، شملہ مرچ کو گھونٹ کر بنائی جاتی ہے اور اس کو امول مسکے سے بگھار دیتے ہیں نیز توا کھالی کرکے اس میں پاو کو بھی تھوڑا سیک لیتے ہیں اس سے مزہ دوبالا ہو جاتا ہے۔ میں کوئی باورچی تو ہوں نہیں کہ باقاعدہ ترکیب لکھوں جتنا دیکھا لکھ دیا۔
    ویسے بتا دوں کہ آخری بار میں نے 2001 میں اسے ورلی پاسپورٹ آفس (پاسپورٹ بنانے گیا تھا) کے پاس کھایا تھا جب سے اب تک صرف کھاتے دیکھا ہے۔
  9. حیدرآبادی

    حیدرآبادی رکن

    مراسلے:
    656
    یہ میں برسوں پہلے ممبئی کی پہلی وزٹ میں کھا چکا ہوں۔ ذرا سے دو پیس کیا کھائے یہاں کا ایک چھوٹا پیزا کھانے کے برابر پیٹ ہیوی ہو گیا تھا پاشا۔
    اماں بھائی پاشا کئیکو پیسہ بچانے کی سوچتے ہمیشہ؟ صرف پانچ ریال ہی میں تو ملتا ہے یہیں انارکلی کے پاس والی دکن سویٹ پر۔ ابھی پرسوں منگایا تھا۔ مزیدار تھا۔
  10. ابو یاسر

    ابو یاسر رکن

    مراسلے:
    622
    اے یساااااااااااااااا!
    بار بار لالچ دلا کر حارہ کے چکر لگانے پر مجبور نہ کرو
    لولز

اس صفحے کی تشہیر