ہاں میں پلٹ رہی ہوں

ابن آدم نے 'افسانے' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏27 مارچ 2018

  1. ابن آدم

    ابن آدم کتب کمپوزر

    مراسلے:
    600
    "کس قدر بد تمیز شخص ہے."

    علیشہ نے بیک ویو مرر سے بار بار اپنی طرف گھورتے ٹیکسی ڈرائیور کے بارے میں دل ہی دل میں پیچ و تاب کھاتے ہوئے سوچا اور پھر ساتھ پڑے موبائل کی سکرین پر نظریں جما دیں.

    اگرچہ علیشہ اب چالیس سال کی ہونے کو تھی لیکن چہرے اور جسامت سے کسی صورت تیس سے اوپر کی نہیں لگتی تھی. کچھ قدرتی حسن اور کچھ باقاعدہ ورزش اور محتاط خوراک کا کمال تھا کہ جب بھی نکلتی لوگوں کی نظریں دور تک اسکا پیچھا کرتیں. یوں بھی وہ ایک الٹرا ماڈرن، فیشن ایبل خاتون تھی. جو لباس پہنتی وہ چھپاتا کم اور دکھاتا زیادہ تھا.
    اپنے والدین کی اکلوتی بیٹی تھی. والد کا وسیع کاروبار تھا جسے پھیلاتے، اٹھاتے، اڑاتے، سنبھالتے وہ اپنے دل کو نہ سنبھال سکے اور پانچ سال قبل اچانک حرکت قلب بند ہونے کی بدولت اس دار فانی کی مادی دوڑ سے آؤٹ ہو گئے تھے. علیشہ شروع سے ہی کیرئیر پر توجہ مرکوز رکھنے والی لڑکی تھی. ایک پروفیشنل لیڈی انٹرپرینیور بننے کا خواب ہمیشہ سے اسکے دل میں سمایا اور دماغ پر چھایا رہا تھا. امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی سے ایم بی اے اور پھر پی ایچ ڈی کر کے آئی تھی. اور کیریئر کی اسی جستجو میں اس نے اپنی جوانی بھی قربان کر دی اور توجہ بٹنے کے ڈر سے شادی کا جھنجھٹ بھی نہ پالا.
    والد اسکے ہاتھ پیلے کرنے کی آس دل میں لئیے ہی کوچ کر گئے. ویسے بھی بیشمار رشتے دیکھنے اور شادی کیلئے بہت زور لگانے کے بعد دونوں میاں بیوی اب ہار کر بیٹھ چکے تھے. علیشہ کا ہمیشہ ایک ہی اٹل جواب ہوتا کہ میں شادی کر کے کسی مرد کے نیچے لگنے والی عورت نہیں بننا چاہتی بلکہ معاشرے میں خود اپنا ایک "اِن ڈپنڈنٹ" مقام ہی میری منزل ہے. مردوں کے اس معاشرے میں، مَیں مردوں کو عورت کی طاقت کا استعارہ بن کر دکھاؤں گی.....
    اور پھر اس نے اپنا ارادہ سچ کر دکھایا. والد کے بزنس کے باوجود اپنی کمپنی خود بنائی اور کامیابی سے چلائی. اسکو سب سے زیادہ فخر اس بات پر تھا کہ چھ ہزار سے زائد مرد اسکے نیچے کام کرتے اور اسکو باس کہتے تھے. اور یہی نہیں، بلکہ جب والد کی وفات ہوئی تو انکی کمپنی کا الحاق بھی نہایت کامیابی سے اپنی کمپنی کے ساتھ کر کے پہلے سے دگنی طاقت کی حامل بزنس ٹائیکون کے طور پر پورے ملک کے مردوں سے اپنا لوہا منوایا.

    آج اتفاق کچھ ایسا ہوا کہ اسکی اپنی بی ایم ڈبلیو تو مینٹننس کیلئے ورکشاپ گئی ہوئی تھی اور باقی تین گاڑیاں بھی اگلے ہفتے اسکی سالگرہ کے جشن کی تیاریوں کی وجہ سے مصروف تھیں. اس نے آنلائن لگژری کیب آرڈر کی اور راستے میں ہی تھی کہ موبائل فون کی گھنٹی بجی. دیکھا تو شکیل آفریدی کا نمبر تھا.
    وہ اسکے والد کی کمپنی کا ایم ڈی اور انکا دست راست رہ چکا تھا.
    شکیل ایک پینتیس سالہ خوبرو جوان تھا. اپنی محنت، قابلیت اور دیانت سے اس نے بہت جلد علیشہ کے بابا کی کمپنی میں اپنے آپ کو اعلٰی ترین عہدے کا اہل ثابت کر لیا تھا. اور اب وہ علیشہ گروپ آف انڈسٹریز کا مینیجنگ ڈائریکٹر بھی تھا. علیشہ بھی کمپنی کے معاملات میں اس پر بھرپور اعتماد کرتی تھی.

    "میڈم وہ کل والی بزنس ڈیل پر آپکے دستخط درکار ہیں. آپ تشریف لا رہی ہیں نا؟" اسکی رعب دار آواز ابھری

    "اوہ شکیل اچھا ہوا تمہارا فون آ گیا. تم ایسا کرو فائل لیکر ڈی پوائنٹ روڈ پر سے مجھے پک کر لو. میں وائٹ کلر کی مرسیڈیز کیب میں ہوں. باقی تفصیلات تمہیں بعد میں بتاؤں گی." آخری جملہ کہتے ساتھ ہی اس نے بیک ویو مرر میں دیکھتے ڈرائیور کو خشمگیں نگاہوں سے گھور کر سائیڈ پر رکنے کا حکم دیا.
    "اور ہاں، جب تک میری گاڑی نہیں آتی تم اتر کر باہر انتظار کرو."

    کچھ ہی دیر بعد شکیل کی پورشے وہاں آ کر رکی اور علیشہ اتر کر اس میں سوار ہو گئی.
    "خیریت میڈم؟ آج آپ ٹیکسی میں؟" شکیل نے پوچھا.

    علیشہ نے ساری کہانی سنائی اور بولی، "یہ تم آفس کے باہر مجھے میڈم نہ کہا کرو. اب اتنی بھی بڑی نہیں لگتی تم سے." علیشہ نے" لگتی" پر زور دے کر کہا.

    "یس مَیم".. شکیل کے منہ سے بے ساختہ نکلا تو دونوں ہنس پڑے.

    "اچھا یوں کرو کہ الیٹ کافی ہاؤس چلو. میں نے تو صبح کا ناشتہ بھی نہیں کیا ہوا." اور شکیل نے گاڑی کا رخ گلبرگ کی طرف موڑ دیا.

    وہاں پہنچ کر علیشہ نے اپنی مخصوص وی آئی پی ٹیبل پر آرڈر دیا اور ساتھ ہی شکیل سے پوچھا،
    "شکیل، تم نے ابھی تک شادی کیوں نہیں کی؟"

    شکیل اس اچانک سوال پر گڑبڑا سا گیا...
    " وہ، وہ... "

    " اچھا یہ بتاؤ کیا تمہاری کوئی گرل فرینڈ ہے؟"

    ابھی شکیل پہلے ہی حملے سے نہیں سنبھلا تھا کہ یہ اگلا سوال اچانک کسی گھونسے کی طرح لگا.

    "نن، نہیں... میڈم."

    "پھر میڈم؟ اچھا یہ بتاؤ کہ کہیں تم 'گے' تو نہیں ہو؟"

    یہ تیسرا سوال تو گویا کسی باکسر کا مہلک "اپر کٹ" تھا... شکیل کو لگا کہ وہ ابھی پیچھے کو گر پڑے گا..

    "وہاٹ؟!!!"

    "اوہ سوری. میں سمجھی امریکہ بیٹھی ہوں. وہاں تو یہ سوال معیوب نہیں سمجھا جاتا."

    لیکن شکیل کے چہرے سے لگ رہا تھا کہ گویا اسکے پٹھان خون کا مذاق اڑایا گیا ہے. لیکن پھر اسکے ذہن نے علیشہ کے اس عذر کو اسکے پس منظر کے مطابق قبول کر لیا. ابھی وہ سنبھلا ہی تھا کہ اگلے سوال نے تو اسے بالکل ناک آؤٹ کر دیا:

    "خیر، اینی وے... شکیل، یہ بتاؤ کہ مجھ سے شادی کرو گے؟"

    اب تو شکیل کو حقیقتاً اپنی آنکھوں کے سامنے تارے ناچتے محسوس ہوئے. وہ نہایت مضبوط اعصاب کا مالک سمجھا جاتا تھا جو کسی بھی مشکل صورتحال سے بآسانی نکل آتا تھا. لیکن یہ خاتون تو اسکے لئے دنیا کی کوئی عجیب ہی مخلوق تھی. وہ اپنے حواس پر قابو پا ہی رہا تھا کہ علیشہ نے اپنی بات جاری رکھی،

    "دیکھو شکیل، مجھے پتہ ہے کہ یہ سب کچھ تمہارے لئیے عجیب ہے. لیکن میں تمہیں بتانا چاہتی ہوں کہ میں ایک سٹرانگ فیمنسٹ ہوں. میں عورت کے مرد پر انحصار اور محبت وغیرہ کی قائل نہیں. میرے نزدیک یہ میاں بیوی کا رشتہ محض ایک بائیولوجیکل ضرورت ہے جس کو دونوں فریق برابری کی سطح پر پورا کر سکتے ہیں. لہٰذا ضروری نہیں کہ ہمیشہ مرد ہی عورت کو پروپوز کرے. اب چونکہ یہاں شادی کا کلچر ہے اور میری ماما قطعاً شادی کے بغیر میرا کسی مرد کے ساتھ رہنا گوارا نہیں کریں گی اور سمجھا انہیں میں سکتی نہیں... لہٰذا شادی کی فارمیلٹی بھی ایک مجبوری ہے. سو اب تم اگر ان سارے شاکس کو برداشت کر چکے ہو... فار وچ آئی ایم سوری ایز ویل... تو پوری آزادی اور بغیر کوئی دباؤ محسوس کئیے جواب دو. یہ ہرگز نہ سمجھنا کہ میں اپنی پروفیشنل پوزیشن کا کوئی ناجائز فائدہ اٹھانا چاہتی ہوں. بات صرف یہ ہے کہ میں کسی بھی معاملے میں مردوں کی بالادستی کو قبول نہیں کر سکتی."

    "ایکسکیوز می پلیز." شکیل کو اور تو کچھ نہ سوجھا، سیدھا ریسٹ روم کی طرف ہی پناہ لینے کو بھاگا...

    علیشہ کے چہرے پر ایک عجیب سی مسکراہٹ رقص کر رہی تھی جس میں ہونٹ قدرے حقارت کے ساتھ سکڑے ہوئے بھی تھے اور ایک احساس برتری کی متکبرانہ خوشی سے پھیلنا بھی چاہ رہے تھے...!!
  2. ابن آدم

    ابن آدم کتب کمپوزر

    مراسلے:
    600
    شکیل آفریدی نے واش روم میں اپنے چہرے پر ٹھنڈے پانی کے چھینٹے مارے اور سامنے لگے آئینے میں اپنی شکیل صورت کو بغور دیکھنے لگا. اور پھر اچانک اسکی ہنسی نکل گئی... جو فوراً ہی ایک قہقہے میں بدل گئی.

    "ہاہاہاہاہا ہاہاہاہاہا.... شکیل خان آفریدی... تم نے کتنے ہی منصوبے بنائے علیشہ کو پروپوز کرنے کے. کتنے ہی مختلف طریقے سوچے اسے پیغام محبت دینے کے... کتنی ہی انگوٹھیاں سلیکٹ کر کے ریجکٹ کیں... کتنے ہی مواقع آئے اور چلے گئے.. لیکن تمہاری ہمت نہ پڑی... اور ستم ظریفی دیکھو کہ قدرت نے پلیٹ میں رکھ کر اسے تمہارے سامنے سجا دیا لیکن کس انداز میں...!!! کیا تم اسکی طرف ہاتھ بڑھاؤ گے؟ کیا اب بھی تمہارے دل میں اسکی محبت باقی ہے؟ کیا اتنی خودسر عورت سے ایک غیور پٹھان نباہ کر لے گا؟....."

    سخت سردی کے باوجود اسکے ماتھے پر پسینے کے قطرے نمودار ہو چکے تھے. اس نے ایک چھینٹا اور مارا اور اب کی بار جو سامنے دیکھا تو وہی پرانا شکیل تھا، اب جسکے دانت بھنچے ہوئے تھے اور جبڑے اور بھنوؤں کا تناؤ ظاہر کر رہا تھا کہ وہ کسی فیصلے پر پہنچ چکا ہے،

    "ہاں.... یہ میری زندگی کا سب سے بڑا چیلنج ہے.... اور میں اسے قبول کرتا ہوں... میں اس چٹان سے سر ٹکراؤں گا... اور پھر دونوں میں سے کوئی ایک تو پاش پاش ہو کر رہے گا...!!!"

    "اوکے علیشہ، مجھے منظور ہے." شکیل نے واپس آ کر بغیر کسی لگی لپٹی، بغیر تمہید و اعتراض اور حتی کہ بغیر کسی جذباتیت کے علیشہ کو نہایت سپاٹ لہجے میں جواب دیا... گویا کہ کوئی بزنس ڈیل فائنل کی ہو.

    "ہمممم ویری گڈ. تو پھر ہم اسے میری برتھ ڈے پارٹی پر اناؤنس کریں گے اور اس سے اگلے ہفتے امریکہ میں شادی کریں گے." علیشہ نے گویا پہلے سے بنایا ہوا پلان سامنے رکھ دیا.

    "امریکہ میں؟" شکیل چونکا

    "ہاں شکیل. یہاں پر نکاح کے قوانین بہت 'پیٹری ارکل' ہیں. نکاح مرد مولوی پڑھائے گا، طلاق کا حق عورت کو اول تو دیا ہی نہیں جاتا اور دیں بھی تو عجیب کمپلیکیشنز ہیں، اور حق مہر لو مرد سے... گویا کہ ہم اپنے آپ کو بیچ رہے ہیں... اور پھر نان نفقہ وغیرہ... جیسے ہم کوئی بھوکے مر جائیں گے مرد کے بغیر...مجھے پتہ ہے تمہارے پاس بھی امیریکن نیشنیلٹی ہے. لہٰذا ہمیں کوئی مسئلہ نہیں ہو گا. وہاں کے لاء کے مطابق 'پری نَپ' یعنی قانونی مسائل طے کر کے کورٹ میرج کر لینگے...اور ہاں وہاں تمہیں دوسری تیسری شادی کی اجازت بھی نہیں ہو گی کہ میرا استحصال کر سکو...... (ایک توقف کے بعف) ہاہاہاہاہا... تمہاری شکل اسوقت دیکھنے والی ہے... بھئی یہ آخری بات مذاق میں کی تھی... مجھے پتہ ہے تم ویسے ہی اتنے دقیانوسی نہیں کہ زیادہ بیویاں رکھو... تو پھر تمہیں یہ پلان منظور ہے؟" علیشہ نے کافی کا سپ لیتے ہوئے پوچھا.

    "ایز یو وِش، ڈئیر." شکیل فی الحال جوابی ردعمل کو مؤخر رکھنا چاہتا تھا.
    وہ دیکھنا چاہتا تھا کہ یہ عورت کس حد تک جا سکتی ہے. ویسے "میڈم" سے "ڈئیر" تک کی اس اچانک چھلانگ پر وہ خود بھی حیران تھا.

    اور پھر یونہی ہوا. اپنی سالگرہ پر علیشہ نے شہر کے تمام بڑے بڑے نامور تاجروں، سیاستدانوں اور اداکاروں کے سامنے اپنی منگنی کا اعلان کر کے سب کو حیران کر دیا. کیا مرد کیا زن، سب نے گلے لگا کر اسے مبارکباد دی. شکیل دل ہی دل میں غیرت کے انگاروں پر لوٹتا رہا. وہ جانتا تھا کہ ابھی اس پر اعتراض کیا تو گیم خراب ہو جائے گی.
    اگلے ہفتے دونوں کی طے شدہ پروگرام کے مطابق کیلیفورنیا میں شادی ہو گئی. سیون سٹار ہوٹل میں کمرہ بک کروایا جا چکا تھا. رات شکیل کمرے میں داخل ہوا تو ایک اور دھچکہ اسکا منتظر تھا. علیشہ عام سے کپڑوں میں، بغیر میک اپ کے، چہرے پر کوئی ماسک لگائے لیٹی تھی.

    "سوری شکیل، میرے سر میں بہت درد ہے."

    "اِٹس اوکے." شکیل کو اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ ازدواجی زندگی وہ نہیں ہو گی جس کے وہ اب تک خواب دیکھتا آیا تھا..
    اس نے بھی کپڑے بدلے اور دوسری طرف منہ کر کے سو رہا... وہ بھی اپنی کسی کمزوری کا اظہار نہیں کرنا چاہتا تھا.

    اگلی شام وہ ہالی ووڈ سے گھوم پھر کر ہوٹل واپس آئے تو شکیل سگریٹ خریدنے کا کہہ کر ایک طرف کو لپکا...
    "تم نے کب سے سموکنگ شروع کر دی؟" علیشہ نے حیرت سے پوچھا.

    "کل سے.." شکیل نے مڑے بغیر جواب دیا اور اسے ہکا بکا چھوڑ کر چل دیا.

    کمرے میں واپس پہنچا تو ایک اور شاک اسکے لئیے تیار تھا... علیشہ فل میک اپ میں قیامت ڈھا رہی تھی اور دل کو لبھا رہی تھی... ایک لمحے کو تو وہ مبہوت رہ گیا... لیکن ساتھ ہی خود کو سنبھال کر بولا، "سوری ہنی، آئی ایم ناٹ ان دا موڈ ٹوڈے."
    وہ تاثرات جو وہ اسکے چہرت پر دیکھنا چاہتا تھا، وہ نمودار تو ہوئے... لیکن بس ایک پل بھر کو... ساتھ ہی علیشا نے بڑی مہارت سے اپنے اوپر قابو پا لیا اور بس اتنا بولی، "نو پرابلم سویٹ ہارٹ."

    اور شکیل اس "سفید جھوٹ" کو انجوائے کرتا بالکونی میں سلگتے سگریٹ کو بار بار مسلنے لگا...

    ایک ماہ بعد امریکا اور یورپ میں اپنے ہنی مون ٹرپ سے وہ لوگ واپس آ گئے. پاکستانی دوستوں اور رشتے داروں کیلئے شکیل نے بہت بڑی دعوت ولیمہ کا انعقاد کیا. اسکا پورا قبیلہ اسکے اس فیصلے سے ناراض تھا. لہٰذا سوائے اسکی ماں کے کوئی بھی شامل نہ ہوا. اسکی والدہ نے بھی ایک ولایتی میم نما بہو کو بادل نخواستہ ہی قبول کیا تھا. بہرحال انہوں نے علیشہ کو بہت سے تحائف اور دعائیں دیں.

    تین ماہ بعد ایک روز علیشہ گھر واپس آئی تو شکیل کچن میں کھانا پکا رہا تھا... اسکی یہ پرانی ہابی اب کافی کام آ رہی تھی کیونکہ علیشہ نے تو کبھی کچن میں گھس کر بھی نہ دیکھا تھا. علیشہ نے آتے ہی اس کو پریشان لہجے میں بتایا، "بیڈ نیوز شکیل... آئی ایم پریگننٹ."

    "واہ بھئی، یہ تو بہت بڑی خوش خبری ہے." شکیل نے کہا.

    "کم آن شکیل. تمہیں پتہ ہے کہ سات آٹھ ماہ بعد کتنی اہم ڈیلز ہیں کمپنی کی. سویٹزر لینڈ میں پورا سیٹ اپ اسٹیبلش کرنا ہے. اور میں پیٹ نکال کر کیسے ملک ملک پھروں گی؟"

    "کوئی بات نہیں. میں ہینڈل کر لونگا."

    "نہیں شکیل. یہ پراجیکٹ میرا 'برین چائلڈ' ہے... میں اپنے 'اَن پلانڈ چائلڈ' کو اسے خراب کرنے کی اجازت نہیں دے سکتی. پتہ نہیں ساری احتیاطی تدابیر کے باوجود یہ کیسے ہو گیا."

    "دیکھو علیشہ وہ تمہارا برین چائلڈ ہے، تو یہ تمہارے رحم میں میرا 'بلَڈ چائلڈ' ہے. میرا بھی حق ہے اس پر." شکیل نے غصے سے کہا.

    "آ گئے نہ اپنی مردانہ اصلیت پر. مجھے پتہ تھا تم سب مرد ہوتے ہی ایسے ہو... عورت کو اپنی خادمہ اور لونڈی سمجھنے والے. کان کھول کر سن لو، یہ میرا جسم ہے اور اس پر میری مرضی چلے گی. اینڈ آئی ڈونٹ وانٹ دس بےبی. بدقسمتی کی انتہا تو یہ ہے کہ ادھر امریکہ میں بھی ایک عورت بیزار، 'میزوجنسٹ' مرد صدر بن بیٹھا ہے اور عورت کے ابارشن کے حق پر پابندی لگا رکھی ہے... ادھر پاکستان میں بھی مذہب کے نام پر مولویوں نے اسکے خلاف قانون بنوا رکھا ہے. میں کل ہی فرانس جا کر اس سے جان چھڑاتی ہوں." علیشہ غصے میں پھنکار رہی تھی. اسکے اندر کی فیمنسٹ بالکل عریاں ہو کر باہر آ چکی تھی.

    شکیل نے اپنے غصے پر قابو پاتے ہوئے کہا، "دیکھو اول تو یہ ہمارے دین کے مطابق قتل ہے اور یہ کسی مولوی نے نہیں ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے. دوسرا یہ کہ یہ صرف تمہارے جسم کا معاملہ نہیں، یہ بچے کے جسم کا معاملہ ہے. لہٰذا منطقی طور پر بھی تم کسی دوسرے کے جسم اور کسی دوسرے کی جان پر کوئی اختیار نہیں رکھتی."

    علیشہ سے اس بات کا کوئی جواب نہ بن پڑا تو پیر پٹختی کمرے سے نکل گئی...
    • پسند پسند x 1
  3. ابن آدم

    ابن آدم کتب کمپوزر

    مراسلے:
    600
    اگلے روز علیشہ مسکراتے ہوئے شکیل کے کمرے میں داخل ہوئی.

    "خیر تو ہے؟ بڑے خوشگوار موڈ میں ہو." شکیل نے گزشتہ دن کے تلخ واقعے کے تناظر میں حیرت سے پوچھا.

    "وہ خود ہی ابارٹ ہو گیا. میں کل سے ہسپتال میں تھی. تم نے تو پوچھا تک نہیں." علیشہ نے مصنوعی ناراضگی سے بتایا.

    "اوہ، اوہ. آئی ایم سو سوری. وہ میں نے ناراضگی کی وجہ سے تم سے رابطہ نہیں کیا. اور شاید تم نے بھی اسی وجہ سے کل بتانا گوارا نہ کیا... یہ انا بھی کیا بری چیز ہے. چلو خیر، اس میں اللہ کی کوئی بہتری ہو گی."

    "اللہ تو بہتر ہی کرتا ہے. لیکن مرد اچھا نہیں کرتے عورتوں کے ساتھ." علیشہ نے طنز کیا.

    "چلو چھوڑو. اسوقت دوبارہ لڑائی شروع کرنا مناسب نہیں." شکیل نے دانشمندی سے صورتحال کو سنبھالا.

    اور پھر سویٹزرلینڈ کے نئے سیٹ اپ تک دونوں کے حالات نارمل رہے. دونوں اس سلسلے میں بے انتہا مصروف بھی رہے.
    کمپنی کی نئی سویس برانچ کی کامیاب لانچنگ کے بعد ایک روز علیشہ کو تین چار بار قے آئی تو اسے کچھ شک گزرا.
    ٹیسٹ کیا تو ایک بار پھر "خوشخبری" تھی.

    انہوں نے فیصلہ کیا کہ یہ ڈلیوری اور اس سے ماقبل کا مکمل چیک اپ امریکہ سے کروائیں گے تاکہ بچے کی شہریت شروع سے ہی امریکی ہو.

    پورے نو ماہ علیشہ کو دنیا کی بہترین سہولیات میں زچگی گزارنے کا موقعہ ملا. اس دوران وہ کمپنی کی امریکی برانچ کے معاملات بھی دیکھتی رہی. جبکہ شکیل باقی شاخوں کی دیکھ بھال کیلئے کبھی کسی ملک ہوتا تو کبھی کسی ملک.

    اس دوران شکیل کے دوستوں نے اس پر "ترس کھاتے ہوئے" مشورہ دیا کہ وہ دوسری شادی کر لے... لیکن شکیل نے ہمیشہ یہ کہہ کر ٹال دیا کہ، "ٹھیک ہے کہ علیشہ کے ساتھ میری زندگی کوئی مثالی ازدواجی زندگی نہیں.. اور مجھے دوسری شادی کا حق بھی ہے اور ضرورت بھی... لیکن میں نے اس شادی کا فیصلہ بطور چیلنج قبول کیا تھا. اور میں نے ابھی ہار نہیں مانی."

    بالآخر وہ دن بھی آ گیا جب علیشہ اپنے آفس میں اچانک درد سے کراہ اٹھی. فوراً ایمبولینس بلا کر ہسپتال لے جایا گیا. شکیل بھی فوراً پہنچ گیا اور لیبر روم میں علیشہ کا ہاتھ تھام کر اسکا حوصلہ بڑھاتا رہا... اور پھر اچانک رونے کی آواز نے ایک نئی زندگی کی آمد کی اطلاع دی. چاند سی بیٹی کی شکل والدین کو دکھا کر نرس نے فوراً ہی اسے ماں کو تھما دیا کہ اسے فیڈ کرواؤ. زچگی کی ٹریننگ کی وجہ سے علیشہ اسکے لئیے پہلے سے تیار تھی. اس عمل سے اس نے بچی کیلئے ایک عجیب محبت اور کشش اپنے دل میں محسوس کی. نو ماہ اپنے خون سے پالنے کے بعد جنم دیتے ساتھ ہی اپنے خون سے ہی بنے دودھ سے بچی کے پیٹ بھرنے کا جو لطیف احساس تھا وہ فیڈر پر بچے پالنے والی مائیں کیا جانیں.
    اچانک علیشہ کی ہنسی نکل گئی.
    شکیل نے حیرت سے وجہ دریافت کی تو بولی، "ویسے تو پاکستانی ماڈرن خواتین ہر بات میں امریکہ کی نقل پر فخر کرتی ہیں لیکن جب دودھ پلانے کی باری آتی ہے تو عجیب و غریب بہانے بناتی ہیں. اپنا دودھ پلاتی نہیں اور بعد میں اولاد نافرمانی کرے تو کہتی ہیں تجھے اپنا دودھ نہیں بخشوں گی."
    اس پر شکیل نے بھی زوردار قہقہہ لگایا.
    شکیل نے محسوس کیا تھا کہ زچگی کے دوران علیشہ میں کافی مثبت تبدیلی واقع ہوئی ہے. اب وہ انتہا پسند فیمنسٹس کی طرح ہر بات کا قصور وار مردوں کو نہیں ٹھہراتی تھی. ویسے بھی شکیل نے اس دوران اسے بہت سہارا دیا تھا. جب بھی کسی بزنس ٹوؤر سے واپس آتا، سارا وقت علیشہ کے ساتھ گزارتا. اور بہانے بہانے سے اسکے مرحوم والد کی کسی نہ کسی خوبی کا ذکر کرتا رہتا. وہ علیشہ کی اس کمزوری کو بھانپ چکا تھا کہ وہ اپنے باپ سے شدید محبت کرتی تھی. لہٰذا منفی فیمنسٹ تصورات کے خلاف اس نے بڑی مہارت سے ایک ایسے مردانہ فگر کو استعمال کیا جو اس فلسفے کے مردانہ خاکے کے یکسر خلاف تھا. اور ساتھ ہی اپنے بہترین عمل سے بھی اس کریہہ مردانہ بت پر ضربیں لگائیں جو علیشہ کے دل و دماغ میں انتہا پسند امریکی فیمنسٹس نے بنا ڈالا تھا.

    اسکے بعد بچی کو تفصیلی معائنے کیلئے نرسری لے گئے اور علیشہ کو آرام کیلئے اسکے کمرے میں شفٹ کر دیا گیا.

    اگلے روز کمرے کا دروازہ بجا تو ایک درمیانے قد کا گنجا، لیکن باوقار ادھیڑ عمر ڈاکٹر داخل ہوا. اس نے اپنا تعارف ڈاکٹر جان کے نام سے بطور چائلڈ سپیشلسٹ کروایا. پہلے تو اس نے انہیں تسلی دی کہ بچی کی حالت ٹھیک ہے. علیشہ کو بھی وقتاً فوقتاً اسے دودھ پلاتے کوئی مسئلہ نہیں لگا تھا سوائے اس کے کہ اسکی گردن کی جلد کچھ زیادہ ہی لچک دار لگتی تھی اور دونوں پیر قدرے بھرے بھرے تھے. اس نے ڈاکٹر سے اس کا ذکر کیا تو اسکے چہرے پر سنجیدگی کے اثار طاری ہو گئے.
    اس نے اپنے مخصوص لہجے میں کہا،
    "مسٹر اینڈ مسز ایفریڈی، آئی ایم سوری دیٹ آئی ڈونٹ ہیو اے گڈ نیوز فار یو..."

    اس جملے کو سنتے ہی دونوں کے چہروں پر پریشانی کے آثار نمایاں ہو گئے.
    ڈاکٹر جان نے ایک کاغذ پنسل کی مدد سے کچھ خاکے بنائے اور انہیں سمجھانا شروع کیا:

    "دراصل آپکی بچی کو ایک جینیاتی بیماری ہے جسے ٹرنر سنڈروم کہتے ہیں. ہر انسان میں جینیٹک مٹیریل ایک خاص ترتیب سے خلیوں کے اندر موجود ہوتا ہے اور اس جینیاتی ساخت کو ہم کروموسوم کہتے ہیں. ان کروموسومز کی تعداد انسان میں 46 ہوتی ہے اور یہ 23 جوڑوں کی شکل میں موجود ہوتے ہیں. ان میں سے ایک جوڑا جسے سیکس کروموسوم کہتے ہیں وہ انسان کی جنس کا تعین کرتا ہے. اگر دونوں ایکس ہوں تو لڑکی ہو گی اور ایک ایکس اور ایک وائی ہو تو لڑکا. تولیدی نشوونما کے دوران جب مردانہ اور زنانہ جرثومے بنتے ہیں تو یہ جوڑے ایک دوسرے سے الگ ہو کر علیحدہ علیحدہ خلیوں میں چلے جاتے ہیں اور بعد میں ملاپ کے نتیجے میں دوبارہ 46 کروموسومز پر مشتمل انسان کی تخلیق ہو جاتی ہے. اس دوران خاتون کی طرف سے تو ہر حال میں ایکس کروموسوم ہی آتا ہے، البتہ مرد کی طرف سے آدھے جرثومے ایکس کروموسوم کے حامل ہوتے ہیں اور باقی آدھے وائی کروموسوم کے. ان میں سے ایکس والا ملے تو لڑکی پیدا ہوتی ہے اور اگر وائی والا ملے تو لڑکا. اب ٹرنر سنڈروم میں کسی وجہ سے مرد کی طرف سے آنے والے جرثومے میں وائی کروموسوم تلف ہو جاتا ہے اور نتیجتاً پیدا ہونے والی بچی میں اکیلا ایکس کروموسوم رہ جاتا ہے. اس وجہ سے اس میں کافی سارے جسمانی مسائل پیدا ہوتے ہیں. ان میں بڑے بڑے مسائل یہ ہیں کہ اکثر بچیوں میں دل کے والو یا شہ رگ کا پیدائشی نقص ہوتا ہے، بہت سی بچیوں میں گردے کے مسائل ہوتے ہیں، ان میں سے اکثر میں گردن کی جلد لچکدار ہوتی ہے اور پیر سوجے ہوتے ہیں، جیسا کہ آپ نے نوٹ بھی کیا. بلوغت کی عمر کو پہنچ کر بھی یہ بچیاں تولیدی قابلیت سے محروم رہتی ہیں اور انکا قد بھی چھوٹا ہوتا ہے. آپکی بچی میں اسوقت دل کے والو کا مسئلہ ہے لیکن اسکی شدت زیادہ نہیں.. البتہ کچھ ماہ کے اندر اسکا آپریشن کرنا پڑے گا. گردے البتہ اسکے ٹھیک ہیں.
    مجھے حیرت اس بات پر ہے کہ حمل کے دوران الٹرا ساؤنڈز میں سے ان میں سے کوئی ایک بھی خامی سامنے نہیں آئی ورنہ ہم اسکا جینیاتی ٹیسٹ ضرور کرواتے مکمل تشخیص کیلئے اور پھر آپکو اسقاط حمل کی آپشن دی جاتی.
    خیر، اس کے بعد بھی آپ کچھ جاننا چاہیں تو یہ میرا کارڈ ہے، آپ بلا جھجھک کسی بھی وقت کال کر سکتے ہیں.
    ویری ساری ونس اگین."

    "ڈاکٹر صاحب، اسکا کوئی علاج نہیں؟ ہم اسکے لئیے اپنی پوری دولت لٹا سکتے ہیں."علیشہ نے روتے ہوئے پوچھا.

    "مجھے افسوس ہے مسز ایفریڈی کہ یہ ایک جینیاتی بیماری ہے اور ایسی بیماریوں کا فی الحال ہمارے پاس کوئی علاج نہیں."

    اس بار پریشانی میں علیشہ کو ڈاکٹر کو "مسز ایفریڈی" کہنے پر ٹوکنے کا بھی ہوش نہ رہا تھا. وہ کہتی تھی کہ بیوی کو مرد کے نام سے پکارنا بھی ناانصافی ہے.

    اسکے بعد کافی دیر تک علیشہ بچی کو ساتھ لپٹا کر روتی رہی. شکیل بھی سگریٹ کے بہانے بالکونی میں جا کر آنسو بہاتا رہا. جب دل کا غبار کچھ ہلکا ہوا تو علیشہ شکیل سے بولی،

    "شکیل تمہیں یاد ہے ایک بار ٹی وی پر مولانا صاحب کسی سورۃ کی تفسیر میں بتا رہے تھے کہ سوائے اللہ کے کوئی نہیں جانتا کہ ماں کے پیٹ میں کیا ہے تو میں نے انکا کتنا مذاق اڑایا تھا کہ ان جاہل مولویوں کو کیا پتہ کہ اب الٹرا ساؤنڈ اور جینیٹک ٹیسٹنگ سے سب پتہ چل جاتا ہے. اب دیکھو، دنیا کے بہترین سنٹر میں بھی کسی کو پتہ نہ چلا کہ میرے پیٹ میں میری بچی میں کیا نقائص ہیں. مجھے تو اب چوٹ کھا کر قرآن کی سمجھ آئی... ورنہ تو مولوی کی نفرت میں میں اللہ کے کلام سے ہی دور ہو گئی تھی."

    "ہاں علیشہ مجھے یاد ہے. اور یہ بھی کہ تم نے وہ پورا بیان نہیں سنا تھا. بعد میں ان مولانا صاحب نے تفصیل سے بتایا تھا کہ اول تو سائینسی ٹیسٹس سو فیصد یقینی نہیں ہوتے اور دوسرا یہ کہ اس آیت میں صرف بچے کی جسمانی ساخت اور جنس ہی مراد نہیں بلکہ اسکی تقدیر بھی مراد ہے جو ظاہر ہے کسی بھی ٹیسٹ سے جانچی نہیں جا سکتی." شکیل نے بتایا.

    کچھ دن بعد وہ لوگ پارک میں بنچ پر بیٹھے ارد گرد بچوں کو دوڑتے کھیلتے حسرت سے دیکھ رہے تھے. فروا، انکی بیٹی، سامنے پرام میں لیٹی سو رہی تھی.
    ایسے میں شکیل بولا،

    "علیشہ میں اس دن سے ڈاکٹر جان کی کروموسوم والی تفصیلات پر غور کر رہا ہوں. میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ایکس کروموسوم نسوانیت کی اور وائی کروموسوم مردانگی کی علامت ہے. اگر وائی کروموسوم کسی وجہ سے دب جائے یا تلف ہو جائے تو اکیلا ایکس کروموسوم ایک ادھوری عورت کو جنم دیتا ہے جس میں بہت سے مسائل اور نقائص ہوتے ہیں...."

    علیشہ نے اسکی بات کاٹ کر کہا،
    "میں بھی یہی سوچ رہی تھی شکیل کہ اللہ نے میری بچی کے ذریعے مجھے فیمن ازم کے منحوس فلسفے کو ٹھکرانے کا سبق دیا ہے. ایکس، وائی کے بغیر اور عورت مرد کے بغیر ادھوری اور ناقص ہے...تھینک یو سو مچ فار یور سپورٹ، شکیل."
    یہ کہتے ہوئے اس نے اپنا سر شکیل کے کندھے ہر ٹکا دیا اور اپنا ہاتھ اسکے ہاتھ میں تھما کر عجیب اطمینان محسوس کیا.

    (ختم شد)
    تحریر رضوان اسد خان
    • پسند پسند x 1

اس صفحے کی تشہیر