گزرا تری گلی سے تو بیمار کی طرح

وسطی خٹک نے 'شعری انجمن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏24 جولائی 2014

  1. وسطی خٹک

    وسطی خٹک رکن

    مراسلے:
    7
    ﮔﺰﺭﺍ ﺗﺮﯼ ﮔﻠﯽ ﺳﮯ ﺗﻮ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ
    ﭘﻠﭩﺎ ﺗﺮﯼ ﮔﻠﯽ ﺳﮯ ﺗﻮ ﮔﻞ ﺯﺍﺭ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ

    ﻟﻮﭨﺎ ﻧﮧ ﺟﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﺗﺮﮮ ﺁﺷﯿﺎﻧﮯ ﭘﺮ
    ﺗﯿﺮﯼ ﺻﺪﺍ ﻟﮕﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﺁﺯﺍﺭ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ

    ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﻣﺮﮮ ﺑﺴﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﮔﻞ ﺑﺪﻥ
    ﮨﻢ ﭘﮧ ﺳﺪﺍ ﮔﺮﺍ ﮨﮯ ﻭﮦ ﮐﮩﺴﺎﺭ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ

    ﻣﯿﮟ ﺑﮭﻮﻟﺘﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﺮﮮ ﺍﻓﮑﺎﺭ ﮐﻮ ﮐﺒﮭﯽ
    ﺻﺎﺣﺐ ﺗﺮﮮ ﺧﯿﺎﻝ ﺑﻬﯽ ﺭﺧﺴﺎﺭ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ

    ﻣﯿﺮﮮ ﺗﻮ ﺟﻮ ﺩﻣﺎﻍ ﭘﮧ ﭼﻬﺎﯾﺎ ﮨﮯ ﺍﮮ ﺧﭩﮏ ؔ
    ﮐﯿﻮﮞ ﮔﺮ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﮨﻢ ﭘﮧ ﻭﮦ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ

    وسطی ؔ خٹک
  2. shaan

    shaan رکن

    مراسلے:
    1
    بھت خوب
  3. josh

    josh رکن

    مراسلے:
    166
    بہت خوب ماشاءاللہ
  4. josh

    josh رکن

    مراسلے:
    166
    کیا ہی خوب ہے ماشاءاللہ :دل میں مرے بسا ہے وہ جو ایک گلبدن ۔۔ ہم پہ سدا گرا ہے وہ کہسار کیطرح۔ اللہ کرے زور فکر اور زیادہ۔ ماشاءاللہ بہت خوب

اس صفحے کی تشہیر