کیا پردہ کرنا ضروی ہے؟

بنت آدم نے 'متفرق موضوعات (خواتین)' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏6 ستمبر 2011

  1. بنت آدم

    بنت آدم رکن

    مراسلے:
    123
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

    ٹاپک => کیا پردہ کرنا ضروی ہے؟

    کچھ سوال جو اکثر زہنوں میں گونجتے ہیں

    کیا پردہ کرنا ضروی ہے؟

    یا

    آخر پردہ کیوں ضروری ہے؟
  2. بنت آدم

    بنت آدم رکن

    مراسلے:
    123
    اسلامی معاشرے میںبڑھتی ہوئی بے پردگی اوربے باکی اس وقت ایک سنگین مسئلہ ہے

    غیر اسلامی معاشروں میں بھی بے حیائی کے حوالے سے وہاں کا سنجیدہ طبقہ تشویش میں مبتلا ہے۔

    اس بگڑتی ہوئی صورتحال میں تبدیلی وقت کا اہم ترین تقاضہ ہے

    اس حوالے سے لوگوں کے چار گروہ پائے جاتے ہیں


    پہلاوہ گروہ جو ان تمام غیرمسلموں پر مشتمل ہے جو اسلام میں دل چسپی رکھتے ہیںمگراسلام کے نظام ستروحجاب کو جابرانہ اور تکلیف دہ سمجھتے ہیںاور نہ صرف مخالف پروپیگنڈہ سے متاثرہیں بلکہ مسلمانوں کی افراط وتفریط کی وجہ سے بھی متذبذب ہیں۔


    ‎.
    دوسرا وہ مسلمان گروہ جو احکام ِ سترو حجاب پر جزوی طورپراوررسماً عمل کرتاہے اوربے پرد لوگوںکے طور طریقوںپربڑاشاکی اور فکرمند رہتاہے۔

    .
    تیسرا وہ مسلمان گروہ جو احکاماتِ سترو حجاب کا تارک ہے اورعملاً لاعلم ہے


    ۔چوتھا وہ گروہ جو احکام سترو حجاب کا سخت مخالف ہے اوراس کے خلاف سازشیں کرتا ہے اور اس کا مذاق اڑاتا ہے۔
  3. بنت آدم

    بنت آدم رکن

    مراسلے:
    123
    وہ غیرمسلم جن کاذکر اوپر کیاگیاہے اورجن کیلئے اسلام کے نظامِ ستروحجاب کادفاع ہم پر فرض ہے ۔

    وہ مسلمان جو حالات میں تبدیلی چاہتے ہیں مگربنیادی وجوہات سے لاعلم اوران کی اہمیت سے بے خبرہیں۔یہ تحریراصل وجوہات کے ادراک اورآگے کیلئے لائحہ عمل مہیاکرتی ہے ۔

    ہمار ا تیسرا مخاطَب وہ نوجوان مسلمان مرد و خواتین ہیں جو واقعتا لا علمی کی بنیاد پر احکامِ سترو حجاب کے تارک ہیں ۔ یہ لوگ زیادہ حساس اور سمجھ دار ہیں اور ہم امید کرتے ہیں کہ وہ اس ساری بحث کو غیر جانبداری اور سنجیدگی سے لیں گے اور حقائق کی بنیاد پر معاملہ کو جانچیں گے۔
    زندگی کے دیگر معاملات میں جستجو ،لگن اور محنت کی طرح وہ اس مسئلہ پر بھی بھرپور توجہ دیں گے اور قائل ہوںگے یا قائل کریںگے کے اصول(Convince or Be Convinced) کے تحت ایک حتمی نتیجہ اخذ کریں گے ۔

    چوتھا گروہ ان نام نہاد مسلمانوں پر مشتمل ہے جو دین کے احکام کے باغی اور سخت مخالف ہیں۔ ان کے لئے ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ وہ اغیار کی ہمنوائی میں مسلمانوں کو گمراہ کرنے کا اتنا بھاری بوجھ نہ اٹھائیں

    جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :۔


    ‎26. وَ هُمْ یَنْهَوْنَ عَنْهُ وَ یَنْـَٔوْنَ عَنْهُ١ۚ وَ اِنْ یُّهْلِكُوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ۝۲۶

    26. اور وہ (دوسروں کو) اس (نبی کی اتباع اور قرآن) سے روکتے ہیں اور (خود بھی) اس سے دور بھاگتے ہیں، اور وہ محض اپنی ہی جانوں کو ہلاک کررہے ہیں اور وہ (اس ہلاکت کا) شعور (بھی) نہیں رکھتے
    پارہ 7 سورہ 6 سورہ الانعام آیت 26
  4. بنت آدم

    بنت آدم رکن

    مراسلے:
    123
    . اتنا تو آپ جانتے ہوں گےکہ شیطان نے حضرت آدم وحواعلیہما السلام کو جنت سے نکالنے کے لئے کیا حربہ استعمال کیا یعنی ایک ایسی غلطی اور جرم سرزد کروایا جو انہیں بے لباس کردے چنانچہ ایسا ہی ہوا اور نتیجہ ہمیںمعلوم ہے یعنی

    وَيَا آدَمُ اسْكُنْ أَنتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ فَكُلاَ مِنْ حَيْثُ شِئْتُمَا وَلاَ تَقْرَبَا هَـذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ الظَّالِمِينَ

    اور اے آدم! تم اور تمہاری زوجہ (دونوں) جنت میں سکونت اختیار کرو سو جہاں سے تم دونوں چاہو کھایا کرو اور (بس) اس درخت کے قریب مت جانا ورنہ تم دونوں حد سے تجاوز کرنے والوں میں سے ہو جاؤ گے

    پارہ 8 سورہ 7 سورہ الاعراف آیت 19

    فَوَسْوَسَ لَهُمَا الشَّيْطَانُ لِيُبْدِيَ لَهُمَا مَا وُورِيَ عَنْهُمَا مِن سَوْءَاتِهِمَا وَقَالَ مَا نَهَاكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ هَـذِهِ الشَّجَرَةِ إِلاَّ أَن تَكُونَا مَلَكَيْنِ أَوْ تَكُونَا مِنَ الْخَالِدِينَ

    پھر شیطان نے دونوں کے دل میں وسوسہ ڈالا تاکہ ان کی شرم گاہیں جو ان (کی نظروں) سے پوشیدہ تھیں ان پر ظاہر کر دے اور کہنے لگا: (اے آدم و حوا!) تمہارے رب نے تمہیں اس درخت (کا پھل کھانے) سے نہیں روکا مگر (صرف اس لئے کہ اسے کھانے سے) تم دونوں فرشتے بن جاؤ گے (یعنی علائقِ بشری سے پاک ہو جاؤ گے) یا تم دونوں (اس میں) ہمیشہ رہنے والے بن جاؤ گے (یعنی اس مقامِ قرب سے کبھی محروم نہیں کئے جاؤ گے)

    پارہ 8 سورہ 7 سورہ الاعراف آیت 20

    وَقَاسَمَهُمَا إِنِّي لَكُمَا لَمِنَ النَّاصِحِينَ

    اور ان دونوں سے قَسم کھا کر کہا کہ بیشک میں تمہارے خیرخواہوں میں سے ہوں

    پارہ 8 سورہ 7 سورہ الاعراف آیت 21

    فَدَلاَّهُمَا بِغُرُورٍ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْءَاتُهُمَا وَطَفِقَا يَخْصِفَانِ عَلَيْهِمَا مِن وَرَقِ الْجَنَّةِ وَنَادَاهُمَا رَبُّهُمَا أَلَمْ أَنْهَكُمَا عَن تِلْكُمَا الشَّجَرَةِ وَأَقُل لَّكُمَا إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُّبِينٌ

    پس وہ فریب کے ذریعے دونوں کو (درخت کا پھل کھانے تک) اتار لایا، سو جب دونوں نے درخت (کے پھل) کو چکھ لیا تو دونوں کی شرم گاہیں ان کے لئے ظاہر ہوگئیں اور دونوں اپنے (بدن کے) اوپر جنت کے پتے چپکانے لگے، تو ان کے رب نے انہیں ندا فرمائی کہ کیا میں نے تم دونوں کو اس درخت (کے قریب جانے) سے روکا نہ تھا اور تم سے یہ (نہ) فرمایا تھا کہ بیشک شیطان تم دونوں کا کھلا دشمن ہے

    پارہ 8 سورہ 7 سورہ الاعراف آیت 22
  5. بنت آدم

    بنت آدم رکن

    مراسلے:
    123
    ‎. یہ آیت تو اس پورے معاملے کا خلاصہ اور آئندہ کیلئے ہمیں اصول فراہم کرتی ہے

    يَا بَنِي آدَمَ لاَ يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطَانُ كَمَا أَخْرَجَ أَبَوَيْكُم مِّنَ الْجَنَّةِ يَـنْـزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِيُرِيَهُمَا سَوْءَاتِهِمَا إِنَّهُ يَرَاكُمْ هُوَ وَقَبِيلُهُ مِنْ حَيْثُ لاَ تَرَوْنَهُمْ إِنَّا جَعَلْنَا الشَّيَاطِينَ أَوْلِيَاءَ لِلَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ

    اے اولادِ آدم! (کہیں) تمہیں شیطان فتنہ میں نہ ڈال دے جس طرح اس نے تمہارے ماں باپ کو جنت سے نکال دیا، ان سے ان کا لباس اتروا دیا تاکہ انہیں ان کی شرم گاہیں دکھا دے۔ بیشک وہ (خود) اور اس کا قبیلہ تمہیں (ایسی ایسی جگہوں سے) دیکھتا (رہتا) ہے جہاں سے تم انہیں نہیں دیکھ سکتے۔ بیشک ہم نے شیطانوں کو ایسے لوگوں کا دوست بنا دیا ہے جو ایمان نہیں رکھتے
    پارہ 8 سورہ 7 سورہ الاعراف آیت 27
  6. بنت آدم

    بنت آدم رکن

    مراسلے:
    123
    ان آیات کے حوالے سے چار اہم نکات ہم پر واضح ہوتے ہیں ۔

    بے لباسی جنت سے دوری کا سبب ہے۔

    لباس لازمی ہے تاکہ بے پردگی کے گناہ اور جرم سے بچا جاسکے۔

    بے پردگی شیطان کا ہتھیار ہے ۔

    آدم سے لے کر قیامت سے پہلے پیداہونے والے آخری انسان غرض دنیا کے تمام انسانوں خواہ ان کا تعلق کسی بھی رنگ ، قوم،نسل، امت، علاقے، زمانے سے ہو بنی آدم ہونے کے ناطے سب کامشترکہ دشمن ایک ہی ہے اور وہ ابلیس ہے
  7. بنت آدم

    بنت آدم رکن

    مراسلے:
    123

    اسلام میں لباس کی غرض وغایت

    عموی طورپرلباس انسانی جسم کو موسمی اثرات سے محفوظ رکھنے کا ذریعہ سمجھاجاتاہے

    اوراسی سوچ کے تحت لباس میں کمی بیشی کاجواز نکالاجاتاہے یہ درست نہیں

    کیونکہ اگر لباس کا واحدمقصد بیرونی اثرات سے بچانا ہی ہو تو نفس پرست انسان بے لباسی کیلئے ایسے ماحول کو جواز بناسکتے ہیں جو موسم کی سختیوں یعنی گرمی ،سردی،بارش، گرد وغبار اور دیگر آلودگیوں سے محفوظ ہوجب کہ اسلام کا مطلوب یہ ہے کہ انسان لباس میں رہے ۔ایسا لباس جو سادہ ہو اوربنیا دی ستر وحجاب کے تقاضے پورے کرے

    جیساکہ قرآن کریم میں ارشادفرمایا:

    يَا بَنِي آدَمَ قَدْ أَنزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا يُوَارِي سَوْءَاتِكُمْ وَرِيشًا وَلِبَاسُ التَّقْوَى ذَلِكَ خَيْرٌ ذَلِكَ مِنْ آيَاتِ اللّهِ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُونَo

    اے اولادِ آدم! بیشک ہم نے تمہارے لئے (ایسا) لباس اتارا ہے جو تمہاری شرم گاہوں کو چھپائے اور (تمہیں) زینت بخشے اور (اس ظاہری لباس کے ساتھ ایک باطنی لباس بھی اتارا ہے اور وہی) تقوٰی کا لباس ہی بہتر ہے۔ یہ (ظاہر و باطن کے لباس سب) اﷲ کی نشانیاں ہیں تاکہ وہ نصیحت قبول کریں

    پارہ 8 سورہ 7 سورہ الاعراف آیت 26

    یہ واضح رہے کہ لباس کے دو حصے ہیں اولاً بنیادی لباس جو ستر کوعمومی اوقات اور حالات میں محرم اورنامحرم دونوںسے چھپائے اورثانیاًوہ بیرونی چادرجس سے چہرہ ،جسمانی محاسن اورخد وخال نامحرموں سے ڈھکے چھپے رہیںجس کو حجاب کہتے ہیں چنانچہ اسلامی نقطہ نگاہ سے لباس کا اصل مقصد سترکو چھپانا اوربے پردگی اور اس کے اثرات سے بچاناہے نہ کہ دیگر وجوہات جس کو اہل مغرب اوردیگرغیرمسلم اقوام جواز بناکر کم لباسی ،تنگ لباسی یا مکمل بے لباسی کی طرف مائل ہوتے ہیں۔

    ویسے بھی بے حیائی اوربری باتوں کے تذکرے اوراعادۂ بیان کا حق صرف مظلوم کو ہے۔

    لاَّ يُحِبُّ اللّهُ الْجَهْرَ بِالسُّوءِ مِنَ الْقَوْلِ إِلاَّ مَن ظُلِمَ وَكَانَ اللّهُ سَمِيعًا عَلِيمًا

    اﷲ کسی (کی) بری بات کا بآوازِ بلند (ظاہراً و علانیۃً) کہنا پسند نہیں فرماتا سوائے اس کے جس پر ظلم ہوا ہو (اسے ظالم کا ظلم آشکار کرنے کی اجازت ہے)، اور اﷲ خوب سننے والا جاننے والا ہے

    پارہ 6 سورہ 4 سورہ النساء آیت 148​
  8. بنت آدم

    بنت آدم رکن

    مراسلے:
    123
    خرابی کی پہلی و جہ ۔۔۔۔۔۔اسلامی تعلیمات سے عدم آگاہی
    ہم بچوں کو ٹیوشن لگواتے بہترین سکولوں میں ڈالتے لیکن بیسکس نہیں سکھاتے اولاد بڑی ہوتی تو کیا ہم نے انہیں اللہ کے فرمان سے آ گہی کروائی ؟کئی معاملات میں اللہ کا کلام یعنی قرآن پاک کیا کہتا بتلانے کی کوشش کرتے ہیں؟بلکہ نوجوان نسل دنیاوی تعلیم میں اتنی مگن سی ہو جاتی ہے کہ اسے وقت ہی نہیں ملتااور جو پڑھ کر عمل کی کوشش کرتا ڈر سا جاتا کہ کہیں دقیانوسی کی چھاپ نہ لگ جائےبچی پردہ کرنے لگے تو کہہ دیا جاتا"لو بھلا ماں نے پردہ کیا نہیں بیٹی کرنے لگی"
    وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْاْ إِلَى مَا أَنزَلَ اللّهُ وَإِلَى الرَّسُولِ قَالُواْ حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا أَوَلَوْ كَانَ آبَاؤُهُمْ لاَ يَعْلَمُونَ شَيْئًا وَلاَ يَهْتَدُونَ


    اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس (قرآن) کی طرف جسے اللہ نے نازل فرمایا ہے اور رسولِ (مکرّم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف رجوع کرو تو کہتے ہیں: ہمیں وہی (طریقہ) کافی ہے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا۔ اگرچہ ان کے باپ دادا نہ کچھ (دین کا) علم رکھتے ہوں اور نہ ہی ہدایت یافتہ ہوں
    پارہ 7 سورہ 5 سورہ المائدہ آیت 104
    کوئی اہم مسلئہ درپیش ہو جائے قرآن اس بابت کیا کہتا ہم جاننے کی کوشش نہیں کرتے

    بس ایک کونے میں جزدان میں قرآن پاک موجود ہوتا
  9. بنت آدم

    بنت آدم رکن

    مراسلے:
    123
    والدین کو خود معلوم ہو تو اولاد کی بہترین تربیت ہو گی جب وہ ہی نا جانتے ہوں تو کیسے ممکن ہے کہ نئی نسل جانے اسی غفلت کی وجہ سے آج کی نسل زیادہ پریشانی میں مبتلا ہے

    آج کی پاکستانی نوجوان لڑکیوں کو شائد یہ بات بتائی ہی نہیں گئی کہ چہرہ اوربازو بھی چھپانے کی چیزیں ہیں اور پردے کے ضمن میں آتی ہیں۔

    اب مستورات کی اصطلاح عملاًغیرمستعمل ہے کیونکہ اب مستور(باپردہ)خواتین کا وجودڈائنوسارکی طرح معدوم ہوتاجارہاہے ۔

    مسجد میںعورتوں کے باپرد آنے کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے جبکہ بازارمیںبے پردگی پر کوئی تنقید یا لازمی فتویٰ نہیںجاری کیاجاتاہے۔

    یہ اسی بنیادی لا علمی کا نتیجہ ہے کہ لڑکیوں کا ٹخنہ تو کیا پنڈلی بھی کھل گئی

    اور مرد حضرات چھپانے پر آئے توٹخنہ بھی چھپادیا

    یعنی شلوار ،پینٹ وغیرہ ٹخنوں سے نیچے کردی اور تفریط کی صورت میںنیکر گھٹنوں سے اوپرہوگئی۔

    یعنی آدھا تیترآدھا بٹیروالی صورتِ حال سے کچھ فائدہ نہیں ہوگا اس حوالے سے اسلام کا نقطہ نظران دوآیات سے واضح ہوجاتاہے

    ارشاد باری تعالیٰ ہے

    أَفَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الْكِتَابِ وَتَكْفُرُونَ بِبَعْضٍ فَمَا جَزَاءُ مَنْ يَّفْعَلُ ذَلِكَ مِنكُمْ إِلاَّ خِزْيٌ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يُرَدُّونَ إِلَى أَشَدِّ الْعَذَابِ وَمَا اللّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ

    کیا تم کتاب کے بعض حصوں پر ایمان رکھتے ہو اور بعض کا انکار کرتے ہو؟ پس تم میں سے جو شخص ایسا کرے اس کی کیا سزا ہو سکتی ہے سوائے اس کے کہ دنیا کی زندگی میں ذلّت (اور رُسوائی) ہو، اور قیامت کے دن (بھی ایسے لوگ) سخت ترین عذاب کی طرف لوٹائے جائیں گے، اور اللہ تمہارے کاموں سے بے خبر نہیں

    پارہ 1 سورہ 2 سورہ البقرہ آیت 85

    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ ادْخُلُواْ فِي السِّلْمِ كَآفَّةً وَلاَ تَتَّبِعُواْ خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ

    اے ایمان والو! اسلام میں پورے پورے داخل ہو جاؤ، اور شیطان کے راستوں پر نہ چلو، بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے

    پارہ 2 سورہ 2 سورہ البقرہ آیت 208

    چنانچہ ہمیں چاہئے کہ خودکومکمل طورپراسلام میںڈھالیںاسلام کو خواہشات کے مطابق تبدیل (AdjustاورModify)نہ کریں
  10. بنت آدم

    بنت آدم رکن

    مراسلے:
    123
    وہ لوگ جو احکام شریعت پر لب کشائی کرتے ہیں اوربتدیلی کے خواہاں ہیں ان کو چاہئے کہ وہ کم ازکم اِن دوآیات کومدنظررکھیں

    ارشاد باری تعالیٰ ہے:

    وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْوَاءَهُم مِّن بَعْدِ مَا جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ إِنَّكَ إِذاً لَّمِنَ الظَّالِمِينَ

    (امت کی تعلیم کے لئے فرمایا:) اور اگر (بفرضِ محال) آپ نے (بھی) اپنے پاس علم آجانے کے بعد ان کی خواہشات کی پیروی کی تو بیشک آپ (اپنی جان پر) زیادتی کرنے والوں میں سے ہو جائیں گے

    پارہ 2 سورہ 2 سورہ البقرہ آیت 146

    وَإِذَا تُتْلَى عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا بَيِّنَاتٍ قَالَ الَّذِينَ لاَ يَرْجُونَ لِقَاءَنَا ائْتِ بِقُرْآنٍ غَيْرِ هَـذَا أَوْ بَدِّلْهُ قُلْ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أُبَدِّلَهُ مِن تِلْقَاءِ نَفْسِي إِنْ أَتَّبِعُ إِلاَّ مَا يُوحَى إِلَيَّ إِنِّي أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ


    اور جب ان پر ہماری روشن آیتیںپڑھی جاتی ہیں وہ کہنے لگتے ہیں جنہیں ہم سے ملنے کی امید نہیں کہ اس کے سوا اور قرآن لے آیئے یا اسی کو بدل دیجئے تم فرماؤ مجھے نہیں پہنچتا کہ میں اسے اپنی طرف سے بدل دوں میں تو اسی کا تابع ہوں جو میری طرف وحی ہوتی ہے میں اگر اپنے رب کی نافرمانی کروں تو مجھے بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے

    پارہ 11 سورہ 10 سورہ یونس آیت 15

اس صفحے کی تشہیر