کیا تمام احکام ہر ایک صحابی کو معلوم رہتے تھے ؟

مدثر رحمانی نے 'حدیث نبوی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏27 دسمبر 2014

  1. مدثر رحمانی

    مدثر رحمانی رکن

    مراسلے:
    191
    ہمارے بہت سے بھائیو کا دعویٰ ہے کہ ہمارے امام کو تمام احادیث پہونچی تھیں۔اور انہوں نے ان کے مطابق فتوے دئیے ہیں۔
    جبکہ اکابر صحابہ رضی اللہ عنہم سے کئی احادیث پوشیدہ رہ جاتی تھیں، جب دوسرے صحابہ سے سنتے تو فورا اس پر عمل کرتے اور اپنی رائے سے رجوع کرتے۔
    امام بخاری رحمہ اللہ نے صحیح بخاری میں ایک باب ہی قائم کیا ہے۔
    باب: اس شخص کا رد جو یہ سمجھتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام احکام ہر ایک صحابی کو معلوم رہتے تھے
    حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي عَطَاءٌ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ:‏‏‏‏"اسْتَأْذَنَ أَبُو مُوسَى عَلَى عُمَرَ فَكَأَنَّهُ وَجَدَهُ مَشْغُولًا، فَرَجَعَ، فَقَال عُمَرُ:‏‏‏‏ أَلَمْ أَسْمَعْ صَوْتَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ائْذَنُوا لَهُ فَدُعِيَ لَهُ، فَقَالَ:‏‏‏‏ مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ، فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّا كُنَّا نُؤْمَرُ بِهَذَا، قَالَ:‏‏‏‏ فَأْتِنِي عَلَى هَذَا بِبَيِّنَةٍ أَوْ لَأَفْعَلَنَّ بِكَ، فَانْطَلَقَ إِلَى مَجْلِسٍ مِنْ الْأَنْصَارِ، فَقَالُوا:‏‏‏‏ لَا يَشْهَدُ إِلَّا أَصَاغِرُنَا فَقَامَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ، فَقَالَ:‏‏‏‏ قَدْ كُنَّا نُؤْمَرُ بِهَذَا، فَقَالَ عُمَرُ:‏‏‏‏ خَفِيَ عَلَيَّ هَذَا مِنْ أَمْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلْهَانِي الصَّفْقُ بِالْأَسْوَاقِ".


    حدیث:
    ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے، ان سے عطاء بن ابی رباح نے، ان سے عبید بن عمیر نے بیان کیا کہ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ سے (ملنے کی) اجازت چاہی اور یہ دیکھ کر کہ عمر رضی اللہ عنہ مشغول ہیں آپ جلدی سے واپس چلے گئے۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ کیا میں نے ابھی عبداللہ بن قیس (ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ) کی آواز نہیں سنی تھی؟ انہیں بلا لو۔ چنانچہ انہیں بلایا گیا تو عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ ایسا کیوں کیا؟ (جلدی واپس ہو گئے) انہوں نے کہا کہ ہمیں حدیث میں اس کا حکم دیا گیا ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس حدیث پر کوئی گواہ لاؤ، ورنہ میں تمہارے ساتھ یہ (سختی) کروں گا۔ چنانچہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ انصار کی ایک مجلس میں گئے انہوں نے کہا کہ اس کی گواہی ہم میں سب سے چھوٹا دے سکتا ہے۔ چنانچہ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا کہ ہمیں دربار نبوی سے اس کا حکم دیا جاتا تھا۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم مجھے معلوم نہیں تھا، مجھے بازار کے کاموں خرید و فروخت نے اس حدیث سے غافل رکھا۔
    (صحیح بخاری، کتاب الاعتصام بالکتاب و السنۃ، ح:7353)
    • زبردست زبردست x 1

اس صفحے کی تشہیر