کب یاروں کو تسلیم نہیں ، کب کوئی عدو انکاری ہے

ابن آدم نے 'شعری انجمن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏6 ستمبر 2015

  1. ابن آدم

    ابن آدم کتب کمپوزر

    مراسلے:
    600
    کب یاروں کو تسلیم نہیں ، کب کوئی عدو انکاری ہے
    اس کوئے طلب میں ہم نے بھی دل نذر کیا جاں واری ہے

    جب ساز سلاسل بجتے تھے ، ہم اپنے لہو میں سجتے تھے
    وہ رِیت ابھی تک باقی ہے ، یہ رسم ابھی تک جاری ہے

    کچھ اہلِ ستم ، کچھ اہلِ حشم مے خانہ گرانے آئے تھے
    دہلیز کو چوم کے چھوڑ دیا دیکھا کہ یہ پتھر بھاری ہے

    جب پرچمِ جاں لیکر نکلے ہم خاک نشیں مقتل مقتل
    اُس وقت سے لے کر آج تلک جلاد پہ ہیبت جاری ہے

    زخموں سے بدن گلزار سہی پر ان کے شکستہ تیر گنو
    خود ترکش والے کہہ دیں گے یہ بازی کس نے ہاری ہے

    کس زعم میں‌ تھے اپنے دشمن شاید یہ انہیں معلوم نہیں
    یہ خاکِ وطن ہے جاں اپنی اور جان تو سب کو پیاری ہے
    فراز احمد
    Meri Awaz Suno - A message to India on Defence Day! | Facebook
    • زبردست زبردست x 1

اس صفحے کی تشہیر