چند اشعار اور عربی ترجمہ

سجیلہ نیازی نے 'شعری انجمن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏13 نومبر 2012

  1. سجیلہ نیازی

    سجیلہ نیازی رکن

    مراسلے:
    74
    کچھ اردو شعر عربی ترجمہ کے ساتھ پیش خدمت ہیں

    میں ہوں مجبور پر الله تو مجبور نہیں
    تجھ سے میں دور سہی وہ تو مگر دور نہیں

    امتحاں سخت سہی پر دل مومن ہی وہ كيا
    جو ہر ایک حال میں امید سے معمور نہیں

    ہم کو تقدیر الہی سے نہ شکوہ نہ گلہ
    اہل تسلیم وہ رضا کا تو یہ دستور نہیں

    تیری صحت ہمیں مطلوب ہے لیکن اسکو
    نہیں منظور تو پھر ہم کو بھی منظور نہیں

    عربی ترجمہ

    أنا عاجز ومضطر ولكن الله ليس بعاجز
    و أنا بعيد منك فلا بأس ، فإنه ليس بعيد
    الامتحان قاس شديد ، ولكن قلب المؤمن قلب
    يغمره الأمل في كل حين و آن
    لا أشكو بثي إلي الله علي ما قضي
    ليس هذا من ديدن أهل التسليم والرضا
    صحتك مطلوب لدي
    ولكن إذا لم تكن مطلوبة عند الله فلا حاجة لي إلي صحتك أيضا

    بشکریہ۔۔۔۔۔۔۔۔
  2. بنت حوا

    بنت حوا رکن

    مراسلے:
    89
    میں ہوں مجبور پر الله تو مجبور نہیں
    تجھ سے میں دور سہی وہ تو مگر دور نہیں

    امتحاں سخت سہی پر دل مومن ہی وہ كيا
    جو ہر ایک حال میں امید سے معمور نہیں


    ہم کو تقدیر الہی سے نہ شکوہ نہ گلہ
    اہل تسلیم وہ رضا کا تو یہ دستور نہیں

    تیری صحت ہمیں مطلوب ہے لیکن اسکو
    نہیں منظور تو پھر ہم کو بھی منظور نہیں
    ۔
    ۔
    ۔
    ۔ لگتا ہے اپ کو اللہ پاک نے میرے لیے (ھمت بژھانے کے لیے) بھیجا ہے۔
    جزاک اللہ خیر :)
    بہت سی دعا۔۔۔۔۔ دعا میں یاد!!!
  3. سجیلہ نیازی

    سجیلہ نیازی رکن

    مراسلے:
    74
    بنت حوا سسٹر، اگر ہماری وجہ سے آپکی ہمت افزائی ہوئی تو یہ اللہ کی رضاہے،انسان کہاں کسی قابل۔۔
    اان شاء اللہ دعاؤں میں یاد رہیں گی۔اور دعاؤں کا شکریہ
    خوش رہیں ۔
  4. شھزاد خان

    شھزاد خان رکن

    مراسلے:
    95
    تیری صحت ہمیں مطلوب ہے لیکن اسکو
    نہیں منظور تو پھر ہم کو بھی منظور نہیں


    یہ شعر اگر کسی بیمار کے سرحانے بیٹھ کر پڑ ھیں تو کیا ہو :)
  5. سجیلہ نیازی

    سجیلہ نیازی رکن

    مراسلے:
    74
    ضروری نہیں کہ شاعر نے یہ شعر اس بیمار کو سنایا بھی ہوگا
    اور اس مین اللہ کی رضا پر قناعت و رضامندی کا مظاہرہ کیا گیا ہے جو بندے اور اللہ کا معاملہ ہے۔۔کیا پتہ اسی اللہ کی رضا پہ راضی رہنے سے اللہ اس بندے سے خوش ہوکر اس بیمار کو شفائے کاملہ عطا فرمائے۔؟
    • پسند پسند x 1
  6. بنت حوا

    بنت حوا رکن

    مراسلے:
    89
    بہنا نے بلکل ٹھیک بولا ۔۔۔۔۔
    اس میں صرف اللہ پاک کی رضا پہ راضی ہونے کا اشارہ ہے جو کہ نہایت عمدگی سے بیان کیا گیا۔۔:)
  7. بشیراحمد

    بشیراحمد ناظم رکن عملہ

    مراسلے:
    875
    یہاں اس شعر میں التفات ہے یعنی تکلم سے خطاب کی طرف یہ بھی عربی زبان کا ایک ادبی اسلوب ہے
    یہ متکلم نے خود کو مخاطب کرکے کہا ہے کسی اور کو نہیں لہذا کوئی اشکال نہیں

    ترجمہ بہت اچھا لگا جزاک اللہ خیرا
  8. سجیلہ نیازی

    سجیلہ نیازی رکن

    مراسلے:
    74
    آپ سب کا بہت شکریہ پسندیدگی کے لیے ۔۔لیکن بتاتے چلیں کہ ترجمہ ہم نے خود سے نہیں کیا ۔۔اچھا لگا تھا تو آپ سب کے ذوق کی نذر کر دیا۔اسلیے اسکا کریڈٹ ترجمان کو جاتا ہے۔
  9. محمد ارسلان

    محمد ارسلان رکن

    مراسلے:
    2,556
    جزاک اللہ خیرا سجیلہ صاحبہ
  10. sumaira

    sumaira رکن

    مراسلے:
    11
    جزاک اللہ خیرا

اس صفحے کی تشہیر