پاکستان میں دہشت گردی کے مہیب خطرات

اقبال جہانگیر نے 'کالم اور اداریے' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏26 جنوری 2014

  1. اقبال جہانگیر

    اقبال جہانگیر رکن

    مراسلے:
    151
    پاکستان میں دہشت گردی کے مہیب خطرات
    دہشت گردی پاکستان کی ریاست اور معاشرہ کو درپیش خطرات میں سب سے بڑا اور مہیب خطرہ ہےجس نے پاکستان کی بقا اور سلامتی کو چیلنج کیا ہوا ہے۔ دہشت گردی سے پاکستانی معاشرہ کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ طالبان اور ان سے منسلک جہادی اور کالعدم تنظیموں نے اپنی کارروائیاں تیز کر دی ہیں. طالبان نے پولیس اور دفاعی افواج پر براہ راست حملے کر کے ریاستی رٹ کو چیلنج کیا ہوا ہے جس سے قومی سلامتی کو درپیش خطرات دو چند ہو گئے ہیں۔ان مسائل کی وجہ سے ملکی وسائل کا ایک بڑا حصہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پر اُٹھ رہا ہے. آج پاکستان دنیا بھر میں دہشت گردی کا مرکز سمجھاجا تا ہے۔
    پاکستا ن کی صورتحال انتہائی تشویسناک ہے۔ دہشتگردوں اور ان کے ساتھیوں نے ہمارے پیارے پاکستان کو جہنم بنا دیا ہے، 50 ہزار کے قریب معصوم اور بے گناہ لوگ اپنی جان سے گئے.
    پیر کو راولپنڈی میں آر اے بازار کے حساس علاقے میں خود کش حملے میں چھ سیکیورٹی اہلکاروں سمیت تیرہ افراد جاں بحق ہو گئے۔ یہ حملہ اس وقت ہوا جب فوج کے جوان ڈیوٹی دینے کے بعد اپنی رہائش گاہ کی طرف واپس جا رہے تھے۔ اس خود کش حملے کی ذمے داری کالعدم تحریک طالبان نے قبول کر لی ہے۔ راولپنڈی کے آر اے بازار میں ہونے والے اندوہناک خودکش حملے نے کئی خاندانوں کی خوشیاں چھین لی ہیں۔ اس افسوسناک واقعہ میں جان کی بازی ہارنے والوں میں ایک کیفے میں کک کے طور پر کام کرنے والا 32 سالہ راشد بھی شامل تھا۔ ’’ہمارے خاندان کے ساتھ ایک المیہ ہو گیا ہمارے خاندان کا واحد کفیل چلا گیا، دہشت گردوں نے ہماری دنیا تباہ کر دی‘‘ راشد کے والد میر محمد غم میں نڈھال صرف اتنے الفاظ ہی ادا کر سکا۔ راشد کی ایک بیوی، ایک چار سالہ بیٹا اور 2 بیٹیاں ہیں۔
    علاوہ ازیں اتوار کو بنوں چھاؤنی رزمک گیٹ کے قریب سیکیورٹی فورسز کے قافلے پر ریموٹ کنٹرول بم دھماکے سے 25 اہلکار شہید اور 64 زخمی ہو گئے۔ اس دھماکے کی کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے طالبان رہنما ولی الرحمان کا انتقام لیا ہے۔
    گذشتہ روز چارسدہ میں بم کا دہماکہ ہوا جس میں 6پولیس والوں کے علاوہ ایک سکول جانے والا معصوم و بے گناہ طالب علم ہلاک ہو گیا۔اس لڑکے کے ماں باپ کے دل پر کیا گزری ہوگی جنہوں نے اس لڑکے کے مستقبل سے متعلق سہانے سپنے دیکھے تھے اور اس لڑکے کو بڑی چاہت و پیار سے پالا پوسا اور تعلیم حاصل کرنے کے لئے سکول بیجھا ؟
    پاکستان کی اقتصادیات آخری ہچکیاں لے رہی ہے اور اس کی معیشت کو 100ارب ڈالر سے زیادہ کے نقصانات اٹھانے پڑے ہیں۔ داخلی امن و امان کی صورتحال دگرگوں ہے۔ مذہبی انتہا پسندی عروج پر ہے۔فرقہ ورانہ قتل و فارت گری کا ایک بازار گرم ہے اور کو ئی اس کو لگام دینے والا نہ ہے۔خدا اور اس کے رسول کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے بے گناہوں اور معصوم بچوں،مردوں اور عورتوں کا خون بے دریغ اور ناحق بہایا جا رہا ہےاور وہ بھی اسلام نافذ کرنے کے نام پر۔ سکولوں ،مساجد اور امام بارگاہوں کو تباہ کیا جا رہا ہے ۔کون سا اسلام ان چیزوں کی اجازت دیتا ہے؟ ملک کا وجود خطرے میں ڈال دیا گیا ہے۔ اسلام کے نام پر بننے والا پاکستان آج دہشستان بن گیا ہے اور ہر سو ظلم و دہشت اور افرا تفری کا راج ہےاور ہم سب پھر بھی خاموش ہیں،آخر کیوں؟
    دہشت گردی اور بدامنی کے بدترین اثرات قومی معیشت پر بھی مرتب ہورہے ہیں۔ بیرون ملکی سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہے اور اب ملک سے سرمائے کے فرار کا عمل بھي تيز تر ہوگيا ہے۔ کاروبار اجڑ گئے۔ بازاروں اور شہروں کی رونقیں ہم سے جدا ہوگئیں۔ عام پاکستانی کا دن کا چین اور رات کا سکون غارت ہوا ،بیروزگاری میں اضافہ ہوا، دنیا میں ہم اور ہمارا ملک رسوا ہوگئے ۔نفرتوں اور تعصبات نے ہمارے معاشرے تار و پود کو تباہ کرکے رکھ دیا اور ہمارا معاشرتی ڈھانچہ تباہ ہوکر رہ گیا۔ مسلسل دہشت گردی سے پاکستان کمزور ہوتا جارہا ہے. ہماری مسجد، پگڑی اور داڑھی کا تقدس پامال ہوگیااور پاکستان سے محبت رکھنے والا ہر دل ، پاکستان اور مسلمانوں کی سلامتی سے متعلق غمزدہ ،پریشان اور متفکر ہے ، اور ہم پھر بھی خاموش ہیں؟ آخر کیوں؟
    صوبہ بلوچستان میں شیعہ مسمانوں کو بے دریغ قتل کیا جا رہا ہے۔ ایسا سلوک تو دشمن بھی ایک دوسرے سے نہیں کرتے، کیا ہم ایک نبی اور ایک دین کو ماننے والے نہیں؟ آج مرنے والا اور مارنے والا دونوں ہی مسلمان ہیں۔ پھر بھی ہم مسلمان کہلاتے ہیں اور اپنے آپ کو رسول ہاشمی کی امت گردانتے ہیں ؟
    پاکستان میں تحریک طالبان اور اس کے حامی عسکریت پسند فرقہ واریت اور دہشت گردی کو ہوا دے رہے ہیں ۔ لشکر جھنگوی کے ایک ترجمان ابو خالد نے بتایا کہ تمام شیعہ مخالف عسکریت پسند طالبان کے ساتھ ملکر کام کر رہے ہیں۔ “انہوں نے فرقہ ورانہ ہلاکتوں اور طالبان کے کردار کے حوالے سے کہا کہ ہم ایک ہیں اور ہمارے عقائد، خیالات اور ایجنڈہ ایک ہے”۔
    اسلام سے متعلق طالبان کے نظریات اور ان کی اسلامی اصولوں سے متعلق تشریح انتہائی گمراہ کن، تنگ نظر اور ناقابل اعتبار ہے کیونکہ رسول کریم صلعم نے فرمایا ہے کہ جنگ کی حالت میں بھی غیر فوجی عناصر کو قتل نہ کیا جاوے مگر طالبان اس کو جائز سمجھتے ہیں۔ طالبان کا جہاد ،پاکستان کے اور مسلمانوں کے خلاف مشکوک اور غیر شرعی ہے۔ یہ کیسا جہاد ہے کہ خون مسلم ارزاں ہو گیا ہے اور طالبان دائیں بائیں صرف بے گناہ اور معصوم مسلمانوں کے قتل کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ شیعہ اور بریلوی حنفی مسلمانوں کو وہ مسلمان نہ جانتے ہیں۔ طالبان ،جاہلان جہاد اور قتال کے فرق کو اور ان سے متعلقہ بنیادی تقاضوں سے کماحقہ واقف نہ ہیں۔ طالبان سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں صرف وہ ہی مسلمان ہیں اور باقی سب کافر بستے ہیں . طالبان پاکستان کے موجودہ آئین، سیاسی اور سماجی نظام و ڈہانچےکو غیر اسلامی سمجھتے ہیں اور اس سیاسی و سماجی ڈہانچے کو بزور طاقت گرانے کے خواہاں ہیں۔ طالبان جمہوریت کو بھی غیر اسلامی گردانتے ہیں جبکہ مفتی اعظم دیو بند کا خیال ہے کہ طالبان اسلامی اصولوں کو مکمل طور پر نہ سمجھتے ہیں۔
    طالبان دیوبندی مسئلک کے پیروکار ہیں مگر تمام دیوبندی طالبان نہ ہیں۔ اہل حق دیوبندی یقیننا طالبان کی خلاف شریعہ و خلاف اسلام حرکات سے اتفاق نہ رکھتے ہیں ۔ مگر دیو بندی دوستوں کو اس امر کا احساس ہونا چاہئیے کہ طالبان ان کےمسئلک کی نیک نامی و شہرت پر ایک بدنما داغ ہیں؟ اور طالبان کی ظلم و زیادتی کے خلاف انہیں آواز اٹھانی چاہئیے اور برائی سے روکنا چاہئیے؟
    پاکستانی طالبان کو سمجھنا چاہیے کہ بم دہماکے اور خودکش حملے غیرشرعی اور حرام فعل ہیں۔ بے گناہ طالبات، عورتوں، بوڑھوں، ، جنازوں، ہسپتالوں، مزاروں، مسجدوں اور مارکیٹوں پر حملے اسلامی شریعہ کے منافی ہیں. علمائے اسلام ایسے جہاد اور اسلام کو’’ فساد فی الارض ‘‘اور دہشت گردی قرار دیتے ہیں کیونکہ ایسا جہاد فی سبیل اللہ کی بجائے جہاد فی سبیل غیر اللہ ہے۔ قرآن مجید، مخالف مذاہب اور عقائدکے ماننے والوں کو صفحہٴ ہستی سے مٹانے کا نہیں بلکہ ’ لکم دینکم ولی دین‘ اور ’ لااکراہ فی الدین‘ کادرس دیتاہے. ﷲ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک مومن کے جسم و جان اور عزت و آبرو کی اَہمیت کعبۃ اﷲ سے بھی زیادہ ہے۔ ’’حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ عنھما سے مروی ہے کہ انہوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خانہ کعبہ کا طواف کرتے دیکھا اور یہ فرماتے سنا: (اے کعبہ!) تو کتنا عمدہ ہے اور تیری خوشبو کتنی پیاری ہے، تو کتنا عظیم المرتبت ہے اور تیری حرمت کتنی زیادہ ہے، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! مومن کے جان و مال کی حرمت اﷲ کے نزدیک تیری حرمت سے زیادہ ہے اور ہمیں مومن کے بارے میں نیک گمان ہی رکھنا چاہئے۔‘‘ رسول اکرم کی ایک اور حدیث میں کہا گیا ہے کہ ”مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے۔
    کیا طالبان ان احادیث کی رو شنی میں مسلمان کہلانے کے حقدار ہیں؟
    کیا طالبان انسانیت کے معیار پر پورے اترتے ہیں اور انسان کہلانے کے حقدار ہیں؟
    طالبان پاکستان میں کونسا اسلامی نظام نافذ کر نا چاہتے ہیں؟
    دہشت گردی پاکستانی ریاست اور معاشرہ کے لئے بہت بڑا خطرہ ہےاگر دہشت گردی کی روک تھام نہ کی گئی تو پاکستان ایک غیر موثرمعاشرہ و ریاست بن کر رہ جائے گا اور پاکستانی ریاست و معاشرہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے گا اور اس سے ملکی وحدت کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں؟ لہذا ہر پاکستانی کو اپنی اپنی جگہ پر دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لئے متحد ہونا ہو گا۔
    ہمیں روم کے نیرو کی طرح، بنسری بجاتے ہوئے پاکستان کو جلتا اور تباہ ہوتا نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ متحد ہوکر اور آ گے بڑہ کر اسلام اور پاکستان کے دشمنوں کا مقابلہ کرنا چاہیے۔
  2. نیازی

    نیازی رکن

    مراسلے:
    223
    بہت خوب جناب
  3. mohammad abdull

    mohammad abdull رکن

    مراسلے:
    1
    بے گناہوں کی مار دہاڑ سے طالبان کیا مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں اور کس حد تک وہ اس میں کامیاب ہیں؟
  4. اقبال جہانگیر

    اقبال جہانگیر رکن

    مراسلے:
    151
    طالبان لوگوں میں خوف و ہراس کی کفیت پیدا کر رہے ہیں اور سمجتے ہیں کہ لوگوں کے دلوں میں خوف پیدا کرکے وہ اپنے مقاصد حاصل کر سکتے ہیں،مگر یہ ان کی بھول ہے۔رائے عامہ طالبان کے خلاف ہوچکی ہےاور طالبان صرف میڈیا کے سہارے زندہ ہیں۔
    طالبان کو تاریخ سے سبق حاصل کرنا چاہئیےکیونکہ تشدد و دہشت گردی سے لوگوں کو اپنے ساتھ نہ ملایا جاسکتا اور نہ ہی لوگوں کے دل جیتے جا سکتے ہیں اور نہ ہی تشدد سے کامیابی حاصل ہو سکتی ہے۔مذاکرات اور پر امن جمہوری جدوجہد سے ہی مسائل کا دیر پا حل ممکن ہے. ایک فرانسیسی محاورہ ہے کہ تلوار سے ہر کام کیا جا سکتا مگر اس پر بیٹھا نہ جا سکتا ہے۔
    آج قائد اعظم کے پاکستان میں جانور تو محفوظ ہیں مگرمسلمانوں کاخون پانی کی طرح بہایا جا رہا ہے۔
    جس شریعت کے نفاذ کی بات طالبان کرتے ہیں وہ وہ کسی مسلمان کی سمجھ سے بالاتر ہے اور کوئی پاکستانی مسلمان اس کو قبول کرنے کو تیار نہ ہے۔ شریعتِ اسلامی کے تحت عورتوں، بچوں، بوڑھوں اور ہتھیار نہ اٹھانے والوں پر حملہ کر کے ان کو قتل نہ کیا جا سکتا ہےجب کہ ۔طالبان کا سب سے بڑا نشانہ ہی یہ بے گناہ اور معصوم بوڑھے، بچے، عورتیں اور مرد ہیں۔طالبان میں رحم نام کی کوئی چیز نہ ہے۔ یہ کیسی اسلامی شریعت ہے جس سے کوئی مسجد محفوظ ہے نہ امام بارگاہ، کوئی چرچ محفوظ ہے نہ مدرسہ اوریہ کیسے مسلمان ہیں جو جنازوں پر بھی خود کش حملے کرنے سے باز نہیں آتے اور اپنوں کو بھی نہیں بخشتے؟طالبان کے ظلم کے سامنے ہلاکو اور چنگیز خان کی روحیں شرماتی ہیں۔
    اسلام امن اور سلامتی کا دین ہے ، انتہا پسندی، فرقہ واریت اور دہشت گردی جیسی قبیح برائیوں کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں۔خودکش حملے اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں. اسلام میں ایک بے گناہ فرد کا قتل ، پوری انسانیت کا قتل ہوتا ہے.معصوم شہریوں، عورتوں اور بچوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا، قتل و غارت کرنا، بم دہماکے کرنا،خود کش حملوں کا ارتکاب کرنا دہشتگردی ہے ،جہاد نہ ہے،جہاد تو اللہ کی راہ میں ،اللہ تعالی کی خشنودی کے لئےکیا جاتا ہے۔ طالبان جہاد و قتال کی شرائط سے کماحقہ واقف نہ ہیں۔
    طالبان دہشت گرد ،اسلام کے نام پر غیر اسلامی حرکات کے مرتکب ہورہے ہیں. نیز طالبان کے قول و فعل میں تضاد ہے۔


    ۔
  5. اقبال جہانگیر

    اقبال جہانگیر رکن

    مراسلے:
    151
    اسلام علیکم۔ بھائی دہاگے کو پسند کرنے کا شکریہ۔
  6. اقبال جہانگیر

    اقبال جہانگیر رکن

    مراسلے:
    151
    • شکریہ شکریہ x 1

اس صفحے کی تشہیر