وہی ویرانی سی ویرانی

محمد یعقوب آسی نے 'ذکر چوپال' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏3 جولائی 2018

  1. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی رکن

    مراسلے:
    146
    ایک بے چارہ کمپیوٹر ہے، جس کو ”پڑھا دیا گیا“ کہ میاں ہر اکیس دن بعد ہر رکن سے کہہ دیا کرو آپ بہت یاد آ رہے ہیں۔ ایک ہم بھولے بھالے لوگ ہیں جو کمپیوٹر کی اس رٹی رٹائی پکار پر سر کے بل چلے آتے ہیں، مگر یہاں کی ویرانی ہے کہ دشت کو شرما رہی ہوتی ہے۔

    اکیس دن والی بات ہے بڑی ظالم! یہ تو کوئی اس چوزے جو انڈے کے خول سے رہائی پاتا ہے تو اسے کٹ کٹ کرتی اماں بی کی جگہ دیدے پھاڑ پھاڑ کر دیکھتا ایک برقی قمقمہ دکھائی دیتا ہے ۔ چوزے میاں کا کیا قصور اگر وہ عمر بھر (چھرے کا شکار ہونے تک) اسی چشمِ شمس آثار کو اماں بی سمجھتے رہیں۔

    ایسا ہمارے ساتھ کئی بار ہو چکا پھر بھی ہم بے چارے معصوم کمپیوٹر کی پکار کو نظر انداز کرنے کے گناہ سے بچنے کے لئے یہاں کا ایک چکر ضرور لگاتے ہیں۔ اور اس یقین کے ساتھ کہ یہاں ”وہی ویرانی سی ویرانی“ ہو گی۔ اور شومیٔ قسمت، کہ ہوتی بھی ہے۔ ع: کچھ علاج اس کا بھی اے چارہ گراں! ہے کہ نہیں!؟

    فلک شیر
  2. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی رکن

    مراسلے:
    146
    سوال:
    ہم پاکستان کی حکومت، تعلیمی اداروں، مذہبی جماعتوں، طلبا تنظیموں، فلاحی تنظیموں اور دیگر مؤثر اداروں کو دعوت دیتے ہیں ـــــــ کہ نسل نو کو اللہ، مسجد اور اسلام سے شعوری طور پر متعلق کرنے کے لیے ایسے اقدامات کریں..... ان شاءاللہ ان میں خیر کا عظیم ذخیرہ چھپا ہے...
    فلک شیر
    جواب:
    فی زمانہ ادارے ان کاموں کے لئے ہوتے ہی نہیں جو آپ نے گِنوائے ہیں۔ مؤثر بہت ہیں مگر ان کی تاثیر کا رُخ ظاہر ہے وہ نہیں جو آپ چاہتے ہیں، بلکہ وہ ہے جو وہ چاہتے ہیں۔ نئے دور (نیو ورلڈ آرڈر) نے جو 1776ء سے مؤثر ہے، فلاح کے معانی بدل دئے ہیں۔ تنظیمیں بنائی جاتی ہیں بدنظمی پھیلانے کے لئے۔ مذہب رہے تو آج والی جماعت نہ رہے، تعلیمی اداروں میں کیا ہوتا ہے، آپ تو گھر کے بھیدی ہیں، اور حکومت؟ یہ محترمہ کون ہیں؟ نام کچھ مانوس سا لگتا ہے۔ والسلام

اس صفحے کی تشہیر