نیوزی لینڈ کی سیر

شکاری نے 'دیس دیس کے رنگ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏27 اگست 2017

  1. شکاری

    شکاری رکن

    مراسلے:
    150
    آپ اگر دنیا کے نقشے میں نیوزی لینڈ کو تلاش کریں تو یہ آپ کو قطب جنوبی کی طرف آخر میں سفید رنگ کے چھوٹے سے دھبے کی شکل میں ملے گا، یہ دنیا کا آخری ملک ہے، آپ اگر اسے فوکس کر کے دیکھیں تو نیوزی لینڈ آپ کو دو ٹکڑوں میں تقسیم ملے گا، یہ ملک خشکی کے دو ایسے لمبے ٹکڑوں پر مشتمل ہے جن کے چاروں طرف سمندر ہے، آپ کو پورے ملک کے دائیں بائیں دونوں جانب مسلسل سمندر ملتا ہے یوں اس کے 80 فیصد شہر، قصبے اور گاؤں سمندر کے کنارے آباد ہیں، ملک کا ایک حصہ نارتھ آئی لینڈ اور دوسرا ساؤتھ آئی لینڈ کہلاتا ہے، دونوں کو درمیان سے سمندر کاٹتا ہے چنانچہ لوگوں کو ایک جزیرے سے دوسرے جزیرے پر جانے کے لیے جہاز لینا پڑتا ہے۔

    آک لینڈ اس کاسب سے بڑا شہر ہے، آک لینڈ کی آبادی 15 لاکھ ہے، دنیا کی زیادہ تر انٹرنیشنل ائیر لائینز یہاں اترتی ہیں، آک لینڈ سے شمالی جزیرے کا آخری سرا کیپ رینگا (Cape Reinga) کہلاتا ہے، کیپ رینگا موری زبان کا لفظ ہے، موری نیوزی لینڈ کے قدیم باشندے ہیں، ملک کے زیادہ تر شہروں اور قصبوں کے نام موری زبان میں ہیں، کیپ رینگا جنوب کی طرف دنیا کا آخری مقام ہے، یہ ’’اینڈ آف دی ورلڈ‘‘ بھی کہلاتا ہے، یہ وہ مقام جہاں پہنچ کر انسانی آبادی ختم ہو جاتی ہے،

    آک لینڈ سے کیپ رینگا تک کا سفر دنیا کی خوبصورت ڈرائیوز میں شامل ہے، نیوزی لینڈ کو اگر قدرت کا جغرافیائی معجزہ قرار دیا جائے تو یہ غلط نہیں ہوگا، یہ قطب جنوبی کے ہمسائے میں واقع ہے، چاروں طرف سے سمندر میں گھرا ہوا ہے، پہاڑیوں پر مشتمل ہے اور تمام پہاڑیوں میں جنگل، ندیاں، آبشاریں اور دریا ہیں، پورے ملک میں غار بھی ہیں، زمین کے اندر لاوا بھرا ہے، پورا ملک آتش فشانوں پر آباد ہے، نیوزی لینڈ زیادہ بارشوں والے ممالک میں بھی شمار ہوتا ہے یہاں ہر سال600 سے 1600 ملی میٹر بارش ہوتی ہے جب کہ ہمارے ملک میں صرف 250 ملی میٹر بارش ہوتی ہے، آپ ملک میں دائیں جائیں یا بائیں آپ بہرحال ساحل پر ہی نکلیں گے۔

    دنیا کے قدیم ترین درخت، چٹانیں، جانور، پرندے اور آبی حیات یہاں پائی جاتی ہے، بھیڑیں، گائے اور زراعت یہ تینوں ملک کی معیشت کا اہم حصہ ہیں، یہ ملک دنیا کی شاندار ترین اون پیدا کرتا ہے، کیوں؟ کیونکہ نیوزی لینڈ میں آلودگی اور گرد نہیں ہوتی اور بھیڑوں سے اچھی اون لینے کے لیے یہ دونوں ضروری ہیں، آپ کسی بھی طرف نکل جائیں آپ کو پہاڑ کی اترائیوں اور سڑک کے دونوں کناروں پر بھیڑیں ضرور نظر آئیں گی، نیوزی لینڈ نے بھیڑیں پالنے، اون اتارنے اور اس کو ’’ٹریٹ‘‘ کرنے کے جدید ترین طریقے وضع کر رکھے ہیں، ڈیری مصنوعات بھی اس ملک کا نشان امتیاز ہیں، دنیا کی بہترین گائیں یہاں پائی جاتی ہیں، ملک میں 11 ہزارچار سو بڑے ڈیری فارم ہیں، ہر فارم میں دو ہزار سے زائد گائے ہیں۔

    یہ لوگ دو گھنٹے میں دو ہزار جانوروں کادودھ دھو لیتے ہیں، اس کے لیے انھوں نے جدید مِلک مشینیں ایجاد کر رکھی ہیں، یہ لیرز سے چلتی ہیں اور ایک منٹ میں گائے کا پورا دودھ کھینچ لیتی ہیں۔ ’’فن ٹارا‘‘ ڈیری مصنوعات کی سب سے بڑی کمپنی ہے، یہ کمپنی ملک کے تمام بڑے فارم ہاؤسز سے دودھ جمع کرلیتی ہے، کمپنی کے اثاثے 11 بلین ڈالر ہیں، یہ کمپنی پاکستان میں ’’اینگرو‘‘ کے ساتھ مل کر بھی کام کر رہی ہے، زراعت ان کا تیسرا بڑا شعبہ ہے، ملک بھر میں سبزی اور فروٹ کے ہزاروں فارم ہیں، یہ لوگ فروٹ اور سبزی کی ایکسپورٹ سے بھی سالانہ اربوں ڈالر کماتے ہیں، جاپان زراعت میں نیوزی لینڈ کو بہت سپورٹ کرتا ہے، فارم ہاؤسز میں جدید ترین زرعی مشینیں لگی ہیں،پانی فواروں کے ساتھ دیا جاتا ہے۔

    یہ ’’ڈریپ ایری گیشن‘‘ سے اگلی ٹیکنالوجی ہے، ملک قدرتی معدنیات سے بھی مالا مال ہے، سونے، تانبے اور چاندی کے پہاڑ ہیں لیکن عوام حکومت کو پہاڑوں کو چھیڑنے نہیں دیتے، یہ نیوزی لینڈ کو قدرتی شکل میں دیکھنا چاہتے ہیں، آبادی محض 46 لاکھ96 ہزار ہے لیکن یہ ملک اتنی کم آبادی کے ساتھ بھی دنیا کے کامیاب اور خوبصورت ترین ملکوں میں شمار ہوتا ہے، یہ ملک سیاحت سے بھی ہر سال 9 ارب ڈالر کماتا ہے، دنیا بھر سے سالانہ 32 لاکھ سیاح نیوزی لینڈ آتے ہیں اور اپنی آنکھوں سے کنواری زمینیں دیکھتے ہیں، قانون بہت سخت اور امن وامان انتہائی مضبوط ہے اور سمندربھی خزانوں سے بھرے پڑے ہیں، آپ کو یہاں دنیا کی قیمتی ترین ’’سی فوڈ‘‘ ملے گی۔

    آپ اگر نیوزی لینڈ کو سمجھنا چاہتے ہیں تو آپ یہ کہہ سکتے ہیں، یہ ایک ایسا ملک ہے جس میں گوادر کے کنارے سوات آباد ہے یعنی پہاڑ، وادیاں، جنگل، چراہ گاہیں اور درجہ حرارت سوات جیسا لیکن یہ ساحل کے کنارے آباد ہے اور ان دونوں کے ساتھ اس میں قانون، انصاف اور شہری سہولتیں امریکی ہیں، یہ لوگ چمڑے سے کام لینے کے ماہر بھی ہیں، چمڑا رنگنا اور اس سے مصنوعات بنانا یہ ان پر بس ہے، فرانس اور اٹلی کی فیشن انڈسٹری اون اور چمڑا نیوزی لینڈ سے ہی درآمد کرتی ہے، یہ لوگ ایکسٹریم اسپورٹس کے ماہر بھی ہیں، ملک کے زیادہ تر شہروں میں جہازوں سے چھلانگ لگانے، سکوبا ڈائیونگ، سمندری لہروں پر سرفنگ، انسان کو ٹانگوں سے باندھ کر پہاڑ سے نیچے گرانے (بنچی جمپ) اور سیاحوں کو شیشے کے کیبن میں بند کر کے شارک مچھلیوں کے درمیان چھوڑنے والے سیکڑوں مراکز ہیں۔

    آپ کو جگہ جگہ گرم غباروں میں سفر کرانے، گیند میں بند کر کے پہاڑی ڈھلوانوں سے لڑھکا دینے اور پیرا گلائیڈنگ کے سینٹر بھی ملتے ہیں، یہ آبشاروں اور ندیوں کی سرزمین بھی ہے، آپ کسی طرف نکل جائیں، آپ کی پانی سے ملاقات ضرور ہو گی، جون جولائی نیوزی لینڈ میں سردی کے مہینے ہیں، ملک کا جنوبی حصہ ان مہینوں میں برف میں دفن ہو جاتا ہے، شمالی جزیرے میں برف نہیں پڑتی لیکن سردی ٹھیک ٹھاک ہوتی ہے، یہاں جون جولائی کے روزے بہت چھوٹے اور ٹھنڈے ہوتے ہیں، سوا سات بجے سورج نکلتا ہے اور سوا پانچ بجے غروب ہو جاتا ہے، نیوزی لینڈ کی صبح اور شام دونوں شاندار ہیں، آپ کو اس کا افق ہر وقت سنہری اور سرخ دکھائی دیتا ہے، ملک بھر میں بادل منڈلاتے رہتے ہیں، آپ جدھر دیکھتے ہیں آپ بینائی کا صدقہ اتارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، آپ اگر ’’بیوٹی ود کمفرٹس‘‘ دیکھنا چاہتے ہیں تو پھر آپ کو دنیا میں نیوزی لینڈ سے بہتر کوئی جگہ نہیں ملے گی، اس زمین، اس فضا میں ایک جادو ہے، ایک ایسا جادو جو آپ کی روح کی تمام کثافتیں دھو دیتا ہے، جو آپ کو نیا جنم، ایک نیا جیون بھی دیتا ہے اور جو آپ کو نیا نکور بھی بنا دیتا ہے۔ کیپ رینگا سے پہلے ’’نائینٹی مائیل بیچ‘‘ کا علاقہ آتا ہے، یہ نوے میل لمبا ساحل تھا، جہاں تاحد نظر ریت ہی ریت اور پانی ہی پانی دکھائی دیتا ہے، راستے میں کوئی بندہ بشر نہیں ملے گا۔

    دنیا کا آخری لائٹ ہاؤس بھی وہاں موجود ہے، یہ سفید رنگ کی مسجد نما عمارت کی شکل ہے، جس کے سامنے لندن، سڈنی، لاس اینجلس اور ٹوکیو کا فاصلہ اور سمتیں درج ہیں اور اس پورے منظر پر ایک ہیبت ناک سناٹا طاری ہے، یہ مکلی کے قبرستان کے بعد دنیا کا دوسرا ایسا مقام ہے جس کے سناٹے آپ کے دل کی دھڑکن بدل سکتی ہے' آپ وہاں دنیا کے آخری مقام کو چاروں اطراف سے دیکھ سکتے ہیں، دور افق میں دو پانی بھی ملتے ہیں یہ دو سمندروں کے ملاپ کا مقام بھی ہے یہاں بحیرہ تسمان بحرالکاہل سے ملتا ہے، بہرحال نیوزی لینڈ اللہ کی قدرت کا ایک انوکھا عجوبہ ہے۔ اگر موقع ملے تو اس کو ضرور دیکھیں۔

    (جاوید چودھری کے کالم سے اقتباس)
    • پسند پسند x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
  2. محمداحمد

    محمداحمد رکن

    مراسلے:
    31
    بہت خوب !

    بہت زیادہ متاثر تھا کہ آخر میں جاوید چوہدری کا نام دیکھا تو خیال آیا کہ زیبِ داستان کا بندوبست اچھا خاصا ہوگا اس میں۔
  3. فلک شیر

    فلک شیر منتظم

    مراسلے:
    1,095
    ہاہاہاہاہاہاا
    جاوید چودھری سے میں بھی بہت " متاثر" ہوں :p
    • پسند پسند x 1
  4. فلک شیر

    فلک شیر منتظم

    مراسلے:
    1,095
    نیوزی لینڈ بڑا خوبصورت ملک ہے احمد بھائی ویسے، لوگ بھی بڑے صحت مند اور پر سکون ;)
    • معلوماتی معلوماتی x 1
  5. فلک شیر

    فلک شیر منتظم

    مراسلے:
    1,095
    یعنی یہ وہ جگہ ہے جس کے بارے میں شاعر نے فرمایا ہے:
    اوتھے چلیے، جتھے بندہ نہ بندے دی ذات ہووے:)
    • پسند پسند x 1
  6. محمداحمد

    محمداحمد رکن

    مراسلے:
    31
    :):):)

    جب تک جاوید چوہدری کو پڑھتا تھا اچھے لگتے تھے (ویسے میں باقاعدہ قاری نہیں رہا)۔ لیکن اُن کا بولنے کا انداز مزے دار نہیں ہے۔

    پھر ٹی وی پر آ کر وہ سیاسی ہو گئے۔

    اور پھر کچھ عرصے بعد اللہ معاف کرے، برائے فروخت ہوگئے۔

    ایک ذی فہم اور با شعور شخص جب دوسروں کے افکار کا پرچار کرتا ہے تو یہ بات انتہائی ناقابلِ برداشت ہوا کرتی ہے۔
    • متفق متفق x 1
  7. فلک شیر

    فلک شیر منتظم

    مراسلے:
    1,095
    مجھے لگتا ہے کہ ٹی وی نے بہت سے لوگوں کو پیسہ تو دلا دیا ہے..... لیکن ان کو ایکسپوز بھی کر دیا ہے
    جاوید چودھری صاحب کالم لکھتے رہتے تو اچھے رہتے
    مگر بے چارے آ گئے اور پھر دھندے پہ لگ گئے
    ہارون صاحب کو بھی ٹی وی پہ نہیں آنا چاہیے تھا، گو کہ وہ بول بہت اچھا لیتے ہیں
    • پسند پسند x 1

اس صفحے کی تشہیر