نظاروں کی باتیں

نسرین فاطمۃ نے 'شعری انجمن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏5 اپریل 2015

  1. نسرین فاطمۃ

    نسرین فاطمۃ رکن

    مراسلے:
    531
    ستاروں کی باتیں
    نظاروں کی باتیں
    نہ چھیڑو کوئی چاند تاروں کی باتیں
    میری دنیا کے کتنے گھر جل رہے ہیں
    جو چھیڑو تو چھیڑو شراروں کی باتیں
    جمال بہاراں کی کیابات کرنا
    کہ اب زرد پتوں سے ہے گود بھرنا
    جو موسم کے سارے ہنر مٹ رہے ہیں
    نگر تو نگر اب چمن لٹ رہے ہیں
    نہ کر اب معتبر سہاروں کی باتیں
    نہ سوئے ہوئے غم گساروں کی باتیں
    کہ اب کوہ آتش کا ہے سینہ پہ دھرنا
    کہ جام جم کو بھی ہے خون سے بھرنا
    گلستاں میں تو اب دشت بلا بن رہا ہے
    یہ نخل تمنا سزا بن رہا ہے
    وہ تیرے شہر سے ، میرے مکاں تک
    دھواں ہی دھواں ہے زمیں سے آسماں تک
    کہ آتی تو ہیں سب صدائیں یہاں تک
    مگر درکار ہیں سب کی دعائیں وہاں تک
    • پسند پسند x 1

اس صفحے کی تشہیر