میری آنکھوں میں اُمنڈ آیا ہے دریا دل کا

محمد زاہد بن فیض نے 'شعری انجمن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏28 دسمبر 2011

  1. محمد زاہد بن فیض

    محمد زاہد بن فیض رکن

    مراسلے:
    561
    میری آنکھوں میں اُمنڈ آیا ہے دریا دل کا
    پھر کہیں ٹوٹ گیا ہونا کنارہ دل کا

    بس محبت سے روایت ہے کہانی دل کی
    چار لفظوں سے عبارت ہے فسانہ دل کا

    سانس رکتی ہے تو پھر جان کا خیال آتا ہے۔
    دل دھڑکتا ہے تو لگ جاتا ہے دھڑکادل کا

    اسی کوشش میں بہت عمرگنوا دی میں نے
    پھر بھی پورا نا ہوا مجھ سے خسارہ دل کا

    میری پےآب تمنایئں بتاتی ہیں مجھے
    سوکھ جائے گا کوئی روز میں دریا دل کا

    بدلی بدلی سی صدا دیتی ہے دھرکن دل کی
    ہجر میں اور ہی ہوجاتا ہےلہجہ دل کا

    کیوں نہ اے دوست ابھی ترک محبت کرلیں
    اس سے پہلے کے بدل جائے ارادہ دل کا

    فکر دنیا میں میرے دل کو بھولانے والے
    تیری دنیا سے زیادہ ہے اساسہ دل کا

    عشق کاٹے گا ابھی اور چاہتیں ساغر
    عقل دیکھے گی ابھی اور تماشہ دل کا

    بشکریہ لنک​
  2. حیدرآبادی

    حیدرآبادی رکن

    مراسلے:
    656
    شائد کمپوزر صاحب کی غلطی ہے۔
    ورنہ درست لفظ " اثاثہ " ہے۔

    ویسے دنیا کتنی آگے جا رہی ہے۔ مگر ہمارے شاعر حضرات ابھی تک دل کے معاملات میں پھنسے لگتے ہیں :rolleyes:
  3. سجیلہ نیازی

    سجیلہ نیازی رکن

    مراسلے:
    74
    بہت اچھا انتخاب۔۔
    دنیا میں جتنے بھی ترقی یافتہ ملک ہیں وہاں بھی شاعر حضرات یہی کرتے ہونگے،کیونکہ دل دکھتا ہے اور جذبے ذخمی ہوتے ہیں تو شاعری جنم لیتی ہے
    اب کوئی شاعری میں اپنے سائنسی کارناموں یا خلائی سفرکی روداد بیان کرنے سے تو رہا،وہ نثر کے لیے ہی رہنے دیں۔
  4. josh

    josh رکن

    مراسلے:
    166
    کیوں نہ اے دوست ابھی ترک محبت کرلیں ۔۔۔اس سے پہلے کہ بدل جاے ارادہ دل کا ۔ بہت اچھا لگا ماشااللہ

اس صفحے کی تشہیر