معصوم روشنی

محمدسیف اللہ نے 'سبق آموز تاریخی واقعات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏30 مارچ 2017

  1. محمدسیف اللہ

    محمدسیف اللہ رکن

    مراسلے:
    4
    معصوم روشنی

    وہ ایک عرب ملک کا رہنے والا تھا۔ کوئی خاص مقصد حیات نا تھا صرف دنیا ہی دنیا تھی اللہ کیساتھ تعلق بھی کم ہی تھا۔ کتنی مدت سے مسجد جانا گوارا نہیں ہوا نہ ہی اللہ کے سامنے سجدہ کیا۔ وہ برے دوستوں کے ہمراہ شام سے صبح تک لہو ولعب اور بے کار کاموں میں مشغول رہتا اور بیوی کو گھر میں اکیلے چھوڑے رکھتا جو اس تنہائی سے خاصی تنگی اور پریشانی محسوس کرتی نیک اور وفادار بیوی نے اپنے شوہر کو سمجھانے بجھانے اور صحیح راستے کی طرف لانے کی بہت کوششیں کی مگر بے فائدہ ثابت ہوئیں ۔
    ایک مرتبہ وہ لہولعب کے کاموں میں شب بیداری کرنے کے بعد ۳ بحے گھر واپس آیا دیکھا اس کی بیوی اور چھوٹی بچی دونوں گہری نیند میں سورہے ہیں ۔نیند اس سے کوسوں دور تھی وہ انہیں بسترپر ہی چھوٰڑ کر دوسرے کمرے میں گیا اور فلموں اور بے حیاَئی کے کاموں میں مصروف ہوگیا۔
    اچانک اس کا دروازہ کھلا اور پانچ سالہ بیٹی باپ کے سامنے تھی بیٹی نے باپ کی طرف انتہائی تعجب کیساتھ حقارت آمیز نظروں سے دیکھا اور بولی :
    "یا بابا عیب علیک اتق اللہ"
    اباجاجان :
    آپ کے لیے یہ نہایت معیوب بات ہے آپ کو اللہ سے ڈرنا چاہیے
    یہ جملہ بچی نے تین بار دہرایا پھر دروازہ بند کر کے چلی گئی۔
    باپ پر بجلی بن گری بچی کی بات اور وہ سخت شرمندہ اور پشیمان ہوکر اٹھا اور فلموں کو بند کیا اور خود ہکا بکا ہو کر بیٹھ گیا ۔
    بچی کا جملہ اس کے دماغ میں گردش کر رہا تھا۔پھر وہ کمرے سے نکلا بچی بستر ہر چاچکی تھی۔وہ حواس باختہ ہوگیا اور اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا اس وقت اس کو کونسی آفت نے آگھیرا ہے ساتھ ہی قریبی مسجد میں سے نکلنے والی آذان کی آوازاس کے کانوں میں ٹکرائی جو ڈراونی رات کے سکوت کو توڑ رہی تھی۔وہ جلدی سے اٹھا اور غیر ارادی طور پر وضو کیا اور مسجد جا پہنچا۔
    اسے نماز پڑھنے کی خواہش نا تھی بلکہ وہ اپنی بے چینی سے نمٹنے کی کوشش کررہا تھا۔ابھی سجدے میں پہنچ کر پیشانی زمین پر رکھی ہی تھی کہ بلا سبب اس کی آنکھوں سے آنسوّوں کا ایک سیل امڈ آیا اور وہ سسکیاں لے کر رونے لگا۔
    کئی سالوں بعد پہلی دفعہ اس کا ماتھا اپنے اللہ رب العالمین کے آگے جھکا تھا۔ اس آہ وزاری نے اس کو احساس دلایا کہ اب اس کے ایمان کی تازگی کا وقت آگیا ہے۔اس نے اپنے دل و دماغ سے تمام فسق و فجور سے متعلق باتوں کو باہر نکالا اور اللہ سے سچے دل سے توبہ کی۔۔۔۔۔۔۔۔اب اس کی زندگی کی کایہ پلٹ چکی تھی!!!!!

    فجر کی نماز ختم ہوگئی وہ تھوڑی دیر مسجد میں بیٹھا رہا پھر اپنے گھر کو واپیس ہوا کچھ سوئے بغیر پوری تیاری کیساتھ ڈیوٹی پر چلا گیا۔
    جب آفس پہنچا اس کا منیجر تعجب سے دیکھنے لگا اور اتنے جلدی آنے کی وجہ پہنچی اس نے گزشتہ رات کا سارا واقعہ بتایا
    منیجر نے کہا :
    'تم اس بات پر اللہ کا شکر ادا کرو کہ اللہ نے تمہیں ایسی معصوم بچی سے نواز جس نے تمہیں ملک الموت کے آںے سے پہلے پہلےغفلت کی نیند سے بیدار کردیا۔
    ڈیوٹی ختم کرنے کے بعد وہ جلدی جلدی گھر کو روانہ ہوا تاکہ اپنی بیٹی سے مل سکے جو اس کی ہدایت کا سبب بنی ۔
    وہ گھر داخل ہوا تو اس کی بیوی نے زار و قطار آنسو بہاتے ہوئے اس کا استقبال کیا اس نے پوچھا کیوں رو رہی ہو ؟
    بیوی نے چیختے ہوئے جواب دیا
    تمہاری بیٹی حرکت قلب بند ہو جانے کی وجہ سے وفات پاگئی ہے ۔
    اس خبر کے صدمے نے باپ کے اوسان خطا کردئیے۔۔۔۔۔وہ خود پر قابو نا پاسکا اور چیخ چیخ کر رونے لگا
    تھوڑی دیر بعد جب قدرے اطمینان ہوا اس کو سمجھ میں بات آئی کہ جو کچھ بھی ہوا ہے اللہ تعالی کی طرف سے ابتلاٰ و آزمائش ہے ۔
    اللہ تعالی اس کا امتحان لینا چاہتا ہے
    اس نے دوست کو فون کر کے بلایا بچی کو غسل دیاگیا عزیز و اقارب جنازہ پڑھ کر دفن کرنے گئے تو اس نے اپنے ہاتھوں سے بچی کو قبر میں اتارا اوراس کی آنکھیں اشکبار تھیں وہ بولا:
    " میں اپنی بیٹی کو نہیں بلکہ روشنی کو دفن کر رہا ہوں جس نے میری زندگی کی اندھیری رات کو روشنی میں بدل دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں اس روشنی کو دفن کررہا ہوں جس کی شعاعوں نے میری زندگی کا کایا پلٹ دی اور جو مجھے فسق و فجور کی تاریکیوں سے نکال کر ایمان و عمل کی دنیا میں لے آئی ۔
    ماخّوذ:سنہری کرنیں۲۵۵

    سبق آموز پہلو
    اس واقعہ سے عبرت ہے ان کے لیے جنہوں نے زندگیاں گزار دی مگر اللہ کی یاد دل میں نہیں آئی یقنن ہدایت بہت بڑی نعمت ہے .
    ہدایت صرف بندے کو تب ملتی ہے جب وہ مانگتا ہے
    اس واقعہ سے یہ بھی سبق ملتا ہے اللہ تعالی ہدایت ملنے کے بعد اپنے بندوں کو آزماتا بھی ہے دیکھنے کہ لیےمیرا بندہ کتنا صابر اور شکر کرنے والا ہے .
    انسان کے پاس دنیا کی ہر نعمت ہے مگر اس کے دامن میں ایمان کی نعمت نہیں وہ یقنن خسارے میں ہے
    ہم بھی جہاں دنیا کے لیے سرتوڑ کوشش کرتے ہیں وہاں دین اور ایمان کے بارے میں بھی سوچنا چائیے
    اچھی دینی محفلوں میں شرکت کرنا چاہئے اچھے دوست بنانے چاہئے
    اللہ کے نبئ جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    ہر بندہ اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے دوستی کرنے سے پہلے دیکھ لیے وہ کس سے دوستی کر رہا ہے
    یعنی اچھا مخلص دوست ہوگا نیک کام میں لگائے گا برا ہوگا بری صحبت ہوگی.
    بندے پر پریشانی آجائے اللہ سے مدد اور استقامت مانگنی چاہئے یقنن وہی بہترین کارساز ہے .
    اللہ پاک ہم سب کو دین کی سمجھ دئے اور ہماری زندگیوں میں ایمان کی روشنی ڈال دئے
    • شکریہ شکریہ x 1

اس صفحے کی تشہیر