مصر میں اخوان المسلمون کا اقتدار اورسقوط کچھ حقائق کے ساتھ۔

ابن آدم نے 'کالم اور اداریے' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏15 مئی 2014

  1. ابن آدم

    ابن آدم کتب کمپوزر

    مراسلے:
    600
    محترم جناب سرفراز فیضی کی قلم سے " مصر میں اخوان المسلمون کا کردار ان کا برسراقتدار آنا اور پھر اس اقتدار کا زوال"کے موضوع پہ ایک تحقیقی جائزہ پیش خدمت ہے۔مصر کی فوجی بغاوت اوراخوان کے سقوط کا مسئلہ وقت کا ہاٹ ٹاپک بنا ہو اہے ۔ ہمارے یہاں کی بعض مسلم تنظیموں اور جماعتوں نے اس مسئلہ کو غلو کی اس حدتک پہنچا دیا ہے کہ اس کو امت اسلام کا واحد اور سب سے بڑا مسئلہ بنادیا ہے ۔ مصر میں اخوان کے سقوط کے مسئلہ میں بعض طبقے بالکل ویسا ہی غلو کررہے ہیں جیسے شیعہ کربلا کے حادثے میں کرتے ہیں ۔ مصر میں اخوان کے سقوط کو کوئی اسلام کے مرجانے سے تعبیر کررہا ہے۔ کوئی اسے اسلام کا سقوط بتا رہا ہے۔کوئی کہہ رہا کہ یہ اسلام اور کفر کے مابین معرکہ ہے ۔ کوئی کہہ رہا کہ اخوان کا اقتدار عالم اسلام کے لیے بدر کی جیت تھی۔ اور اخوان کا سقوط امت اسلام کے لیے احد کی ہار ہے ۔ایک صاحب فرما رہے ہیں کہ مرسی کی مخالفت اور اس کے سقوط میں شرکت شرک سے کمتر گناہ نہیں۔

    اور اسی طرح کی بہت ساری باتیں ۔اس مسئلہ کو ہندستان میں اٹھانے اور اس کو احتجاج کا رنگ دینے میں ندوی مسلک کے ایک چندہ پرست مولوی اور اس کے چیلے چپاٹوں کے علاوہ جماعت اسلامی خاص طور پر پیش پیش ہے ۔اخوان کے اقتدار اور سقوط کا تجزیہ کرنے سے پہلے ہم ان ساری جماعتوں سے جو مصر کے مسئلے میں چیخ چلا رہی ہیں یہ پوچھنا چاہیں گے کہ پچھلے تین سالوں سے شام کے سنی گاجر مولی کی طرح کاٹے جارہے ہیں۔انسانیت رافضی سفاکیت کے پیروں تلے جس بے رحمی کے ساتھ روندی جارہی ہے اس کے مناظر دیکھ کے سخت سے سخت دل آدمی کے رونگٹے کھڑے ہوجائیں۔ اس تین سال کے عرصے میں دو لاکھ سے زائد سنیوں کو (جن میں بچوں اور عورتوں کی بھی بہت بڑی تعدادہے)شیعی رافضی مظالم موت کے گھاٹ اتار چکے ہیں۔ مصر کے مسئلے میں یہ سارے چیخنے چلانے والے لوگ اب تک کہاں سورہے تھے ۔ کیا شام میں بہنے والا خون مسلمان کا خون نہیں ہے ۔ یا شام کے شیعہ ظالم ان حضرات کے رشتہ دار ہیں۔ شام کے مسئلے پر سوائے دو چار قرار داد پاس کرنے کے اور کیا کیاہے ان جماعتوں نے ۔ شام میں دو لاکھ سے زائد مسلمانوں کی شہادت پر دو چار قرار دادیں اور مصر میں دو چار ہزار اخوانیوں کی قتل عام پر ملک گیر ماتم ۔صرف اسی لیے نا کہ یہ اخوانی جماعت اسلامی کے ہم مسلک ہیں۔کیا مسلکی تعصب اور فرقہ پرستی کی اس سے بدتر بھی کوئی مثال دی جاسکتی ہے۔

    ندوی مولوی کا مسئلہ دیگرہے ۔ یہ دل بدلو حضرت اپنے سیاسی آقاؤں کو بدلنے میں مہارت رکھتے ہیں۔ ’’صہیونیت نواز‘‘سعودی کی نوازشوں کے مقابلے میں اب شاید خلیج کے ’’اخوانیوں‘‘سے ان کی چندہ پرستی کو زیادہ امیدیں وابستہ ہوگئی ہیں۔ یہ سب اسی چندہ پرست فطرت کے تماشے ہیں اور کچھ نہیں ۔ یہ حضرت جو کچھ کریں ان کو ان کی اس فطرت کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے ۔ اور ان کی ہر حرکت و عمل کی توضیح ان کی اس فطرت کو پیش نظر رکھ کر ہی کی جانی چاہیے ۔

    اب آتے ہیں اخوان کے مسئلے پر۔اخوان کے دین پسند ہونے کے ناطے عالم اسلام کی تمام دین پسند جماعتوں کو ان کے اقتدار میں آنے کی خوشی تھی۔ اخوان کی فکری اور منہجی خطاؤں کے باوجود( جن کو چھوٹا بھی نہیں کہا جاسکتا) عالم اسلام کی دینی جماعتوں اور خود مصر کے سلفی شیوخ اور تنظیموں نے الیکشن سے پہلے مرسی کی تائید کی تھی اور اقتدار کے بعد اخوان کا استقبال کیا ۔اخوان کے اقتدار میں آنے سے شام اور اس سے بھی زیادہ فلسطین کے مظلوموں کے لیے نصرت کے راستے کھلنے کی امید ہوچلی تھی۔اخوان سے یہ بھی امید تھی کہ وہ اقتدار میں آنے کے بعد مصر میں اسلامی انقلاب کی راہ ہموار کرنے کا سبب بنیں گے ۔ گرچہ ایک سالہ دور اقتدار میں ان امیدوں کو زیادہ تر افسوس ہی ملا پھر بھی مرسی کا سقوط عالم اسلام کے لیے ایک سانحہ ہے۔

    مصر کے سلفی علما نے بھی اخوان کے سقوط پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ مصر سے تعلق رکھنے والے عالم اسلام کے عظیم خطیب اور عالم شیخ الالبانی کے شاگرد فضیلۃ الشیخ محمد حسان ، شیخ الالبانی کے دوسرے شاگرد وقت کے محدث فضیلۃ الشیخ ابواسحاق الحوینی، حزب النور کے مشہور عالم دین اور الدعوۃ السلفیۃ کے نائب رئیس فضیلۃ الشیخ یاسر برھامی وغیرہم کے مرسی کے سقوط پربیانات یوٹیوب پر دیکھے جاسکتے ہیں۔یہ الگ بات ہے کہ بعض علما اخوان کے منہج اور فکر کی خرابیوں کی وجہ سے ابتدا سے ہی ان کے مخالف رہے ہیں ۔ اقتدار سے پہلے بھی اور سقوط کے بعد بھی ۔ اور آخر کار اخوان کے متعلق ان علما کے اندیشے اور پیشین گوئیاں صحیح ثابت ہوئیں۔

    اخوان سے ہمدردی اپنی جگہ پر ہے ۔ لیکن اس ہمدردی کا یہ مطلب بالکل نہیں ہونا چاہیے کہ ہم ان کو عصمت کے مقام پر لے جاکر بٹھا دیں ۔ اخوان اگر ناکام ہوئے تو ان کی ناکامی میں بیرونی سازشوں کے ساتھ ساتھ خود ان کی کمزوریوں کا بھی بڑا دخل ہے۔ اخوان سے ہمدردی اور ان کی کمزوریوں کی نشاندہی کو کوئی شخص اگر تضاد سمجھتا ہے تو اس کو اپنی عقل پر ماتم کرنا چاہیے ۔سب سے پہلی بات تو یہ کہ جس انقلاب کے توسط سے اخوان اقتدار تک پہنچے تھے اصل میں وہ انقلاب ہی ناقص تھا۔ حسنی مبارک کے خلاف بغاوت اسلام سے زیادہ جمہوریت کے نام پر تھی۔ حسنی مبارک کا سقوط اسلام کی نہیں ڈکٹیٹرشپ کے مقابلے میں جمہوریت کی جیت سمجھی گئی۔ خود اخوان نے جمہوریت کو اس کے پورے تقدس کے ساتھ تسلیم کرلیا۔ مرسی اپنے بیانات میں بار بار کہتے رہے: الحکم للشعب، الشعب ہو مصدر السلطۃ والشرعیۃ۔

    ایک اجتماعی غلط فہمی یہ ہوئی کہ صرف حسنی مبارک کے ہٹ جانے کو انقلاب سمجھ لیا گیا۔ بیوروکریسی ، عدلیہ ، فوج (اخوان مخالف)اپنی جگہ پر باقی رہی ۔ اخوان نے اقتدار میں آنے کے بعد ان کو Purifyکرنے کی کوشش نہیں کی ۔مرسی نے صدارتی فرمان جاری کیا کہ ان کے جاری کردہ صدارتی فرامین کو عدلیہ میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ نومبر میں پبلک پراسیکیوٹر عبدالمجید محمود کو برطرف کردیا لیکن ان کے اس اقدام کو عدالت عظمیٰ نے غیر آئینی قرار دے کر کالعدم کردیا۔ وزیر دفاع کا عہدہ محمد حسین طنطاوی سے لے کر سیسی کے ہاتھ میں دے دیا۔میڈیا(آپ جانتے ہیں کہ پوری دنیا میں اس کو کون کنٹرول کرتا ہے )نے اخوان کے خلاف زبردست پروپیگنڈہ کیا۔ اخوان کی جانب سے ان پر شکنجہ کسنے کی کوشش کی گئی ۔مصر کے بعض سرکاری اخبارات کے مدیران کو ان کے عہدوں سے برطرف کردیا گیا،اس کے علاوہ متعدد اخبارات کو ضبط کر لیا گیا، مصر کے پبلک پراسیکیوٹر نے دوسو سے زیادہ صحافیوں سے پوچھ گچھ کی اور صدارتی دفتر نے صحافیوں اور میڈیا کی شخصیات کے خلاف ایک سو سے زیادہ کیس دائر کیے۔

    ان اقدامات سے عوام میں یہ پیغام گیا(اور دیا گیا)کہ اخوان مصر کو ہتھیانا چاہتے ہیں ۔ملک کے سرمایہ دار طبقے (قرآن کی اصطلاح میں مترفین، جو ہمیشہ اصلاحی تحریکوں کے مخالف رہے ہیں)نے مغربی طاقتوں کے اشارے پرجان بوجھ کر معاشی بحران Create کیا۔ صدر اور وزیر اعظم حشام قندیل(دونوں کا تعلق انجینئرنگ کے شعبے سے ہے)اس بحران کا کائی مناسب حل نہیں نکال سکے۔یعنی اخوان کی قیادت مضبوط معاشی ٹیم تشکیل دینے میں ناکام رہی ۔اس کے علاوہ مرسی کی ’’اخوان پروری‘‘ بھی عوام میں ان کی بدنامی کا سبب بنی ۔مرسی نے اپنے یک سالہ دور حکومت میں مختلف ریاستی اداروں میں اپنی سابقہ جماعت اخوان المسلمون کے ارکان کو مختلف عہدوں پر مقرر کیا تھا۔انھوں نے اخوان کے پانچ ارکان کو مختلف وزارتوں میں کھپایا، آٹھ کو ایوان صدر میں ملازمتیں دیں۔ان کے علاوہ سات کو صوبائی (علاقائی)گورنر مقرر کیا ،بارہ کو گورنریوں کے معاونین مقرر کیا،تیرہ کو گورنری کونسلر اور بارہ کو شہروں کے مئیرز مقرر کیا تھا۔اس طرح انھوں نے میرٹ کو بالائے طاق رکھ کر ریاستی اداروں کو ’’اخوانیانے‘‘کی پالیسی اختیار کی۔

    اس طرح سرمایہ دار ، فوج ، نوکر شاہوں اور میڈیا کی سازشوں اور اخوان کی ناکاریوں نے فوجی بغاوت کے لیے راستہ آسان کردیا۔مصر میں اخوان کی ناکامی سے سب سے پہلا سبق مختلف ممالک میں سرگرم ان جماعتوں اور تنظیموں کو سیکھنا چاہیے جو جمہوریت کے راستے سے ملک میں اسلامی انقلاب لانے کے لیے کوشاں ہیں ۔ اسلامی انقلاب کو اس وقت مضبوط ہاتھوں کی ضرورت ہے۔ جمہوریت کے مندر میں ووٹروں سے بھیک مانگ کر کوئی انقلاب نہیں آنے والا۔جب تک انقلاب ملک پر اپنی عسکری طاقت نہ قائم کرلے اور عدلیہ کو کالعدم اور بیوروکریسی کو معزول نہ کردے ۔ محض ووٹ کے ذریعہ صدارت اور وزارت تک پہنچ جانا بے سود ہے ۔بڑا عجیب لگتا ہے جب ہمارے یہاں جماعت اسلامی کے لوگ مصر میں ’’جمہوریت کی پامالی‘‘ کا رونا روتے ہیں ۔ آخر وہ یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ پاکستان میں جنرل ضیاء الحق کے ساتھ مل کر اس ’’مقدس جمہوریت‘‘ کو یہ خود بھی پامال کرچکے ہیں۔

    مصر میں فوجی بغاوت کو راستہ دکھانے میں بیرونی طاقتوں خصوصاً امریکہ کے ہاتھ کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔مصر میں معاشی بحران پیدا کرنے میں امریکہ کا اہم رول تھا۔ مرسی مخالف عناصر کو بھی امریکی تنظیموں نے جمہوریت کو تقویت دینے کے نام پراچھا خاصا تعاون کیا۔لیکن ان بیرونی مداخلتوں کو روکنے میںاخوانی قیادت ناکام رہی۔ اپنے خلاف ہونے والی سازشوں کو روکنے کے بجائے اخوان کے بہت سارے سیاسی فیصلے اس کے لیے نقصان کا باعث بنے۔ اس کی ذمہ داری اخوان کو تسلیم کرنی چاہیے۔ کیا اخوان کو ان دشواریوں اور مخالفتوں کا اندازہ نہیں تھا جو اقتدار میں آنے کے بعد ان کے خلاف کی جانے والی تھیں؟ اگر نہیں تو یہ ان کی عاقبت نااندیشی تھی۔ اور اگر ان سازشوں کا اخوان کو پہلے سے اندازہ تھا تو اس کے تدارک کے لیے ان کے پاس کوئی اسٹریٹجی نہیں تھی ۔ پچھلے 80سالوں سے قیادت کے لیے تیاری کررہی جماعت کے لیے یہ افسوس کی بات ہے ۔
    اخوان کو اقتدار تک پہچانے میں سلفی تنظیموں اور سلفی علما کا بہت بڑا ہاتھ تھا۔ اگر سلفی علما اور تنظیمیں مرسی کو سپورٹ نہیں کرتیں تو مرسی کبھی اقتدار تک نہیں پہنچ پاتے ۔ لیکن اخوان نے اقتدار میں آنے کے بعد سلفیوں کے ساتھ غداری کی۔ اخوان نے مصر کو اپنی جاگیر سمجھ لیا۔ان کے ساتھ اپوزیشن جیسا رویہ اپنایا گیا۔ اپنے منصوبوں اور پروجیکٹس سے سلفیوں کو الگ کردیا۔ ان کے ساتھ لبرل حکومتوں جیسا سلوک کیا۔

    سلفیوں نے اخوان کی حمایت شریعت کے نفاذ کی شرط پر کی تھی۔ لیکن اخوان نے اقتدار میں آنے کے بعد شریعت کے نفاذ میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی۔ نہ ہی اخوان کے پاس شریعت کے نفاذ کا کوئی عملی خاکہ تھا۔ اور شریعت کا نفاذ تو دور کی بات خود شریعت کے فہم اور تعبیر سے متعلق اخوان انہی منہجی سرگردانیوں کا شکار ہے جن کا شکار دین کی تعبیر و تشریح میں سلف کے منہج کو چھوڑنے والی جماعتیں ہوجاتی ہیں۔ یہ ویڈیوز اس سرگردانی کا منہ بولتا ثبوت ہیں ۔
  2. ابن آدم

    ابن آدم کتب کمپوزر

    مراسلے:
    600
    حمد حراز؍ محمد مرسی قطع ید السارق لیس من الشریعۃ

    ہل سعی الإخوان للحکم لتطبیق الشریعۃ ؟؟ شاہد ضلالات محمد مرسی ثم احکم

    فیدیو الإخوان لن یطبقوا الشریعۃ فی أی بلد

    د. مرسی وجماعۃ الإخوان لا یریدون الإسلام بل یعملون تماما ضدہ
  3. ابن آدم

    ابن آدم کتب کمپوزر

    مراسلے:
    600
    شریعت کے نفاذ میں تساہل ایک طرف، اقتدار میں آتے ہی اخوان نے مصر کو اخوانی رنگ میں رنگنا شروع کردیا۔ اخوان کے مخالف بعض سلفی علما پہلے سے اس کی پیشین گوئی کرچکے تھے۔ فضیلۃ الشیخ محمد سعید رسلان جو مصر کے مشہور سلفی عالم ہیں، اخوان کے اقتدار سے کچھ پہلے کی اپنی تقریر’’مَاذَا لَوْ حَکَمَ الْإِخْوَانُ مِصْرَ؟‘‘میں مصر میں اخوان کو اقتدار ملنے کے بعد اپنے اندیشوں کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں:ـ مَاذَا لَوْ حَکَمَ الْإِخْوَانُ مِصْرَ -أَعَاذَہَا اللہُ مِنْ کُلِّ سُوء ٍ-؟!!۔۔۔۔۔۔ أَنْ تَصِیرَ جُمْہُورِیَّۃُ مِصْرَ الْعَرَبِیَّۃُ جُمْہُورِیَّۃَ مِصْرَ الْإِخْوَانِیَّۃَ.
    ۔۔۔۔۔۔تَکُونَ مَصْلَحَۃُ الْجَمَاعَۃِ مُقَدَّمَۃً عَلَی مَصْلَحَۃِ مِصْرَ، وَلَنْ یَکُونَ ذَلِکَ إِلَّا بِحِیلَۃٍ نَفْسِیَّۃٍ تُصَوِّرُ لَہُمْ أَنَّ مِصْرَ ہِیَ الْجَمَاعَۃُ، وَأَنَّ الْجَمَاعَۃَ ہِیَ مِصْرُ، فَمِصْرُ الْجَمَاعَۃُ، وَالْجَمَاعَۃُ مِصْرُ!!
    سوء اتفاق کہ ان کی یہ پیشین گوئیاں سچ ثابت ہونے لگیں۔اخوان یہ نہیں سمجھ سکے کہ مصر اسلام کا ہے اخوان کا نہیں۔
    وہ علما جو اخوان کی فکر اور منہج سے گہری واقفیت رکھتے تھے وہ پہلے سے ہی شریعت کے نفاذ کے متعلق اخوان سے نا امید تھے۔ اخوان کے سقوط پر تبصرہ کرتے ہوئے شیخ محمد بن ہادی المدخلیفرماتے ہیں:’’میں چاہتا تھا کہ اخوان اپنے اقتدار کے چار سال اور پورے کرلیتے تاکہ لوگوں پر حجت قائم ہوجاتی کہ وہ کون سی شریعت ہے جس کو اخوان نافذ کرنا چاہتے ہیں ۔ مزید یہ کہ اپنے ایک سالہ اقتدار میں اخوان نے شریعت کے نفاذ کے لیے کیا عملی اقدام کیا؟‘‘
  4. ابن آدم

    ابن آدم کتب کمپوزر

    مراسلے:
    600
    تعلیق العلامۃ محمد المدخلی (المفتی والمدرس بالمسجد النبوی) بعد عزل مرسی وسقوط الإخوان
  5. ابن آدم

    ابن آدم کتب کمپوزر

    مراسلے:
    600
    اخوان کے ساتھ سلفیوں کے رشتہ میں دراڑ کا سب سے بڑا سبب بنا اخوان کی ایران سے قربت۔ اخوانی قیادت نے ثقافت ، سیاحت، سفارت اور تقارب بین المسالک کے نام پر ایران کے لیے مصر کے دروازے دھڑا دھڑ کھول دیے۔ اخوان کی قیادت سے بعض سلفی علما کو پہلے سے یہ اندیشہ تھا کہ اس سے مصر میں شیعیت کو دخل اندازی کا موقع ملے گا، مصر میں ایران کا دینی اور سیاسی نفوذ بڑھ جائے گا۔ شیخ محمد سعید رسلان نے اخوان کے اقتدار میں آنے سے پہلے ہی اس اندیشہ کا اظہار کیا تھا۔

    اپنی تقریر بعنوان’’مَاذَا لَوْ حَکَمَ الْإِخْوَانُ مِصْرَ؟‘‘فرمایا تھا کہ:وَسَابِعًا: أَنْ یَرْتَفِعَ الْمَدُّ الشِّیعِیُّ فِی مِصْرَ بِحُجَّۃِ التَّقْرِیبِ بَیْنَ الْمَذَاہِبِ، حَتَّی یَتِمَّ التَّمْکِینُ لِلرَّوَافِضِ فِی مِصْرَ، بِإِنْشَاء ِ حِزْبٍ شِیعِیٍّ، وَحُسَیْنِیَّاتٍ لِتَعَبُّدِہِمْ، مَعَ تَدْرِیسٍ لِمَذْہَبِہِمْ، وَتَرْوِیجٍ لِخُرَافَاتِہِمْ وَبَاطِلِہِمْ، بِحُجَّۃِ مَحَبَّۃِ أَہْلِ الْبَیْتِ

    اخوان کی عاقبت نا اندیشی نے اس اندیشہ کو سچ ثابت کردیا۔اخوان کے زمانہ میں سیاسی اور دینی سطح پر ایران کا نفوذ بڑھنے لگا۔ ان کے مکاتب، ٹی وی چینلز، دعوتی مراکز میں اضافہ ہوا ۔ اخوان کے زمانہ میں مصر میں پہلی بار شیعوں کے امام باڑہ کا افتتاح ہوا۔ شیعیت اور ایران کے ساتھ اخوان کا تعلق پہلے سے بہت مضبوط رہا ہے ۔ پھر اس پورے مسئلہ کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میںسید قطب کے نظریات کے پس منظر میں دیکھیں تو اس مسئلہ کی حساسیت مزید بڑھ جاتی ہے ۔ شام کے مسئلہ میں مرسی بشار کے خلاف بیان تو دیتے رہے لیکن بشار کے مؤید ممالک ایران اور ماسکوکے دورہ سے عوام میں شام کے متعلق ان کا خلوص سوال بن گیا۔
  6. ابن آدم

    ابن آدم کتب کمپوزر

    مراسلے:
    600
    واضح رہے کہ ایران اور مصر کے درمیان 1979 کے انقلاب کے بعد سے سفارتی تعلقات منقطع چلے آرہے تھے۔مرسی کا ایران دورہ تیس سال کے بعد کسی مصری صدر کا یہ ایران کا پہلا دورہ تھا۔ایران سے اخوان کی یہ قربت اور شیعیت کا فروغ اہل سنت کے لیے کتنا بڑا مسئلہ تھا اس کا اندازہ انٹرنیٹ پر موجود ان بیانات سے(اگر بیانات نہ دیکھ سکیں تو عنوانات سے) لگایا جاسکتا ہے جو مصر کے علما نے شیعیت کے بڑھتے نفوذ کو روکنے کے لیے دیے ہیں:
    الشیخ محمد حسان للرئیس مرسی لن ینصرک اللہ اذا فتحت الباب للشیعۃ فی مصر وبئست المصلحۃ مع ایران - YouTube

    الشیخ محمد حسان یحذر مرسی والاخوان السماح للشیعۃ دخول مصر ویعلن انہ اول من یقف لہذا ولو بدمائنا - YouTube
  7. ابن آدم

    ابن آدم کتب کمپوزر

    مراسلے:
    600
    ألشیخ الحوینی للرئیس مرسی من العیب علیک انک ادخلت الشیعۃ مصر ونظام مبارک حفظ مصر منہم

    الشیخ أحمد فرید : مرسی خان الأمۃ والعہد والشیعۃ عندہ لا خط احمر ولا علی جثتہ ولاحاجۃ

    الشیخ مصطفی العدوی للرئیس مرسی لعنۃ اللہ علی من فتح الباب للشیعۃ فی مصر
  8. ابن آدم

    ابن آدم کتب کمپوزر

    مراسلے:
    600
    الشیخ الزغبی من حسنات مبارک انہ حفظ مصر من ایران والشیعۃ وایران ستحول مصر مثل العراق YouTube

    الشیخ یعقوب : مرسی وعد بالشریعۃ واخلف اتتلاعبون بنا YouTube

    الشیخ المقدم یوضح ضلالات جماعۃ الإخوان فی تقاربہم مع الشیعۃ

    یا أہل مصر احذروا من الشیعۃ فإنہم دخلوا مصر فی زمن حکم جماعۃ الإخوان ــ للشیخ أبو بکر الحنبلی - YouTube
  9. ابن آدم

    ابن آدم کتب کمپوزر

    مراسلے:
    600
    لو عایز تعرف سبب سقوط محمد مرسی والإخوان شوف الفیدیو دہ... خطیییییییر

    اس کے علاوہ دیکھیے اخوان کے دور میں شیعی اثر ونفوذ کے بارے میں تین حصوںمیں موجود ڈاکیومنٹری بعنوان ’’الإخوان والمد الشیعی‘‘ دیکھی جاسکتی ہے ۔( بعض علما کے لیے استعمال کیے گئے نامناسب الفاظ پر تحفظ کے ساتھ)
    اس کے علاوہ استاذ ممدوح اسماعیل کا یہ انٹرویو بھی اسی مسئلہ پر ہے:
    الإخوان والمد الشیعی فی مصر لقاء خاص - الأستاذ ممدوح إسماعیل 24-03-2013
  10. ابن آدم

    ابن آدم کتب کمپوزر

    مراسلے:
    600
    مرسی نے اقتدار میں آنے کے بعد جب سعودی عرب کا دورہ کیا تو یہ امید بندھی تھی کہ مصر اور سعودی کے تعلقات اخوان کے توسط سے نیا موڑ لیں گے۔ اور عرب ممالک میں سنی قوتوں کی یکجہتی کو راستہ ملے گا ۔ لیکن افسوس کہ اخوان نے سعودی کے مقابلے میں ایران کو ترجیح دی، جس کی سزا اخوان کو ملی ۔ایران کے توسیعی عزائم اور سنی ممالک میں اس کی سیاسی اور مذہبی دخل اندازیاں اس وقت سنی ممالک کے لیے بہت بڑا مسئلہ ہے جس کے خلاف وقتاً فوقتاً علما خبردار کرتے رہتے ہیں۔ ماضی قریب میں شیخ یوسف قرضاوی کا بیان سو سے زائد علما کی تائید کے ساتھ آیا تھا جس میں انھوں نے سنی ممالک میں شیعیت کے بڑھ رہے اثر ونفوذ پر متنبہ کیا ۔سعودی عرب کے لیے شیعی نفوذ کئی وجوہات سے تشویش کا باعث ہیں ۔ پہلا مسئلہ تو یہ کہ ایران کا سب سے بڑا ٹارگٹ سعودی عرب ہے۔ اور سعودی عرب میں بھی بطور خاص حرمین۔ اس وقت سعودی عرب کی گرد ایران کی تگ ودو بڑھتی جارہی ہے ۔ سعودی عرب کے شمال میں لبنان ، سیریا ،عراق شیعی رسوخ والے ممالک ہیں ۔ جنوب میں شمالی یمن کے علاقوں میں ایران حوثی شیعہ قبائل کے ذریعہ اپنا نفوذ بڑھا رہا ہے ۔ مشرق میں بحرین اور امارات ایران کی زد پر ہیں ۔ ایسے میں مصر میں ایرانیوں کا نفوذ سعودی حکومت کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کا سبب بن سکتا ہے ۔

    دوسری بات یہ کہ حرمین کے متولی ہونے کی حیثیت سے سعودی عرب کی حیثیت سنی ممالک کے قائد کی ہے ۔ اور سنی ممالک میں ایرانی شیعی نفوذ روکنے کی سب سے بڑی ذمہ داری سعودی عرب کی بنتی ہے ۔پھر سعودی حکومت کے لیے ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ مصر کی اخوانی حکومت سے سعودی اخوانیوں کو شہ مل رہی تھی ۔ حکام کے خلاف خروج اخوانیوں کی رگوں میں خون کی طرح دوڑتا ہے۔ ان مسائل کی وجہ سے مصر کی اخوانی حکومت اپنی نا دانش مندیوں کی وجہ سے سعودی حکومت لیے مسئلہ بنتی جارہی تھی۔سعودی حکومت کا تحفظ محض ایک خاندان کی حکومت کے تحفظ کا مسئلہ نہیں ۔ سعودی حکومت اس وقت حرمین کی محافظ ہے ۔ عالم اسلام میں اہل سنت کی نمائندہ قوت ہے ۔ رافضی اور قبرپرستی خرافات و بدعات کے مقابلے کے لیے حرمین کا حصار ہے ۔ اگر آل سعود کی حکومت ختم ہوتی ہے تو سب سے پہلے رافضیت وہاں پہنچے گی۔ اور رافضیت کی سنیوں سے دشمنی کس حد تک جاسکتی ہے اس کی زندہ مثال اس وقت شام کے حالات ہیں ۔امریکہ کے ساتھ بعض معاملات پر مفاہمت سعودی عرب کی ڈپلومیٹک مجبوری ہے ۔ خاص طور پر ایران سے مقابلے کے لیے ۔ مسلم ممالک کی داخلی سیاست میں امریکہ کی پکڑ کوئی ڈھکی چھپی نہیں ۔ سی آئی اے کے حال ہی میں جاری کیے گئے دستاویزات میں اس بات کا باضابطہ اعتراف کیا گیا ہے کہ 1953میں سی آئی اے نے مصدق حکومت کا تختہ الٹنے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔مصر کی بھی فوجی بغاوت میں امریکہ کا کردار واضح ہے ۔

    عجیب سی بات یہ ہے کہ وہ لوگ جو سعودی حکومت کی مفاہمت کو صہیونیت نوازی کا نام دیتے ہیں وہ حضرات ترکی، قطر کے امریکی تعلقات پر تنقید نہیں کرتے۔ بلکہ حال ہی میں امریکہ ایران مذاکرات کویہی لوگ( اور خود ایرانی میڈیا ) تعلقات میں خوشگوار پیش رفت اور کامیاب سفارت کاری قرار دے رہے ہیں ۔حالانکہ دنیا جانتی ہے کہ سنیوں کے مقابلے میں ایران ہمیشہ امریکہ کے ساتھ رہا ہے ۔ ایران کے قائدین پوری وضاحت کے ساتھ بیان دے چکے ہیں کہ اگر ہماری مدد نہ ہوتی امریکہ عراق اور افغانستان میں کبھی داخل نہیں ہوپاتا۔ ہماری عوام ایرانی حکمرانوں کے بیان پر لٹو ہوجاتی ہے ۔ لوگ یہ نہیں دیکھتے کہ ایران اسرائیل کے خلاف بیان دیتا ہے اور قتل کررہا ہے شام میں سنیوں کو ۔ اور اسرائیل ایران کے خلاف بیان دیتا ہے اور قتل کررہا فلسطین میں سنیوں کو۔

    اخوان اپنی ساری غلطیوں کے باوجود اسلام پسند جماعت تھی ۔ ان کے سقوط اور ان پر ڈھائے جانے والے مظالم پر ہمیں افسوس ہے ۔ اور دنیا کے ہر انصاف پسند انسان کو افسوس ہوگا ۔ سلفی علما اور جماعتیں فوجی بغاوت کے حق میں نہیں تھیں ۔ رابعہ میں فوج کی جانب سے جو مظالم ڈھائے گئے ہیں کوئی اس کی حمایت نہیں کرتا ۔ مصر کے سلفی علما نے بھی ان مظالم پر سخت تنقید کی ہے۔ ان علما کے بیانات یوٹیوب پر دیکھے جاسکتے ہیں۔ اخوان کو بھی امت کے خون کی حفاظت کے لیے اقتدار واپس مانگنے کی اپنی ضد چھوڑ دینی چاہیے۔ جب اقتدارمیں رہتے ہوئے وہ اپنے خلاف کی گئی سازشوں پر کچھ نہیں کرپائے تو اب میدان میں اتر کر کیا ہوجانے والا ہے ۔

    فتنے اور سازشیں ہر حکومت کے خلاف ہوتی ہیں۔ اخوان کے خلاف بھی ہوئیں ۔ اخوان ان سازشوں کو بھانپ نہیں سکے۔ اپنے دوستوں اور دشمنوں میں فرق نہیں کرسکے ۔اقتدار کی نئی نئی طاقت ان سے ہضم نہیں ہوسکی ۔ اقتدار کے نشہ میں بہت سارے فیصلے ایسے لیے جوان کی بدنامی اورعوامی غصہ کا سبب بنے اور فوجی بغاوت کا راستہ ہموار کیا ۔اخوان مصر کی قیادت سنبھالنے کی اہل نہیں تھی ۔ اس لیے اللہ نے اس سے یہ قیادت چھین لی۔ ابھی اخوان کو مزید تربیت کی ضرورت ہے ۔ دینی اور سیاسی دونوں ۔ اخوان کے سقوط پر مصر کے ہی دو علما کے تبصرہ پر اپنی بات ختم کرتا ہوں ۔ شیخ ابواسحق الحوینی نے اخوان کے سقوط پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا:’’زمین پر تمکین اللہ کی سچی عبودیت ہی سے حاصل کی جاسکتی ہے ۔ جب تک تم اللہ کے سچے بندے نہیں بن جاتے زمین پر اقتدار کے مستحق نہیں ۔جب تم اللہ کے سچے بندے بن جاؤ گے اللہ بغیر اسباب کے بھی تم کو تمکین عطا فرمادے گا‘‘۔

    شیخ محمد سعید رسلان اپنے خطبہ بعنوان ’’حکم الإخوان… دروس وعبر‘‘میں کہا:اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں فرمایا:’’اللہ نے وعدہ فرمایا ہے تم میں سے ان لوگوں کے ساتھ جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں کہ وہ ان کو اسی طرح زمین میں خلیفہ بنائے گا جس طرح ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو بنا چکا ہے‘‘۔(النور:55)اخوان کو چاہیے کہ وہ غور کریں کہ زمین پر تمکین پانے والی جماعت کے جو صفات اللہ نے بیان فرمائے ہیں، کیا اخوان میں وہ شرائط پائے جاتے ہیں؟
    شکریہ

اس صفحے کی تشہیر