مسائل نماز

islamkingdom_urdu نے 'نماز' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏12 ستمبر 2018

  1. islamkingdom_urdu

    islamkingdom_urdu رکن

    مراسلے:
    17
    نماز کی فضیلت

    1. نماز صاحب نماز کے لیے نور ہے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا "نماز نور ہے"
    2. نماز گناہوں کا کفارہ ہے۔ اللہ عزّوجل نے فرمایا "دن کے دونوں سروں میں نماز برپا رکھ اور رات کی کئی ساعتوں میں بھی یقیناً نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں"اور آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمای"تمہاری کیا رائے ہے کہ اگر تم میں کسی کے گھر کے دروازے پر نہر ہو اور اُس سے ہر دن پانچ دفعہ غسل کیا جائے۔ کیا اُس پر کوئی میل باقی رہے گی؟" صحابہ نے عرض کی کوئی میل باقی نہیں رہے گی ۔ اس پر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا پس یہ پانچ نمازوں کی مثال ہے۔ اللہ ان سے گناہوں کو مٹاتا ہے۔"
    3. نماز جنّت میں دخول کا سبب ہے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے ربیعہ بن کعب سے فرمایاجب اُس نے جّنت میں ساتھ رہنے کا سوال کیا۔"اپنے آپ کی مدد کرنا سجدوں کی کثرت کے ساتھ"
    حکم نماز

    قرآن پاک: اللہ نے فرمایا"اور نمازوں کو قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو" سنّت: آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمای"اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے۔اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور بے شک محمد صلى الله عليه وسلم اُسکے بندے اور اسکے رسول ہیں اور نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا اور بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔" اور طلحہ بن عبیداللہ رضي الله عنه سے مروی ہے بے شک ایک آدمی نے رسول اللہ سے اسلام سے متعلّق سوال کیا۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمای"دن اور رات میں پانچ نمازیں ھیں پھر حضرت طلحہ رضي الله عنه نے پوچھا کیا ان نمازوں کے علاوہ بھی مجھ پر کوئی نماز فرض ہے؟ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا نہیں۔ ھاں یہ کہ تو نفل پڑہے" اجماع: پوری امّت کا پانچ نمازوں پر اجماع ہے
    کس پر نماز واجب ہے؟

    نماز ہر مسلمان بالغ،عاقل،مذّکر اور موّنث پر واجب ہے
    نماز چھوڑنے والے کا حکم

    1. نماز کا چھوڑنے والا اسکے وجوب کا انکار کرنے والا ہے..پس اگر وہ اپنے انکار پر ڈٹا رہے تو وہ کافر ہے، اللہ اور اسکے رسول صلى الله عليه وسلم اور اجماع امّت کو جھٹلانے والا ہے
    1. نماز کو سستی کی وجہ سے چھوڑنے والا ...جس نے جان بوجھ کر اور سستی کی وجہ سے نماز چھوڑی پس تحقیق اُس نے کفر کیا۔ اور بادشاہ پر لازم ہے کہ اسکو نماز کی طرف دعوت دے اور اُس پر توبہ پیش کرے تین ماہ تک۔ پس اگر توبہ کر لی تو ٹھیک ورنہ اُسکوارتداد کی وجہ سے قتل کر دے..اس لیے کہ رسول صلى الله عليه وسلم اللہ نے فرمای"نماز ہمارے اور اُنکے درمیان ایک معاہدہ ہے پس جس نے اسکو چھوڑا اُس نے کفر کی"..اور آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمای"بےشک آدمی اور کفرو شرک کے درمیان فرق نمازکا چھوڑنا ہے"
    چھوٹے بچے کی نماز

    آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا"تم اپنے بچوں کو نماز کا حکم دو جب وہ سات سال کے ہو جائیں اور انکو مارو جب وہ دس سال کے ہو جائیں".. اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ بچہ جب سات سال کو پہنچ جائے تو اسے نماز پرھنے کا کہا جائے گا اور اس سے نماز کی مشق کروائی جائے گی اور جب دس سال کو پہنچ جائے تو نمازنہ پڑھنے کی وجہ سے اسےمارا بھی جائے گا
    نماز کا طریقہ

    آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا " ایسے نماز پڑھو جس طرح مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو" حضرت عائشہ رضي الله عنها سے مروی ہے فرماتی ہیں " آپ صلى الله عليه وسلم نماز کو تکبیر اور سورۃ فاتحہ کے ساتھ شروع فرماتے تھے اور رکوع کے وقت نہ سرکو بلند رکھتے تھے اور نہ ہی جھکاتے تھے بلکہ درمیان میں رکھتے تھے۔ اور جب رکوع سے اپنے سر کو اٹھاتے تھے تو سیدھے کھڑے ہونے تک سجدے میں نہ جاتے تھے اور جب سجدے سے سر اٹھاتے تو سیدھے اٹھنے سے پہلے دوسرے سجدے میں نہ جاتے تھے۔ اور ہر دو رکعتوں میں التحیات کہتے اور اپنے بائیں پاؤں کو بچھاتے تھے اور دائیں پاؤں کو کھڑا رکھتے تھے اور شیطان کی طرح سیرین پر بیٹھنے سے روکتے تھے اور آدمی کو اپنی کہنیاں درندے کی طرح بچھانے سے منع فرماتے تھےاور نماز کو سلام کے ساتھ ختم کرتے تھے"
    قبلے کی طرف منہ کرنا اور احرام کی تکبیر کہنا

    جو نماز کا ارادہ کرے وہ قبلے کی طرف منہ کرکے کھڑا ہو اس بات کا احساس کرتے ہوئے کہ وہ اللہ کے سامنے کھڑا ہے۔ خشوع و خضوع سےنماز پڑھےپھر اپنے دل میں نماز کی نیت کرے کیونکہ نیّت کی جگہ دل ہے اور اسکو الفاظ کے ساتھ ادا کرنا جائز نہیں ہےکیونکہ یہ بدعت ہے۔آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا " اعمال کا دارومدار نیّتوں پر ہے اور ہر شخص کےلیے وہ ہے جسکی اس نے نیّت کی" پھر اپنے ہاتھوں کو کندھوں یا کانوں تک بلند کرے اور کہے اللہ اکبر پھر دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر سینے کے نیچے رکھے اور دائیں ہاتھ کے ساتھ بائیں ہاتھ کو پکرلے
    نمازکا شروع کرنا اور فاتحہ پڑھنا

    نمازی اپنے سر کو جھکائے اور اپنی نگاہ کو اپنے سجدے.. والی جگہ پر رکھے اور پھر کہے " سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، تَبَارَكَ اسْمُكَ، وَ تَعَالَى جَدُّكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ "..پھر اسکے بعدکہے " أعوذ بالله من الشيطان الرجيم" "بسم الله الرحمن الرحيم" اور اسکے بعد فاتحہ پڑھے اور آمین کہے یعنی قبول کر پھر نمازی فاتحہ کے بعد کوئی سورۃ پڑھے یا جو اسکو قرآن میں سے آسان لگے وہ پہلی دو رکعتوں میں پڑھے۔ فجر اور مغرب کی پہلی دو رکعتوں اور عشاء کی پہلی دو رکعتوں میں اونچی آواز کے ساتھ قراءت کرے
    رکوع اور اس سے اٹھنا

    نمازی اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھائے اور جھکتے ہوئے تکبیر کہے اور ہاتھوں کی انگلیاں کھولتے ہوئے انکو گھٹنوں پر اس طرح رکھے گویا کہ انکو پکڑ لیا ہے۔ اور اپنی پیٹھ اور سر کو برابر کرے اور پھر " سبحان ربي العظيم "
    ..تین بار پڑھے۔ پھر اٹھے اور امام اورمنفرد دونوں " سمع الله لمن حمده"...کہیں اور پھر سب کہیں " ربنا ولك الحمد، ملء السموات، وملء الأرض، وملء ما بينهما، وملء ما شئت من شيء بعد "اور مستحب یہ ہے کہ اپنے ہاتھوں کو اپنے سینے پر رکھے جیسا کہ رکوع سے پہلے قیام میں کیا تھا۔
    سجدہ کرنا اور اس سے اٹھنا

    نمازی تکبیر کہتے ہوئے سجدہ میں چلا جائے اورسجدے میں جاتے ہوئے سب سے پہلے گھٹنے ، پھر اسکے ہاتھ، پھر پیشانی اورآخر میں ناک زمین کو چھو لے۔[ امام ابو داؤد نے اس کو روایت کیا ہے] اور اپنی ہتھیلیوں کو کانوں یا کندھوں کے برابرپھیلا دے اور اپنی انگلیوں کا رخ قبلہ کی طرف کر دے اور اپنی کہنیوں کو زمین سے بلند رکھے اور اپنے بازؤں کو اپنے پہلوؤں سے دور رکھے اور اپنے پیٹ کو اپنی رانوں سے اور " سبحان ربي الأعلى " تین مرتبہ کہے اور اپنے سجدوں میں دعاؤں کی کثرت کرے.. پھر اپنے سر کو تکبیر کہتے ہوئے بلند کرے اور اپنے ہاتھوں کو نہ اٹھائے اور بائیں پاؤں کو بچھاتے ہوئے دائیں پاؤں کو کھڑا کرتے ہوئےاور انکی انگلیوں کو قبلہ رخ کرتے ہوئے بیٹھ جائے..اور دونوں ہاتھوں کو رانوں پر کشادہ کر کے رکھے اور ہاتھوں کی انگلیوں کو قبلہ رُخ کرے اور کہے " اللهم اغفر لي، وارحمني، واجبرني، واهدني، وارزقني "
    تشھد

    جب نمازی پہلی دو رکعتوں سے فارغ ہو جائے تو پہلے اپنے بائیں پاؤں کو بچھاتے ہوئے اور دائیں پاؤں کو کھڑا کرتے ہوئے تشھد کےلیے بیٹھ جائے اور ہاتھوں کو رانوں پر رکھ لے اور بائیں ہاتھ کوکھول لے اور دائیں ہاتھ کی مٹھی بنا لے اور شہادت والی انگلی کو بلند رکھے۔.تشھد کے وقت شہادت والی انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے اسکی طرف دیکھے اور کہے " التحيات لله، والصلوات والطيبات، السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته، السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين، أشهد أن لا إِله إِلا الله وأشهد أن محمدًا عبده ورسوله " اگر نماز دو رکعتوں سے زیادہ ہو تو تکبیر کہتے ہوئے ہاتھوں کو تکبیر کے ساتھ بلند کرتے ہوئے اٹھے۔ اور باقی رکعتوں میں صرف فاتحہ پڑھے اور اسکے ساتھ سورۃ نہ ملائے۔اور آخری تشہد میں تورک کے ساتھ بیٹھے۔اور تورک یہ ہے کہ اپنے بائیں پاؤں کو دائیں طرف بچھاتے ہوئے نکالے اور اپنی سرین پر بیٹھے اور اپنے دائیں پاؤں کو کھڑا رکھے..اور تشھد پڑھے اور درود پاک پڑھے" اللهم صل على محمد وعلى آل محمد، كما صليت على إِبراهيم وعلى آل إِبراهيم إِنك حميد مجيد. اللهم بارك على محمد وعلى آل محمد، كما باركت على إِبراهيم وعلى آل إِبراهيم إِنك حميد مجيد" پھر کہے " اللهم إني أعوذ بك من عذاب جهنم، ومن عذاب القبر، ومن فتنة المحيا والممات، ومن شر فتنة المسيح الدجال"
    سلام پھیرنا

    اور نماز کے آخر میں نمازی اپنی دائیں جانب سلام پھیرے اور کہے " السلام عليكم ورحمة الله "[اس کے امام مسلم نے روایت کیا ہے] اور بائیں جانب بھی اسی طرح سلام پھیرے
    نماز کے بعد کے اذکار

    • - " أستغفر الله " تین مرتبہ "اللهم أنت السلام، ومنك السلام، تباركت يا ذا الجلال والإكرام"[ اس کے امام مسلم نے روایت کیا ہے]
    • - " لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير، اللهم لا مانع لما أعطيت، ولا معطي لما منعت، ولا ينفع ذا الجد منك الجد "[
    • - "لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك، وله الحمد وهو على كل شيء قدير. لا حول ولا قوة إلا بالله، لا إله إلا الله، ولا نعبد إلا إياه، له النعمة وله الفضل وله الثناء الحسن، لا إله إلا الله، مخلصين له الدين ولو كره الكافرون"[ اس کے امام مسلم نے روایت کیا ہے]
    • - " سبحان الله، والحمد لله، والله أكبر" (تینتیس بار) "لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد، وهو على كل شيء قدير "[اس کے امام مسلم نے روایت کیا ہے]
    • - " اللهم أعني على ذكرك، وشكرك، وحسن عبادتك "[ امام ابو داؤد نے اس کو روایت کیا ہے]
    • - قراءت: آیۃ الکرسی، سورۃ الاخلاص، سورۃ الفلق، سورۃ الناس۔[اس حدیث کو امام نسائی نے روایت کیا ہے]
    • - اللهم أعني على ذكرك وشكرك وحسن عبادتك
    نماز کی شرائط

    وقت کا داخل ہونا

    فرض نمازوں کے لیے ایک وقت مقرّر ہے اور انکی ادائیگی نہ اس وقت سے پہلے ٹھیک ہے اور نہ بعد میں جائز ہے البتہ کسی عذر کی وجہ سے ادائیگی وقت سے پہلے یا بعد میں جائز ہے..اللہ تعالیٰ نے فرمایا" بے شک نماز مومنوں پر اپنے وقت مقررہ پر فرض کی گئی ہے "
    نمازوں کے اوقات یہ ہیں:
    1. فجر کا وقت.. فجر کا وقت طلوع فجر سے شروع ہوتا ہے۔» وہ سفید روشنی ہے جو کہ مشرق کی طرف افق میں ہوتی ہے «سورج کے طلوع ہونے تک بڑھتا ہے۔
    2. ظہر کا وقت.. سورج کے ڈھلنے سے لیکر اس وقت تک جب تک ایک چیز کا سایہ اسکے مثل نہ ہو جائے۔ اس سائے کے بعد کہ جس پر سورج ڈھلا تھا۔ اسکی صورت یہ ہو گی کہ سورج جب طلوع ہوتا ہے تو آدمی کا سایہ مغرب کی طرف ہو تا ہے۔
    پھر سورج کے بلند ہونے کے ساتھ ساتھ سایہ کم ہوتا جاتا ہے یہاں تک کہ ایک موڑ پر یہ سایہ رک جاتا ہے اور پھر دوبارہ بڑھنا شروع ہو جاتا ہے تو جیسے ہی دوبارہ بڑھنا شروع ہوتا ہے یہ زوال کا وقت ہے
    1. عصر کا وقت..ظہر کے وقت کے ختم ہونے سے لیکر چیز کا سایہ دو چند ہونے تک ہے۔
    2. مغرب کا وقت..سورج کے غروب ہونے سے سُرخ لکیر کے غائب ہونے تک وہ سُرخ روشنی ہے وہ جو آسمان کے افق میں ہوتی ہے سورج کے غروب ہونے کے وقت۔
    3. عشاء کا وقت..مغرب کا وقت ختم ہونے سےلیکر آدھی رات تک ہے؛ آپ صلى الله عليه وسلم کے قول کی وجہ سے " عشاء کی نماز کا وقت آدھی رات تک ہے "
    ناپاکی سے پاکیزگی حاصل کرنا

    1. چھوٹی ناپاکی سے پاکیزگی حاصل کرنا..اور وہ وضو کے ساتھ ہوتی ہے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا!" اللہ پاک تم میں سے کسی کی بھی ناپاکی کی حالت میں نماز قبول نھیں کرتا یہاں تک کہ وہ وضو کرلے "
    2. بڑی ناپاکی سے پاکی حاصل کرنا..اور وہ غسل سے حاصل ہوتی ہے۔ اللہ عزّوجل کے قول کی وجہ سے " اگر تم ناپاک ہو تو خوب پاکی حاصل کرو "(مائدہ)
    جس کو نماز میں یاد آئے کہ وہ ناپاک ہے یا نماز کے درمیان میں وضو ٹوٹ جائےتو اسکی نماز باطل ہو جائیگی۔ اور اس پر لازم ہے کہ وہ پاکی حاصل کرنے کے لیے بغیر سلام کے نماز توڑ دے۔ اس لیے کہ نماز ٹوٹی ہے پوری نہیں ہوئی۔اور سلام تو نماز کے ختم ہونے پر ہوتا ہے۔
    کپڑے، جسم اور جگہ کی پاکی

    • اللہ کے قول کی وجہ سے " اپنے کپڑوں کو پاک رکھا کر "
    • رسول صلى الله عليه وسلم اللہ سے ثابت ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلم دو قبروں پر سے گزرے تو آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا " بے شک ان دونوں کو عذاب دیا جا رہا ہے اور یہ عذاب کسی بڑے گناہ کی وجہ سے نہیں دیا جا رہا بلکہ یہ پیشاب کے قطروں سے نہ بچنے کی وجہ سے دیا جا رہا ہے "
    • اس اعرابی کی حدیث کی وجہ سے جس نے مسجد میں پیشاب کر دیا تھا آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا " چھوڑ دو تم اسکو اور اسکے بول پر ایک ڈول پانی ڈال دو "
    ستر کا چھپانا

    مرد کا ستر:ناف سے لیکر گھٹنوں تک ہے اور عورت کا ستر نماز میں:چہرے اور ہتھیلیوں کے سوا سارا جسم ہے دونوں کندھوں کا ڈھانپنا ...نماز پڑھنے والے کے لیے واجب ہے کہ کہنیوں اور گردن کے درمیان والی جگہ کو ڈھانپ لے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمای" آپ میں سے کوئی بھی ایک کپڑے میں جس کے ذریعے کندھوں کو نہ ڈھانپا جا سکتا ہو نماز نہ پڑھے "
    قبلہ کی طرف منہ کرنا

    اللہ عزّوجل نے فرمایا" اور اپنے چہرے کو مسجد حرام کی طرف پھیر لو "اور بعض کاموں کی رعایت رکھنا ضروری ہے۔
    1. جو شخص مسجد حرام میں نماز پڑھے اس پر واجب ہے کہ وہ عین کعبہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھے۔ بہرحال جو کعبہ سے دور ہو تو وہ اسکی جہت کیطرف منہ کر کے پڑھے..کیونکہ وہ عین کعبہ کی طرف متوجہ ہونے کی طاقت نہیں رکھتا۔ اسی وجہ سے نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمای" جو مشرق اور مغرب کے درمیان ہے وہ قبلہ ہے"
    2. سوار کی نفل نماز: سوار نماز شروع کرنے سے پہلے اپنی طاقت کے مطابق کعبہ کے بارے میں غورو خوض کرے..اگر پھر بھی اسے کعبہ کی جہت معلوم نہیں ہوتی تو اس کی سواری جس طرف متوجہ ہو اس طرف نماز پڑھ لے اور یہی رسول صلى الله عليه وسلم اللہ سے ثابت ہے۔" بے شک نبی صلى الله عليه وسلم اپنی سواری پر نماز پڑھتے تھے جس طرف وہ منہ کرتی تھی اور وتر پڑھتے تھے لیکن فرض نماز نہیں پڑھتے تھے "
    جو قبلہ نہ جانتا ہو۔؟

    جو شخص قبلہ رخ نہیں جانتا اگر وہ آبادی میں ہے یا لوگ اسکے قریب ہیں تو ان سے مسجدوں کے محرابوں کے بارے کے بارے میں یا قبلہ معلوم کرنے والے آلہ کے بارے اور سورج اور چاند کے نکلنے کے اطراف کے بارے میں اور جو چیزیں ان کے مشابہ ہیں ان کے بارے میں پوچھ لے اور اگر پھر بھی پتہ نہ چلے تو اس طرف نماز پڑھ لے..اللہ عزّوجل فرماتے ہیں " جہاں تک تم سے ہو سکے اللہ سے ڈرے رہو "

اس صفحے کی تشہیر