مردانہ گپ شپ

ابو یاسر نے 'گپ شپ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏25 جنوری 2011

  1. ابو یاسر

    ابو یاسر رکن

    مراسلے:
    622
    یہ صحیح ہے کہ زیادہ سنجیدہ باتیں بوریت کااحساس دلانے لگتے ہیں
    مگر ہلکے پھلکے انداز میں کچھ کام کی باتیں ہوجاتیں تو کتنا ہی اچھا ہوتا
    مثلا
    آپ نے شادی کی بات چھیڑی ، یہ کیا ضروری ہے ہم اس کے کرنے پر ہی لمبی لمبی باتیں کریں؟ اس کے بعد کی تکلیفیں بھی تو معنے رکھتی ہیں۔
    اگر میں اس جانب بات کو طول دوں تو کچھ ایسی ہوگی کہ
    پہلے بات شادی کرنے سے شروع ہوتی ہے ، یہاں والد باحیات ہیں تو کم مشکل اور انتقال ہوچکا تو سارا خرچ اسے ہی برداشت کرنا پڑتا ہے۔
    شادی کے بعد محترمہ کے نخرے برداشت کرنا تو عام بات ہے مگر اتنی ہی سنگین بھی ہے
    کیونکہ اگر سمجھ بوجھ والی اور مالی حالت کا ادراک رکھنے والی ملی تو بہت خوب مگر ایسی نہ ہونے کی صورت میں ۔۔۔۔
    لڑکپن کی عادتیں دھیرے دھیرے رفع ہوجاتی ہیں اور نہ جانے کب سنجیدگی اور میچورٹی آجاتی ہے پتہ ہی نہیں چلتا
    اوپر سے اگر کوئی ایسے دماغ والی سے پالا پڑا جو اپنے آپ کو "ترم خان" سمجھتی ہوتو وہ یہ بول بول کرآپ کو بوڑھا کر دیگی کہ
    "ہمم ابھی بچپنہ نہیں گیا، کب تک بچے بنے رہو گے، دوسروں کو دیکھو اس نے یہ کیا وہ کیا" ایسے کیسس میرے آس پاس کافی دیکھنے میں آئے
    جن کی بیوی کچھ عمر میں بڑی ہے ، اور جب وہ اپنے شوہروں کو نصیحت دینے پر آجاتی ہیں تو دادی اماں بن جاتی ہیں اور کچھ تو 24 میں 20 گھنٹہ شاید نصیحتیں ہی سناتی ہیں
    ہمارے یہاں ایسے اٹیٹیوڈ والوں کو مختلف نام دیا جاتا ہے جیسے "کیسیٹ" "90 کی کیسیٹ" یا "سی ڈی" اور "پکاو" مگر خواتین پکاو کا مطلب اب جان گئیں ہیں اس لیے اب مرد حضرات ایسا سننے پر صرف یہ کہہ کر دلاسہ لیتے ہیں کہ "سی ڈی چالو ہوگئی "
    قصور اس میں والدین کا بھی ہے جو بچے کی نفسیات نہ سمجھتے ہوئے اسے ایک زیادہ عمر کی لڑکی سے بیاہ دیتے ہیں، ایسے موقعوں وہ حدیث بار بار یاد آتی ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کو باکرہ سے نکاح کرنی کی تعلیم دی تھی۔
    اب
    ۔
    ۔
    ۔
    ۔
    آپ کے کمنٹ!!
    مآخذ
  2. شاہد نذیر

    شاہد نذیر رکن

    مراسلے:
    486
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ!

    ویسے ان مشکلات کا تعلق اس بات سے قطعا نہیں ہوتا کہ لڑکی عمر میں لڑکے سے بڑی ہے اور نہ ہی لڑکی کے عمر میں چھوٹا ہونے سے شادی کے بعد کوئی مشکل پیش آتی ہے۔ اصل بات لڑکی کی دینی تربیت کی ہوتی ہے اگر لڑکی کو اچھی دینی تربیت دی گئی ہے تو چاہے وہ عمر میں شوہر سے بڑی ہو یا چھوٹی بہت بہترین بیوی ثابت ہوتی ہے۔ وگرنہ وہی حالات ہوتے ہیں جو آپ کے مضمون میں پیش کئے گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیوی کا انتخاب کرتے ہوئے عورت کی دینداری کو ترجیح دینے کی نصیحت فرمائی ہے۔

    بڑی عمر کی عورت سے شادی کوئی عیب یا بری بات نہیں اور نہ ہی اس سے شادی میں کوئی مشکل پیش آتی ہے۔ خدیجہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عمر میں بہت بڑی تھیٍں لیکن اس کے باوجود وہ کتنی بہترین بیوی تھیں یہ بھی سب کو معلوم ہے۔ اس لئے صاحب مضمون کا بڑی عمر کی لڑکی سے شادی کو والدین کی غلطی قرار دینا بالکل بھی درست نہیں۔ اور اس کے لئے صاحب مضمون نے جس حدیث کا حوالہ دیا ہے اسے بھی وہ سمجھنے سے قاصر رہا اس حدیث میں باکرہ سے شادی کی ترغیب کا ہر گز یہ مقصد نہیں کہ پہلے سے شادی شدہ طلاق یافتہ یا بیوہ بڑی عمر کی ہونے کی وجہ سے مسائل کھڑے کرتی ہے۔
  3. ابو یاسر

    ابو یاسر رکن

    مراسلے:
    622
    بلکل شاہد بھائی میں حدیث کی سمجھ آپ جتنی نہیں رکھتا۔
    عمر کا فرق انسان کے فکرومزاج میں تبدیلی نہیں لاتا؟
    ایک حادثہ جو ایک بچے کے لیے کچھ بھی نہیں ہوتا
    جبکہ کم عمر لڑکے کے لیے مذاق ہوتا ہے
    اور وہی واقعہ جوانوں کے لیے کچھ درد سر بن جاتا ہے
    اور بوڑھے تو ٹینشن لینے میں ماہر ہوتے ہیں
    کیوں ایسی بات نہیں ہے؟
    یا اس میں بھی اختلاف؟
  4. محمد ارسلان

    محمد ارسلان رکن

    مراسلے:
    2,556
    السلام علیکم بھائیو
    ابو یاسر بھائی نے اچھا ٹاپک چھیڑا ہے میں شاہد نزیر بھائی کی باتوں سے اتفاق کروں گا کیونکہ بڑی عمر کی لڑکی سے شادی کرنا کوئی عیب نہیں لیکن اس معاملے میں ایک نوجوان لڑکے کا دل یہی چاہے گا کہ لڑکی اس سے چھوٹی عمر کی ہو اور خوبصورت ہو۔دراصل انڈرسٹینڈنگ کی بات ہوتی ہے اگر میاں بیوی کا زہن مل جائے تو ٹھیک ہے نہ ملے تو بس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس لیے آدمی کوشش کرے کہ جس سے زہن ملے اس سے شادی کرے یا جس سے شادی ہونی ہے اس کے لیے زہن بنالے۔اور اسے اپنی طرف متوجہ کرے یعنی مانوس کرے۔
  5. کفایت اللہ

    کفایت اللہ رکن

    مراسلے:
    132
    کیاحضرات یہاں بھی شادی کی باتیں ہورہی ہیں۔
  6. محمد ارسلان

    محمد ارسلان رکن

    مراسلے:
    2,556
    جی آپ بھی یہاں آ جائیں اور کچھ شئیر کریں اگر شادی شدہ ہیں تو کچھ ہم کنواروں کے لیے نصیحت وغیرہ کر دیں۔ہاہاہاہاہا
  7. کفایت اللہ

    کفایت اللہ رکن

    مراسلے:
    132
    پہلے آپ اپناشیش محل توبنا لیں جس کاخواب آپ ہرسائٹ اورہرزمرے میں دیکھ رہے ہیں، شادی ابھی ہوئی نہیں اوربرخوردار ابھی سے الگ کھربسانے کی فکرمیں ہیں، دعاء ہے کہ اللہ تعالی آپ کوجلدازجلدایک عدد بیوی نصیب فرمائے،اورہماری بھابھیوں میں اٍضافہ کرے۔ آمین۔
  8. محمد ارسلان

    محمد ارسلان رکن

    مراسلے:
    2,556
    السلام علیکم!
    جزاک اللہ خیر بھائی کفایت اللہ
    ہر انسان کی زندگی میں کچھ مجبوریاں اور مسائل ہوتے ہیں جنہیں مد نظر رکھ کر وہ اپنی زندگی کے بارے میں سوچتا ہے میرے ساتھ بھی کچھ اس طرح ہی ہے۔بس آپ میرے لیے دعائیں کیا کریں۔جزاک اللہ خیر
  9. کفایت اللہ

    کفایت اللہ رکن

    مراسلے:
    132
    جزاک اللہ ارسلان بھائی۔
    اللہ آپ کی ہرمشکل آسان کرے آمین ،ویسے بھائی آپ الحمدللہ ہرجگہ ہشاش و بشاش نظرآتے ہیں ، ایسے میں یقین نہیں آتاکہ آپ کسی مجبوری سے دوچارہوں گے، آپ کے پرلطف مراسلات پڑھ کر بے ساختہ دلگی کاخیال آتاہے، علاوہ ازیں دوستی کے بھی توکچھ حقوق ہوتے ہیں:
    حق دوستی کی ادائیگی کاایک اورنمونہ ملاحظہ ہو:

    اب تاج محل کوئی تعمیرنہیں ہوگا
    ہردورکی شہزادی ممتازنہیں ہوتی۔
  10. کفایت اللہ

    کفایت اللہ رکن

    مراسلے:
    132
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
    ارسلان بھائی کیسے ہیں؟

اس صفحے کی تشہیر