مخلوط تعلیمی اداروں میں طالبات کیسے رہیں

نسرین فاطمۃ نے 'متفرق موضوعات (خواتین)' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏5 نومبر 2013

  1. نسرین فاطمۃ

    نسرین فاطمۃ رکن

    مراسلے:
    531
    کہیں بھی رہائش اختیار کرنے سے پہلے انسان اس کے گردو پیش کا جائزہ ضرور لیتا ہے کہ وہ علاقہ اور وہ جگہ جسے وہ رہنے کے لئے منتخب کر رہا ہے وہ اس کو کیا فوائد اور کیا نقصانات پہنچائے گی اور وہاں رہنے کے لئے اسے اپنے اندر کیسی تبدیلی پیدا کرنی پڑے گی آیا تبدیلی پیدا کر کے بھی وہ وہاں رہ سکے گا یا نہیں ۔
    کچھ اسی طرح کا حال مخلوط تعلیمی اداروں کا بھی ہے مخلوط تعلیمی اداروں میں جانے سے پہلے ہمیں ان تمام باتوں کا اور ان تمام سوالوں کا جواب تلاش کرنا چاہیئے تو آئیے دیکھتے ہیں کہ مخلوط تعلیم co_education کیا ہے؟
    مخلوط تعلیم co_educationکا بنیادی تصور یہ ہے کہ عورت اور مرد میں ہر طرح کی صلاحیتیں بالکل ایک جیسی پائی جاتی ہیں معاشرے کا ہر وہ کام جو مرد کر سکتا ہے وہ عورت بھی کر سکتی ہے بلکہ اسے کرنا چاہیے عورت کسی حیثیت سے کم نہیں ہے اور اسے کسی میدان میں بھی مرد سے پیچھے نہیں رہنا چاہیے مساوات کے اس تصور نے ہی اصل میں مخلوط تعلیم کو جنم دیا ہے ۔
    انسایکلو پیڈیا برٹینکا میں مخلوط تعلیم کی تعریف کچھ ان الفاظ میں کی گئی ہے "ایک ہی فضا میں حاصل کی گئی تعلیم ایک ہی وقت میں ایک ہی جگہ پر ایک ہی طریقہ سے ایک ہی نظام کے تحت "
    اصل میں انسائیکلو پیڈیا میں مخلوط تعلیم کی ایک اور تعریف بھی درج ہے وہ یہ کہ چونکہ دونوں انسان ہیں اس لئے ساتھ تعلیم تو ضروری ہے لیکن ذہنی و طبی اختلافات mentally and physically differentiate کا تھوڑا بہت لحاظ رکھا جانا چاہیے۔
    اس لئے مخلوط تعلیم "مخصوس ضروریات "properly neededکا لحاظ رکھ کر زیادہ تر کلاس کھیلوں اور سوشل زندگی میں مردوں کے ساتھ تعلیم حاصل کرنے کو کہتے ہیں ۔
    اس موقع پر یہ کہوں گی کہ یہ دوسری تعریف مخلوط تعلیم کو اصولاغلط مان کر بھی اسے غلط نہ ماننے کی نظیر ہے ،انسان ہونے کی قدر مشترک کے واسطے سے مخلوط تعلیم کا جواز دراصل تعلیم کے عمل میں کسی نہ کسی حد تک علیحدگی تسلیم کرنا مخلوط تعلیم کی ناکامی کے اعتراف کے طور پر تسلیم کرنے کے مترادف ہے ۔
    ہمارے ملک میں جو مخلوط تعلیم رائج ہے وہ اپنی جگہ پر ایک نرالہ ہی طریقہ تعلیم ہے یہ دراصل مغرب زدہ طبقہ کی خواہشات اور یہاں کے عوام کے مذہب اور قومی اقدار کے درمیان مسلسل کشمکش کا نتیجہ ہے ہمارے ملک میں مخلوط تعلیمی اداروں میں خواتین کی حیثیت ثانوی ہے ۔
    ساری ترقی پسندی اور آزادی کے باوجود صورت حال یہ ہے کہ طالبات کسی حد تک ایک علیحدہ گروپ کی شکل میں رہتی ہیں اور مساوات اور اختلاط کی آئیڈیل شکل جو مخلوط تعلیم کے علمبردار بناتے ہیں نظر نہیں آتی ۔
    اسلامی نقطہ نظر سے دیکھیں تو ہمارا موجودہ مخلوط تعلیمی نظام بھی کسی تباہی سے کم نہیں ہے۔مخلوط تعلیم طالبات میں جس شخصیت صلاحیت اور ذہنیت کی تشکیل کرتی ہے وہ مخصوص فرائض ادا کرنے کی تربیت نہیں ہوتی بلکہ ہر میدان میں مردوں سے مسابقت برابری اور مردوں کے دائرہ کار میں اپنی صلاحیتوں کا جوہر دکھانے کی ذہنیت ہے اور اس تعلیم کے نتیجے میں مجموعی طور پر طالبہ مرد بن کر کچھ کرنے میں تو ناکام رہتی ہے مگر اپنے مدار حیات سے بھی ٹوٹ جاتی ہے نتیجتا"خاندانی نظام کی بنیادیں ہل جاتی ہیں ۔ مسلم دنیامیں مخلوط تعلیم کی حمایت و تائید کرتے وقت ایسی سوسائیٹی کا نقشہ پیش کیا تھاجہاں خاندانی نظام کا سرے سے کوئی وجود ہی نہ ہو اب اس کے نتیجے میں مغرب تو اس کے عین مطابق خاندان سے ہاتھ دھو رہا ہے لیکن اسلامی معاشرے میں نظام کی اکائی کو تحلیل کرنے کی قطعا" گنجائش نہیں ہے۔
    نصاب اور ماحول کو مخلوط بنانے کے نتیجے میں اخلاقی بگاڑ نے نہ صرف مغرب کے معاشرتی نظام کو کھوکھلا کر دیا ہے بلکہ اس اختلاط نے مسلم مالک میں بھی اخلاقی گراوٹ کے اضافے ،اساتذہ کے عزت واحترام میں کمی دینی اقدار کی تضحیک اور ثقافتی اقدار کے مٹانے کی رفتار میں اضافہ کردیا ہے ۔
    اعلٰی تعلیمی اداروں پر جو دولت خرچ ہورہی ہے اس کا نصف طالبات پر خرچ ہوتا ہے لیکن میدان کار کے بے میل جوڑہونے کی وجہ سے ایسی خواتین کی بہت بڑی تعداد عملی میدان میں پیش ورانہ خدمات انجام دینے سے قاصر رہتی ہے نتیجتا"وہ نظام تعلیم جو بنیادی ظور پر طلبہ کی ضروریات کو پیش نظر رکھ کر چلایا جارہا ہے وہ طالبات کے لئے ہر گز سود مند نہیں ہوتا
    مخلوط نظام تعلیم کسی بھی طرح ہمارے لئے فائدہ مند نہیں ہے ، اسلام واضح طور پر مخلوظ سوسائیٹی کی نفی کرتا ہے ،اور بد قسمتی سے آج طالبات مجبورا"ان مخلوظ تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کر رہی ہیں تو ایسے میں طالبات کو بہت سی باتوں کا خیال رکھنا ہوگا اور اپنے آپ کوان حدود وقیود کا پابند بنانا ہوگا جو اللہ اور اس کے رسول نے ہمارے اوپر عائد کی ہیں وہ کونسی چیزیں ہیں جن سے طالبات کو اجتناب کرنا ہوگا
    بے پردگی

    اسلامی تعلیمات کی رو سے نوجواں اور بالغ مرد و زن کو یکجا اور بے پردہ ہوکر تعلیم حاصل کرنا جائز نہیں ہے نبی کریم ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ "
    عورت چھپا کر رکھنے کی چیز ہے جب وہ باہر نکلتی ہے تو شیطان تکنے لگتا ہے (ترمذی)
    قرآن مجید کی سورہ الاحزاب آیت نمبر 59 میں اللہ تعالٰی ارشاد فرماتے ہیں کہ
    يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِىُّ قُل لِّأَزْوَٰجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَآءِ ٱلْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلَٰبِيبِهِنَّ ۚ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰٓ أَن يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ ۗ وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورًۭا رَّحِيمًۭا﴿٩٥﴾
    "اے نبی اپنی بیویوں اور بیٹیوں سے کہہ دو کہ اپنے اوپر چادروں کے گھونگھٹ ڈال لیا کریں اس تد بیر سے یہ بات زیادی متوقع ہے کہ وہ پہچان لی جائیں گی اور انھیں ستایا نہ جائیگا "
    اس آیت سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ طالبات کو مخلوط اداروں میں کس طرح جانا چاہئے۔
    مخلوط مجالس/فتنہ

    مخلوط تعلیمی اداروں میں رہتے ہوئے لڑکوں سے گھلنے ،ملنے اور بات چیت کرنے سے احتراز کرنا چاہیے،قرآن کریم میں اللہ تعالٰی نے فرمایا ہے

    "اے نبی آپ فرمادو،مومن مردوں کواپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور مومن عورتوں سے فرمادواپنی نگاہیں نیچی رکھیں "
    بلاشبہ اسلام کا مقصد حیا کو برقرار رکھنا ہے لیکن اسلام نے اس مقصد کے حصول کاعملی طریقہ اور اصول بھی بنا دیا ہے مرد وزن کے اس کھلم کھلا اختلاط کے ساتھ اس حیا کا قائم رکھنا محال ہے ۔
    اسلام کی رو سے "آنکھوں میں حیا "کا اطلاق غض نظر (نگاہیں نیچی رکھنے ) پر ہوسکتا ہے مگر غض بصر کا سوال اور امکان صرف وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں اچانک آمنا سامنا ہو جائے اور ایک لمحے یا تھوڑی دیر کے بعد یہ صورت ختم ہوجائے ،جو آنکھیں مسلسل اور بار بار چلتی ہیں ان میں حیا اور بے حیائی کی سرحدیں الگ الگ نہیں رہ سکتیں ،لہذا بھر پور کوشش یہی کرنا چاہئے کہ طلبہ و طالبات کی کلاسز الگ الگ ہوں اور اگر ایسا ممکن نہ ہو اور مجبورا"مخلوط ماحول میں بیٹھ کر پڑھنا پڑھے تو کوشش کرنا چاہئے کہ ان اوقات کے علاوہ کہیں بھی طلبہ کے ساتھ رابطہ نہ ہو ۔اساتذہ کرام سے بھی تنہائی میں ملنے سے سختی کے ساتھ احتراز کرنا چاہئے اور اگر کسی ناگزیر صورت میں کسی نامحرم شخص سے بات کرنی پڑے قرآن کی یہ آیت ضرور سامنے رہے ۔
    إِنِ ٱتَّقَيْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِٱلْقَوْلِ فَيَطْمَعَ ٱلَّذِى فِى قَلْبِهِۦ مَرَضٌۭ وَقُلْنَ قَوْلًۭا مَّعْرُوفًۭا ﴿٢٣﴾
    اگر تمھارے دل میں اللہ کا خوف ہے تو دبی زبان سے بات نہ کرو کہ جس شخص کے دل میں بد نیتی کی بیماری ہو وہ تم سے کچھ امیدیں وابستہ کرے گا بات کرو تو سیدھے سادھے طریقے سے کرو ۔
    جذبہ نمائش حسن

    جذبہ نمائش حسن وہ خواہش ہے جو عورت کے دل میں پیدا ہوتی ہے کہ اس کا حسن دیکھا جائے یہ خواہش ہمیشہ نمایاں طور پر تو نظر نہیں آتی بلکہ دل کے پردوں میں کہیں نہ کہیں یہ جذبہ چھپا ہوا ضرور ہوتا ہے اور پھر یہ جذبہ کہیں لباس کی زینت میں کہیں بالوں کی آرائش میں کہیں باریک اور شوخ کپڑوں کے انتخاب میں ایسے ایسے انداز میں اپنا رنگ دکھاتا ہے کہ اس کا ہر جگہ پہچان لینا ممکن نہیں ہوتا لیکن اس کا تدارک قرآن یوں کرتا ہے
    وَقَرْنَ فِى بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ ٱلْجَٰهِلِيَّةِ ٱلْأُولَىٰ ۖ
    ترجمہ
    اور اپنے گھروں میں ٹہری رہیں اور جاہلیت کا سا بناؤ سنگھار نہ دکھاتی پھریں۔
    وَلَا يَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِيْنَ مِنْ زِيْنَتِهِنَّ
    اور اپنے پاؤں زمین پہ نہ مارتی چلیں کہ جو زینت انھوں نے چھپا رکھی ہے وہ معلوم ہو جائے۔
    قرآن نے اس غلط جذبے کے لئے ایک جامع اصلاح "تبرج جاھلیہ" استعمال کی ہے ہر وہ زینت اور ہر وہ آرائش جس کا مقصد شوہر کے سوا دوسروں کے لئے لذت نظر بنناہو اسی تعریف کے تحت آئی ہے اسی لئے اگر چادر یا برقع بھی اس مقصد کے لئے خوش رنگ بنایا جائے کہ دوسروں کی نظریں اس سے لظف لیں تو یہ بھی جاہلیت ہے اس جاہلیت کے خاتمے کے لئے عورت کو کوئی روک ٹوک نہیں کرسکتا کوئی قانون اس کا محاسبہ نہیں کرسکتا جب تک وہ خود اپنا محاسبہ نہ کرے ۔
    طالبہ کو چاہئے کہ وہ ہر لمحے اپنے دل کی دنیا کا جائزہ ضرور لیتی رہے کہ کہیں یہ نا پاک جذبہ اس کے اندر تو نہیں پایا جاتا ۔
    اصل مین ہر وہ آرائش جو بری نیت سے پاک ہو وہ اسلام کی آرائش ہے اور جس میں ذرہ برابر بھی بری نیت شامل ہو وہ جاہلیت کی آرائش ہے
    خوشبو سے احتراز

    اسلامی حیا اتنی حساس ہے کہ وہ ایک مسلمان عورت کو اس کی اجازت نہیں دیتی کہ وہ خوشبو میں بسے ہوئے کپڑے پہن کر راستوں سے گزرے یا محفلوں میں شرکت کرے کیونکہ اس کا حسن اور اس کی زینت پوشیدہ رہے بھی تو کیا فائدہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،
    نبیﷺ کا ارشاد ہے کہ جب تم میں سے کوئی عورت مسجد جائے تو خوشبو نہ لگائے "
    ایک اور حدیث میں آتا ہے "مردوں کے لئے وہ عطر مناسب ہے جس کی خوشبو نمایاں ہو اور عورتوں کے لئے وہ عطر مناسب ہے جس کا رنگ نمایاں اور خوشبو مخفی ہو ۔
    عریانی سے آحتراز

    اسلام نے انسانی شرم وحیا کی جو شکل سامنے رکھی ہے وہ کسی اور مذہب میں نہیں پائی جاتی اس کی اہمیت اس حدیث سے سامنے آتی ہے جس میں رسول اللہ نے فرمایا " جو عورتیں کپڑے پہن کر ننگی ہی رہیں اور دوسروں کو رجھائیں اور خود دوسروں پر رجھیں اور بختی اونٹ کی طرح ناز سے گردن ٹیڑھی کر کے چلیں وہ جنت میں ہرگز داخل نہ ہونگی اور نہ اس کی خوشبو پا سکیں گی ۔
    یعنی کپڑوں کا ا ستعمال بھی اس طرح کیا جائے کہ مخلوط ماحول میں رہتے ہوئے بھی خود کو نا محرم نظروں سے محفوظ رکھا جا سکے ۔موجودہ دور کے برقعے اور آبائے بھی بعض اوقات اس طرح جسم کی بناوٹ کو نمایاں کرتے ہیں کہ ان کا پہننا اور نہ پہننا برابر لگتا ہے یہ موٹی موٹی باتیں ہیں جن کو مخلوط موحول میں رہتے ہوئے ہر مسلمان طالبہ پیش نظر رکھے ،مخلوط ماحول ایک غیر فطری ماحول ہے جہاں یہ ساری تدابیر طالبات کو اپنا آپ محفوظ رکھنے میں معاون ثابت ہوں گی اور اس بات کی ضرورت ہے کہ مخلوط تعلیمی اداروں میں رہتے ہوئے اللہ اور اس کے رسول کے احکامات جس طرح کھلم کھلا توٹتے ہیں ان سے لوگوں کو روشناس کرایا جائے اور یہ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ طالبات خود اس مخلوط ماحول کے خاتمے کے لئے میدان عمل میں آئیں تاکہ انھیں جداگانہ تعلیمی ماحول میسر آسکے۔
    اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

اس صفحے کی تشہیر