ماتاہری کا دوسرا کردار

شکاری نے 'کالم اور اداریے' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏6 مارچ 2014

  1. شکاری

    شکاری رکن

    مراسلے:
    152
    پاکستانی خفیہ ادارہ آئی ایس آئی کے سابق افسر جناب بریگیڈئیر (ر) سید احمد ارشاد ترمذی نے اپنی کتاب "خفیہ ادارے" میں ایک دلچسپ واقع لکھا ہے۔اس کی حقیقت یا اس میں کس حد تک سچائی ہے ارشاد ترمذی صاحب ہی بہتر وضاحت کرسکتے ہیں-البتہ اسے پڑھنے کے بعد بچپن میں پڑھے گئے عمران سیریز کے جاسوسی ناولوں کی یاد تازہ ہوگئی ہے آپ کے تبصرہ کے لئے پیش خدمت ہے۔

    ماتا ہری کا نام جاسوسی کی تاریخ میں کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ وہ پیشے کے لحاظ سے تو ایک رقاصہ تھی، مگر اس نے پہلی جنگ عظیم کے دوران جرمنی کے لئے اپنے اس فن کے ذریعے جاسوسی کے میدان میں یادگار خدمات انجام دیں۔ مگر بالآخر وہ اتحادیوں کے ہتھے چڑھ گئی اور فرانسیسیوں نے اسے گولی کا نشانہ بناکر انجام کو پہنچادیا۔ ماتا ہری کا کردار جاسوسی کی دنیا میں ایک لیجنڈ اور سیکس سمبل کے طور پرآج بھی جانا جاتا ہے ۔ کچھ اسی نوعیت کی ایک بھارتی دوشیزہ سے ہمارا واسطہ پڑا اور اس کا کردار ہمارے ریکارڈمیں اپنے انمٹ نقوش چھوڑ گیا۔

    اسلام آباد میں دنیا کے متعدد سفارتخانوں نے اپنے عملے کے بچوں کی ابتدائی تعلیم و تربیت کی غرض سے ایمبیسی اسکول کھول رکھے ہیں۔ خاص طور پر ان ممالک نے جن کے عملے کی تعداد زیادہ ہے اور طالب علم بھی کافی تعداد میں ہیں۔ یہ سلسلہ دنیا کے تقریبا سبھی ممالک میں موجود ہے اور بظاہر کسی حوالے سے بھی سفارتی آداب اور قواعد کے خلاف نہیں۔ مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ان اسکولوں میں محض درس و تدریس کا کام ہی نہیں ہوتا بلکہ ان اسکولوں کے عملے کے کئی ارکان کو تعلیمی سرگرمیوں کی آڑ میں جاسوسی کے کام پر بھی مامور کیا جاتا ہے۔ یا تربیت یافتہ جاسوس اساتذہ کے ظاہری روپ میں ان اسکولوں میں تعینات کردیئے جاتے ہیں۔ یہ ایمبیسی اسکول دراصل سفارتخانے کی عمارت سے جدا ایک ایسے بیس(base) کے طور پر استعمال ہوتے ہیں جہاں نہ صرف خفیہ سرگرمیوں کی نگرانی احسن طریقے پر ہوسکے بلکہ تخریب کاری اور دہشت گردی کی کارروائیوں کے منصوبے بھیب ا آسانی عمل میں لائے جاسکیں۔ اساتذہ کے روپ میں تعینات کئے گئے خفیہ ایجنٹ ہمہ وقت میزبان ملک کے خلاف کسی بھی خفیہ کارروائی کے لئے تیار رہتے ہیں اور یہ اسکول ان ایجنٹوں کو مکمل تحفظ اور سہولتیں فراہم کرتے ہیں۔ خفیہ ایجنٹ اسی طرح کے دوسرے اداروں مثلا ائیر لائنز کے دفاتر ، ہوٹلوں، لینگویج سینٹرز ، ایوان ہائے ثقافت و دوستی اور مراکز اطلاعات میں بھی تعینات کئے جاتے ہیں۔

    ہمیں اپنی معمول کی چیکنگ کے دوران اسلام آباد میں قائم ریپستان ایمبیسی اسکول کی ایک مس وینا کی سرگرمیاں کچھ مشکوک نظر آئیں۔ مسلسل نگرانی کےبعد ہمیں پتہ چلا کہ اسکول کی تدریسی سرگرمیوں میں تو وہ کم حصہ لیتی ہے مگر اکثر اوقات شکار کی تلاش میں اسلام آباد کے چند گھروں میں دکھائی دیتی ہے ۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہوا کہ مس وینا کا ریپستانی سفارتخانے کے ڈیفنس اتاشی اور ”را” کے فرسٹ سیکریٹری سے مستقل رابطہ ہے۔ یہ دونوں اسلامک نیوکلیئرآسٹیٹ پاکستان کے دفاعی اور ایٹمی راز معلوم کرنے کے درپے تھے، اور ریپستانی ماتا ہری ان کی ہدایات پر کام کرتی تھی۔

    مس وینا کی عمر 25یا 26 سال کے لگ بھگ تھی، مگر دیکھنے میں وہ 18-19 سال کی بے ضرر اور معصوم سی لڑکی لگتی تھی ۔ ستواں ناک، کتابی چہرہ، کھلتا ہوا رنگ، انتہائی متناسب جسم ، چال ڈھال میں ایک خاص قسم کا بانکپن، اور گفتگو کا مخصوص انداز، اس کے خطرناک ہتھیار تھے۔ اس کی خاموش نظریں بھی گہرائیوں تک سرایت کرتی محسوس ہوتی تھیں۔ اس کے چہرے پر ہمہ وقت ایک ہلکی سی مسکراہٹ تو رہتی لیکن اس کی نظروںمیں ایک ایسی اداسی بھی دکھائی دیتی تھی جیسے صدیوں پرانا ایک محل اپنی لٹی ہوئی تابناکیوں ، خوشیوں اور روشنیوں کے لوٹ آنے کے کربناک انتظار میں ہو، جیسے وقت کے بے رحم ہاتھ لمحہ بہ لمحہ اے ریزہ ریزہ کر رہے ہوں یا جیسے اک تھکن سے چور چور مسافر جو اپنی منزل کا نام بھی بھول چکا ہو مگر پھر بھی ایک لامتناہی سفر پر ہو۔ مس وینا کا بدن اور روح بھی ایک دوسرے سے جدا جدا، گم سم کسی انجانی منزل کی تلاش میں رہتے۔

    مزید معلومات کے لئے ہم نےاپنا ایک ہم وطن ہندو لڑکے کو ریپستان ایمبیسی اسکول میں داخلہ دلوایا۔ اس کی ماں نے ہماری ہدایات پر یہ ظاہر کیا کہ وہ اپنے بچے کی تعلیمی سرگرمیوں کے بارے میں بے حد متفکر ہے اور وہ ان سرگرمیوں کے بارے میں آگاہ رہنا چاہتی ہے۔ وہ ہر دوسرے تیسرے روز اسکول جانے لگی اور یوں آہستہ آہستہ مس وینا کے ساتھ دوستی استوار کرنے میں کامیاب ہوگئی۔ جلد ہی ان کیدوستی اسکول کی حدود سے نکل کر گھر اور مارکیٹ تک آگئی۔ وہ متواتر ایک دوسرے کو ملتیں ، شاپنگ اکٹھے کرتیں، سینما جاتیں اور اسلام آباد کے تفریحی مقامات پر اکٹھے گھومنا پھرنا بھی ان کا معمول بن گیا۔ وینا اسی محترمہ کو شکارکرکے اسے اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنا چاہ رہی تھی اور یہ نہیں جانتی تھی کہ یہ معصوم شکار خود اس کا شکاری ہے۔
    کچھ ہی عرصے بعد ہمارے اس شک کی تصدیق ہوگئی کہ مس وینا کا اسکول کی تدریسی سرگرمیوں میں کوئی کردار نہیں۔ وہ بھارتی جاسوس ہے اور ہمہ وقت اپنے آقاؤں کے حکم کی بجا آوری میں ”مشن” کے لئے تیار رہتی ہے ۔ اب ہماری نظریں اس کی آمد و رفت اور روزمرہ کی مصروفیات پر مذکور ہوگئیں اور ہم اس انتظار میں تھے کہ وینا کے پھینکے ہوئے کانٹے میں کونسی ”پاکستانی مچھلی ” پھنستی ہے۔

    ایک روز ریپستانی ایمبیسی کی جانب سے اسلام آباد کے ایک بڑے ہوٹل میں کمرہ بک کروایا گیا۔ یوں تو یہ ایک معمول کی بات تھی مگر سفارتخانے کے مہمانوں کی شناخت اور ان کے بارے میں جاننا ہمارے فرائض میں شامل تھا۔ ہوٹل سے ہمارے آدمی نے اطلاع دی کہ مس وینا ریپستانی ڈیفنس اتاشی کی گاڑی میں سفارتخانے کے عملےکے ایک رکن مسٹر کھنہ کے ساتھ جو ”را” کی ٹیم کا ممبر بھی تھا، ہوٹل پہنچی ہے اور کھنہ ، وینا کو ہوٹل کے کمرے میں چھوڑ کر لابی میںبیٹھا شاید کسی مہمان کا منتظر ہے۔ ہم نے ائیرپورٹ سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ اس وقت کوئی جہاز نہیں آرہا اور نہ ہی بھارتی سفارتخانے کی کوئی کار ائیرپورٹ گئیہے، اس سے ظاہر ہوا کہ ”مہمان” کوئی یہیں کا ہے ۔ ہم نے سیٹی بجادیاور ہماری ٹیم نے ضروری سازوسامان کے ساتھ اپنی پوزیشن سنبھال لی۔
    چند لمحوں کے بعد پرویز نامی ہمارا ایک غدار ہم وطن نوجوان ، جس کے چہرے سے سراسیمگی اور خوف ٹپک رہا تھا ہوٹل کی لابی میں داخل ہوا۔ مسٹر کھنہ نے آگے بڑھ کر بڑی گرم جوشی سے اس کا استقبال کیا اور کہا’ ” آئیے پرویز صاحب ہم تو آپ کے دیر سے منتظرہیں” اور اسے اس کمرے میں لے گیا، جہاں وینا آنے والے لمحوں کے تانے بانے بن رہی تھی۔ وقت ضائع کئے بغیر ہمارے ساتھیوں نے پہلے سے طے شدہ پروگرام کے مطابق کپڑے تبدیل کئے اور مختلف روپ دھارکر اپنے اپنےڈیوٹی کے مقام پر پہنچ گئے۔

    توقع کے عین مطابق کمرے سے روم سروس کو انٹرکام پر چائے اور سینڈویچز کا آرڈر دیا گیا۔ ہمارا تربیت یافتہ ”ویٹر” فوری طور پر چائے کی ٹرالی لے کر روانہ ہوگیا، جس میں ایک چھوٹا سا ٹرانسمیٹر نصب تھا۔ واپسیپر ”ویٹر” نے بتایا کہ وینا اپنے مہمان پر اپنا سب کچھ نچھاور کرنے کے لئے بے چین ہے مگر اس کا مہمان سہما ہوا اور شرمیلا سا ہے، جبکہ مسٹر کھنہ دلالوں کا روایتی کردار ادا کر رہا ہے اور اسکی کوشش ہے کہ مس وینا اپنے مہمان کے تمام حواس پر قبضہ کرلے۔ بہر حال ہم ٹرالی میں لگے ٹرانسمیٹر کی مدد سے ان لوگوں کی گفتگو سن رہے تھے اور اسے ریکارڈ بھی کر رہے تھے۔
    کچھ ہی دیر بعد کھنہ کمرے سے باہرآگیا اور اپنی کار میں بیٹھ کر واپس ایمبیسی چلاگیا ۔ اس کے چہرے کی بشاشت بتارہی تھی کہ شکار پنجے میں آچکا ہے اور چند ہی لمحوں میں وینا اس کا جھٹکا کر کے اس کے کباب بنالے گی۔

    برحال مس وینا اور پرویز کی گفتگو رسمی تعارف تک ہی محدود رہی۔ پرویزکے انداز سے ظاہر ہورہا تھا کہ وہ کھل کر اپنے جذبات کا اظہار نہیں کر رہا اور گھبرایا ہوا ہے۔ مگر وینا اس مہم کو سرکرنے کے لئے اس پر تابڑ توڑ اور خطرناک حملے کر رہی تھی۔ وینا کے لئے اپنے اعلیٰ افسران پر اپنی کارکردگی ثابت کرنے کا شاید یہ بہترین موقع تھا اور وہ کسی صورت بھی یہ موقع ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتی تھی ۔ کچھ ہی دیر بعد ٹرانسمیٹر سے تیز سانسوں کی آواز آنے لگی اور بالآخر یہ تلاطم تھم گیا ۔ پرویز شاید ذبح ہوچکا تھا۔
    پرویز تقریبا آدھ گھنٹہ کمرے میں رہا اور وینا کو اپنا ایڈریس لکھوا کر اور وصل کا ایک اور وعدہ لے کر نیچے آگیا، مگر اس کی حرکات و سکنات سے صاف ظاہر ہورہا تھا کہ اس کی گھبراہٹ جوں کی توں ہے ۔ ہوٹل سے نکلتے ہی ہم نے اس کا پیچھا کیا اوراسے اپنی گاڑی میں بٹھاکر اپنے ریسٹ ہاؤس لے گئے۔ ایک لمحے میں اس کے سارے حسین خواب منتشر ہوگئے۔

    تفتیش شروع ہوئی تو وہ اپنی شناخت کرانے سے ہچکچارہا تھا۔ نتیجتاً ہم نے وینا کے ساتھ اس کی گفتگو کی ریکارڈنگ اسے سنائی تو اس کے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگیں ۔ اس نے بچوں کی طرح رونا شروع کردیا اور معافی مانگنے لگا۔ اس نے بتایا کہ ”میں اسلامک نیوکلیئرآسٹیٹ آف پاکستان اٹامک انرجی کمیشن میں انجینئر ہوں او رکھنہ کے ساتھ میری ملاقات لاہور سے اسلام آباد آتے ہوئے ایک بس میں ہوئی تھی۔ ہم بہت جلد دوست بن گئے اور کھنہ نے مجھے ایک خوبصورت ہندو لڑکی سے ملوانے کی پیشکش کی جسے میں ٹھکرانہ سکا۔” ہمارے لئے اس میں حیرت کی کوئی بات نہ تھی کہ ریپستانی خفیہ اداروں نے چانکیا کی تعلیمات کے مطابق رنڈیوں سے جاسوسی کا کام لینے کو بھی اپنے کلچر کا حصہ بنا رکھا تھا۔ اس کھیل کو آگے بڑھانے کے لئے ہمارے پاس اوربہت سے راستے تھے۔ پہلے ہم نے سوچا کہ پرویز سے ڈبل ایجنٹ کا کام لیا جائے مگر بعد ازاں اس کی ملازمت کی حساس نوعیت کو دیکھتے ہوئے ہم نے اپنا ارادہ منسوخ کر دیا تاہم اس واقعہ کی ایک رپورٹ اس کے متعلقہ محکمے کو بھجوادی گئی اور پرویز کو ملازمت سے فارغ کردیا گیا۔

    بہر حال پرویز سے ملاقات کے بعد مس وینا ابھی ہوٹل کے کمرے میں موجود تھی۔ یا تو وہ کھنہ کا انتظار کرتی یا پھر ایمبیسی فون کرتی کہ ہوٹل میں میری ڈیوٹی پوری ہوگئی ہے اور مجھے آکر یہاں سے لے جایا جائے ۔ اب ہمارے پاس ہوٹل کا محاذ ہی تھا اور وقت بہت کم۔ وینا تک رسائی حاصل کرنا خطرے سے خالی نہ تھا۔ وہ ہمارے کسی بھی اہلکار کی کمرے میں موجودگی کی صورت میں الارم بجاسکتی تھی اور ہمارے لئے ایک پیچیدہ سفارتی تنازعہ پیدا ہو سکتا تھا۔ دوسری جانب یہ ایک ایسی صورتحال تھی جس سے فائدہ نہ اٹھانا ہماری ”خفیہ روایات ” کے خلاف تھا۔ کسی بھی رسک کی صورت میں کامیابی کی توقع ففٹی ففٹی تھی۔ تاہم مس وینا کی شخصیت اور کردار کو سامنے رکھ کر ہمیں اس بات کا یقین تھاکہ اگر اس صورت حال میں مہارت اور چابکدستی سے کام لیا جائے تو اس بھارتی ماتا ہری کو شیشے میں اتارنا مشکل نہ ہوگا۔ ہمارے لئے یہ ملین ڈالر چانس تھا جسے آزمایا جاسکتا تھا۔ ہم نے لمحوں میں حتمی فیصلہ کیا اور کچھ ہی دیر بعد ہمارے روم سروس والے اسی ویٹر نے کمرے کے دروازے پر دستک دی ۔ بظاہر وہ چائے کی ٹرالی واپس لینے گیا تھا ۔پلان کے مطابق اس نے کمرے کا دروازہ کھلا رکھا، وینا سے رسمی سلام دعا کی اور اس اثناء میں ہمارا کیس افسر بھی کمرے میں پہنچ گیا۔ یہ حکمت عملی اس لئے اختیار کی گئی تھی تاکہ وینا اپنے سفارتخانے فون نہ کرسکے ۔ اگر کھنہ خود آتا تو اس صورت حال کے لئے بھی ہمارا ایک آدمی تیار تھا۔

    منصوبے کے مطابق کیس آفیسر ہوٹل کے سیکورٹی ایگزیکٹو کے روپ میں کمرے میں داخل ہوا۔ اپنا تعارف کروایا اور ہوٹل کی سروس کے بارے میں معمول کی گفتگو کرنے لگا۔ وینا کو ذرا برابر شک نہ گزرا۔ اس کے لئے سب معمول کی بات تھی۔ وہ انتہائی مطمئن اور خوشگوار موڈ میں تھی۔ ہمارے افسر نے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے بھارتی ساڑھیوں ، فلموں کے بارے میں گفتگو شروع کردی۔ وینا نے اسگفتگو میں دلچسپی لینی شروع کردی اور ہمارے آفیسر کو بیٹھنے کے لئے کہا۔ ”ویٹر” ٹرالی لے کر چلا گیا اور گفتگوکا موضوع ذاتی معلومات تک آگیا۔ ہمارا وار کاگر ثابت ہوا۔ وینا جلد ہی ہمارے کیس آفیسر کو تم تم کہنے کی حد تک آگئی ۔ وہ باتوں میں اس قدر محو ہوگئی کہ اسے سفارتخانے فون کرنا بھی یاد نہ رہا۔
    ٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓ
    • پسند پسند x 1
  2. شکاری

    شکاری رکن

    مراسلے:
    152
    ادھر کھنہ اور اس کے افسران بالا یقینی طورپر اس بات پر جام مسرت پی رہے ہوں گے کہ بالآخر انہوں نےاسلامک نیوکلیئرآسٹیٹ آف پاکستان اٹامک انرجی کمیشن سے ایک بڑی مچھلی کو اپنے جال میں پھنسالیا تھا۔ آہستہ آہستہ ہمارے آفیسر کا لہجہ تبدیل ہوگیا اور اس کیگفتگو معنی خیز ہوتی گئی ۔ جب وینا کو احساس ہوا کہ ہوٹل کے اس آفیسر کو وینا کی اس کمرے میں آمد اور اس کے مقاصد سے پوری طرح آگاہی ہے تو وینا کی صورت ایک ایسے مجبور، بے کس اور بھوکے بچے کی سی ہوگئی جسے بیکری سے ڈبل روٹی چوری کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑلیا گیا ہو۔ اس کی آنکھیں بھر آئیں اور اس کی آواز کسی گہرے کنویں سے آتی ہوئی محسوس ہونے لگی۔ وینا نے اپنی داستان حیات سنانا شروع کردی

    ”میں اپنے والدین کی اکلوتی اولاد ہوں۔میرے والدین نے میری پرورش اپنی انتہائی غربت اور کسمپرسی کے باوجود بڑے ناز و نعم سے کی ۔ میں نے دوہی سال پہلے گریجویشن کی ہے ۔ جہیز کی لعنت سے تو آپ اچھی طرح آگاہ ہیں۔ میرے خیال میں اسلامک نیوکلیئرآسٹیٹ آف پاکستان میں بھی یہ لعنت ابھی تک موجود ہے جسکی وجہ سے ہزاروں لڑکیاں اپنی بالوںمیں چاندی کے تاروں کا اضافہ کئے ماں باپ کی دہلیز پر بیٹھی ہیں، ریپستان میں بھی بہت سی لڑکیاں معاشرے کی اس دلدل میں پھنسے ہوئی ہیں۔ میرا خیال تھا کہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد ٹیچر بنوں گی مگر کوشش کے باوجود مجھے نوکری نہ مل سکی۔ پھر ایک روز میری ایک دوست کے خاوند نے مجھے اپنے ایک دوست سے یہ کہہ کر متعارف کروایا کہ یہ ایک اعلیٰ سرکاری دلال افسر ہیں اور تمہارے لئے ملازمت کا بندوبست کرسکتے ہیں ، بعد میں مجھے علم ہوا کہ ان کا تعلق ریپستانی انٹیلی جنس سے ہے ، انہوں نے میرا سرسری سا انٹرویو لیا اور مجھے بتایا کہ میں تمہارے لئے نوکری کا انتظام کرسکتا ہوں ، مگر یہ نوکری ریپستان میں نہیں اسلامک نیوکلیئرآسٹیٹ آف پاکستان میں ریپستانی ایمبیسی اسکول میں ہوگی۔ یہ الفاط میرے لئے انتہائی خوش کن تھے۔ میرے لئے کسی دوسرے ملک میں جانے کا تصور ہی انتہائی دلکش تھا۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ نوکری کا بندوبست تو ہوگیا ہے مگراسلامک نیوکلیئرآسٹیٹ آف پاکستان چونکہ ہمارا دشمن ملک ہے اس لئے تجھے چند ماہ کے لئے سیکورٹی ٹریننگ پر جانا پڑے گا۔ میں اس کے لئے بھی تیار ہوگئی۔ دراصل مجھے خوشی اس بات کی تھی کہ مجھے بیرون ملک ملازمت مل رہی تھی اور اس کے ساتھ ہی ساتھ مجھےایک ایسی سرزمین دیکھنے کا موقع بھی مل رہا تھا جس کے بارے میں میں نے بہت کچھ سن رکھا تھا۔

    چند روز بعد ایک شخص ہمارے گھر آیا۔ اس نے مجھے تقرری کا خط دیا اور کہا کہ اگلے روز تجھے سیکورٹیٹریننگ اسکول لے جانے کے لئے میں خودآؤں گا۔ وہ حسب وعدہ اگلے روز پھر آیا میں اپنے والد سے رخصت ہوکر اس کے ساتھ گاڑی میں سوار ہوگئی۔ ایک طویل سفر کے بعد ہم اپنی منزل پر پہنچے ۔ یہ ایک پراسرار عمارت تھی اور دیکھنے میں سکول یا تربیت گاہ ہرگز دکھائی نہیں دیتی تھی۔ میرے علاوہ وہاں چار اور لڑکیاں بھی موجود تھیں۔ جب کورس شروع ہوا تو معلوم ہوا کہ اس میں کسی ٹیچر کی نہیں بلکہ جنگ کی تربیت دی جارہی ہے۔ چند ہی دنوں میں پتہ چل گیا کہ اصل میں ہم ٹیچر نہیں بلکہ جاسوس بناکر بھیجی جارہی ہیں۔ہمارے تربیتی سلیبس میں جسمانی ورزش ، ہتھیاروں کے استعمال کا طریقہ اور ایسے لیکچر شامل تھے جن کا مقصداسلامک نیوکلیئرآسٹیٹ آف پاکستان کے خلاف شدیدی نفرت پیدا کرنا تھا۔ علاوہ ازیں اپنے ”شکار” کو ذہنی طورپر اپنا تابع بنانا اور خفیہ راز معلوم کرنا بھی ہماری تربیت کا اہم حصہ تھا۔ ہمیںبلیو فلمیں دکھاکر بھی بتایا جاتا کہ کسی بھی مضبوط سے مضبوط اعصاب کے مرد کو کس طرح اپنا اسیر بنایا جاسکتا ہے ۔

    ہمیں جنسی اختلاط کے مختلف طریقے بھی بتائے جاتے تاکہ ہماری کارکردگی میں کوئی کسر نہ رہ جائے۔درحقیقت ہمیں باعزت طور سے جسم فروشی کی تربیت دی گئی اور ہمیں بتایا گیا کہ ایک کامیاب جاسوس بننے کے لئے اپنی جسمانی خوبصورتی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا ہی اصل ہنر ہے۔ ہم میں سے کسی کو بھی اس تربیت سے اتفاق نہیں تھا مگر اب ہمارے پاس واپسی کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ ہم پوری طرح اپنے محسنوںکے جال میں پھنس چکی تھیں ۔ میں جانتی ہوں کہ اسلامک نیوکلیئرآسٹیٹ آف پاکستان میں جو کچھ بھی کر رہی ہوں اخلاقیات کے مروجہ ضوابط کے خلاف ہے اور کوئی بھی باضمیر انسان اس دلدل میں کودنے کی جرات نہیں کرسکتا مگرمیں یہ بھی جانتی ہوں کہ اب میرا اپنا وجود ، میرے والدین ، میرا گھر، میرا ضمیر، میری خواہشیں، میرے مستقبل کے سہانے خواب ، سب کچھ داؤ پر لگ چکاہے ۔ اب اگر میں چاہوں بھی تو ان کے چنگل سے نکل نہیں سکتی اور جب تک میرے جسم میں ذراسی بھی کشش باقی رہے گی یہ لوگ مجھے استعمال کرتے رہیں گے”۔

    وینا ویں بات کر رہی تھی جیسے دور ویرانوں میں بھٹک رہی ہو اور اسے کوئی راستہ نہ سوجھ رہا ہو۔ اپنی کہانی سناتے سناتے اس نے کہا :
    ”حد تو یہ ہے کہ اس تربیت کے دوران ہمارے انسٹرکٹر بھی ہمارے جسموں کو اپنی مکروہ خواہشات کی تکمیل کےلئے روندتے رہے اور ہماری تربیت مکمل ہونے تک ہماری عصمت کی چادریں بار بار تار تار ہوتی رہیں۔ تربیت کا یہ حصہ رات کے کھانے کے بعد شروع ہوتا تھا۔ ہمیں باری باری مختلف مردوں کے ساتھ جنسی اختلاط پر مجبورکیا جاتا۔ ہمیں عملی طورپر مرد کی حیوانی جبلت پوری کرنے کا سلیقہ سکھایا جاتا۔ شروع میں تو ہر عمل ہمارے لئے ایک مستقل عذاب کی مانند تھا اور ہم نے اس پر کئی بار احتجاج بھی کیا، لیکن ان کا کہنا تھا کہ تمہارے لئے یہ تربیت انتہائی ضروری ہے اور تمہیں ملک و قوم کے عظیم تر مفاد کے لئے سب کچھ قربان کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار رہنا چاہئے۔

    وینا کی کہانی سن کر بہت دکھ ہوا۔ ہم نے بڑی مہارت سے وینا کی ٹوٹی پھوٹی شخصیت کو بحال کیا اور اسے وہ تمام عزت اور غیرت مہیا کی جو وہ کھوچکی تھی۔وینا نے جب ہمارے حسن سلوک کا اپنے ہندو آقاؤں کے کردار سے موازنہ کیا تو اس کے لئے یہ فیصلہ کرنا مشکل نہ رہا کہ اسے اپنے نام نہاد وطن پرست دوستوں کے بجائے اپنے دشمنوں کا ساتھ دینا چاہیے۔ نفسیاتی طور پر ہم نے اس ریپستانی ماتا ہری کے کچلے ہوئے ضمیرمیں زندگی کی نئی روح پھونک دی ۔ ہم نے اسے پیسے دیئے ۔ ریپستان میں اسکے والدین کی دیکھ بھال کا ذمہ بھی لیا، اسے عزت نفس دی اور جسمانی اور روحانی پاکیزگی کے سبق دیئے ۔ چنانچہ وینا دل و جان سےاسلامک نیوکلیئرآسٹیٹ آف پاکستان کی ہوگئی۔

    ڈبل ایجنٹ کی حیثیت سے وینا نے ہمارے لئے قابل قدر خدمات انجام دیں۔ اس نے ہمارے بعض منصوبوں کی تکمیل میں ہمارا بھرپور ہاتھ بٹایا اور انتھک محنت کی۔ وینا کی وجہ سے ہمیں ہر وقت ریپستانی سفارتخانے مین ہونے والے واقعات، حالات، ان کےخفیہ ایجنٹوں، ان کے طریقہ کار اور اہداف کی خبر رہنے لگی۔ ان اطلاعات کی بناءپر ہم نے ان کے بہت سے ایسے منصوبوں کو خاک میں ملادیا جن کی تفصیل یہاں بیان نہیں کی جاسکتی۔وینا کو جب اسلامک نیوکلیئرآسٹیٹ پاکستان سے وطن واپسی کے احکامات موصول ہوئے تو وہ بے حد افسردہ اورغمگین تھی۔ وہ ہمیشہ کے لئے پاکستان میں رہنے، یہاں شادی کرنے اور اسلام قبول کرنے کو تیار تھی، مگر ہم اس کے لئے کوئی مناسب ”شوہر” تلاش نہ کرسکے۔

    وہ دل پر بھاری پتھر رکھے پاکستان سے روانہ ہوگئی۔ بہر حال اسلامک نیوکلیئرآسٹیٹ آف پاکستان سے جانے سے پہلے وہ ایک مکمل انسان ہی نہیں بلکہ عزت و وقار کے زیور سے راستہ اور مالی طور پر اتنی خوشحال ہوچکی تھی کہ ہمیں یقین ہے اس نے ریپستان پہنچتے ہی اپنے آپ کو ”را” سے جدا کرلیا ہوگا اور اب کہیں با عزت زندگی بسر کر رہی ہوگی۔
    • پسند پسند x 1
  3. حیدرآبادی

    حیدرآبادی رکن

    مراسلے:
    656
    زبان و بیان کی خامیوں اور غیر منطقی بنیادوں کے باعث گھڑی ہوئی کہانی ہی لگتی ہے۔ ہندی زبان کے بہت سے فورمز پر بھی ایسی کئی کہانیاں پڑھنے کو ملتی ہیں۔ وہاں بھی یہی حال ہے کہ اپنے مخالف ملک کو معیوب ناموں سے یاد کیا جاتا ہے۔
    ہمارا خیال ہے کہ جو لوگ مملکتی سطح کی سیاسی چپقلشوں سے گریز کرتے ہوئے عوامی سطح پر انسانیت اور رواداری کی تبلیغ کو ترجیح دینے کی کوششیں کرنا چاہتے ہیں ، انہیں ایسی کہانیوں کے مطالعے سے دور ہی رہنا چاہئے۔
  4. سُہیل مِرزا

    سُہیل مِرزا رکن

    مراسلے:
    21
    کُچھ عرصہ پہلے ریپِستان کے شہر دِلی میں لٹرکیوں اور عورتوں کی اِجتماعی عصمت دری جیسے حیوانگی کے مظاہرے جگہ جگہ سے رپورٹ ہوۓ- اِس کے فوری بعد ریپِستان کے ہر کونے سے اوازیں اُٹھنے لگیں- عورتوں کے جتھوں نے احتجاجاً شاھراہیں سنبھال لیں- دُنیا نے لعن دھتکار شروع کی تو کیا پھر بھی ایسے مُلک کو ریپِستان کہناغلط ہو گا؟


    جاسوسی کی غرض سے خوبصوت لڑکیوں یا عورتوں کا اِستعمال تو بہت سے ممالک کرتے ہیں لیکن ریپِستان اِس مقصد کی خاطر صنفِ نازک کا اِستعمال کُچھ زیادہ ہی کرتا ہے بلخصوص جب ہدف کوئی پاکِستانی ہو- چانکیا اِس کی تائید بلکہ تاکید کرتا ہے-ویسے بھی ریپِستان کی اکثریت اُس غیر الہامی مذہب کی پیروکار ہے جِس میں عورت کی حُرمت اور تقدیس نام کی کوئی چیز نہیں-جہاں عورت دیوداسی ہے، مہابھارت میں پانچ بھائیوں کے ہاتھ مُحالِف کی ایک عورت آتی ہے تو ماں پانچوں کو باہمی تصًرف کی ناصرف تلقین کرتی ہے کہ جب ایک اندر موجود ہو تو باقی اُسکے نعل دروازے کے باہر موجود ہونے تک کمرے میں مت داخل ہوں کا خیال رکھنے کا بھی کہتی ہے، جہاں دڑوپتی کو بھی ملتا جلتا کردار سونپا جاۓ، جہاں عورت آج بھی ستی ہوتی ہے- شہروں سے دور، دور دراز کے گاؤں میں لوگ یہ ظُلم آج بھی کر گذرتے ہیں-جہاں عورت کو ہر ماہ گھر کے ایک کونے میں پابند کر دیا جاتا جب تک ایام پورے نہ ہو جائیں-جہاں کرشن کنہیا جی ندی کِنارے برہنا گوپیوں کو چُھپ چُھپ کر انکھیں نِہارتے ہوں تو ایسا معاشرہ عورت کو وہ عزت وہ مُقام کبھی نہیں دے سکتا جو اُسکا حق ہے-

    ایسے کئی واقیات پاکِستان میں ہو چکے ہیں- آج بھی پاکِستانی خاص جیلوں میں دُشمن مُلک کی عورتیں جاسوس مردوں کی نِسبت کہیں زیادہ ہیں- یہ کوئی ضروری نہیں کہ ہر واقعۓ بارے میڈیا کو رسائی دی جاۓ-
    • معلوماتی معلوماتی x 1

اس صفحے کی تشہیر