::::::: قران کے سایے میں :::::: سچے اور پکے اِیمان والوں کی دو صِفات اور اُن کا نتیجہ :::::::

عادل سہیل نے 'قرآن کریم' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏20 اپریل 2014

  1. عادل سہیل

    عادل سہیل ناظم رکن عملہ

    مراسلے:
    429
    ::::::: قران کے سایے میں :::::::
    ::::: سچے اور پکے اِیمان والوں کی دو صِفات اور اُن کا نتیجہ :::::
    بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
    أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ وَنَفْثِهِ ۔
    و الصَّلاۃُ والسَّلامُ عَلیٰ رَسولہ ِ الکریم مُحمدٍ و عَلیَ آلہِ وَأصحابہِ وَأزواجِہِ وَ مَن تَبِعَھُم بِاِحسانٍ إِلٰی یَومِ الدِین ، أما بَعد

    :::
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ،
    قران کریم میں چار آیات مُبارکہ ایسی ہیں جن کا اختتام اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک ہی فرمان مُبارک سے فرمایا ہے ، وہ چار آیات مُبارکہ درج ذیل ہیں :::
    ﴿وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَىٰ بِآيَاتِنَا أَنْ أَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَذَكِّرْهُم بِأَيَّامِ اللَّهِ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُورٍ:::ہم اِس سے پہلے موسیٰؑ کو( بھی) اپنی نشانیوں کے ساتھ بھیجا تھا (اور اُنہیں یہ حکم دِیا تھا)کہ اپنی قوم کو (کفر و شرک اور دیگر گناہوں کی) تاریکیوں سے نکال کر(توحید اور نیکیوں کی ) روشنی میں لاؤ اور اپنی قوم کو اللہ کے دِن یاد کروا کر (یعنی اللہ کی قوت و قدرت کے سبق آموز واقعات سنا کر) نصیحت کرو(کیونکہ )بے شک اُن واقعات میں ہر اُس شخص کے لیے(بہت بڑی) نشانیاں ہیں،جو شخص بہت زیادہ صبر اور بہت زیادہ شُکر کرنے والا ہو﴾سُورت إِبراھِیم (14)/آیت 5،
    ﴿أَلَمْ تَرَ أَنَّ الْفُلْكَ تَجْرِي فِي الْبَحْرِ بِنِعْمَتِ اللَّهِ لِيُرِيَكُم مِّنْ آيَاتِهِ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُورٍ:::کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ کشتی سمندر میں اللہ کے فضل سے چلتی ہے تاکہ اللہ تُم لوگوں کو اپنی نشانیاں میں سے کچھ نشانیاں دِکھائے؟ بے شک اِس میں ہر اُس شخص کے لیے(بہت بڑی) نشانیاں ہیں، جو شخص بہت زیادہ صبر اور بہت زیادہ شُکر کرنے والا ہو﴾سُورت لُقمان (31)/آیت 31،
    ﴿فَقَالُوا رَبَّنَا بَاعِدْ بَيْنَ أَسْفَارِنَا وَظَلَمُوا أَنفُسَهُمْ فَجَعَلْنَاهُمْ أَحَادِيثَ وَمَزَّقْنَاهُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُورٍ:::مگر انہوں نے کہا "اے ہمارے رب، ہمارے سفر کی مسافتیں لمبی کر دے" اُنہوں نے اپنے اوپر آپ ظلم کیا آخرکار ہم نے انہیں افسانہ بنا کر رکھ دیا اور انہیں بالکل تتربتر کر ڈالا بے شک اِس میں ہر اُس شخص کے لیے(بہت بڑی) نشانیاں ہیں، جو شخص بہت زیادہ صبر اور بہت زیادہ شُکر کرنے والا ہو﴾سُورت سباء (34)/آیت 19،
    ﴿إِن يَشَأْ يُسْكِنِ الرِّيحَ فَيَظْلَلْنَ رَوَاكِدَ عَلَىٰ ظَهْرِهِ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُورٍ::: اللہ جب چاہے ہوا کو ساکن کر دے اور یہ (لوگ)سمندر کی سطح پر کھڑے کے کھڑے رہ جائیں اِس میں بڑی نشانیاں ہیں بے شک اُن واقعات میں ہر اُس شخص کے لیے(بہت بڑی) نشانیاں ہیں، جو شخص بہت زیادہ صبر اور بہت زیادہ شُکر کرنے والا ہو﴾سُورت الشُوریٰ (42)/آیت 33،
    توجہ فرمایے قارئین کرام ، کہ اِن مذکورہ بالا آیات شریفہ کا اختتام بالکل ایک ہی فرمان مُبارک پر ہوتا ہے کہ ﴿إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُورٍ::: بے شک اِس میں ہر اُس شخص کے لیے(بہت بڑی) نشانیاں ہیں، جو شخص بہت زیادہ صبر اور بہت زیادہ شُکر کرنے والا ہو﴾،
    اور یہ بھی غور فرمایے کہ اِن مذکورہ بالا چار آیات شریفہ میں سے تین آیات ، اللہ تبارک وتعالیٰ کی نعمتوں کا ذِکر لیے ہوئے ہیں جو نعمتیں اللہ جلّ و عُلا نے اپنے بندوں کو عطاء فرمائِیں ،
    اور ایک آیت شریفہ جو کہ سورت سباء کی ہے ، اُس میں بھی اللہ کی عطاء کردہ نعمت کا ذِکر ہے لیکن اُس کے ساتھ ایسے اُن بندوں کی طرف سے اللہ کی عطاء کردہ نعمت پر اللہ کی نا شکری کرتے ہوئے اُس نعمت سے کفر کا ذِکر بھی ہے ،
    اور اِن چاروں آیات شریفہ میں اللہ کی عطاء کردہ نعمتوں کو اللہ کی نشانیوں میں سے نشانیاں بیان فرمایا گیا ہے ، اور یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ کی یہ نشانیاں صِرف انہیں ہی دِکھائی اور سُجھائی دیتی ہیں جو بہت زیادہ صبر کرنے والے اور بہت زیادہ شُکر کرنے والے ہوتے ہیں ،
    صَبَّارٌ اور شَكُورٌ دونوں ہی مبالغے کا صیغہ ہیں ، یعنی کسی کام کے بہت زیادہ شدت کے ہونے کا مفہوم لیے ہوئے ہیں
    پس صَبَّارٌ بہت زیادہ صبر کرنے والا ، اور شَكُورٌ بہت زیادہ شُکر کرنے والا ، مفسرین کے اقوال کے مطابق یہ دونوں صِفات یعنی صبر اور شُکر ایک دوسرے سے قریب ہیں ،بلکہ تقریباً ایک دوسرے سے جُڑی ہوئی ہیں ، کہ ایک کی موجودگی میں دوسری کا ہونا تقریباً لازم نظر آتا ہے ،
    اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے اِن فرامین میں اِن دو صِفات کے ذِکر کے ذریعے سچے اور پکےاِیمان والوں کا ذِکر فرمایا ہے کہ یہ دونوں صِفات یعنی صبر کرنا اور شُکر کرنا ، اِیمان والوں کی ہی ہوتی ہیں ،
    لیکن یہاں یہ جان لینا بہت ضروری ہے کہ صبر کرنے سے مُراد کسی دُکھ تکلیف پریشانی وغیرہ کو اللہ کا حکم جان کر اللہ کی رضا کے لیے اُس پر صبر کرنا ہے ،
    اور اللہ اور اُس کے رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی اطاعت کرنے میں اپنے نفس اور اِرد گِرد سے ملنے والی مشقتوں پر صبر کرنا ہے ، اور یہ سب صِرف اِیمان والوں کا خاصہ ہے ، کیونکہ کوئی غیر مُسلم ، اور کوئی کم اور کمزور اِیمان والا کسی دُکھ ، تکلیف اور پریشانی وغیرہ کو اللہ کا حکم جان کر ، اللہ کی رضا کے لیے اُس پر صبر نہیں کرتا بلکہ کسی دُنیاوی کمزوری یا کسی وقت دُنیا والوں کو دِکھانے کے لیے صبر کرتا ہے ، اور نہ ہی وہ اللہ اور اُس کی رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی اطاعت کرنے والا ہوتا ہے ،
    [[[ الحمد للہ ، """صبر"""کے بارے میں تفصیل دو الگ مضامین کافی عرصہ پہلے نشر کی جا چکی ہے ]]]
    اور اِسی طرح شُکر بھی ، اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے کوئی نعمت ملنے پر ، اُسے اللہ کی ہی عطاء جان کر ، اللہ کا شُکر ادا کرنا ہے،اور صبر و شُکر دونوں ہی کام ظاہری اور باطنی اعمال کے ذریعے مکمل ہوتے ہیں ،
    ممکن ہے آپ صاحبان کے ذہن میں یہ سوال آئے کہ ، اللہ جلّ جلالہُ نے اِن آیات شریفہ میں صبر کرنے اور شُکر کرنے کی صِفات کا ذِکر مبالغے کے صیغے میں کیوں فرمایا ہے ؟؟؟
    تو ، اِس کا جواب یہ ہے کہ ، چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے اِیمان والے بندوں کو وہی کچھ دیتا ہے ، اور اُن کے لیے وہی کچھ کرتا ہے جو اُن کے لیے خیر ہوتا ہے ، خواہ اُن بندوں کو اُس کی سمجھ آ سکے یا نہ آ سکے ،
    لہذا اللہ ، الحکیم الروؤف الرحیم کی مشیئت اور قضاء پر ، اُس کی رضا کے لیے ہی بہت زیادہ صبر کرتے رہنا ہی سچے اور پکے اِیمان کا خاصہ ہے ،
    اور چونکہ اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ کی عطاء کردہ نعمتوں میں سے کوئی بھی نعمت ہلکی ، چھوٹی یا کمتر نہیں ، حتیٰ کہ ہمارے جِسم میں داخل ہو کر خارج ہونے والا ایک سانس تک بھی ،
    لہذا ، اُللہ پاک کی دِی ہوئی ہر نعمت پر ، اللہ کا بہت زیادہ اور مُستقل شُکر ادا کیا جانا ہی چاہیے ، اور ایسا کرنا صِرف سچے اور پکے اِیمان والوں کا ہی کام ہے ،
    پس اللہ تعالیٰ نے ہمیں اِن چار آیات شریفہ میں یہ بتایا اور سمجھایا ہے کہ بہت زیادہ صبر کرنے والے اور بہت زیادہ شُکر کرنے والے سچے اور پکے اِیمان والے ہی اُس کی نشانیوں کو پہچاننے ، جاننے ، اور سمجھنے والے ہوتے ہیں ،
    اللہ پاک ہم سب کو اور ہمارے سب ہی مُسلمان بھائیوں اور بہنوں کو سچا اور پکا اِیمان والا بننے کی جرأت عطاء فرمائے ۔ والسلام علیکم۔
    تاریخ کتابت : 16/04/1435 ہجری ، بمطابق ، 17/02/2014عیسوئی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اِس مضمون کا برقی نسخہ درج ذیل ربط سے اتارا جا سکتا ہے ؛
    قران کے سايے ميں پکے ايمان والوں کي دو صفات اور نتائج
    صبر سے متعلق مضامین درج ذیل لنکس پر پڑھے جا سکتے ہیں ، اور برقی نسخہ جات کے ڈاون لوڈ لنکس بھی وہاں میسر ہیں :::
    ::: صبر ، انتہائی میٹھے اور لذیذ پھلوں والا کڑوا کام ::: عادل سہیل کا اسلامی اصلاحی اور تحقیقی بلاگ: ::: صبر ::: انتہائی میٹھے اور لذیذ پھلوں والا کڑوا کام ::: Sabar
    ::: شکوہ اور صبر ::: عادل سہیل کا اسلامی اصلاحی اور تحقیقی بلاگ: ::::::: شکوہ اور صبر ::::::::
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    • پسند پسند x 3
  2. سلیمان

    سلیمان منتظم

    مراسلے:
    1,599
    جزاک اللہ خیرا
    • شکریہ شکریہ x 1
  3. وسیم الرحمان نھڑیو

    وسیم الرحمان نھڑیو رکن

    مراسلے:
    1
    جزاک اللہ خیرا
    • شکریہ شکریہ x 2
  4. فلک شیر

    فلک شیر منتظم

    مراسلے:
    1,157
    وسیم بھائی! یہاں اس سیکشن میں اپنا تعارف تو عنایت فرمائیں :)
    • شکریہ شکریہ x 1
  5. islamkingdom_urdu

    islamkingdom_urdu رکن

    مراسلے:
    17
    قرآن مجید فرقان حمید میں ارشادات باری تعالی ہیں:

    وَمَن تَابَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَإِنَّهُ يَتُوبُ إِلَى اللَّهِ مَتَابًا
    اور جس نے توبہ کر لی اور نیک عمل کیا تو اس نے اللہ کی طرف رجوع کیا جو رجوع کا حق تھا
    الفرقان، 25 : 71

اس صفحے کی تشہیر