فحاشی کا ارتقاء

ابن آدم نے 'افسانے' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏22 اپریل 2018

  1. ابن آدم

    ابن آدم کتب کمپوزر

    مراسلے:
    600
    وہ جیل میں ہی پیدا ہوا تھا اور سارا بچپن اپنی ماں کے ساتھ جیل میں ہی گزارا. ماں کو قید تنہائی کی سزا تھی اسلئیے اس نے بھی کبھی اپنی ماں کے سوا کسی عورت کی شکل تک نہ دیکھی تھی. جب بلوغت کی سرحد پر پہنچا تو ماں کا انتقال ہو گیا. ماں زندگی کی قید سے آزاد ہوئی اور وہ جیل کی قید سے.
    حکومت نے اسکی رہائش اور تعلیم کا بندوبست کر دیا. اس نے دنیا میں نکل کر مخالف جنس کے حُسن کو پہلی بار دیکھا تو دل و دماغ میں عجیب کھلبلی سی مچ گئی. جی چاہتا تھا کہ جو خوبصورت چہرہ نظر آئے، اسے دبوچ لے. لیکن اسکے دوستوں نے سمجھایا کہ اس دنیا میں اسکی اجازت نہیں. بس دیکھو اور انجوائے کرو. بغیر اجازت چھونا منع ہے. پھر چہرے دیکھ دیکھ کر وہ بھی باقیوں کی طرح عادی ہو گیا...

    ٹھیک دس سال بعد اسکا تھراپسٹ اسکی ہسٹری سن کر اسے سمجھا رہا تھا کہ وہ اسکے دماغ میں پیدا ہونے والے ایک کیمیکل "ڈوپامین" کی کارستانی تھی جو مخالف جنس کے ہیجان خیز منظر کی تحریک پر خارج ہوتا ہے اور انسان اپنے جذبات میں وہ تلاطم محسوس کرتا ہے جو اس نے اسوقت محسوس کیا تھا. لیکن پھر دماغ اس کا عادی ہو جاتا ہے اور اسی شدت کے جذبات کیلئے ڈوپامین کی زیادہ ڈوز مانگتا ہے... بالکل ویسے ہی جیسے کسی نشے کا عادی.

    "ہاں یہی تو ہوا تھا" اسے اچانک یاد آیا. اس نے اپنی کہانی جاری رکھی اور بتایا کہ کیسے وہ لذت کے حصول کیلئے ایسی لڑکیوں کو ڈھونڈتا جو تنگ، باریک یا مختصر لباس میں ہوتیں. مخصوص بل بورڈز اور اشتہارات کا روزانہ "بغور مطالعہ" کرتا. اکثر اسی وجہ سے وہ ساحل سمندر پر برہنہ جسموں کا نظارہ کرنے چلا جاتا. گندی فلمیں دیکھتا. ان محسوسات کیلئے وقت کے ساتھ ساتھ ڈوپامین کی مطلوبہ مقدار بڑھتی جا رہی تھی اور اس مقدار کے اخراج کیلئے ہیجان خیز محرک کی "شدت" کی طلب بھی. شروع میں جو کام صرف چہرہ دیکھنے سے ہو جاتا تھا، اب پوری برہنگی سے بھی نہ ہوتا. پھر اس نے بازاری عورتوں کا سہارا لیا. کچھ عرصہ بہت اچھا گزرا تو اس نے شادی کا سوچا. لیکن اسکے دوستوں نے کہا کہ جب اس ایک عورت کے عادی ہو جاؤ گے تو پھر کیا کرو گے. ان لوگوں کے نزدیک عورت سے تعلق صرف جنس کا ہوتا ہے. انہی دوستوں نے اسے کوکین کا راستہ دکھایا... ہاں یہ بھی تو ڈوپامین کا محرک ہے...!!!

    اسے ہمیشہ حیرت ہوتی کہ عورتیں اپنے جسموں کی تزئین و آرائش اور نمائش تو خوب کرتی ہیں پر، شوکیس میں لگے ہیرے کی طرح انہیں دیکھنے کی اجازت تو ہوتی ہے، چھونے کی نہیں. بس دور سے دیکھو اور "برداشت" کرو...

    اسے شعراء اور ادباء بھی یہی رونا روتے نظر آئے... "ظالم محبوب"، "سنگدل محبوب" .. جو نظارے تو کرواتا ہے، "وارے نیارے" نہیں..!!!
    اور اذیت پسند اتنا کہ دیکھنے والے کی تکلیف سے لطف لیتا ہے. اور اگر کوئی غلط نیت سے چھو لے تو شور مچا دیتا ہے کہ یہ کمینہ مفت میں مزہ لے گیا. اور دنیا بھی اسی کا ساتھ دیتی ہے. عجیب اصول ہے. جو مرد ان نظاروں کے عادی ہو جاتے ہیں وہ نہیں چاہتے کہ ماحول کی یہ رونق ختم ہو. اپنی آنکھیں ٹھنڈی رکھنے کیلئے وہ ان "ظالم محبوبوں" کی رضاکار فوج بن جاتے ہیں تاکہ "کمزور دل" اور ضبط سے عاری حضرات انکی رنگینی و رعنائی کو نقصان نہ پہنچائیں. صنف نازک و بیوقوف بھی خوش ہوتی ہے کہ اپنی طاقت پر ناز کرنے والی صنف سخت کو کیسے اپنی انگلیوں پر نہیں بلکہ محض اشارہ ابرو پر تگنی کا ناچ نچا رہی ہے.

    اور پھر ہر چیز روٹین بن گئی. کوئی بھی منظر، اکساہٹ یا تحریص ڈوپامین کی مقررہ مقدار خارج کروانے میں کامیاب نہ ہوتی. اس نے سوچا کہ بھاڑ میں جائے دنیا اور اسکے اصول. اب وہ جسے چاہتا، "دبوچ" لیتا، "بھنبھوڑ" دیتا. دسیوں نمائشی نازنینوں کے ریپ کے بعد پھر وہی جمود...

    اب اس نے دوسرے طریقوں کا رخ کیا.... بچے....بچوں سے درندگی اور پھر مذید لذت کیلئے انکا قتل...ہاں نرم و نازک بچے اسکی شہوت کی تسکین کا ذریعہ بنے.
    جس ذہنی اذیت سے وہ خود گزرتا رہا تھا اور اذیت دیتی حسیناؤں کو لذت لیتے دیکھتا اور تلملاتا تھا... اسکا بدلہ پہلے اس نے انہی کو برباد کر کے لیا... اور اب معصوم بچوں کو اذیت دے کر لذت کے حصول کی "سیڈسٹ سائیکالوجی" کے اگلے لیول تک پہنچ چکا تھا... اب واپسی کا کوئی راستہ نہیں تھا... دماغ کی فیکٹری اسکا مطلوبہ نشہ تیار کرنے میں ناکام ہو چکی تھی اور وہ دیوانہ...

    "پھر یونہی ایک دن جذبات کی رو میں پلاننگ میں غلطی کی اور پکڑا گیا. اور اب سائیکو تھراپی کیلئے یہاں بھیج دیا گیا ہوں..... ڈاکٹر جیک، جب تم نے معائنے کی خاطر مجھے چھوا تھا تو ایک عجیب برقی رو سی جسم میں دوڑ گئی تھی... ایک بار پھر میرے پیٹ پر ہاتھ پھیرو نا، میرے قریب آؤ نا.....!!!"
    ڈاکٹر یکدم چونکا اور دل میں سوچا،

    "می ٹُو؟!!!"

    تحریر
    رضوان اسد خان

اس صفحے کی تشہیر