فتنوں کی سرزمین عراق کا مشرق میں ہونا احادیث‌ صحیحہ سے ثابت ہے۔

کفایت اللہ نے 'حدیث نبوی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏3 ستمبر 2011

  1. کفایت اللہ

    کفایت اللہ رکن

    مراسلے:
    132
    اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد احادیث‌ میں عراق کو فتنوں کی سرزمیں قراردیا ہے، اورتاریخ بھی اس بات پرشاہد ہے کہ ہمیشہ بڑے بڑے فتنے عراق ہی سے نمودارہوئے ہیں، اورآج بھی ہم اپنی کھلی آنکھوں‌ سے یہاں کے فتنہ کودیکھ رہے ہیں ، یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کے دلائل میں سے ایک دلیل ہے۔
    حدیث میں‌ اس تنبیہ سے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد یہی ہے کہ اس سرزمین کے فتنوں سے ہوشیا ر رہا جائے۔
    لیکن افسوس ہے کہ بعض لوگوں‌ نے فتنوں کے اس مرکز کو شریعت کا ماخذ بنا رکھا ہے اورجب انہیں متنبہ کیا جاتا ہے اورحدیث پیش کی جاتی ہے تو وہ حدیث کی من مانی تاویل اورمعنوی تحریف پر اترآتے ہیں۔

    ذیل میں ایک حدیث پیش کی جارہی ہے جس میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عراق کو فتنوں کی سرزمیں قراردیا ہے۔

    عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشِيرُ إِلَى المَشْرِقِ فَقَالَ: «هَا إِنَّ الفِتْنَةَ هَا هُنَا، إِنَّ الفِتْنَةَ هَا هُنَا مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ»

    [صحيح البخاري 4/ 123رقم 3279]
    صحابی عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مشرق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فتنہ یہاں ہے فتنہ یہاں ہے جہاں سے شیطان کا سینگ نکلتا ہے۔

    اس حدیث میں مشرق سے مراد عراق ہے اس کا سب سے واضح ثبوت درج ذیل روایت ہے:
    امام احمد فرماتے ہیں:
    حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُشِيرُ بِيَدِهِ يَؤُمُّ الْعِرَاقَ: " هَا، إِنَّ الْفِتْنَةَ هَاهُنَا، هَا، إِنَّ الْفِتْنَةَ هَاهُنَا، - ثَلَاثَ مَرَّاتٍ
    مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ "
    [مسند أحمد ط الرسالة (10/ 391) رقم6302 واسنادہ صحیح علی شرط الشیخین ]
    صحابی عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے ہاتھ سے عراق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فتنہ یہاں ہے فتنہ یہاں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسم نے ایسا تین کہا اورفرمایا یہیں سے شیطان کا سینگ نکلتا ہے۔

    یہ حدیث جو بخاری ومسلم کی شرط پرصحیح اورصریح بھی ہے اس سے مذکورہ بالاحدیث کی مکمل تشریح ہوگئی کہ ’’مشرق ‘‘ سے مراد ’’عراق ‘‘ ہے ، اوریہ مسلم بات ہے حدیث حدیث کی تشریح ہوتی ہے۔

    اس واضح حدیث کے بعد کسی بھی بحث کی گنجائش باقی نہیں‌ رہ جاتی ہے لیکن کیا کیا جائے کچھ لوگ کج بحثی پر اترآتے ہیں ، اورصحیح اورصریح حدیث کے ہوتے ہوئے بھی لوگوں کو مغالطہ دیتے ہیں ، کہ حدیث‌ میں مشرق سے مراد’’عراق ‘‘ نہیں ہے۔

    حالانکہ اگربالفرض تھوڑی دیر کے لئے تسلیم کرلیں کہ حدیث میں‌ مشرق سے مراد عراق نہیں ہے تو یہ بات صرف ان احادیث سے متعلق ہوگی جن میں مشرق کا لفظ ہے۔
    لیکن ابھی ہم نے مسند احمد سے جو صحیح اورصریح حدیث پیش کی اس کا کیا جواب ہوگا؟؟؟؟؟
    اس میں تو مشرق کا لفظ نہیں بلکہ عراق کا لفظ ہے !
    اس کا جواب نہ توآج تک کوئی د ے سکا ہے اورنہ ہی قیامت تک کوئی دے سکے گا۔

    اب آئیے اس نکتہ پرنظر کرتے ہیں جس کے سبب مذکورہ بالاحدیث میں‌ مشرق سے عراق مراد ہونے کا انکار کیا جارہا ہے۔
    داصل آج کچھ لوگوں کو اپنی جغرافیہ دانی پر بڑا فخرہے اوروہ نقشہ دکھا تے پھرتے ہیں کہ یہ نقشہ دیکھو اس میں‌ عراق مشرق میں آتا ہی نہیں ہے۔
    حالانکہ نقشہ میں بھی عراق مشرق ہی کی سمت میں ہے لیکن اس سے صرف نظرکرتے ہوئے یہ بات سنیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنی احادیث میں عراق کو مشرق میں بتلایا ہے ، اب جواب دیا جائے کہ آج کے ان نام نہاد نقشہ دانوں کی بات درست ہے یا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جنھوں نے کئی احادیث‌ میں عراق کو مشرق میں بتلایا ہے:

    ثبوب ملاحظہ ہو:
    عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «مُهَلُّ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ، وَمُهَلُّ أَهْلِ الشَّامِ، مِنَ الْجُحْفَةِ، وَمُهَلُّ أَهْلِ الْيَمَنِ، مِنْ يَلَمْلَمَ، وَمُهَلُّ أَهْلِ نَجْدٍ، مِنْ قَرْنٍ، وَمُهَلُّ أَهْلِ الْمَشْرِقِ مِنْ ذَاتِ عِرْقٍ»[سنن ابن ماجه 2/ 972 رقم2915 صحیح بالشواہد، نیزملاحظہ ہو:شرح معاني الآثار (2/ 119)رقم3529]
    صحابی جابر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا اس میں فرمایا اہل مدینہ کیلئے احرام باندھنے کی جگہ ذوالحلیفہ ہے اور اہل شام کیلئے جحفہ ہے اور اہل یمن کیلئے یلملم ہے اور اہل نجد کیلئے قرآن ہے اور اہل مشرق کیلئے ذات عرق ہے

    اس حدیث میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس علاقہ کو مشرق کہا ہے جہاں‌ کی میقات ’’ذات عرق ‘‘ ہے۔
    اور’’ذات عرق‘‘ عراق والوں کی میقات ہے۔
    یہ حدیث پڑھیں :
    جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، يُسْأَلُ عَنِ الْمُهَلِّ فَقَالَ: سَمِعْتُ - أَحْسَبُهُ رَفَعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: «مُهَلُّ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ، وَالطَّرِيقُ الْآخَرُ الْجُحْفَةُ، وَمُهَلُّ أَهْلِ الْعِرَاقِ مِنْ ذَاتِ عِرْقٍ، وَمُهَلُّ أَهْلِ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ، وَمُهَلُّ أَهْلِ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ»[صحيح مسلم 2/ 841 رقم (1183)]
    صحابی جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حج یا عمرہ کا احرام باندھنے کی جگہوں یعنی میقات کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مدینہ منورہ والوں کے لئے احرام باندھنے کی جگہ ذی الحلیفہ ہے اور دوسرا راستہ جحفہ ہے عراق والوں کے لئے احرام باندھنے کی جگہ ذات عرق ہے اور نجد والوں کے لئے احرام باندھنے کی جگہ قرن ہے جبکہ یمن کے رہنے والوں کے لئے احرام باندھنے کی جگہ یلملم ہے۔

    موخرالذکردونوں احادیث ایک ہی راوی جابر رضی اللہ عنہ سے منقو ل ہے
    ایک میں ہے کہ اہل مشرق کی میقات ذات عرق ہے ۔
    اوردوسری میں ہے کہ عراق کی میقات ذات عرق ہے۔

    پس اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عراق ہی کو مشرق کہا ہے۔

    اب فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہوگیا کہ عراق مشرق میں ہے لہٰذا نقشہ دانی کا دعوی کرنے والے حضرات اپنی عقل پر ماتم کریں ، اورمتلاشیان حق اچھی طرح سمجھ لیں کہ عراق فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق مشرق میں ہے اوریہی فتنوں کی سرزمین ہے، لہٰذا وہاں کے فتنوں سے خود کو محفوظ رکھیں۔
  2. محمد زاہد بن فیض

    محمد زاہد بن فیض رکن

    مراسلے:
    561
    جزاک اللہ خیرا
  3. محمد ارسلان

    محمد ارسلان رکن

    مراسلے:
    2,556
    جزاک اللہ خیرا کفایت اللہ صاحب
  4. یاسر عمران مرزا

    یاسر عمران مرزا رکن

    مراسلے:
    119
    کہیں بھی حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زبان سے عراق کا لفظ ادا نہیں ہوا۔ بلکہ مشرق کا لفظ ادا ہوا ہے۔ جس حدیث میں صحابی نے عراق کا ذکر کیا وہ دراصل صحابی نے اپنے ذہن سے یہ اندازہ لگایا کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم عراق کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ جب کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے عراق کا لفظ اپنے منہ سے نہیں نکالا۔ اس لیے آپ ذرا مضبوط دلائل پر مبنی حدیث لے کر آئیں ۔تب یہ یہ واضح ہو سکے گا۔
  5. یاسر عمران مرزا

    یاسر عمران مرزا رکن

    مراسلے:
    119
    عراق سعودی عرب کے شمال مشرق میں ہے، نہ کہ مشرق میں،
    مشرق میں خلیجی ریاستیں، ایران اور یو اے ای ہیں۔
    ملاحظہ کریں۔

    [​IMG]
  6. ابن قاسم

    ابن قاسم رکن

    مراسلے:
    20
    جزاک اللہ خیرا
  7. jaamsadams

    jaamsadams رکن

    مراسلے:
    5
    مشرق، نجد، عراق - قرآن و حدیث کی رو سے

    مشرق عراق میں ہے یا کہ نجد کی سمت۔ یہی وہ کانٹا ہے جو ہر کسی کے حلق میں اٹکا ہوا ہے۔ آئیے قرآن پاک سے پوچھیں کہ یہ مشرق کہاں ہے بھلا۔۔۔
    سبحان اللہ! اب دیکھنا یہ ہے کہ مدینہ منورہ میں سورج کے نکلنے کی سمت کون سا علاقہ ہے۔ عراق سے تو سورج نکلنے سے رہا کیونکہ عراق شمال کی سمت ہے جو مدینہ منورہ سے خط استواء سے عمودی سمت بنتی ہے۔ یہ بات تو بچہ بچہ جانتا ہے کہ سورج خط استواء کے متوازی چلتا ہے۔ اگر گوگل ارتھ پر مدینہ منورہ سے خط استواء کے متوازی سیدھی لائن کھینچی جائے تو وہ براہ راست نجد کو قطع کردے گی۔ پس مدینہ منورہ سے طلوع آفتاب کی سمت نجد ہی بنتا ہے جو خط استواء کے بالکل متوازی سمت ہے۔ لہذا جہاں جہاں احادیث نبویہ میں مشرق کی سمت فتنہ کا اشارہ ہے وہ سب کی سب آحادیث مبارکہ طلوع آفتاب کی سمت اشارہ کرتی ہیں۔ اور مدینہ منورہ سے طلوع آفتاب کی سمت جو پہلا علاقہ ہے وہ ہے صرف نجد، نجد اور صرف نجد۔ لہذا جس کسی کو مدینہ منورہ سے مشرق کی سمت کے بارے میں شک ہے وہ اس آیت قرآنی کی رو سے طلوع آفتاب کی سمت دیکھ لے کہ یہی مشرق ہے قرآن کی رو سے۔ اس آیت مبارکہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نہ صرف آج اور چودہ سو سال قبل بلکہ ہزاروں برس پہلے ابراہیم علیہ سلام کے دور میں بھی طلوع آفتاب کی سمت مشرق کہلاتی تھی۔ اب اگر کسی حدیث نبوی میں فتنہ کے مقام میں عراق آیا وہ بیشک بر حق ہے لیکن جن جن احادیث میں مشرق کا اشارہ آیا انہیں جان بوجھ کر طلوع آفتاب کی سمت نجد کے بجائے کسی اور طرف موڑ دینا نہ صرف بہیودہ خیانت بلکہ آیات قرآنی کے تحت مشرق سے طلوع آفتاب کے حکم کا انکار بھی ہے۔ (ویسے اس مضمون میں حدیث نجد کا ذکر تک نہیں کیا گیا جو طلوع آفتاب کی عین سمت بنتی ہے؟ شاید موضوع حدیث کی آڑ میں گول کردیا ہے۔ یہ دھندا بھی جاری و ساری ہے اس پر فتن دور میں۔ لیکن کوئی بات نہیں ہم ان احادیث مبارکہ کا تزکرہ کر لیتے ہیں۔)

    آج بھی Google Earth سے مدینہ شریف اور سعودی نجد بالکل واضع ہے۔ پورے عراق کا مشرق کی سمت سے دور دور تک کوئی واسطہ نھیں بلکہ سعودی نجد ہی مدینہ شریف کے عین مشرق میں واقع ہے۔ اور عراق مسجد نبوی شریف کے شمال کی سمت ہے نہ کہ مشرق۔

    سبحان اللہ، دانائے غیوب اور صادق الصدوق پیمبر صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی صداقت کے کیا کہنے کہ آپ کے فرمان پرنشان کے مطابق سعودی نجد ہی مدینہ شریف مشرق میں واقع ہے، اور نجدی دارالحکومت ریاض فرمان مصطفے کے مطابق مسجد نبوی (مدینہ منورہ) کے عین مشرق میں واقع ہے حتی کہ ایک درجہ کا بھی فرق نھیں۔ دانائے غیوب صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے چودہ سو سال قبل اس نجد کی حد درجہ درست نشاندہی فرمادی جب کسی بھی قسم کے سائنسی ذرائع نہ تھے۔ نہ اس وقت نقشے تھے نہ سائنسی آلات، نہ سیٹیلائٹ اور نہ ہی Google Earth موجود تھا۔ آج کی اس ترقی یافتہ دنیا کی سائنس بھی نہ صرف مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول قطعی کی تصدیق کرتی ہے، بلکہ کہنا چاہے کہ سائنس بھی در مصطفی کہ خیرات پر پلتی ہے۔
    خود دیکھئے اور پھر فیصلہ کیجئے

    پھلی حدیث - جس میں رحمت العالمیان صلی اللہ علیہ وسلم جنھیں خود خالق نے قرآن میں واشگاف الفاظ میں رحمۃالعالمین کہا، جی ہاں آپ رحمۃالعالمین نے ہار ہار التجا کے باوجود اس نجد کیلئے دعائے رحمت نھیں فرمائی۔ اس سے بڑی بد بختی اور محرومی کیا ہوگی اس نجد کی کہ جو بستی تمام عالمیان کیلئے رحمت کا منبع ہو اور جس سے تمام رحمتوں کے چشمے پھوٹیں وہ ہستی اس نجد کو دعائے رحمت سے ہی خارج کردے۔ اور جو بدنصیب خطہ آپ علیہ صلاۃ و سلام کی رحمت عظیم سے محروم رہا وہ کل رحمت سے محروم ہوا۔ یقینا یقینا یہ اس کائنات ارض و سماء کی سب سے بدنصیب اور بد بخت ترین جگہ ہے جو مصطفی جان رحمت ہی کی دعائے رحمت سے یکسر محروم رہا۔
    حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روای ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دُعا فرمائی کہ!۔
    اے اللہ ہمارے لئے شام میں برکت دے، اے اللہ ہمارے لئے یمن میں برکت دے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے نجد میں (بھی برکت کی دُعا کیجئے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر دُعا فرمائی اے اللہ ہمارے لئے شام میں برکت دے ہمارے لئے یمن میں برکت دے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے پھر فرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اورہمارے نجد میں (بھی برکت کی دعا کیجئے) راوی ابن عمر۔۔۔ نے کہا میرا خیال ہے کہ تیسری مرتبہ (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے جواب میں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہاں زلزلے اور فتنے ہوں گے اور وہیں سے شیطان کا سینگ ظاہرہوگا۔۔۔ (بخاری و مسلم ۔ متفق علیہ)

    دوسری حدیث - یہ حدیث مبارکہ اس نجد کے مقام اصل کا تعین کرتی ہے۔ جس میں آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کی سمت کا تعین مشرق کی جانب فرمادیا۔ لہذا اس سے اس شک و شبہ کی گنجائش بھی ختم ہو گئی کہ حدیث نجد سے مراد کون سا نجد لیا جائے۔ عراق یا دیگر مقامات پر واقع نجد نام کے دیگر دیہات مسجد نبوی (مدینہ منورہ)کے شمال اور شمال مغرب میں ہیں۔ صرف اور صرف سعودی نجد ہی واحد علاقہ ہے جو مسجد نبوی (مدینہ منورہ)کے عین مشرق میں ہے۔ اور تو اور نجدی دارالحکومت ریاض فرمان مصطفے کے مطابق مسجد نبوی (مدینہ منورہ) کے عین مشرق میں واقع ہے حتی کہ ایک درجہ کا بھی فرق نھیں۔
    حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ!۔
    ان سمع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وھو مستقبل المشرق یقول الاان الفتنہ ھھنا من حیث یطلع قرن الشیطان (بخاری صفحہ ١٠٥٠)۔۔۔
    یعنی عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشرق کی طرف منہ کر کے یہ کہتے ہوئے سنا کہ خبردار بیشک فتنہ یہاں سے نکلے گا جہاں سے شیطان کا سینگ نکلتا ہے۔۔۔

    تیسری حدیث - اس حدیث مبارکہ میں صحابہ اکرام نے اس مقام کی نشاندہی کی جہان کھڑے ہو کر آقائے دو جہان صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کی سمت کی نشاندہی فرمائی اور جس مقام سے مشرق کی جانب نجد کی سمت کی نشاندہی مقصود تھی۔
    انہ قال الی جنب المنبر
    یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات منبر کی ایک جانب کھڑے ہوکر کہی تھی (بخاری صفحہ ١٠٥٠ جلد ٢)

    چونکہ درج بالا تینوں احادیث مبارکہ بخاری و مسلم شریف کی ہیں اور آیت مبارکہ قرآن شریف کی ہے اس لئے ان کا انکار کوئی بھی چھوٹا یا بڑا نجدی مولوی اور عالم نہ کرے۔

    پس اگر مسجد نبوی میں منبر و روضہ رسول صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے مشرق یعنی طلوع آفتاب کیجانب سیدھا خط کیھنچا جائے تو وہ سعودی نجد کو عین درمیان سے کاٹتا ہوا اور خصوصا سعودی دارلحکومت کے بالکل اوپر سے گزرتا ہے۔ اسی نجد کے بارے میں رحمۃالعالمین علیہ صلاۃ و سلام نے دعائے رحمت تک کرنے سے انکار کیا حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بار بار درخواست کئی گئی۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں سے نجدی مذہب کا آغاز ہوا اور نجدی فکر کا موجد عبدالوھاب نجدی اسی نجد میں انیسویں صدی عیسوی میں آیا اور وھابیت و دیوبندیت کی باقاعدہ داغ بیل ڈال کر چلا گیا
  8. کفایت اللہ

    کفایت اللہ رکن

    مراسلے:
    132
    عراق فتنوں کی سرزمین ہے یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے لیکن پیش کردہ موضوع میں اصلا اس پہلوپر بات نہیں کی گئی بلکہ اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ عراق ، فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق مشرق میں واقع ہے ۔
    فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم یہ پیش کیا گیاہے:
    عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «مُهَلُّ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ، وَمُهَلُّ أَهْلِ الشَّامِ، مِنَ الْجُحْفَةِ، وَمُهَلُّ أَهْلِ الْيَمَنِ، مِنْ يَلَمْلَمَ، وَمُهَلُّ أَهْلِ نَجْدٍ، مِنْ قَرْنٍ، وَمُهَلُّ أَهْلِ الْمَشْرِقِ مِنْ ذَاتِ عِرْقٍ»[سنن ابن ماجه 2/ 972 رقم2915 صحیح بالشواہد، نیزملاحظہ ہو:شرح معاني الآثار (2/ 119)رقم3529]
    صحابی جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا اس میں فرمایا اہل مدینہ کیلئے احرام باندھنے کی جگہ ذوالحلیفہ ہے اور اہل شام کیلئے جحفہ ہے اور اہل یمن کیلئے یلملم ہے اور اہل نجد کیلئے قرآن ہے اور اہل مشرق کیلئے ذات عرق ہے

    اس حدیث میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس علاقہ کو مشرق کہا ہے جہاں‌ کی میقات ’’ذات عرق ‘‘ ہے۔
    اور’’ذات عرق‘‘ عراق والوں کی میقات ہے اس میں کسی کا اختلا ف نہیں ، مزید اس کی تشریح میں حدیث بھی پیش کردی گئی ہے۔
    اس سے ثابت ہوا کہ عراق ، فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق مشرق میں ہے ۔
    اگر اب بھی کوئی دعوی کرے کہ عراق مشرق میں نہیں ہے تو وہ اس حدیث کا جواب دے اور بتلائے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میقات والی اس حدیث میں مشرق کس علاقہ کو کہا ہے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟÷
  9. jaamsadams

    jaamsadams رکن

    مراسلے:
    5
    شاید آپ خود بھولے ہیں یا دوسروں کو بھولا سمجھا ہوا ہے۔ ذات عرق ایک الگ مقام ہے اور عراق الگ ملک۔ ذرا جاکر وکیپیڈیا سے تسلی کریں ذات عرق، نجد اور جبل تھامہ کے درمیان ایک مقام ہے جو کہ مکہ مکرمہ سے ۹۲ درجہ شمالا ہے۔ اور اھل مشرق بشمول نجد، خراسان تا شمال مشرق عراق وغیرہ تک کیلئے میقات ہے۔ مشرق کے ۹۰ درجوں میں عین مرکز پر یہی نجد ہے نہ کہ عراق۔ جبکہ عراق مشرق-شمال کی سمت ہے۔ اسی طرح جنوب-مشرق کی سمت خراسان کی ہے۔ یہ کہاں کی عقلمندی کہ عین مشرق میں واقع نجد کو چھوڑ کر مشرق-شمال میں واقع عراق کو پکڑ لیا جائے۔ اس کو عراق سے گڈ مڈ کرنا یا تو بدنیتی ہے یا کم علمی و کم عقلی۔ اگر کوئی جہازمدینہ منورہ سے عین مشرق یا طلوع آفتاب کی سمت اڑے تو وہ عراق پہنچے گا یا نجد؟ یقینا نجد پہنچے گا۔ عراق جانے کیلئے اس عین مشرق کی بجائے اُسے مشرق-شمال سفر کرنا ہوگا۔ اور اسی طرح عراق کو مشرق ثابت کرنے کیلئے سورج کو مشرق کیبجائے شمال-مشرق سے نکالنا ہوگا وگرنہ خود قرآن پر ہی حرف آئے گا
    قَالَ إِبْرَاهِيمُ فَإِنَّ اللّهَ يَأْتِي بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ . [2:258]
    ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا: بیشک اﷲ سورج کو مشرق کی طرف سے نکالتا ہے​

    قرآن شریف واشگاف کہہ رہا ہے بیشک ﷲ سورج کو مشرق کی طرف سے نکالتا ہے۔ سورج تو نجد کی طرف سے طلوع ہوتا ہے جو کہ مدینہ سے خط استوا کے بالکل متوازی واقع ہے۔ لہذا مشرق بھی وہیں ہے اور وہی وہابیت کا گڑھ ہے جہاں سے اس فرقے نے جنم لیا۔ اور یہی نجد وہ بدبخت مقام، جس کے لئے رحمت کل عالمیان صلی اللہ عایہ وسلم نے دعائے رحمت تک کرنے سے انکار کیا۔

    عراق میں یزید پلید کا فتنہ وقوع پزیر ہوا اس سے کسی کو انکار نہیں لیکن نجد تو ہمیشہ کیلئے رحمت عالمیان کی رحمت ہی سے محروم۔ دوبارہ حدیث شریف ملاحضہ ہو

    حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روای ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دُعا فرمائی کہ!۔
    اے اللہ ہمارے لئے شام میں برکت دے، اے اللہ ہمارے لئے یمن میں برکت دے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے نجد میں (بھی برکت کی دُعا کیجئے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر دُعا فرمائی اے اللہ ہمارے لئے شام میں برکت دے ہمارے لئے یمن میں برکت دے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے پھر عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اورہمارے نجد میں (بھی برکت کی دعا کیجئے) راوی ابن عمر۔۔۔ نے کہا میرا خیال ہے کہ تیسری مرتبہ (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے جواب میں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہاں زلزلے اور فتنے ہوں گے اور وہیں سے شیطان کا سینگ ظاہرہوگا۔۔۔ (بخاری و مسلم ۔ متفق علیہ)

    دوسری حدیث شریف ملاحضہ ہو

    حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ!۔
    ان سمع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وھو مستقبل المشرق یقول الاان الفتنہ ھھنا من حیث یطلع قرن الشیطان (بخاری صفحہ ١٠٥٠)۔۔۔
    یعنی عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشرق کی طرف منہ کر کے یہ کہتے ہوئے سنا کہ خبردار بیشک فتنہ یہاں سے نکلے گا جہاں سے شیطان کا سینگ نکلتا ہے۔۔۔

    قرآن سے بھی نجد عین مشرق بنے، حدیث سے بھی واضع اشارہ ہو اور جدید سائنس بھی عین مشرق میں نجد کی تائید کرے پھر بھی میں نہ مانو کی رٹ دال میں کچھ کالا نہیں بلکہ پوری دال ہی کالی ہے۔
  10. کفایت اللہ

    کفایت اللہ رکن

    مراسلے:
    132
    پوری حدیث پھر سے پڑھیں :

    عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «مُهَلُّ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ، وَمُهَلُّ أَهْلِ الشَّامِ، مِنَ الْجُحْفَةِ، وَمُهَلُّ أَهْلِ الْيَمَنِ، مِنْ يَلَمْلَمَ، وَمُهَلُّ أَهْلِ نَجْدٍ، مِنْ قَرْنٍ، وَمُهَلُّ أَهْلِ الْمَشْرِقِ مِنْ ذَاتِ عِرْقٍ»[سنن ابن ماجه 2/ 972 رقم2915 صحیح بالشواہد، نیزملاحظہ ہو:شرح معاني الآثار (2/ 119)رقم3529]
    صحابی جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا اس میں فرمایا اہل مدینہ کیلئے احرام باندھنے کی جگہ ذوالحلیفہ ہے اور اہل شام کیلئے جحفہ ہے اور اہل یمن کیلئے یلملم ہے اور اہل نجد کیلئے قرن ہے اور اہل مشرق کیلئے ذات عرق ہے

    اس حدیث کو پڑھ کرصرف یہ بتلائیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں اہل مشرق کن لوگوں کو کہا ہے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

    ذات عرق جس علاقہ کی میقات بتائی گئ ہے وہ علاقہ کون ساہے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟

    ذات عرق کہاں ہے اس سے بحث نہیں ہے !!!
    بلکہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ذات عرق کو جن لوگوں کی میقات قرار دیا ہے انہیں اہل مشرق کہا ہے ۔
    اب یہ بتائیں کہ اس اہل مشرق سے کون لوگ مراد ہیں؟؟؟؟ کہاں کہاں کے رہنے والے مراد ہیں۔


    یہ عقلمندی آپ کس کو سکھارہے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
    اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میقات والی حدیث میں نجد والوں کی میقات بتاتے ہوئے انہیں اہل مشرق نہیں کہا۔
    اس کے برخلاف عراق والوں کی میقات بتاتے ہوئے انہیں اہل مشرق کہا ہے۔

    احادیث پیش کی جاچکی ہیں۔

    سوال یہ ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میقات بتاتے ہوئے نجدوالوں کو اہل مشرق نہ کہتے ہوئے عراق والوں کو اہل مشرق کہا کیوں؟؟

    اب کس کو ہم زیادہ عقلمند مانیں آپ کو یا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ؟؟؟؟؟؟؟؟؟


    یاد رہے اس تھریڈ میں مرکزی بات یہ پیش کی گئی ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عراق والوں کو اہل مشرق کہا ہے ۔
    یعنی عراق کا مشرق میں ہونا حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔


    جہاں تک یہ بات ہے کہ عراق شمال مشرق میں ہے ۔
    تو میقات میں شمال مشرق کا لفظ نہیں بلکہ اہل مشرق کا لفظ یعنی مشرق مطلقا ہے۔
    اسی طرح فتنے والی حدیث میں بھی شمال مشرق کا لفظ نہیں بلکہ مشرق کا لفظ مطلقا ہے۔

    اگرفتنے والی حدیث میں مشرق کے لفظ میں عراق اس لئے شامل نہیں کیونکہ وہ عین مشرق نہیں بلکہ شمال مشرق میں ہے ۔
    تو میقات والی حدیث میں اہل مشرق میں عراق کیسے شامل ہوگیا ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

اس صفحے کی تشہیر