پشتو- غنی خان بابا کلام

نزرانہ نے 'علاقائی زبانیں' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏25 مارچ 2014

  1. نزرانہ

    نزرانہ رکن

    مراسلے:
    147
    وہ تعلیم جس کی غرض صرف اور صرف دنیا اور پیسہ ہو ایسی تعلیم یقیناٌ انسان کے لئے آخرت میں باعث حسرت ہوگی: مطلب آپ دنیا میں رزق کمانے کے لئے تعلیم حاصل نہیں کر سکتے؟ تو پھر تو دنیا میں رزق حاصل کرنے کے لئے دکانداری بھی باعث حسرت ہے۔ یہ جو کمپیوٹر آپ استعمال کر رہے ہو یہ دنیاوی تعلیم کے باعث ہے۔ او یہ جو کمپیوٹر پہ آپ اردو لکھ رہے ہو یہ بھی۔ یہ جو کمپیوٹر جس بجلی سے چلتا ہے، یہ جو بجلی پانی سے بنتی ہے۔ یہ سب دنیاوی تعلیم کانتیجہ ہے۔ آپ جیسے لوگوں کی سوچ کیوجہ سے آج ہمارا معاشرہ بی تعلیم ہے۔ اللہ کے واسطے اس معاشرے کو جاہلیت اور اندہیرے میں مت دکھیلیں۔ تعلیم ہمارے مسلمانوں کی ترقی کے لئے اچھا ہے۔
    • شکریہ شکریہ x 1
  2. نزرانہ

    نزرانہ رکن

    مراسلے:
    147
    تو یہ فرقے ہم عام لوگوں نے تو نہیں بنائے۔ یہ بھی تو مولویوں نے بنائے ہیں۔ اس کے لئے بھی ہم زمہ دار ہیں۔ میں کسی فرقے کو نہیں مانتی۔ میں صرف مسلمان ہوں۔ نہ بریلوی ہوں، نہ دیوبندی ہوں، نہ کچھ اور، صرف اور صرف مسلمان ہوں۔ اور یہ بات مجھے سکول کے ٹیچر نے کہی تھی۔ مولوی نے نہیں۔
    • پسند پسند x 1
  3. شاہد نذیر

    شاہد نذیر رکن

    مراسلے:
    486
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

    نزرانہ بہن میں چاہتا ہوں کہ آپ ایک بات ذہن نشین کرلیں وہ یہ کہ میرا مقصد آپکو نیچا دکھانا یا آپ پر تنقید کرنا یا آپکو غلط ثابت کرنا نہیں ہے۔ بلکہ آپ نے ایک نقطہ نظر پیش کیا میں چاہتا تھا کہ دوسرا نقطہ نظر بھی پیش کردیا جائے تاکہ پڑھنے والوں کے سامنے دونوں نقطہ نظر رہیں اور وہ جس نقطہ نظر کو صحیح سمجھیں قبول کرلیں۔ میں جو کچھ لکھ رہا ہوں اس کا مقصد اپنی سوچ کو آپ پر مسلط کرنا نہیں ہے بلکہ میں جس بات کو حق سمجھتا ہوں میں اسے پیش کررہاہوں اگر وہ بات آپ کو صحیح لگتی ہے تو قبول کرلیں اور اگر نہیں تو آپکے احترام میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔ یہ ہماری آپس کی جنگ نہیں ہے اس لئے آپ جو کہنا چاہتی ہیں یا میرا رد کرنا چاہتی ہیں تو کھل کر کریں ہوسکتا ہے کہ مجھے آپ سے بہت کچھ سیکھنے کو مل جائے اور میں بھی اسی غرض سے لکھ رہا ہوں کہ آپ کے علم میں بھی وہ باتیں آجائیں جو اب تک اس حوالے سے آپ کے علم میں نہیں ہیں۔ تاکہ آپ بہتر طور پر اپنے موقف پر غوروفکر کر سکیں۔ امید ہے آپ میری بات کو سمجھ گئی ہونگی اور میری کسی بھی بات کو اپنی ذات پر تنقید نہیں سمجھیں گی۔ ان شاء اللہ
    آپ خوش ہوجائیں اگر آپ عالمہ نہیں ہیں تو میں بھی عالم نہیں ہوں۔ ہم دونوں کی علمی حیثیت ایک ہی ہے اس لئے آپ کو مجھ سے معذرت کرنے کی چنداں ضرورت نہیں۔
    والسلام آپکا دینی بھائی
    • شکریہ شکریہ x 1
  4. شاہد نذیر

    شاہد نذیر رکن

    مراسلے:
    486
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

    جدید تعلیم کے یہ وہ نقصانات ہیں جن سے قبل از وقت مولوی حضرات نے باخبر کرنے کی کوشش کی لیکن انہیں تعلیم کا دشمن قرار دے کر انکی نصیحت پر کان نہیں دھرا گیا۔ ملاحظہ ہو: نئی نسل کا بگاڑ۔۔۔ ذمے دارکون ہے؟
    • شکریہ شکریہ x 1
  5. josh

    josh رکن

    مراسلے:
    166
    میرے خیال میں جدید اور قدیم تعلیم کا مسالہ نہیں ہے بلکہ فکروخیال کا مسلہ ہے ،پہلے کے اساتذہ نیک اور دیندار تھے وہ عصری تعلیم دیتے ہویے بھی اخلاقیات کی تعلیم دیتے اور خود اس پر عمل کرتے وہ خود نماز پڑھتے اور بچوں وبچیوں کو نماز کی تلقین کرتے اسوقت کے بچےاور بچیاں عصری تعلیم کے باوجود نیک اور صالح ہوتے ۔آج کے دور میں نہ تو استاذکو اخلاقیات کا علم ہے او نہ نماز و روزے کی فکر۔بس کلاس میں آیے اور لکچر دیکر چلے گیے ۔بچے سمجھیں یا نہ سمجھیں اگر کسی بچے کو کویی مضمون سمجھ میںنہ آتا ہو تو وہ اسی استاز کے پاس پراویٹ طریقے سے پیسے دیکر پڑھے۔۔ اذان کی آواز کان میں پڑتی ہے لیکن نماز کی فکر نہ تو استاز کو ہے نہ شاگرد کو۔ اب آپ بتایے کہ غلطی تعلیم کی ہے یاتعلیم دینے والے کی ۔ آج بھی کچھ اساتذہ اور کچھ طلباایسے ہیں جو اپنی فطری طبیعت سے اپنے آپکو غلط ماحول سے الگ رکھکر عصری تعلیم حاصل کرتے ہویےبھی اخلاقی دایرے میں رکھتے ہیں اور نماز و روزے کی پابندی بھی کرتے ہیں ۔ کہا جاتا ہے ۔ تعلیم و تربیت ۔ تو تربیت مسلمانوں کے تعلیمی اداروں سے مکمل ختم ہوچکی ہے ۔رہا تعلیم کا مسلہ تو وہ بھی کچھ ہے اور بہت ضایع ہو چکاہے ۔بس اللہ صحیح فہم و بصیرت عطا کرے۔ اور احساس ذمہ داری کی توفیق دے۔
    • پسند پسند x 1
  6. نزرانہ

    نزرانہ رکن

    مراسلے:
    147
    بالکل میں آپ سے متفق ہوں جوش بھائی۔ اسلام خود ایک مکمل طرززندگی کی راہ دکھاتی ہے۔ مگر ہمارے مولوی آج کل لڑ رہے ہیں ایک ایک مسلے پر جس کی وجہ ہم عام لوگ بہت سارے فرقوں میں تقسیم ہو گئے ہیں۔ اسلام ایک، قرآن ایک، اللہ ایک، رسول ایک مذہب ایک پھر اتنے جھگڑے کیوں او اتنے فرقے کیوں۔ او ہر ایک فرقہ دوسرے فرقے کو کافر کہتا ہے۔ کیا ہم سب نے اسلام کا مذاق بنایا ہوا ہے یا ہم انسان کی اہمیت بھول گئے ہیں۔ اسلام تو محبت امن اور سلامتی کی راہ ہے تو پھر ہم کیوں اسے نفرت بدامنی اور بے سلامتی بنا رہے ہیں۔ افسوس ہوتا اور فکر ہے کہ اگر ہمارا یہی رویہ رہا اسلام کے بارے میں تو شاید آنے والے وقت میں لوگ مسلمان تو ہو ں گے مگر اسلام نہیں جانتے ہوں گے۔ کیوں کہ سب کہیں گے کہ کون صحیح ہے اور کون غلط۔۔۔۔
  7. josh

    josh رکن

    مراسلے:
    166
    محترم نزرانہ صاحب جس عالم کے دل میں اللہ کاخوف ہے اور اسے اس بات کا بھی احساس ہے کہ اسے اپنے ہر کردار اور اعمال کا حساب دینا ہے وہ عالم اسی بات کی رہنمایی کریگا جس کا اللہ اور اسکے رسول نے قرآن و حدیث میں حکم دیا ہے وہ ہر ہر بات کی دلیل قرآن وحدیث سے دیگا ایسا عالم ہر قسم کے شرک وبدعت سے بچ کر توحید وسنت کی تعلیم دیگا وہ لوگوں کو اتباع رسول کی تعلیم دیگا ، اسکے برعکس جس کے دل میں اللہ کا خوف نہیں جسکو یوم آخرت کی فکر نہیں وہ جو چاہے کرتا جاے اسکو شرک و بدعت کی کویی فکر نہیں اسکو اسکی فکر نہیں کہ قوم ڈوب رہی ہے بلکہ وہ اسی فکر میں رہے گا کہ کن کن حربوں سے لوگوں کو گمراہ کرے اسکے سامنے قرآن و حدیث کی کویی فکر نہیں ہے وہ خود قرآںوحدیث سے دور ہے اور لوگوں کو بھی قرآن وحدیث سے دور کررہا ہے اور لوگوں کو انہوں نے یہ تعلیم دیدی ہے کہ جو قرآن وحدیث کی تعلیم دے وہ گمراہ اور وہابی یا 24نمبر ہیں انکی بات ہرگز نہیں سننا اب ان عوام سے جب توحید کی بات کرو تووہ یہ کہکر سننا گوارہ نہیں کرتی کہ یہ وھابی اور گمراہ لوگ ہیں ۔ بس اللہ انہیں ھدایت دے ۔
    • پسند پسند x 1
  8. نزرانہ

    نزرانہ رکن

    مراسلے:
    147
    بس بعض لوگوں اسلام میں ایسی بدعات ایڈ کرتے ہیں جیسے اس کی پراپرٹی ہو۔ او وہ مولویز جو ایسا کرتے ہیں قیامت کے دن ذمہ دار ہونگے
  9. ممتاز حسین

    ممتاز حسین رکن

    مراسلے:
    1
    پرانے زمانے کے علماء آج کے مقابلے میں بہت بہتر تھے۔ انہوں نے لاوڈ سپیکر کے بارے میں حرام ہونے کا جو فتویٰ دیا تھا وہ بالکل درست تھا کیونکہ یہ ایک بہت بڑی مصیبت بن گئی ہے۔ جو چیز بھی نقصان دہ ہے اسلام اس سے منع کرتا ہے۔ کاش لاوڈ سپیکر کی حرمت کا فتویٰ کہیں سے مل جائے۔
  10. josh

    josh رکن

    مراسلے:
    166
    اصل میں لاوڈاسپیکر کے حرمت کا کویی سبب نظر نہیں آتا ہے پہلے علماء کرام نے کیوں حرام کیا تھا اسکا سبب نہیں معلوم اور یہ بھی نہیں معلوم کہ کس عالم نے اسے حرام کیاتھا ۔بہر حال یہ آواز پہونچانے کا ایک زریعہ ہے ضرورت کے موقع پر اسے استعمال کیا جا سکتا ہے البتہ مساجد میں جو دروس ہوتے ہیں تو اگر باہر کی آواز سے لوگوں کو تکلیف پہونچتی ہے تو اسے بند کردیں اندر کی آواز کھولے رکھیں۔

اس صفحے کی تشہیر