پشتو- غنی خان بابا کلام

نزرانہ نے 'علاقائی زبانیں' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏25 مارچ 2014

  1. نزرانہ

    نزرانہ رکن

    مراسلے:
    147

    ماته د جنت کیسې
    ځان ته د دنیا حساب
    دا دی عجیبه انصاف
    دا دی عجیبه کتاب
    زه په مستي سور کافر
    ته په هوس سپین ملا
    ماته په فتوا عذاب
    تاته په دوکه ثـواب
    ای د عدالت ربه
    دا لوبه خو ورانه که
    مونږه انسانانو ته
    نوې لار ودانه که
    نور که څه کوې کنه
    خلاص مو د ملا نه که
    غني خان
    • پسند پسند x 2
  2. امتیاز احمد

    امتیاز احمد رکن

    مراسلے:
    18
    آپی جی ترجمہ بھی کردیا کریں تاکہ ہمارے بھی کچھ پلے پڑجائے
    • پسند پسند x 3
  3. نزرانہ

    نزرانہ رکن

    مراسلے:
    147
    یہ غنی خان بابا کا مولویوں کے بارے میں لکھی گئی کلام ہے۔

    ماته د جنت کیسې
    ځان ته د دنیا حساب

    مجھے جنت کے قیصے سناتے ہو
    اپنے لئے دنیا اکٹھا کر رہے ہو
    دا دی عجیبه انصاف
    دا دی عجیبه کتاب

    یہ عجیب انصاف ہے تیرا
    یہ عجیب کتاب ہے تیرا
    زه په مستي سور کافر
    ته په هوس سپین ملا

    میں مستی کروں تو کافر
    تو ہوس میں بھی صاف مُلا
    ماته په فتوا عذاب
    تاته په دوکه ثـواب

    مجھے تیرے فتوا پر عذاب
    تمھیں دھوکے پر ثواب
    ای د عدالت ربه
    دا لوبه خو ورانه که

    اے انصاف کے رب
    یہ کھیل تو بگاڑ دے انکا
    مونږه انسانانو ته
    نوې لار ودانه که

    ہم انسانوں کے لئے
    نیا کوئی راستہ بنا لے
    نور که څه کوې کنه
    خلاص مو د ملا نه که

    اور کچھ کرنا ہو یا نہیں
    ہماری جان مولوی سے چھڑا
    • ناپسند ناپسند x 1
  4. نزرانہ

    نزرانہ رکن

    مراسلے:
    147
    ایک بات میں واضح ہونی جاہیئے کہ غنی خان بابا ایک بات کے سیدھے سادھے شاعر تھے۔ جیسا کہ کہا ہے کہ
    نور که څه کوې کنه
    خلاص مو د ملا نه که

    اور کچھ کرنا ہو یا نہیں
    ہماری جان مولوی سے چھڑا
    اس سے مراد اس وقت کے وہ مولوی تھے جو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ او یہ ہر دور میں ایسے لوگ ہوتے ہیں۔
    اُس وقت میرے بزرگوں نے مجھے بتایا ہے کہ مولویوں نے فتویٰ لگایا تھا کہ اگر کوئی شحص سکو کا سبق پڑھے گا تو وہ گمراہ او دوزخ میں جائے گا۔
    اور اسکے لئے مولویوں نے کچھ اشعار بھی لکھے تھے جو بہت ہی مشہور ہوئے تھے او وہ تھے
    چي سبق د مدرسي وائي
    د پاره د پيسي وائي
    جنت کي به ي ځاي نه وي
    په دوذخ کي به غوپي وئي


    اسکا مطلب یہ ہے کہ جو سکول کا سبق پڑھے گا وہ پیسے کے لئے پڑھے گا جو اس دنیا کی لالچ ہے۔ او وہ حرام ہے او وہ شخص دوزخ میں جائے گا۔

    اس لئے غنی خان بابا نے اپنے لوگوں کو جاگانے کے لئے ایسے اشعار لکھے۔ اور یہی وجہ تھا کہ سارے مولویوں نے اس پہ فتویٰ بھی لگایا تھا کہ یہ کافر ہے۔ لیکن بعد میں جب لوگوں میں شعور آیا تو سچائی کا پتہ چلا۔

    ایک واقعہ یاد آیا کہ ایک شخص غنی بابا سے ملنے آیا۔ غنی بابا اپنے حجرے میں بیٹھا تھا جب اس بندے نے سلام کیا تو پوچھا کون ہے آپ۔ تو وہ باتیں ایسی تھی کہ

    غنی بابا: وعلیکم السلام کون ہیں آپ
    شخص: جی میں عالم ہوں
    غنی بابا: عالم تو اللہ ہے
    شخص: نہیں جی میں امام ہوں (یعنی مسجد میں امام ہوں)
    غنی بابا : امام تو چار ہیں آپ پانچویں ہیں؟
    شخص: نہیں جی میں مُلا ہوں
    غنی بابا: اچھا تو ایسے بولو نا کہ فساد کی جڑ ہو۔

    یعنی اس وقت کے مولویوں نے لوگوں کے ساتھ اتنی ناانصافیاں کی تھی کہ غنی بابا جو ایک فراخ او وسیع سوچ و فکر کے مالک تھے نے فساد کی جڑ کا نام دے دیا تھا۔

    باقی غنی بابا نے تصوف میں بھی حد کر دی تھی۔ جس کو جاہل مولوی نہ سمجھ سکے اور فتویٰ دیتے رہے۔

    اس وقت جب لاوڈ سپیکر نیا نیا آیا تو ان مولویوں نے فتویٰ لگایا تھا اور سڑکوں پر نکلے تھے کہ لاوڈسپیکر کی آواز عورتیں سنیں کی جو حرام ہے۔ آجکل سب سے زیادہ مولوی حضرات ہیں استعمال کرتے ہیں۔
    اس وقت سکول کی پڑھائی انگریزوں کی پڑھائی تھی آجکل خود پڑھ رہیں ہیں۔
    مطلب یہ ہے کہ صرف شعور آیا ہے اور ہمارے علماء بھی ابھی فرض ٹھیک سے ادا کرتے ہیں۔

    تو اگر غنی خان بابا کے اس شعر سے کسی کا دل دکھا ہو تو یہ ان مولویوں کے لئے ہے جو لو گوں کو راہ راست کی بجائے غلط اسلام کی راہ پر کامزن کرنا چاہتے ہیں۔
    • معلوماتی معلوماتی x 1
  5. نسرین فاطمۃ

    نسرین فاطمۃ رکن

    مراسلے:
    531
    بہت خوب بہنا :)
    • شکریہ شکریہ x 2
  6. شاہد نذیر

    شاہد نذیر رکن

    مراسلے:
    486
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

    اسلامی معاشرے میں مولوی کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہے عام طور پر یہی مولوی حضرات لوگوں کی دینی رہنمائی کا اہم فریضہ سرانجام دیتے ہیں۔ کفار جان بوجھ کر اور جاہل مسلمان جہالت میں مولویوں کا مذاق اڑاتے ان پر لطیفے بناتے اور انکی تحقیر کرتے ہیں اس کا سب سے بڑا نقصان دین کا ہوتا ہے کیونکہ جب لوگوں کے دل میں اپنے دینی رہنما کی کوئی عزت ہی نہیں رہتی تو وہ دینی تعلیم حاصل کرنے سے بھی کسی حد تک رک جاتے ہیں۔ چونکہ صوفی خود بہت بڑے گمراہ اور بے دین لوگ ہوتے ہیں اس لئے ان کو خاص طور پر مولویوں سے چڑ ہوتی ہے کیونکہ یہ مولوی حضرات ہی ان صوفیوں کی گمراہی کو عام لوگوں پر آشکار کرتے ہیں۔ جس کے جواب میں صوفی مولویوں کو گالیاں دیتے اور ان کو برا بھلا کہتے ہیں۔ مولویوں کو بدنام کرنے میں ان جاہل صوفیوں کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔
    • ناپسند ناپسند x 1
  7. نزرانہ

    نزرانہ رکن

    مراسلے:
    147
    یعنی آپ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ سکول کا سبق جو پڑھے گا وہ دوذخ جائے گا؟ یا لاوڈسپیکر کا استعمال اسلام میں ممنوع ہے۔ یا ووٹ اسلام میں حرام ہے، یا تصویر بنانا حرام ہے؟ اگر ہاں تو میرے خیال میں سکول آپ بھی گئے ہونگے، لاوڈسپیکر آپ نے بھی استعمال کی ہوگی، ووٹ آپ نے بھی کسی کو دیا ہوگا۔ او تصویر تو آپکی ضرور ہوگی۔
    صوفی اگر جاہل ہے تو ہمیں جاہل نہیں بننا چاہئے۔ یہ سب باتیں تو مولویوں نے کہی ہے صوفی نے نہیں۔ مولوی تو ہمیں کچھ اور کہتے ہیں اور خود کچھ اور کرتے ہیں۔ اچھے مولوی ہیں لیکن غنی بابا نے جو کچھ کہا ہے بُرے اور غلط راستہ دکھانے والے مولویوں کے بارے میں کہا ہے۔
    • شکریہ شکریہ x 1
  8. شاہد نذیر

    شاہد نذیر رکن

    مراسلے:
    486
    نہیں محترم بہن میں ان تمام باتوں سے اتفاق نہیں کرتا۔ تعلیم کے لئے اسکول جانا بھی درست ہے اور لاوڈ اسپیکر کا استعمال بھی ممنوع نہیں۔ لیکن ووٹ دینا اور تصویر بنانا ضرور حرام ہے۔ میں ووٹ نہیں دیتا بلکہ میں نے اپنی پوری زندگی میں کبھی ووٹ نہیں دیا اور میں تصویر بھی نہیں کھنچواتا لیکن شاختی کارڈ وغیرہ کی تصاویر چونکہ انتہائی مجبوری ہے اس لئے ایسی تصاویر کے لئے ہم مجبور ہیں لیکن اسکا گناہ بھی ہم پر نہیں کیونکہ اسے ہم پر مسلط کیا گیا ہے۔

    میرا اصل اعتراض یہ ہے کہ اگر ایک مولوی کوئی غلط بات کرتا ہے تو لوگ مطلقاٌ مولویوں کو برا بھلا کہنا کیوں شروع کردیتے ہیں؟ اس سے ان مولویوں کی بھی تحقیر ہوتی ہے جو صحیح ہیں۔ جیسے اس بات کو یوں لیں کہ ایک شخص جو خود کو مسلمان کہتا ہے لیکن کسی دوسرے مسلمان کی زیادتی پر تمام مسلمانوں کو برا بھلا کہنا شروع کردیتا ہے۔ حالانکہ اسے مسلمان کا لفظ ہی استعمال نہیں کرنا چاہیے بلکہ اس مخصوص شخص کی نشاندہی کرکے اسے برا بھلا کہنا چاہیے اس طرح اگر کسی مولوی نے کوئی غلط بات کہی تو مولویوں کو آڑے ہاتھوں لینے کے بجائے مولوی کا لفظ استعمال کئے بغیر اس شخص کی غلطی واضح کرنا چاہیے۔امید ہے آپ میری بات سمجھ گئی ہونگی۔ان شاء اللہ
    • شکریہ شکریہ x 1
  9. نزرانہ

    نزرانہ رکن

    مراسلے:
    147
    جس دور میں یہ کلام لکھی گئی ہے سر اس وقت سارے مولویوں نے فتویٰ دیا تھا کہ اسلام میں سکول کا تعلیم حرام ہے۔ اور میں نے وہ اشعار بھی لکھی ہیں جو اس وقت کے مولوی کہتے تھے۔ کوئی ایسا مولوی نہیں تھا جس نے اس بات کی تردید کی ہو۔ سارے ایک ہی بات کرتے تھے اور ایک شخص ایسا تھا جو کہتا تھا کہ اسلام میں تعلیم حرام نہیں بلکہ ثواب ہے۔ اور وہ تھا غنی خان بابا۔ تو اب آپ ہی بتائیں کہ کون اچھا ہوا۔
    • شکریہ شکریہ x 1
  10. جانی ملک

    جانی ملک رکن

    مراسلے:
    11
    ""

اس صفحے کی تشہیر