غزل ۔۔۔ پیش جو آیا سر ساحل شب بتلایا ۔۔۔ اجمل سراج

محمداحمد نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏30 اکتوبر 2017

  1. محمداحمد

    محمداحمد رکن

    مراسلے:
    73
    غزل

    پیش جو آیا سر ساحل شب بتلایا
    موج غم کو بھی مگر موج طرب بتلایا

    ہے بتانے کی کوئی چیز بھلا نام و نسب
    ہم نے پوچھا نہ کبھی نام و نسب بتلایا

    رنگ محفل کا عجب ہو گیا جس دم اس نے
    خامشی کو بھی مری حسن طلب بتلایا

    دل کو دنیا سے سروکار کبھی تھا ہی نہیں
    آنکھ نے بھی مگر اس رخ کو عجب بتلایا

    یہ اداسی کا سبب پوچھنے والے اجملؔ
    کیا کریں گے جو اداسی کا سبب بتلایا

    اجملؔ سراج
    • پسند پسند x 1
  2. ٹرومین

    ٹرومین رکن

    مراسلے:
    57
    بہت عمدہ انتخاب
    @انتظامیہ سے درخواست ہے کہ اگر ممکن ہوسکے تو "اقتباس" کے آپشن کواستعمال کرکے مراسلے کو حصوں میں "کوٹ" کرنے کی سیٹنگ Enable کردیں تو نوازش ہوگی۔
    • پسند پسند x 1
  3. محمداحمد

    محمداحمد رکن

    مراسلے:
    73
    بہت شکریہ جناب!
    • پسند پسند x 1
  4. توصیف یوسف

    توصیف یوسف رکن

    مراسلے:
    4
    یہ اداسی کا سبب پوچھنے والے اجملؔ
    کیا کریں گے جو اداسی کا سبب بتلایا


    Sent from my SM-G610F using Tapatalk

اس صفحے کی تشہیر