عورت اور زیب و زینت

بنت مشتاق نے 'متفرق موضوعات (خواتین)' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏16 فروری 2014

  1. بنت مشتاق

    بنت مشتاق رکن

    مراسلے:
    150
    سب سے پہلے یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ زینت اور حصول زینت سے محبت پر عورت کو ملامت کا نشانہ نہیں بنایا جا سکتا ۔ بلکہ شرعی طور پر یہ اس سے مطلوب و مقصود ہے اور اسے اس بات کا حکم بھی دیا گیا ہے ۔ جیسے کہ فرمان نبویﷺ ہے :

    ((ان نظر الیھا سر تہ))

    "اگر (خاوند) اس کی جانب دیکھے تو وہ اسے خوش کر دے"

    اور اگر یہ زیبائش و آرائش والی اجازت نہ ہو تو ہم میں سے کوئی بھی آدمی اپنی زوجہ کی طرف راغب نہ ہو ۔ اس سے کوئی عورت یہ نہ سمجھے کہ میں زینت کے ترک کرنے اور بالکل اس سے اعراض کرنے کی طرف دعوت دینے والا ہوں ۔ قطعا نہیں ۔ بلکہ میں تو اسے سمجھ داری ، اعتدال پسندی اور میانہ روی کی دعوت دیتا ہو ں اور مزید اس کے ساتھ ساتھ نقلی جعلی اور جھو ٹی زینت ست دور رہنے کی دعوت دیتا ہوں کہ جس سے سوائے دشمنان امت اور صاحبان شرو فساد کے کسی اور کو ذرا بھر بھی فائدہ نہیں ہو رہا۔ 1

    1( (ملبوسات کے بڑے بڑے شو رومز یہودیوں کی ملکیت ہیں ۔ اسی طرح "بیوٹی پارلر" اور میک اپ کے سامان کے بڑے کارخانے اور فیکٹریاں بھی یہودیوں اور صلیبیوں نے ہی قائم کر رکھی ہیں ۔وہ لوگ ان سے دگنی چوگنی کمائی کر رہے ہیں ۔ایسی کمائی جو دوسری مصنو عات بنانے والے نہیں کر رہے ۔ مزید برآں وہ ان اشیا ء کے ذریعے معاشرے کی دیگر امتوں (غیر یہودیوں) میں فتنی و فساد کا زہر بھی پھیلا رہے ہیں ۔ ( دیکھیے محمد قطب کی مذاہب فکرۃ س 150))

    اللہ تبارک تعالیٰ اپنی "تنزیل محکم" یعنی قرآن حکیم میں فرماتے ہیں :

    ( کنتم خیر امتہ اخرجت للناس 0)(آل عمران:3/110)

    "لوگوں کے (فائدے اور اصلاح کے) لیے جتنی امتیں پیدا ہوئیں ۔ ان سب میں تم بہتر ہو۔"

    دوسرے مقام پر یوں فرمان الہیٰ موجود ہے:

    (( وکذالک جعلنٰکم امتاََ وسطاََ0)) (البقرہ :2/143)

    اور اسی طرح ہم نے تم کو ( اے مسلمانو!) ایک امت معتدل بنایا۔"

    جب ہم "امت وسط" ہیں تو ہمیں چاہیے کہ ہم ہر معاملے میں آسان تر پہلو کو اختیار کریں اور جو پہلو عقل و دانشمندی اور فطرت سلیمہ کے قریب ہو اسی کو اپنائیں ۔۔۔۔ عورت کی زیب و زینت مطلوب تو ہے لیکن افراط و تفریط سے بچ کر ۔ خوبصورتی اور زینت کے حصول میں مبالغہ آرائی زیب و زینت کے معاملہ کو ہی لیجیئے تو یہ ایک مذموم فعل ہے کہ جس میں حلال و حرام ، نقصان دہ اور فائدہ مند دونوں پہلو پائے جا سکتے ہیں ۔ بالکل اسی طرح کلیتا زینت کو ترک کر دینا یا جان بوجھ کر چھوڑ دینا بھی مذموم فعل ہے ۔ اللہ تعالیٰ خود وضاحت فرما رہے ہیں :

    ((قل من حرم زينته الله التي اخرج لعباده و الطيبات من الرزق قل هي للذين آمنوا في الحياه الدنيا خالصه يوم القيامه؛)) (الاعراف :7/32)

    "اے پیغمبر ﷺ ! ان سے پوچھو تو سہی اللہ تعالیٰ نے جو بناو (زیبائش و آرائش ) اپنے بندوں کے لیے بنایا ہے اور کھانے پینے کی پاکیزہ چیزیں ، ان کے لیے ہیدا کی ہیں ان کو کس نے حرام کیا ہے ؟ اے پیغمبرﷺ!(ان سے) کہہ دیں کہ یہ چیزیں دنیا کی زندگی میں مؤمنوں کے لیے ہیں (اور کافروں کے لیے بھی) اور قیامت کے دن تو صرف مؤمنوں کے لیے ہیں ۔"

    رسول اللہ ﷺ کا فرمان گرامی ہے :

    (ان اللہ جمیل یحب الجمال )

    "اللہ تعالیٰ خود بھی خوبصورت ہیں اور خوبصورتی کو پسند فرماتے ہیں )

    تو میری مسلمان بہن ! تجھ سے بھی اس معاملے میں اعتدال اور میانہ روی ہی مطلوب ہے ۔

    (خیر الامور او سطہھا)

    تمام معاملات میں سے بہترین راستہ اس میں سے درمیان والا ہوتا ہے ۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے

    ولا تغل فی شئی ء من الامر واقتصدکلا طرفی قصد الامور ذمیم

    "کسی بھی معاملہ میں غلو اور مبالغہ سے کام نہ لے۔ بلکہ میانہ روی اختیار کر ۔ کیونکہ "میانہ روی " کی دونوں جہتیں ہی نا پسندیدہ ہیں "(یعنی افراط بھی اور تفریط بھی)

    اے میری خواہر مسلمہ !۔۔۔۔ یہ بھی جان لے کہ تقویٰ کا لباس ہی بہترین لباس ہے ۔ جس طرح کے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:

    (يَا بَنِي آدَمَ قَدْ أَنزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا يُوَارِي سَوْآتِكُمْ وَرِيشًا وَلِبَاسُ التَّقْوَى ذَلِكَ خَيْرٌ ذَلِكَ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُونَ.)(الا عراف: 7/26)

    "اے اولاد آدم ! ۔۔۔۔ ہم نے تم پر لباس نازل کیا کہ تمہارے جسم کے قابل شرم حصوں کو ڈھانکے اور تمہارے لیے جسم کی حفاظت زینت کا ذریعہ بھی بنے اور بہترین لباس تقویٰ کا لباس ہے۔ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے ۔ شاید کے لو گ اس سے سبق لیں"۔

    امام ابن کثیر ؒ نے اس اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ: اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے جو لباس اور سامان زینت پیدا فرمایا ہے ۔ تو سا وہ یہاں بطور احسان و انعام ذکر فرما رہے ہیں ۔ چنانچہ لباس تو " شرم گاہوں " کی پردہ پوشی کے لیے ہے اور "ریش" لباس سے علاوہ "سامان آرائش " ہے ۔ اول الذکر تو ضروریات میں سے ہے ۔ جبکہ ثانی الذکر زائد اور مکمل کرنے والی اشیا ء میں سے ہے ۔۔۔۔ اور "تقویٰ کا لباس" سے مراد اللہ تعالیٰ پر ایمان ، اس کی حشیت ، عمل صالح اور اچھی ہیت و حالت کا نام ہے ۔اور یقیناً یہی لباس تقویٰ ہی انسان کا سب سے بڑا "پردہ پوش " اور "محافظ " ہے۔ جیسے کسی شاعر نے بھی کہا ہے ۔

    اذا المر ء لم یلبس ثیابا من التقٰیتجرد عریانا وان کان کاسیا

    "جب تک کوئی آدمی "لباس تقویٰ " زیب تن نہ کرے گا۔ وہ خواہ کپڑے ہی پہنے ہوئے ہو۔ پھر بھی ننگا ہی ہو گا"

    وخیر خصال المر ء طاعۃ ربہوالا خیر فیمن کان للہ عا صیا

    "کسی آدمی کی خوبیوں میں سے بہترین خوبی اپنے رب کی اطاعت کرنا ہے " جو آدمی اپنے اللہ کا ہی نافرمان ہے اس میں بھلائی ہر گز نہیں ہو سکتی۔

    موجودہ دور میں لوگوں کا زیادہ اہتمام ۔۔۔۔ خصوصاً عورتوں کا ۔۔۔۔ حسن و جمال کے اظہار اور خوبصورت لباس زیب تن کرنے ، جو کہ ضرورت سے زائد چیزیں ہیں ۔ ہی میں ہو رہا ہے ۔۔۔۔ اور یہی "ریش" ہے ۔ "لباس تقویٰ ہے مگر جن پر اللہ تعالیٰ رحم فرمائے ۔ لوگوں کی اس حالت زار پر افسوس صد افسوس ! ( انا للہ و انا الیہ راجعون)
    اصل کتاب کا تعارف

اس صفحے کی تشہیر