علم ، علماء کے ساتھ ہی چلا جائے گا

عبد الرحمن یحیی نے 'حدیث نبوی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏12 دسمبر 2014

  1. عبد الرحمن یحیی

    عبد الرحمن یحیی رکن

    مراسلے:
    295
    علم ، علماء کے ساتھ ہی چلا جائے گا

    1 ۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما نے نقل کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ اللہ علم کو اس طرح نہیں اٹھا لے گا کہ اس کو بندوں سے چھین لے۔ بلکہ وہ (پختہ کار) علماء کو موت دے کر علم کو اٹھائے گا۔ حتیٰ کہ جب کوئی عالم باقی نہیں رہے گا تو لوگ جاہلوں کو سردار بنا لیں گے، ان سے سوالات کیے جائیں گے اور وہ بغیر علم کے جواب دیں گے۔ اس لیے خود بھی گمراہ ہوں گے اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے۔

    الراوي: عبدالله بن عمرو المحدث: البخاري - المصدر: صحيح البخاري - الصفحة أو الرقم: 100

    2 ۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے (ایک مرتبہ) فرمایا میں تمہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی وہ حدیث نہ سناؤں جو میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے سنی (اس کی خصوصیت یہ ہے کہ) میرے بعد کوئی بھی تمہیں وہ حدیث نہ سنائے گا میں نے آپ کو یہ فرماتے سنا قیامت کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ علم اٹھ جائے گا جہالت پھیل جائے گی بدکاری عام ہوگی شراب پی جائے گی مرد کم رہ جائیں گے عورتیں زیادہ ہو جائیں گی یہاں تک کہ پچاس عورتوں کا انتظام ایک مرد کرے گا۔
    الراوي: أنس بن مالك المحدث: مسلم - المصدر: صحيح مسلم - الصفحة أو الرقم: 2671

    3 ۔ عن زياد بن لبيد رضي الله عنه قال: " ذكر النبي صلى الله عليه وسلم شيئا فقال: " وذاك عند أوان ذهاب العلم "..
    قلنا: يا رسول الله؛ وكيف يذهب العلم ونحن نقرأ القرآن ونقرئه أبناءنا، ويقرئه أبناؤنا أبناءهم إلى يوم القيامة..؟!
    قال صلى الله عليه وسلم: " ثكلتك أمك يا ابن أم لبيد؛ إن كنت لأراك من أفقه رجل بالمدينة، أو ليس هذه اليهود والنصارى يقرءون التوراة والإنجيل لا ينتفعون مما فيهما بشيء "..؟
    [صححه الأستاذ شعيب الأرنؤوط في المسند برقم: 17473، والألباني في سنن الإمام ابن ماجة برقم: 4.48]

    سیدنا زیاد بن لبید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بات کا ذکر کر کے فرمایا یہ اس وقت ہوگا جب علم اٹھ جائے گا میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) علم کیسے اٹھ جائے گا حالانکہ ہم خود قرآن پڑھتے ہیں اور اپنے بیٹوں کو پڑھاتے ہیں اور ہمارے بیٹوں کو (اسی طرح نسل در نسل) قیامت تک پڑھاتے رہیں گے فرمایا زیاد تیری ماں تجھ پر روئے (یعنی تم نادان نکلے) میں تو تمہیں مدینہ کے سمجھ دار لوگوں میں شمار کرتا تھا کیا یہ یہود و نصاری تورات اور انجیل نہیں پڑھتے لیکن اس کی کسی بات پر عمل نہیں کرتے۔
    سنن ابن ماجه » كتاب الفتن » باب ذهاب القرآن والعلم
    • پسند پسند x 1
    • زبردست زبردست x 1

اس صفحے کی تشہیر