عفو ودگذر، ایک عظیم صفت

agsalafi نے 'متفرق موضوعات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏18 اگست 2016

  1. agsalafi

    agsalafi رکن

    مراسلے:
    3
    عفو ودرگذر ایک عظیم صفت
    ______________________

    تحریر: عبدالغفار سلفی، بنارس

    زندگی میں ایسا ممکن نہیں کہ سب کچھ ہماری مرضی اور منشا کے مطابق ہو. زندگی کے ہر شعبے میں ہم یہ مشاہدہ کر سکتے ہیں کہ ہمارے آس پاس بہت ساری چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو ہمارے مزاج کے خلاف ہوتی ہیں،بسا اوقات ہمارے اپنے ہی ہمارے دل کو ٹھیس پہنچا دیتے ہیں، بیوی کو شوہر کی یا شوہر کو بیوی کی کوئی بات ناگوار گزر جاتی ہے،ماں باپ اولاد کی کسی حرکت پہ ناراض ہو جاتے ہیں، پڑوسی کو پڑوسی سے کسی معاملے میں تکلیف ہو جاتی ہے. ایسے موقعوں پر عموماً ہمارا رویہ عجلت پسندانہ اور شدت آمیز ہوتا ہے، ہم صبر وتحمل سے کام نہیں لیتے، ہم اپنے مزاج کے خلاف کچھ دیکھنا یا سننا بہت کم پسند کرتے ہیں، ہم اپنے مخالفین سے سختی سے نپٹنے کے عادی ہوتے ہیں، ہم اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کے قائل ہیں، ہم سامنے والے کی غلطی پر اسے معاف کر دینے کو اپنی ہتک اور توہین تصور کرتے ہیں، معاف کرنے کا مزاج ہماری نظر میں بزدلی اور کمزوری کا مظہر ہے.

    مگر ہماری شریعت ہمیں نہ صرف معاف کرنے پر ابھارتی ہے بلکہ معاف کرنے کی عادت کو اللہ کی طرف سے عزت وتکریم کا باعث قرار دیتی ہے (صحیح مسلم:2588) عفو ودرگذر کو متقیوں کا وصف بتاتی ہے (آل عمران:134) اس کا اجر وثواب ایسا عظیم بتلاتی ہے کہ جس کا علم صرف اللہ کو ہے (الشوری:140) جاہلوں سے ہمیشہ درگزر کرنے کی تلقین کرتی ہے (الاعراف:199) معاف کر دینے کو رب کی بخشش کا پروانہ قرار دیتی ہے (النور:22) قدرت کے باوجود غصے کو ضبط کرنے کو جنت میں لے جانے والی صفت بتاتی ہے (ابوداود:4777)

    شریعت کی ان واضح تعلیمات کے باوجود ہمارا حال یہ ہے کہ عفو ودرگذر کا مزاج آج ہمارے معاشرے سے رخصت ہوتا جا رہا ہے، ہم بدلے کی کاروائی کو بہادری کی ایک علامت سمجھتے ہیں، ہماری زیادہ تر مخالفتوں اور جھگڑوں کی بنیاد اسی پر ہے کہ ہم معاف کرنے کے نہیں انتقام کے عادی ہیں. یہی وجہ ہے کہ معاشرے کا امن وامان غارت ہو رہا ہے، محبت ومودت کا خون ہو رہا ہے، اتحاد واتفاق کی فضا نہیں بن پا رہی ہے، ہر طرف بغض وعداوت کی مسموم ہوائیں سماج اور معاشرے کو آلودہ کر رہی ہیں.

    جس نبیِ محترم صلی اللہ علیہ و سلم کو اللہ نے ہمارے لیے اسوہ حسنہ قرار دیا، ذرا ہم اس رسولِ امی فداہ ابی وامی کی سیرت کا جائزہ لیں، ہمیں آپ کی سیرتِ طیبہ میں عفو ودرگذر کی صفت آپ کی شخصیت کے ایک لازمی عنصر کی حیثیت سے نظر آتی ہے، خواہ وہ اہل طائف کی زیادتیوں اور بدمعاشیوں کے باوجود ان کے حق میں آپ کا ہمدردانہ اور مشفقانہ رویہ ہو،فتح مکہ کے دن قریشِ مکہ کو دیا گیا معافی کا پروانہ ہو، آپ کی خانگی زندگی میں صبر وتحمل کا بے مثال نمونہ ہو، یا پھر حدیث وسیرت کی کتابوں میں بکھرے ہوئے وہ مختلف واقعات ہوں جو اپنے پرائے سب کے ساتھ آپ کے اعلی اخلاق وکردار کا منھ بولتا ثبوت ہیں.

    عفو ودرگذر رب العالمين کو بہت پسند ہے، اس کی توفیق سب کو نہیں ملتی، یہ نبیوں کی صفت ہے، یہ بلند حوصلہ اور عالی ہمت لوگوں کی پہچان ہے، یہ دلوں کو مسخر کرنے کا ایک قیمتی نسخہ ہے، یہ دنیا میں عزت اور آخرت میں کامیابی کی ضمانت ہے. اس کے بغیر نہ ہم دنیا میں سرخرو ہو سکتے ہیں نہ آخرت میں کامیابی کی توقع کر سکتے ہیں.

    Sent from my irisX8 using Tapatalk

اس صفحے کی تشہیر