عالمی دہشت گرد کون؟

عبداللہ امانت محمدی نے 'کالم اور اداریے' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏18 نومبر 2017

  1. [​IMG]
    دہشت گردی ایک ایسے عمل کو کہتے ہیں جس سے معاشرے میں بدامنی، خوف اور دہشت پھیلے۔ قران پاک کی زبان میں دہشت گردی کو فساد فی الارض کہتے ہیں۔
    یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ جس طرح دن اور رات ایک دوسرے سے مختلف ہیں ٹھیک اسی طرح اسلام اور دہشتگردی دو متضاد چیزیں ہیں۔
    اسلام خود کشی کو حرام قرار دیتا ہے جو کہ دہشت گردی کی ایک شکل ہے۔ بدقسمتی سے امریکہ اور انڈیا کے پالے ہوئے گروہ اسلام کا نام لے کر مسلمانوں پر خودکش حملے کر رہے ہیں۔عورتوں اور بچوں کو کو ذبح کر رہے ہیں۔دراصل یہ لوگ اسلام کو صحیح طرح جانتے ہی نہیں۔ اسلام میں تو کسی بھی انسان کی نا حق جان لینا حرام ہے۔ اسلام ہی دنیا کا وہ واحد مذہب ہے جو ایک انسان کےقتل کو پوری انسانیت کاقتل سمجھتا ہے۔
    امریکہ نے طالبان کو روس کے خلاف استعمال کیا تو اس وقت طالبان جہادی تھے۔ اپنا مطلب نکالنے کے بعد امریکہ نے طالبان کو ہی دہشت گرد قرار دے دیا۔
    ٹھیک اسی طرح امریکہ نے پاکستان کو افغانستان کی جنگ میں استعمال کیا اور اپنا مطلب نکالنے کے بعد اب ہمیں ہی آنکھیں دکھا رہا ہے۔ آج ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ہم نے دوسروں کی جنگیں لڑنے کی بجائے اپنے ملکی مفاد میں فیصلے کرنے ہیں اور کسی کو بھی اپنے ملک میں مداخلت کرنے کی اجازت نہیں دینی ۔ اور پوری دنیا کو بتانا ہے کہ :

    عالمی دہشت گرد امریکہ دہشت گرد اسلام نہیں
    ظلم و ستم میں اس سے زیادہ اور کوئی بدنام نہیں
    بھارتی فوج کے ظلم سے مرنے والے کیا انسان نہیں
    کلمہ پڑھنا جرم ہے انکا اور کوئی غلطان نہیں
    خونِ مسلم کے بہنے پر کیوں مچتا کہرام نہیں
    عالمی دہشت گرد امریکہ دہشت گرد اسلام نہیں
    اسلام کو دہست گرد مذہب کہنے والو مجھے بتاؤتو سہی!
    ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹمی بمباری کرنے والے مسلمان تھے کیا؟
    ہالو کاسٹ اور روانڈا میں نسل کشی کرنے والے مسلمان تھے کیا؟
    جرمنی کا ہٹلر اور روس کا سٹالن مسلمان تھے کیا؟
    کشمیر، برما اور فلسطین میں لاشوں کے ڈھیر لگانے والے مسلمان ہیں کیا؟
    اگر دنیا کے سب سے بڑے دہشت گرد مسلمان نہیں تو پھر مجھے کہنے دیجئے کہ :

    ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بد نام
    وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
    آخر میں میں یہی کہنا چاہوں گا کہ :
    کہی بھی جنگ ہویا پھر بم دھماکےہوں
    جیسےدیکھواسلام پرتہمت لگاتا ہے
    وہ مذہب خوں بہانے کی اجازت دے نہیں سکتا
    وضوکے واسطے پانی بھی جو کم کم بہاتا ہے
  2. fawad

    fawad امریکی نمائندہ

    مراسلے:
    175

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    آپ کو حقائق درست کرنے کی ضرورت ہے۔


    آپ امريکہ پر طالبان کی تحريک کی پشت پنائ اور معاشی سپورٹ کا الزام لگا رہے ہيں، باوجود اس کے کہ طالبان افغانستان کے منظر نامے پر سال 1994 ميں نمودار ہوۓ تھے۔ اور اس وقت تک سويت يونين کو خطے سے نکلے ہوۓ قريب 5 سال کا عرصہ گزر چکا تھا۔ وہ عالمی امداد اور تعاون جو پاکستانی حکام کے ذريعے افغانستان کے لوگوں تک پہنچائ جا رہی تھی، اس کا سلسلہ بھی اسی وقت ختم ہو چکا تھا۔ اس تناظر ميں کيا یہ کہنا درست ہے کہ امریکہ طالبان کی تخليق کے ليے کسی بھی طور ذمہ دار ہے؟


    علاوہ ازيں اگر آپ کی دليل درست تسليم کر لی جاۓ تو آپ اس بات کی کيا توجيہہ پيش کريں گے کہ امريکی حکومت طالبان کو اپنے طرز حکومت ميں کسی بھی قسم کی تبديلی کے ليے رضامند نہيں کر سکی، اور اس ميں اسامہ بن لادن کی حوالگی کا معاملہ بھی شامل تھا جس نے امريکہ کے خلاف کھلی جنگ کا اعلان کر رکھا تھا۔


    کسی بھی گروہ کی معاشی پشت پنائ کا يہی مقصد ہوتا ہے کہ اس پر اثررسوخ کے ساتھ ساتھ دباؤ کا استعمال کيا جا سکے۔ يقينی طور پر طالبان کے معاملے ميں تو يہ منطق درست ثابت نہيں ہوتی کيونکہ ان کی حکومت کی جانب سے اسامہ بن لادن کو امريکہ کے حوالے کرنے کے ضمن ميں متعدد مطالبوں کے باوجود صاف انکار کيا چکا تھا، باوجود اس کے کہ اسامہ بن لادن اور اس کی دہشت گرد تنظيم کی جانب سے کينيا اور تنزانيہ ميں امريکی سفارت خانوں پر خونی حملوں کے ليے علاوہ دہشت گردی کی کئ عالمی کاروائياں کی جا رہی تھيں جن سے براہراست امريکی املاک اور مفادات کو نقصان پہنچ رہا تھا۔


    امريکہ اور طالبان کی حکومت کے مابين تعلقات کی نوعيت اور طالبان پر مبينہ امريکی اثر ورسوخ کا اندازہ تو اس بات سے لگايا جا سکتا ہے کہ جب طالبان کی حکومت نے اسامہ بن لادن اور القائدہ کے خلاف کسی بھی قسم کی کاروائ کرنے سے صاف انکار کر ديا تو امريکہ نے افغانستان ميں میزائل حملے بھی کيے تھے۔


    CNN - U.S. missiles pound targets in Afghanistan, Sudan - August 20, 1998



    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    Security Check Required

    Digital Outreach Team (@doturdu) • Instagram photos and videos

    Us Dot | Flickr
  3. fawad

    fawad امریکی نمائندہ

    مراسلے:
    175

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


    ميں نے يہ بات ہميشہ تسليم کی ہے کہ امريکی حکومت نے افغانستان ميں سويت حملے کے بعد مجاہدين کی مکمل حمايت کی تھی۔ اس حقیقت سے کوئ انکار نہيں کر سکتا۔ حالات کے تناظر ميں وہ ايک درست اور منصفانہ فيصلہ تھا۔

    کيا آپ کے خيال ميں افغانستان کے لوگوں کی مدد نہ کرنا ايک درست متبادل ہوتا؟

    يہاں يہ بات ياد رکھنی چاہيے کہ افغانستان پر سوويت افواج کے حملے کے بعد صرف امريکہ ہی وہ واحد ملک نہيں تھا جس نے امداد مہيا کی تھی بلکہ اس ميں مسلم ممالک جيسے سعودی عرب اور شام سميت ديگر بہت سے ممالک بھی شامل تھے۔ دنيا کے مختلف ممالک سے آنے والی فوجی اور مالی امداد براہ راست پاکستان منتقل کی جاتی رہی۔ اور پھر پاکستان کے توسط سے يہ امداد افغانستان پہنچتی۔ اس حقيقت کے ثبوت کے طور پر ميں آپ کو بے شمار دستاويزات اور ريفرنس مہيا کر سکتا ہوں۔ اس ضمن ميں آئ – ايس – آئ کے سابق چيف جرنل حميد گل کا انٹرويو آپ اس ويب لنک پر ديکھ سکتے ہیں۔





    انھوں نے اپنے انٹرويو ميں يہ واضح کيا کہ يہ پاکستانی افسران ہی تھے جنھوں نے يہ فيصلہ کيا تھا کن گروپوں کو اسلحہ اور ديگر سہوليات سپلائ کرنا ہيں۔ انٹرويو کے دوران انھوں نے يہ تک کہا کہ "ہم نے امريکہ کو استعمال کيا"۔


    يہ کسی امريکی اہلکار کا بيان نہيں بلکہ شايد پاکستان ميں امريکہ کے سب سے بڑے نقاد کا ہے۔


    اور يہ واحد شخص نہيں ہيں جنھوں نے اس ناقابل ترديد حقيقت کو تسليم کيا ہے۔


    اس وقت کے پاکستانی صدر ضياالحق کے صاحبزادے اعجازالحق نے بھی ايک ٹی وی پروگرام ميں يہ تسليم کيا تھا کہ پاکستان افغانستان ميں بيرونی امداد منتقل کرنے ميں واحد کردار تھا۔ اس کے علاوہ بہت سے اہلکار جو اس تنازعے کے اہم کردار تھے، انھوں نے بھی اس حقيقت کی تصديق کی ہے۔


    يہ ايک تلخ مگر تاريخی حقيقت ہے کہ پاکستان ميں اس وقت کے حکمرانوں نے اس صورتحال کو اپنے مفادات کے ليے استعمال کيا اور مستقبل ميں افغانستان ميں اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنے کے ليے امداد کا رخ دانستہ طالبان کی طرف رکھا اور افغانستان ميں موجود ديگر گروپوں اور قبيلوں کو نظرانداز کيا۔ يہ وہ حقائق ہيں جو ان دستاويز سے بھی ثابت ہيں جو ميں مختلف فورمزپر پوسٹ کر چکا ہوں۔



    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    Security Check Required

اس صفحے کی تشہیر