صرف Must Read کالمز

محمداحمد نے 'کالم اور اداریے' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏29 اگست 2017

  1. فلک شیر

    فلک شیر منتظم

    مراسلے:
    1,105
    پی ٹی وی سپورٹس سے جڑا دکھ
    نصرت جاوید (نوائے وقت)​


    بخدا میں اگر ایک ٹی وی پروگرام بھی نہ کر رہا ہوتا۔ اس پروگرام کے دیکھنے والوں کو براہِ راست ٹیلی فون کے ذریعے اپنی بات کہنے کی سہولت میسر نہ ہوتی تو میں اس ظلم سے بالکل بے خبر رہتا جو میرے اور آپ کے دئیے پیسوں سے چلائے PTV نے پاکستان کے نسبتاََ بے وسیلہ شہریوں کی ایک بے پناہ اکثریت کے ساتھ میرے شہر لاہور میں ورلڈ الیون کے ساتھ ہوئے کرکٹ میچوں کے دوران کیا ہے۔
    اس کالم کو باقاعدگی سے پڑھنے والے اب تک یہ جان چکے ہوں گے کہ مجھے کرکٹ سے کوئی خاص دلچسپی نہیں۔ لاہور میں تین T-20 میچ کھیلنے کے لئے دنیا بھر کے کئی نامور کھلاڑیوں کی آمد مگر ایک خوش گوار خبر تھی۔ اس سے جڑی Hype نے پشاور سے کراچی تک خوشی کی ایک لہر چلا دی۔ اس لہر کا اعتراف کرنا میرا صحافتی فرض تھا۔
    اپنے ٹی وی شو میں لیکن جب خوشی کی اس لہر کا فخر و انبساط سے تذکرہ شروع کیا تو مجھے دیر شہر سے ایک کال موصول ہوئی۔ ناظرنے شکوہ کیا کہ وہ اپنے ہاں PTV سپورٹس نہ آنے کی وجہ سے منگل کے روز ہوا میچ نہیں دیکھ پا رہا ہے۔ پاکستان کی اننگز اس وقت ختم ہوچکی تھی۔ میرے سامنے سٹوڈیوز میں جو ٹی وی سیٹ تھا اس پر اشتہار چل رہے تھے۔ کمال اعتماد سے میں نے فون کرنے والے کو یقین دلایا کہ فی ا لوقت اشتہارات کا وقفہ ہے۔ وہ ختم ہوجائیں تو وہ اپنے ٹی وی پر بقیہ میچ کو یقینا دیکھ پائے گا۔
    اس فون کے فوراََ بعد مگر گلگت سے ایک اور فون آگیا۔ اس کے ذریعے اطلاع یہ ملی کہ PTV Sports، ہمارے ہاں 8 ہزار روپے میں خریدی اور اپنی نسبتاََ کم قیمت کی وجہ سے کافی مقبول Dish کے ذریعے گھروں میں نہیں دیکھا جاسکتا۔ پاکستان کے PTV ہوم سمیت تمام چینل اگرچہ اس Dish پر میسر ہیں مگر PTV Sports غائب ہے۔
    ان دو ٹیلی فونوں کے بعد میرے پروگرام کا وقت ختم ہوگیا۔ اسلام آباد میں کئی برسوں سے رہائش پذیر ہونے کی وجہ سے روزمرہّ زندگی کے حوالے سے میں چند چیزوں کو انگریزی والے Taken for Granted کی صورت لیتا ہوں۔ میرا ذہن جبلی طورپر اس حقیقت کا ادراک کرنے میں قطعاََ ناکام رہا کہ پاکستان ٹیلی وژن جسے زندہ رکھنے کے لئے میں اور آپ ہر ماہ اپنے بجلی کے بل کے ساتھ 35 روپے ماہوار ادا کرتے ہیں، لاہور میں ہوئے میچوں کے ذریعے اس ملک میں کرکٹ کی بحالی کے بارے میں پشاور سے کراچی تک پھیلی خوشی کی لہر سے اپنے ناظرین کو محروم رکھے ہوئے ہے۔ منگل کے روز Live پروگرام میں براہِ راست آئے دو ٹیلی فونوں کے ذریعے بیان کئے شکوے کا لہذا فالو اپ کرنے کا تردد ہی نہ کیا۔کیونکہ ”اور بھی دُکھ ہیں زمانے میں“ T-20 میچوں کے سوا اور میں ویسے بھی ملکی سیاست سے جڑی کہانیوں کو دریافت کرکے بیان کرنے کے ذریعے اپنی صحافتی پھنے خانی کی دھاک بٹھانے کی کوشش کرتا ہوں۔
    بدھ کی شب مگر میرا پروگرام شروع ہوا تو سندھ کے خیرپور سے پہلی کال وصول ہوئی۔ اس کے بعد آزادکشمیر کے باغ سے اور بعدازاں کشمیر ہی کے سماہنی گاﺅں سے ۔ ان سب نے PTV Sports میسر نہ ہونے کا گلہ کیا۔ میں انہیں یہ کہہ کر تسلی دیتا رہا کہ چونکہ ان لوگوں نے اپنے گھروں پر ذاتی Dish لگا رکھی ہیں۔ ان کے علاقوں میں روایتی کیبل آپریٹرز بھی موجود نہیں ہیں۔ شاید اس لئے انہیں اس محرومی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
    میری اس دلیل کے رد میں بلوچستان کے قصبہ کوہلو اور خیبرپختونخواہ کے بنوں، ڈی آئی خان اور کوہاٹ سے کالوں کا تانتا بندھ گیا۔ ان سب نے مجھے یاد دلایا کہ ان کے ہاں کیبل ا ٓپریٹرز بھی PTV Sports نہیں دکھا پاتے۔
    اس کے بعد بلوچستان کے پشین سے ایک کال آئی۔ ان صاحب نے مجھے تفصیل سے سمجھایا کہ چند ماہ قبل دوبئی میں PSL کے انعقاد کے دوران PTV Sports باقاعدہ اور بآسانی ہر ذریعے سے میسر تھا۔ PSL کے سیمی فائنل والے میچ کے روز لیکن وہ ٹی وی سکرینوں سے ”غائب“ ہوگیا اور ابھی تک بحال نہیں ہوا۔
    پشین کے بعد ایک اور صاحب نے جنوبی افریقہ سے بھی یہی بات سنائی اور اس کا اثبات دوبئی سے آئی ایک کال کے ذریعے موصول ہوگیا۔ سچی بات مگر یہ ہے کہ مجھے سب سے زیادہ دُکھ اس کال کوسننے کے بعد محسوس ہوا جو بحرین سے آئی تھی۔ ایک صاحب نے تقریباََ روہانسی آواز میں مجھے بتایا کہ وہاں مقیم پاکستانیوں نے ایک ”پاکستان کلب“ قائم کررکھی ہے۔ فیصلہ ہوا کہ کمیونٹی اس کلب میں جمع ہوکر لاہور میں ہوئے میچ دیکھے گی۔ ان میچوں کو دیکھنے کے لئے کئی پاکستانیوں نے بحرین میں مقیم اپنے بھارتی اور سری لنکن دوستوں کو بھی بڑے مان سے مدعو کرلیا۔ میچ شروع ہونے کے قریب مگر جب سکرینوں پر PTV Sports دکھانے کی کوششیں جاری ہوئیں تو مکمل ناکامی ہوئی۔ چند ذہین بچوں نے اس کا علاج انٹرنیٹ کے ذریعے Live Streaming کے بندوبست کے ذریعے کرنا چاہا۔ انہیں اس میں بھی شدید ناکامی ہوئی کیونکہ پاکستان سے اس میچ کو انٹرنیٹ پر دکھانے والے سگنل بہت کمزور تھے۔ سکرینیں ان کی وجہ سے اکثر جام ہوجاتیں۔
    دریں اثناءمختلف ذرائع سے خبر یہ ملی کہ چند ماہ قبل دوبئی میں ہوئی PSL کے سیمی فائنل میچ والے دن سے PTV Sports کو ”کمرشل“ کردیا گیا ہے۔ اسے اب صرف Dish کے ذریعے ہی دیکھا جاسکتا ہے۔ اس کی Dish مگر مہنگی ہے اور وہاں سے میسر نشریات کو دیکھنے کے لئے Pay Card کے ذریعے کافی رقم بھی ادا کرنا ہوتی ہے۔ ہمارے چھوٹے شہروں اور قصبوں میں کیبل کے ذریعے گھروں میں ٹی وی نشریات پہنچانے والے آپریٹرحضرات بھی اس Dish کو Decode کرنے کی فیس نہیں دے پاتے۔ پاکستانیوں کی بے پناہ اکثریت جو بڑے شہروں میں نہیں بلکہ چھوٹے قصبوں یا دور دراز علاقوں میں رہائش پذیر ہے اسی لئے لاہور میں ہوئے میچوں کو PTV Sports کے ذریعے دیکھنے سے محروم رہے۔
    مجھےPTV Sports کے کمرشل کئے جانے پر ٹھوس معاشی حوالوں سے کوئی گلہ نہیں۔ ہر ماہ اپنے بجلی کے بل کے ساتھ 35 روپے PTV کو ”بھتے“ کی صورت دینے والے پاکستانیوں کو مگر یہ بنیادی حق حاصل ہے کہ کئی سالوں سے باقاعدگی سے یہ رقم ادا کرنے کی وجہ سے وہ PTV کے کسی نہ کسی چینل کے ذریعے جو ملک بھر میں بآسانی میسر ہولاہور میں ہوئے کرکٹ میچز دیکھ پاتے۔ PTV کے پاس ایسے میچوں کے علاوہ اب ویسے بھی خلقِ خدا کو دکھانے کے لئے اور کیا بچا ہے۔
    ایک تاریخی دن جس نے پشاور سے کراچی تک لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑادی تھی۔ ہمارے عوام کی بے پناہ اکثریت کو T-20 میچ دیکھنے کی سہولت سے محروم رکھتے ہوئے PTV کے سفاک افسران نے اس ملک کی ہرگز نوکری نہیں کی ہے۔ اسے روایتی منافع خوروں کی طرح ظالمانہ بے حسی کا نشانہ بنایا ہے۔
    • شکریہ شکریہ x 1
  2. محمداحمد

    محمداحمد رکن

    مراسلے:
    55
    واہ

    بہت دلچسپ کالم ہے فلک بھائی!
  3. ٹرومین

    ٹرومین رکن

    مراسلے:
    30
    بہت عمدہ سلسلہ شروع کیا ہے احمد بھائی۔عرصہ ہوا کالمز پڑھنے کا موقع نہیں ملتا مگر ایک جگہ جمع کیے گئے بہترین کالمز سے یہ شوق پورا ہوسکتا ہے۔
    • پسند پسند x 1
  4. محمداحمد

    محمداحمد رکن

    مراسلے:
    55
    شکریہ!

    ویسے ہم تو خوشہ چین ہیں اور یہاں کے اصل کرتا دھرتا فلک بھائی ہیں۔

    آپ کو بھی کوئی کالم اچھا لگے تو ضرور شامل کیجے۔
    • پسند پسند x 1
  5. ٹرومین

    ٹرومین رکن

    مراسلے:
    30
    فلک بھائی کی محنت پر تو ان کے لیے خصوصی سلام بنتا ہے۔

    کالم تو اپنے ہی اچھے لگتے ہیں پریہاں شامل نہیں کرسکتا کہ فی الحال خیالوں میں ہیں۔تفنن برطرف بکائو میڈیاکا تاثر اتنا گہرا ہوچکا ہے کہ کالمز سے دل اُچاٹ ہوگیا ہے۔اب توصرف وہی کالم پڑھ لیتا ہوں جن میں کچھ ادب کا رنگ نمایاں ہو۔

اس صفحے کی تشہیر