شرح صحیح مسلم لابن بشیر الحسینوی الاثری حفظہ اللہ ایک تعارف!

ابن بشیر الحسینوی نے 'حدیث نبوی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏24 فروری 2012

  1. ابن بشیر الحسینوی

    ابن بشیر الحسینوی رکن

    مراسلے:
    70
    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    اللہ تعالی کی توفیق خاص سے راقم کو اپنے جامعہ میں صحیح مسلم پڑھانے کا موقع ملا اور تین مرتبہ مکمل پڑھاچکا ہوں آئندہ سال چوتھی بار پڑھاوں گا ۔ان شاء اللہ تعالی۔(موطا امام مالک پر بھی کام کرنا ہے وہ بھی اپنے جامعہ میں پڑھا رہا ہوں اور اس پر بھی کافی فوئد جمع کر لئے ہیں والحمدللہ)
    دوران تدریس کافی فوائد جمع کرتا رہتا ہوں اور کلاس میں طلباء کو لکھواتا بھی رہتا ہوں ۔جس سے طلباء کو کافی فائدہ پہنچتا ہے الحمدللہ۔
    ایک ادارے نے صحیح مسلم کا ترجمہ مکمل کروایا ہے کسی عالم دین سے اور اس پر شرح کا کام مجھ ناچیز کے ناتواں کندھوں پر ڈالا ہے۔اور اس کام میں میں اہل علم حضرات سے فوائد جمع کرتا رہتا ہوں اور جگہ جگہ پر کبار علماء اہلحدیث کی طرف رجوع بھی کرتا رہتاہوں۔
    کتاب الایمان ،کتاب الطہارۃ پر کام رجسٹر پر لکھا اور وہ زیر طبع ہے پھر ساتھیوں سے مشورہ کیا کہ کیوں نہ روزانہ جو شرح لکھنی ہے وہ انٹر نیٹ پر شایع کی جائے تاکہ اس سے امت مسلمہ فائدہ بھی اٹھائے اور اہل علم اس پر تنقیدی نظر رکھیں جہاں مجھ سے بھول ہو جائے اس پر تنبیہ احسن کریں ۔
    یہ سوچ کر صادقین فورم پر روزانہ اللہ کی توفیق خاص سے لکھ رہا ہوں ،اور انٹر نیٹ پر موجود مواد سے بھی فائدہ اٹھاتا رہتا ہوں ۔
    اس شرح میں کچھ چیزں جو راقم نے اپنائی ہیں وہ درج ذیل ہیں ۔
    1:ہر حدیث سے اخذ ہونے والے مسائل لکھنا ۔
    2:اگر حدیث مجمل ہے تو اس کے مفصل متن کو تلاش کرکے لکھنا ۔
    3:محدثین نے اس حدیث کا کیا معنی مفہوم بیان کیا ہے اس کو جمع کرنا ۔
    4:غلام رسول سعیدی بریلوی نے اپنی شرح صحیح مسلم میں جو کمزور باتیں کی ہیں ان کا رد پیش کرنا ۔
    5:قرآن و حدیث کی ترجمانی فہم سلف کی روشنی میں کرنا ۔
    6:حدیث کے مالہ و ماعلیہ پر بحث کرنا ۔
    7:اگر کسی مسئلہ کی تفصیل درکار ہے تو اس پر بحث کرنا۔
    9:مختلف فیہ مسئلہ میں دلائل و براہین کے ساتھ راجح کا تعین کرنا۔
    10:جس حدیث پر منکرین حدیث یا فرق باطلہ اعتراضات کریں ان کا علمی و تحقیقی رد کرنا۔
    11:میرے سامنے دارالسلام الریاض کی مطبوع صحیح مسلم ہے میں اسی کے سب سے پہلے جو اطراف کی ترقیم ہے اس کے حساب سے رقم الحدیث لکھتا ہوں ۔
    12:ہر بات بالکل آسان انداز میں لکھنے کی کوشش ہوتی ہے تاکہ سکول کی پانچ پڑھا طالب علم بھی میری ردو کو سمجھ سکے ۔
    اگر اس میں کوئی خؤبی ہے تو یہ صرف اللہ تعالی کی مہربانی ہے اور اساتذہ والدین کی دعائیں ہیں،اگر اس میں کوئی نقص ہے تو اس میں میری کوتاہی ہے ۔
    اہل علم اس کو بغور پڑھیں اور مفید مشوروں سے نوازیں ،میری غلط بات پر تنبیہ کریں ۔
    آپ کی دعاوں کا طالب:
    ابورمیثہ ابراہیم بن بشیر بن یعقوب بن عمر الحسینوی الاثری حفظہ اللہ
  2. ابن بشیر الحسینوی

    ابن بشیر الحسینوی رکن

    مراسلے:
    70
    شرح صحیح مسلم لابن بشیر الحسینوی حفظہ اللہ کا قسط وار مطالعہ !

    صحیح مسلم کی شرح جو راقم لکھ رہا ہے اس سے روزانہ قسط وار فورم پر شایع کیا جائے گا ان شاء اللہ
    اب تک صحیح مسلم کی شروع سے پوری گیارہ سو حدیث کی شرح مکمل لکھ چکے ہیں ۔وہ ابھی کمپوزنگ کے مراحل میں ہے ۔
    اللہ تعالی اس خیر کے کام میں راقم کی خصوصی مدد فرمائے اور اس عظیم کام کو پایا تکمیل تک پہنچائے آمین۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    انٹر نیٹ پر اپنی شرح کا آغازصحیح مسلم کی حدیث 1101سے کروںگا پہلی جونہی کمپوزنگ ہو گی تو اسے بھی شائع کر دیا جائے گا ۔ان شاء اللہ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    شرح صحیح مسلم از غلام رسول سعیدی بریلوی پر تعاقب
    بریلوی مکتبہ فکر کے ہاں ’’محدث اعظم ‘‘غلام رسول سعیدی بریلوی نے صحیح مسلم پر ایک شرح لکھی ہے ۔
    ١:اس میں جا بجا بدعات و خرافات کو فروغ دیا گیاہے۔
    ٢:احمد رضا بریلوی کے نظریات کا پرچار کیا ہے ۔
    ٣:تحریف حدیث معنوی کا ارتکاب بہت زیادہ کیا ہے اپنے مطلب کا ترجمہ کیا ہے اور صحیح ترجمہ سے انحراف کیاہے ۔
    ٤: موضوع اور بے اصل روایات سے پوری شرح بھری ہوئی ہے ۔
    ٥:مقلد جب بھی حدیث پر کام کرتا ہے اس کا مقصد کوئی دین کی خدمت نہیں ہوتا نہ ہی وہ دفاع حدیث کا کام کرتا ہے بس حدیث کو اپنے غلط مقاصد کے تحت لانا مقصود ہوتا ہے ۔

    اہل تقلید کے دونوں گروپوں (بریلوی و دیوبندی )کی طرف سے مخصوص مقاصد کے لئے کتب ستہ کے تراجم بھی دھڑا دھڑ شائع ہو رہے ہیں ،ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارا تعلیم یافتہ طبقہ بالخصوص نوجوان نسل ان تراجم پر بھی ایک طائرانہ نظر ڈال کر حفاظت سنت کا حق ادا کرے ،اللہ کرے کوئی اس فرض کوادا کرے ،ان تمام تراجم پر نقد کرنا ہمارا موضوع نہیں ۔چند غلط تراجم کی نشان دہی بطور نمونہ پیش خدمت ہے ،جو مطلب برآری اور حنفیت کے دفاع کے لئے حدیث نبوی میں معنوی تحریات کی گئی ہیں :
    (١)و مسح بناصیتہ وعلی العمامۃ ،پیشانی کی مقدار سر پر مسح کیا ۔(شرح صحیح مسلم ،ص٩٤٦،ج١،للمولوی غلام رسول سعیدی بریلوی ۔طبع فرید بک سٹال١٩٩٥ء)۔
    (٢)فدعا بماء فرشہ ،پانی منگا کر کپڑے پر بہا دیا ۔(ایضا ص٩٦٦ج١)
    یہ تو صرف دو مثالیں ہیں ،حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کی معنوی تحریفات سے یہ ترجمہ بھرا پڑا ہے ،خاکسار نے ١٩٩٦ء کے ابتداء میں اس کی صرف پہلی جلد (جس میں فقط ١٠٦٢ احادیث کا ترجمہ ہے )پر نقد کیا تو چار سو چھبیس اغلاط فاش کا ضخیم مسودہ تیار ہو گیا ،اسی پر ہی باقی تراجم احناف کو قیاس کر لیا جائے ۔(قرآن و حدیث میں تحریف پر تقریظ از شیخ ابو صحیب محمد داود ارشد حفظہ اللہ ص:٢٩٣۔٢٩٣)
    یہ بات بالکل درست ہے کہ مقلدین جب بھی کسی حدیث کی کتاب پر کام کریں گے تو اس سے ان کا مقصد حدیث کی اہمیت کو اجاگر کرنا یا دفاع حدیث نہیں ہوتا بلکہ صرف تقلید امام کو حدیث رسول سے ترجیح دینا ہوتا ہے ،اس کی خاطر انھیں جو مرضی کرنا پڑے وہ کرتے ہیں ۔ان میں ایک تحریف بھی ہے خواہ لفظی ہو یا معنوی ۔


    اس شرح کا تعاقب راقم اپنی صحیح مسلم کی شرح میں مفصل لکھ رہا ہے والحمدللہ ۔پہلی جلد زیر طبع ہے،قارئین سے خصوصی دعاوں کی گزارش ہے کہ اللہ تعالی اس کی تکمیل میں ہماری مدد فرمائے ۔آمین ۔

    شرح صحیح مسلم کا قسط قسط وار مطالعہ کرنے کے لئے اس لنک کا مطالعہ کریں
    http://www.sadiqeen.com/sq/viewforum.php?f=42
  3. نسرین فاطمۃ

    نسرین فاطمۃ رکن

    مراسلے:
    531
    جزاک اللہ خیرا آپ کے اس کار خیر میں اللہ آپ کی خصوصی مدد ونصرت فرمائے ۔
  4. خضرحیات

    خضرحیات رکن

    مراسلے:
    8
    وفقكم الله وسدد خطاكم
  5. طارق راحیل

    طارق راحیل رکن

    مراسلے:
    124
    بہت بہت شکریہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
  6. Draco02

    Draco02 رکن

    مراسلے:
    3
    حدثنا إسماعيل بن أبي أويس،‏‏‏‏ قال حدثني مالك،‏‏‏‏ عن هشام بن عروة،‏‏‏‏ عن أبيه،‏‏‏‏ عن عبد الله بن عمرو بن العاص،‏‏‏‏ قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول ‏"‏ إن الله لا يقبض العلم انتزاعا،‏‏‏‏ ينتزعه من العباد،‏‏‏‏ ولكن يقبض العلم بقبض العلماء،‏‏‏‏ حتى إذا لم يبق عالما،‏‏‏‏ اتخذ الناس رءوسا جهالا فسئلوا،‏‏‏‏ فأفتوا بغير علم،‏‏‏‏ فضلوا وأضلوا ‏"‏‏.‏ قال الفربري حدثنا عباس قال حدثنا قتيبة حدثنا جرير عن هشام نحوه‏.‏
  7. Draco02

    Draco02 رکن

    مراسلے:
    3
    حدثنا إسماعيل بن أبي أويس،‏‏‏‏ قال حدثني مالك،‏‏‏‏ عن هشام بن عروة،‏‏‏‏ عن أبيه،‏‏‏‏ عن عبد الله بن عمرو بن العاص،‏‏‏‏ قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول ‏"‏ إن الله لا يقبض العلم انتزاعا،‏‏‏‏ ينتزعه من العباد،‏‏‏‏ ولكن يقبض العلم بقبض العلماء،‏‏‏‏ حتى إذا لم يبق عالما،‏‏‏‏ اتخذ الناس رءوسا جهالا فسئلوا،‏‏‏‏ فأفتوا بغير علم،‏‏‏‏ فضلوا وأضلوا ‏"‏‏.‏ قال الفربري حدثنا عباس قال حدثنا قتيبة حدثنا جرير عن هشام نحوه‏.‏


    DaRe DaViL

اس صفحے کی تشہیر