سیرت عمر فاروق رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ

عبدالحسیب نے 'سیرت صحابہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏10 اگست 2017

  1. عبدالحسیب

    عبدالحسیب رکن

    مراسلے:
    1,218
    • عشرہ مبشرہ سیریز​

    سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ

    مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ امیر المومنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ قریش کی ایک شاخ بنو ساعدی سے تعلق رکھتے تھے۔ عام الفیل کے ۱۳سال بعد مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے والدہ کا نام حنتمہ بنت ہاشم تھا۔
    عمر بن خطاب کی رنگت گوری تھی۔قدلمبا تھا ڈورتے گھوڑے پر اچک کر بیٹھ جایاکرتے تھے آپ انتہائی بہادر تھے۔ عرب کے نہایت سمجھ دار ذہین لوگوں میں ان کا شمار ہوتا تھا۔
    ان کے والد بڑے سخت مزاج تھے۔آپ پچپن میں اونٹ چرایا کرتے تھے۔
    سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بڑے متواضع اور بہت کم ہنسنے والے تھے۔ وہ اپنی تندمزاجی اور سخت گوئی کے لیے مشہور تھے۔

    آپ کا شمار عشرہ مبشرہ میں ہوتا ہے آپ کو متعدد موقعوں پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کی بشارت سنائی
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایاکرتے تھے
    اگر میرے بعد نبی ہوتا وہ عمر بن خطاب ہوتا
    جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم منصب نبوت سے سرفراز ہوئے اور اسلام کی دعوت دینا شروع کردی تو جن لوگوں نے اسلام کی شدید مخالفت کر ان میں عمر بھی شامل تھے۔وہ مسلمانوں اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سخت دشمن تھے۔اگر کسی کے بارے میں خبر ملتی وہ مسلمان ہوگیا ہے اسے خوب مارتے ان کے قبیلے کی ایک لونڈی مسلمان ہوگی اسے اس قدر مارتے مارتے مارتے تھک جاتے اس لونڈی سے کہا میں نے تجھے مروت کی وجہ سے نہیں چھوڑا بلکہ صرف تھک جانے کی وجہ سے چھوڑا ۔آپ اپنے آباو اجداد کی ایجاد کردہ رسوموں کا بڑا احترام کرتے تھے۔
    مسلمانوں پر ہونے والے ظلم وستم کو دیکھ کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا دل بہت کڑھتا تھا،
    آپ کے دل سے یہ آہ نکلتی تھی کہ کوئی تو ہو جو اس ظلم وستم کے آگے بند باندھے۔

    یہ کام دو ہی بندے کر سکتے تھے ایک عمر بن خطاب اور دوسرے عمرو بن ہشام یعنی ابوجہل ،
    ایک دن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کردی:
    اے اللہ 'تیرے نزدیک عمر بن خطاب یا عمرو بن ہشام میں سے جو زیادہ محبوب ہے اس کے ذریعے اسلام کو قوت پہنچا
    اللہ تعالی نے اپنے حبیب کی دعا کو قبول فرمایا اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ دربار نبوی میں حاضر ہوکر اسلام قبول کرلیا۔
    ان کے اسلام لانے سے کفر کی صفوں میں کہرام مچ گیا مسلمانوں کو عزت وتوقیر ملی اسلام کی شان شوکت میں اضافہ ہوا
    اسلام لانے کی کچھ دیر بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھے گفتگو کررہے تھے
    اے اللہ کے رسول
    کیا ہم حق پر نہیں ہیں ؟ چاہے زندہ رہیں یا مریں ؟
    ارشاد فرمایا کیوں نہیں اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم لوگ حق پر ہو چاہے زندہ رہو یا موت سے ہمکنار رہو
    سیدنا عمررضی اللہ عنہ کہنے لگے
    تو پھر اے اللہ کےرسول چھپنا کیسا؟
    اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کیساتھ مبعوث فرمایا ہے ہم ضرور نکلیں گے
    چناچہ مسلمان دو صفوں میں اللہ کے رسول کے ساتھ باہر نکلے ایک صف میں سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ تھے دوسری صف میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تھے۔یہ لوگ مسجد حرام میں داخل ہوئے جب قریش نےسیدنا عمر اور حمزہ رضی اللہ عنہ عنہما کو دیکھا ان کے دلوں پر ایسی چوٹ پڑی کسی کی ہمت نا ہوئی نماز پڑھتے مسلمان کو روک سکتے۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن آپ کا لقب فاروق رکھ دیا.

    سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے
    حب سے عمر رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا ہم مسلسل عزت و توقیر کے ساتھ رہے ۔ آپ کے قبول اسلام سے پہلے ہم بیت اللہ کے پاس نماز پڑھنے سے قاصر تھے۔
    جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجرت کرنے کی اجازت ملی ۔سختیاں بہت تھیں ظلم عروج پر تھے مسلمان چھپ چھپ کر جایا کرتے تھے۔حالات بھی ایسے تھے حکمت کا تقاضا بھی یہی تھا کون قریش کی مخالفت مول لیتا
    مگر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی شان ہی نرالی تھی جب انھون نے ہجرت کا ارادہ کیا تو بیت اللہ شریف میں تشریف لائے طواف کیا مقام ابراہیم پر نفل ادا کیے قریش کے اکابر حلقہ بنائے بیٹھے تھے۔
    اللہ کے شیر دلیر صحابی رسول سیدنا عمر رضِی اللہ عنہ نے ان کو مخاطب کر کے چلینچ دیا
    جوچاہتا ہے کہ اس کی ماں اسے گم پائے جو اپنے بچے یتیم اور بیوی کو بیوہ کرنا چاہتا ہے تو وہ مجھ سے اس وادی کے پیچھے ملے۔
    اس کھلے چیلنج کے باوجود قریش میں سے کسی مائی کے لال کو ان کے پیچھا کرنے کی جرات نہ ہوئی۔اس طرح سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مدینہ پہنچ گئے۔

    سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ہجرت کے بعد ساری زندگی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ میں گزاری ،آپ نے تمام غزوات میں شرکت فرمائی ۔
    وہ بڑے صائب الرائے،بلند نظر،عالی ہمت،تھے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بے حد محبت کرنے والے تھے۔
    اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہر اہم مسئلہ پر حضرت ابوبکر صدیق رضِی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مشورہ کیا کرتے تھے۔

    جب مسلمانوں کا پہلا معرکہ بدر سجا اللہ نے مسلمانوں کی فتح نصیب کی بہت سے قیدی مسلمانون کی قید میں آئے اللہ کے رسول نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے مشورہ طلب کیا اس کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مشورہ مانگا آپ کی رائے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے برعکس تھی،سیدنا ابوبکر کا مشورہ تھا کفار سے فدیہ لے کر انہیں چھوڑ دیا جائے مگر سیدنا عمر رضی اللہ نے کہا
    واللہ میری وہ رائے نہیں جو ابوبکر رضی اللہ عنہ کی ہے میری رائے یہ ہے کہ آپ فلاں جو میرا قریبی رشتہ دار ہے میرے حوالے کردیں میں اس کی گردن ماردوں،عقیل بن ابی طالب کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حوالے کردیں وہ اس کی گردن ماردیں فلاں کو فلاں کے حوالے۔۔۔۔یہاں تک اللہ کو معلوم ہوجائے کہ ہمارے دلوں میں مشرکین کافرو ں اللہ کے دشمنوں کے لیے کوئی نرم گوشہ نہیں ۔
    عزوہ احد کے دن وہ ان جانباز صحابہ میں تھے جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ثابت قدم رہے۔سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی زندگی کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے آپ کافروں کے لیے بہت سخت تھے اور مسلمانوں سے ان کا رویہ بہت نرم تھا۔

    صلح حدیبیہ کے موقع پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کی گفتگو خاصی سخت تھی۔ اس پر وہ ساری زندگی اللہ تعالی سے معافی مانگتے رہے نوافل پڑھتے اور صدقہ خیرات کرتے رہے۔
    سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی بہت سی باتوں کو اللہ رب العزت نے پورا فرمایا کئی مواقع پر اللہ تعالی کا حکم اس طرح نازل ہوا جس طرح عمر رضی اللہ کی رائے ہوتی ۔
    ایک مرتبہ انھون نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا
    اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اگر آپ مقام ابراہیم کو نماز ادا کرنے کے لیے خاص کرلیں ۔۔۔۔۔
    اللہ تعالی نے قرآن کی آیات نازل کردی
    اور تم مقام ابراہیم کو جائے نماز بنالو. )البقرہ(
    حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا
    اے اللہ کے رسول
    آپ کے پاس گھر میں اچھے برے ہر قسم کے لوگ آتے ہیں اللہ کے رسول ہماری مائیں آپ کی بیویاں سامنے آتی ہیں اگر آپ مناسب سمجھین تو امہات المومنین کو حجاب کا حکم صادر فرمائیں
    اللہ رب العزت نے قرآن میں پردہ کا حکم نازل فرمادیا۔
    شراب کے متعلق ان کی خواہش تھی کہ یہ حرام ہوجائے اس لیےان کی دعا تھی
    اے اللہ شراب کے بارے میں واضع اور شافی احکام نازل فرما
    اللہ تعالی نے سورہ المائدہ میں شراب کی حرمت نازل کردی۔
    سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی آپ کی اطاعت میں گزاری ایک پل کے لیے بھی دور نا ہوئے.

    ایک دفعہ اللہ کے رسول جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر تشریف فرما تھے ساتھ مدینہ کی بچیاں بھی بیٹھی ہوئی تھیں غلام اندر آیا بولا
    عمر رضی اللہ عنہ باہر کھڑے ہیں اندر آنے کی اجازت طلب کر رہے ہیں
    بچیوں نے جب عمر رضی اللہ عنہ کا نام سنا ڈر کر کونوں میں چھپ گئیں
    آپ اندر آئے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا رہے تھے آپ نے وجہ پوچھی اے اللہ کے رسول میرے ماں باپ آپ کر قربان آپ کس وجہ سے مسکرا رہے ہیں
    امام کائنات بولے آپ کے آنے سے پہلے یہ پچیاں یہاں کھیل رہی تھیں آپ کا نام سن کر ڈر گئ اور چھپ گئ
    حضرت عمر رضِی اللہ عنہ بولے تمہیں مجھ سے ڈر لگتا ہے حالانکہ عزت والی ذات صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے ۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم بولے
    اے عمر یہ تو بچیاں ہیں ان کو چھوڑو
    واللہ عمر آپ جس راستے سے گزر جاتے ہیں شیطان بھی اس راستے سے گزرنے کی جرات نہیں کرتا ۔
    آپ سے ڈرتا ہے۔
    قربان جائیں آپ کے صحابہ پر ۔

    اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد سب سے اہم مسئلہ آپ کے خلیفہ کا انتخاب تھا مسلمانوں کی اتنی بڑی سلطنت کو بغیر خلیفہ کے خالی چھوڑنا خطرناک تھا ۔
    خلیفہ کے انتخاب کے لیے سب جمع ہورہے تھے سیدنا عمر رضی اللہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو لے کر وہاں پہنچ گئے انھوں نے حکمت عملی اور ذہانت سے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی اس نے امت کو ایک بڑے فتنے سے بچا لیا۔
    آپ خلیفہ اول ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہے اور ہر فتنہ میں آپ کی بھرپور مدد کی زکوہ کا معاملہ ہو یا مسلمہ کذاب کے خلاف جنگ ۔۔۔۔آپ نے پھرپور صلاحیتیوں کا استعمال اسلام کے لیے کیا مسملہ کذاب کے خلاف جنگ کے دوران بہت سے حفاظ اور قاری قرآن شہید ہوگئے اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے قرآن کریم کو جمع کرنے کا مشورہ دیا۔سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ شروع میں ہچکچائے مگر پھر مطمئن ہوگئے اور کاتب وحی سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ اور ان کے رفقاِ کو تکمیل کا حکم دیا ۔ اور اپنی خلافت کے دور میں قرآن کی ترویج اور تعلیم کے لیے وظائف مقرر کیے۔

    حب سیدنا عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے خلافت سنبھالی تو حکومت بڑی مضبوط تھی، مسلمانوں کی فوج دو بڑی طاقتوں کے خلاف برسپیکار تھی
    چنانچہ ان کے دور میں عراق ،ایران،ترکستان،سیستان)افعانستان( اور مکران )پاکستان( تک دوسری طرف شام،ارمینا،مصر،لیبیا تک اسلامی حکومت کی سرحدیں پھیل گئیں۔مسلمان جہاں بھی گئے عدل و انصاف قائم کیا وہاں کی رعایا کو اسلامی فتوحات پر بڑی خوشی ہوئی کیونکہ انھیں اپنے جابر ظالم بادشاہوں کے ظلم وستم سے نجات مل گئی اور انھوں نے اسلام کے بے لاگ نظام عدل کے زیر سایہ امن اور راحت سے زندگی بسر کی۔یوں صدیوں تک ان علاقوں کے لوگوں کو بغاوت کا خیال تک نہیں آیا۔

    انھوں نے اپنے دور حکومت میں لاتعداد ایسے کام کیے جن کی مثال دی جاتی ہے، انھوں نے اسلامی حکومت کے طول وعرض میں چھاونیاں قائم کیں ۔محکمہ مالیات قائم کیا جس سے ہر سپائی کو یقین آگیا کہ اگر وہ اپنا روزگار بند کرکے فوجی خدمت کے لیے چلا جائے گا تو اس کے اہل و عیال بھوکے نہیں مریں گے۔
    محکمہ مالیات سے غیر مسلموں کو بھی وظائف دیے گئے تاکہ وہ مسلمانوں کے وفادار رہیں انھوں نے امہات المومنین کے لیے بھی وظیفے مقرر کیے۔
    آپ نے فوجی چھاونیاں قائم کروائیں متعدد نئے شہر آباد کروائے ۔ ان میں زندگی کی تمام سہولیات میسر کی
    وہ پہلے مسلمان حکمران تھے جنہوں نے نومود بچے کا بھی وظیفہ جاری کیا جو عمر کی رفتار کیساتھ بڑھتا رہتا تھا۔

    سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنی زندگی نہایت سادگی سے گزاری بیت المال سے کبھی ایک پائی بھی ناجائز نہیں لی۔ ان کے سالانہ اخراجات بالکل عام سپائی کے برابر تھے۔ شام کے دورے پر گئے تو صرف ایک اونٹ تھا۔جس پر باری باری غلام اور آپ سوار ہوتے۔ اور یہ عجیب اتفاق ہوا شام میں ہل چل ہوگی مسلمانوں کے خلیفہ آرہے لوگ اسقبال کے لیے باہر آگئے کیا دیکھتے ہیں عمرفاروق رضی اللہ عنہ پیدل اونٹ کی لگام پکڑے آرہے ہیں غلام سوار ہے کفار کے محلات میں زلزلہ پیدا کرنے والے عظیم خلیفہ ساتھ ہیں
    ان کی زندگی کا بڑا مشہور واقعہ ایک دن دوپہر کے وقت مدینہ سے باہر دورہ کررہے تھے۔ اس دوران نیند کا غلبہ آگیا ۔ایک درخت کے نیچے کچھ بچھائے بغیر سو گئے اتفاق سے قیصر وروم کا سفیر آپہنچا ان کو دفتر میں نہیں پایا تو پوچھتے شہر سے باہر اسی جگہ پہنچ گیا جہاں آرام کررہے تھے ۔
    بے ساختہ اس کی زبان سے نکلا
    میرا آقا ظلم کرتا ہے اس لیے ڈر کے مارے پہرے کے بغیر نہیں رہ سکتا۔
    مگر اےعمر تم نے عدل وانصاف کیا اس لیے اطیمنان سے سورہے ہو تمہیں کسی محافظ کی ضرورت نہیں ہے ۔
    ۱۵ہجری میں آپ کے دور میں بیت المقدس مسلمانوں کے ہاتھوں فتح ہوا امیر المومنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ خود تشریف لے کر گئے اپنے ہاتھّون سے بیت المقد س کی کنجیاں حاصل لی اس موقع پر آپ نے یہ تاریخی کلمات ارشاد فرمائے
    *لا الہ الا اللہ* ہم ایسی قوم تھے جس کو اللہ تعالی نے اسلام کے ذریعے عزت بخشی اگر ہم نے اسلام کے علاوہ کسی اور ذریعے سے عزت چاہی تو پھر اللہ تعالی ہمیں ذلیل و رسوا کردے گا۔
    سیدناعمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مدینہ واپس آ کر خواب میں ایک مرغے نے انھین دو یا تین بار مرتبہ ٹھونگ ماری اسما بن عمیس نے اس خواب کی تعبیر یہ بتائی کہ اے امیر المومنین آپ کو ایک عجمی آدمی قتل کرے گا۔
    پھر امیر المومنین رضی اللہ عنہ نے مجمع میں کھڑے ہو کر لوگوں سے خطاب کیا اور بتایا کہ عنقریب وہ اس دنیا سے رخصت ہونے والے ہیں اور وفات بالکل قریب ہے۔

    امیر المومنین رضی اللہ عنہ لوگوں کو فجر کی نماز پڑھارہے تھے۔ سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد سورہ یوسف پڑھنا شروع کی کیونکہ سورہ یوسف کی تلاوت آپ کو بہت محبوب تھی۔
    جب آپ اللہ تعالی کے اس ارشاد مبارک پر پہنچے
    *وَابيَضَّت عَيناهُ مِنَ الحُزنِ فَهُوَ كَظيمٌ*
    اور یعقوب کی آنکھیں بوجہ رنج وغم سفید ہوچکی تھیں اور وہ غم کو دبائے ہوئے تھے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔جب ان آیات پر پہنچے خود زار وقطار رونے لگ گئےاور تمام نمازی بھی رونے لگ گئے ڈارھیاں تر ہوگئیں ۔
    پھر آپ اللہ اکبر کہہ کر رکوع میں گئے
    اسی دوران آپ کی گھات میں لگا ہوا بدبخت ابولولو مجوسی زہریلا خنجر لے کر آگے بڑھا اس نے آپ کے بدن پر تین کاری وار کیے
    زخم کھاکر امیر المومین رضی اللہ عنہ یہ آیت پڑھتے ہوئے گرپڑے:

    *حسْبِيَ اللَّهُ لا إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ*
    اور نماز کی تکمیل کے لیے سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر انھیں آگے اپنی جگہ پر کھینچ لیا ۔
    جب سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی قرآت شروع ہوئی تو لوگ یک دم سہم گئے وہ گھبرا کر اٹھے کہ آخر امیر المومنین رضی اللہ عنہ کی آواز کیوں نہیں آرہی٫؟
    امت کا نگہبان کہاں گیا؟
    انصاف کا علمبردار کیوں چپ ہوگیا؟
    امیرا المومنین رضی اللہ عنہ سکرات موت کے عالم میں ہیں
    پوچھ رہے ہیں
    مجھے قتل کس نے کیا؟
    لوگ بولے ابولولو مجوسی نے۔۔۔۔
    آُپ بولے الحمداللہ میرے اللہ کی تمام تعریفیں ہیں جس نے مجھے ایسے آدمی کے ہاتھوں قتل کرایا جس نے اللہ کے آگے کبھی ایک سجدہ بھی نہیں کیا۔۔۔۔

    لوگ امیر المومنین رضِی اللہ عنہ کو اٹھا کر گھر لے گئے تو انھوں نے خاندان کے بچوں کو بلایا وہ روتے روتے داخل ہوئے آپ نے ایک ایک کر کے سب بچوں کو بوسہ دیا ان کے سروں پر ہاتھ پھیرا۔
    لوگوں نے آپ کو نبید کا شربت پیش کیا شربت پیٹ کے زخم کے راستے نکل گیا۔
    پھر دودھ پیش کیا گیا وہ بھی پیٹ کے زخم سے نکل گیا۔
    صحابہ کرام سمجھ گئے زخم بہت گہرا ہے بچنا مشکل ہے

    امیر المومین اللہ کے رسول جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ عظیم شاگرد تھے جہاں اللہ کی بغاوت ہوتی یا سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف عمل ہوتا آپ فورا بول اٹھتے
    آپ نے زخمی حالت میں آیک آدمی کو دیکھا جو آپ کو دیکھ کر پلٹ رہا تھا اس کی شلوار چادر ٹخنوں سے نیچےگھیسٹ رہی تھی۔آپ نے اس کو آواز دی فرمایا
    اپنا ازار اوپراٹھالو کیونکہ اس میں تمہارے پروردگار کا تقوی اور تمہارے کپڑوں کی پاکیزگی ہے۔
    نوجوان امیر المومنین رضی اللہ عنہ کی نصیحت کو سنتا ہے عمل کرتا ہے آپ کو دیکھ کر غم کے آنسو بہاتا ہوا چلاجاتا ہے

    امیر المومنین رضی اللہ عنہ نے فرمایا
    اے کاش میرا حساب کتاب پورا ہوجائے اور میں نجات پا جاوں۔
    اس کے بعد آُپ نے صحابہ کرام سے پوچھا مجھے کہاں دفناوں گے؟
    صحابہ کرام رضی اللہ عنہما بولے
    ہم آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جوار میں دفن کریں گے۔
    آپ نے فرمایا: میں خود کو پاک و صاف نہیں بتاتا میں بھی عام مسلمانوں کی طرح ایک فرد ہوں ۔تم پہلے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں جاو اور اس سلسلے میں اجازت طلب کرو۔
    آپ نے اپنے بیٹے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو سیدہ کی خدمت میں بھیجا ان سے اجازت طلب کی
    سیدہ نے فرمایا
    میں نے یہ جگہ اپنے لیے مختص کر رکھی تھی لیکن اللہ کی قسم میں عمر کو اس کے لیے اپنی ذات پر ترجیع دوں گی۔ امیر المومنین رضی اللہ عنہ کو ان کے دونوں ساتھیوں کے ساتھ ہی دفن کردو۔

    سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو یہ خبر پہنچی آپ بے حد مسرور ہوئے آپ نے فرمایا
    میرے مر جانے کے بعد جب مجھے دفنانے کا وقت آئے میری میت اٹھا کر سیدہ کے گھر کے دروازے پر پہنچ جانا ان سے ایک بار پھر اجازت طلب کرنا بہت ممکن ہے انھون نے میرے لحاظ کی وجہ سےمیری زندگی میں ہاں کردی ہو،
    اگر وہ خوشی سے اجازت دیں تو مجھے میرے دوستوں کے ساتھ دفن کردینا۔
    تکلیف زیادہ ہوگئ اور آپ اپنے خالق حقیقی کو جاملے چناچہ وفات کے بعد دفنانے کے وقت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے اجازت طلب کی گئی آپ نے اجازت دی اور اسلام کے عظیم جرنیل مسلمانوں کے خیرا خواہ قرآن و حدیث کے علمبردار سپائی کو اپنے دنوں ساتھیوں امام کائنات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور یار غار سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کیساتھ دفن کردیا گیا،
    اور وہ رب کی جنتوں کے مہمان بن گئے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دشمن تاقیامت ذلیل ورسوا ہوگے ان شاءاللہ

    ``` ~موت اس کی ہے کرے جس کا زمانہ آفسوس
    ورنہ دنیا میں سبھی آئے ہیں مرنے کے لیے~ ```
    ماخوذ۔ عشرہ مبشرہ صحابہ کی زندگی کے واقعات


    سبق آموز پہلو
    سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی سیرت مبارکہ کا مطالعہ کرنے کے بعد جو اہم پہلو نظر آتا ہے وہ حقوق اللہ کی پاسداری جب بھی مسلمانوں نے اللہ کی قائم کردہ حدود کی پاسداری کی کامیاب ہوئے اور اطاعت رسول ہے۔
    اللہ کے نبی جناب محمد ﷺ ایک دن ہمارے پیارے صحابی عمر فارق رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے سوال کرتے ہیں
    اے عمر آپ کو مجھ سے کتنی محبت ہے ؟؟؟؟؟
    عمرفاروق بولے
    اے اللہ کے رسول میرے ماں باپ آپ پر قربان میری جان کے بعد آپ مجھے سب سے زیادہ عزیز ہیں ۔
    اللہ کے رسول بولے
    اے عمر ایسا نہیں اس بندے کا ایمان مکمل نہیں جب تک میں )محمد ﷺ( تمہاری جان سے بھی ذیادہ عزیز نا ہوجاو۔۔۔۔
    عمرفاروق رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ فورا بولے
    اےاللہ کے رسول ﷺ پھر تو آپ مجھے میری جان سے بھی زیادہ عزیز ہیں

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم بولے اے عمر اب تمہارا ایمان مکمل ہوا۔

    یہ واقعہ ہم کو بہت سی باتیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔۔۔۔۔۔۔آخر عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے یہ کیوں کہا کہ مجھے میری جان زیادہ عزیزہے ؟
    ان کی جگہ آج کا مسلمان ہوتا فٹ سے بول دیتا اے اللہ کےرسول آپ ہمیں ہمیں عزیز ہیں۔۔۔۔۔
    آخر عمر رضی اللہ عنہ نے یہ کیوں کہا؟
    جواب اس کا یہ ہے صحابہ کرام کی محبت کے دعوئے کھوکلے ہماری طرح کے نہیں تھےعمر رضی اللہ عنہ کے دل میں جو بات تھی وہ زبان پر لے آئے۔۔۔۔۔
    اس کے برعکس آج کا مسلمان
    دعوئےتو ہمارے آسمان تک ہیں اللہ کے رسول ہم کو اپنی جان سے زیادہ عزیز ہیں
    مگر جب عمل کی باری آتی ہے۔۔۔۔۔
    اللہ کےحقوق اور حقوق العباد کی باری آتی ہے ہماری محبت کھوکھلی نظر آتی ہے۔
    جب حدیث رسول سن کر عمل کرنےکا بولاجاتا ہے ہماری محبت کے دعوئے چونکہ چرانکہ میں بدل جات ہے ہیں۔۔۔۔
    جس عظیم ہستی سے محبت کا دعوی تو ہم کرتے ہیں مگر آفسوس کیساتھ کہنا پڑ رہا ہے اس جیسا چہرہ بنانا ہم کو پسند نہیں۔۔۔
    اس کے برعکس صحابہ کرام نے اطاعت رسول ادا کرنے میں حق ادا کردیا تب ہی تو اللہ تعالی نے ان کی جنتوں کے سرٹیفکیٹ دنیا میں ہی دے دئیے
    ہم کو بھی چائیے عمل کردار میں آگے آئیں تاکہ قیامت کے دن اللہ کےرسول کیساتھ صفوں میں کھڑے ہوں اور جنت کے محلات ہمارے منتظر ہوں۔
    *اللہ کریم سیدنا عمر فاروق رضی اللہ کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق دئے*
    *اے اللہ جیسے تو ان سے راضی ہوگیا ہم سے بھی راضی ہوجا*۔۔۔۔آمین یا رب

اس صفحے کی تشہیر