سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ

عبدالحسیب نے 'سیرت صحابہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏11 اکتوبر 2017

  1. عبدالحسیب

    عبدالحسیب رکن

    مراسلے:
    1,223
    سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ
    عشرہ مبشرہ سیریز: 8

    سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ خود فرماتے ہیں
    میں عرب میں سے پہلا شخص ہوں جس نے اللہ کے راستے میں تیر چلایا (صحیح البخاری ۳۷۲۸)

    اسلام لانے میں جن شخصیتوں نے سبقت لی ہے ان میں سیدنا سعد بن ابی وقاص رض .. کا نام تیسرے یا چوتھے نمبر پر آتا ہے ..ان کی عمر اس وقت محض سترہ سال کی تھی یہ قریشی تھے اور رشتے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ماموں لگتے تھے_ ان کا خاندان بھی '' زہری'' تھا ..اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ بھی بنو زہرہ سے تعلق رکھتی تھیں..
    والد کا نام مالک تھا ..مگر ابو وقاص والد کی کنیت تھی اور وہی اصل نام پر غالب آئی ..
    اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ابھی دارارقم میں منتقل نہیں ہوئے تھے ..سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجیاد کی وادی میں ملاقات کی اور فوراً ہی اسلام قبول کر لیا- ان کے قبول اسلام پر والدہ نے شدید ناراضگی کا اظہار کیا..
    ایک دن اپنے بیٹے سے کہنے لگیں
    " سعد!
    یہ تم نے کونسا دین اپنا لیا ہے ?..
    اس کو چھوڑ دو..
    پھر دھمکی دی اگر اسے نا چھوڑا میں مرتے دم تک کھانا پینا چھوڑ دوں گی. اور اگر میں اسی بھوک ہڑتال میں مر گئ تو لوگ تمہیں ہی طعنہ دیں گے کہ وہ دیکھو اپنی ماں کا قاتل جا رہا ہے ْْ""..
    راسخ العقیدہ سعد رضی اللہ عنہ نے اپنی ماں سے کہا:
    اماں!
    اس بھوک ہڑتال کا کوئی فائدہ نہیں..
    اچھی طرح سن لو میں اس دین کو چھوڑنے والا نہیں..
    جب ماں نے یہ عزم صمیم دیکھا تو سمجھ گئ بھوک ہڑتال سے کچھ حاصل نہ ہوگا چنانچہ اس نے کھانا پینا شروع کر دیا ..
    ایک دن سیدنا سعد رضی اللہ عنہ ایک پہاڑی وادی میں صحابہ کرام کے ساتھ نماز ادا کر رہے تھے کہ وہاں کچھ کافر آگئے.. انہوں نے انکا اور اسلام کا مذاق اڑانا شروع کر دیا ..سعد رضی اللہ عنہ جوشیلے تھے. اسلام کے خلاف ہرزہ سرائی برداشت نہ کر سکے.. وہاں اونٹ کی ایک بڑی ہڈی پڑی تھی اسے اٹھایا اور ایک کافر کو دے ماری جس سے اسکا خون نکل آیا یہ پہلا خون تھا جو اسلام کے لیے بہایا گیا ..
    ہجرت کے پہلے سال شوال کے مہینہ میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبیدہ بن حارث بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کو مہاجرین سواروں کا ایک دستہ دے کر روانہ فرمایا ..رابغ کی وادی میں ابو سفیان سے سامنا ہوا اس کے ساتھ دوسو آدمی تھے.. مسلمانوں میں سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے.. فریقین کے درمیان لڑائی تو نا ہوئی البتہ ایک دوسرے پر تیر ضرور چلائے گئے..
    مسلمانوں کی طرف سے پہلا تیر... سعد ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے چلایا
    ان کو تیر اندای میں اس قدر مہارت حاصل تھی کہ غزوہ احد میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کرنے والوں میں پیش پیش تھے..
    لڑائی کے وقت ایک وقت ایسا بھی آیا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد صرف دو قریشی صحابہ رہ گئے .. ایک سیدنا ابی وقاص رضی اللہ عنہ ،اور دوسرے سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ تھے.. ان دونوں نے عدیم المثال بہادری سے کام لے کر صرف دو کی تعداد میں ہوتے ہوئے بھی مشرکین کے سارے حربے بےکار کردیے ..اور ان کی کامیابی نا ممکن بنادی.. اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے تیر بکھیر دیے اور فرمایا
    سعد!!! چلاؤ تیر.. تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں-
    اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سوا اورکسی کے لیے ماں باپ فدا ہونے کی بات نہیں کی _

    سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ مدینہ طیبہ ہجرت کرنے کے بعد ایک رات اللہ کے رسولصلی اللہ علیہ وسلم جاگ رہے تھے فرمایا.. کاش! آج رات میرے صحابہ میں سے کوئی صالح آدمی میری یہاں پہرہ دیتا
    ابھی ہم اسی حالت میں تھے کہ ہمیں ہتھیار کی جھنکار سنائی دی.. ارشاد ہوا کون ہے
    .. جواب آیا !
    سعد ابی وقاص ..فرمایا کیسے آنا ہوا ?
    جواب دیا میرے دل میں آپ کے بارے میں خطرے کا اندیشہ ہوا تو میں پہرہ دینے کے لیے آگیا ہوں..

    سعد ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے تمام غزوات میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شرکت کی اور اپنی بہادری کے جوہر دِکھائے..فتح مکہ کے بعد حجتہ الوداع کے موقع پر یہ ابھی مکہ میں ہی تھے کہ شدید بیمار ہو گئے لگتا تھا کہ انکا آخری وقت آگیا ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اس پیارے دلیر اور جانثار صحابی کی عیادت کے لیے تشریف لائے آپ نے اپنا مبارک ہاتھ سعد کی پیشانی پر رکھا ان کے چہرے اور سینے پر ہاتھ پھیرا اور دعا کی:

    . اللّٰھُمَّ!اشفِ سَعْداً. اللّٰھُمَّ!اشفِ سَعْداً..اللّٰھُمَّ!اشفِ سَعْداً
    اے اللہ سعد کو شفا دے.. اے اللہ سعد کو شفا دے. اے اللہ سعد کو شفا دے
    بار بار سعد کے لیے دعا فرما رہے تھے.سیدنا سعد ابی وقاص رضی اللہ عنہ اللہ کے فضل سے شفا یاب ہو گئے اور مدینہ طیبہ واپس آ گئے
    سیدنا سعد نے کئ شادیاں کیں.. اور اللہ نے اولاد سے خوب نوازا.. اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کی برکت سے وہ بڑے مستجاب الدعوات ہو گئے تھے لوگ ان کے پاس دعا کروانے آتے تھے..
    ان کی صلاحیتوں سے امت اسلامیہ کو اس وقت فائدہ پہنچا جب سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں عراق میں یزدگرد اپنی فوجوں کو اکٹھا کر کہ مسلمان کو چیلنج کرنے لگا ایران اپنے دور کی سب سے بڑی طاقت تھی.. کسری کا نام سنتے ہی لوگ لرز جاتے تھے.. فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو جب یہ اطلاعات ملیں تو انہوں نے مجلس شوریٰ کا اجلاس طلب کیا.. مشورہ ہوا کے وہ فوج کی کمان کرتے ہوئے محاذ جنگ پر ہونگے تو فوجیوں کو حوصلہ ہو گا
    سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اس تجویز کی سخت مخالفت کی۔
    انھون نے سعد بن مالک الزہری رضی اللہ عنہ کا نام پیش کیا ،سبھی نے اس نام پر اتفاق کیا
    سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ان کو بلاوا بھیجا اور اپنے ہاتھوں سے جھنڈا ان کے حوالے کیا ان کی کے لیے دعا فرمائی اور عراق کی طرف روانہ کیا ،
    یہیں سے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی زندگی کا سنہرا دور شروع ہوتا ہے۔ وہ قادسیہ پہنچ جاتے ہیں دشمن کی فوج ایک لاکھ بیس ہزار ہے اور سعد رضی اللہ عنہ دشمن کی فوج کی طرف اپنا سفیر بھیجتے ہیں اور پیغام دیتے ہیں
    دیکھو:
    صرف تین سورتیں ہیں
    اسلام لے آوہم تم سے لڑائی کیے بغیر واپس چلے جاتے ہیں
    2:دوسری صورت یہ کہ جزیہ ٹیکس دینے کا اقرار کرلو
    3:تیسری صورت یہ ہے کہ ہمارے اور تہمارے درمیان تلوار فیصلہ کرے گی ۔
    یزدگرد بادشاہ غصے سے بے قابو ہوکر سفیر اسلام سے کہتا ہے اگر سفیروں کے قتل نہ کرنے کی روایت نہ ہوتی تو میں تمہیں قتل کروادیتا۔
    اس نے لشکر اسلام کے سفیر سیدنا عاصم بن عمرو رضی اللہ عنہ کے بارے میں حکم دیا کہ اس کے سر پر مٹی کا ٹوکرا رکھ کر انھیں واپس کردو ۔سیدنا عاصم رضی االلہ نہ دشمن کی مٹی کا ٹوکرا اٹھایا اور اسلامی لشکر میں واپس آئے
    انھون نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے کہا:
    آپ کو مبارک ہو
    دشمن نے اپنی زمین خود ہی تہمارے حوالے کردی ہے اور پھر قادسیہ کے میدان میں تاریخی مقابلہ ہوتا ہے ۔ دشمن بہت سے ہاتھی میدان میں لے کر آتا ہے
    سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو عرق النساِ تھی۔ بیماری کی وجہ سے چلنے سے قاصر تھے ایک اونچی جگہ بیٹھ کر لڑائی کی کمان کی اور احسن طریقے سے فوج کو لڑایا، مسلمانون نے اس طرح داد وشجاعت دی کہ تاریخ میں اس کی مثال بہت کم ملتی ہے۔
    اللہ تعالی نے اپنے خاص فضل سے ایک مرتبہ پھر مسلمانوں کی مدد فرمائی۔ دشمن کی فوج کا سپہ سالار رستم جنگ سے بھاگ نکلا اسے پکڑ کر قتل کردیا گیا،اس کی فوج بھی میدان چھوڑ کر بھاگ جاتی ہے
    سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ مرض سے شفایاب ہوجاتے ہیں
    مسلمانوں کا لشکر مدائن کی طرف سفر کرتا ہے اسلام کی دعوت کے لیے دشمن کی فوجیں نہر کے دوسرے کنارے ہوتی ہیں نہر عبور کرنا مشکل تھا۔۔۔ مسلمانوں نے سپہ سالار نے مسلمانوں کا حوصلہ دیا کہ اللہ مالک ہے اسلام کی سربلندی کے لیے نکلے ہیں ڈال دو گھوڑے نہر میں مسلمان نعرہ تکبیر کہتے ہوئے نہر میں کود جاتے ہیں جب دشمن کی فوجوں نے یہ دیکھا وہ بھاگ نکلے ہہ لوگ انسان نہیں بلکہ جن بھوت ہیں ہم جنوں سے مقابلہ نہیں کرسکتے۔
    سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو نام اور شہرت سے بڑی نفرت تھی وہ اقتدار کے خواہاں نے تھے
    جب سدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت ہوئی اور لوگوں میں اختلاف پیدا ہوا تو ان کو بھی خلافت کے لیے پیش کیا گیا مگر انھوں نے ہر چیز سے کنارہ کش ہو کر مدینہ سے باہر اپنا خیمہ لگالیا۔
    خلفائے راشدین کی اطاعت کرنے والے تھے آُپ کے اندر تقوی اور خوف الہی تھا ۔
    آپ اپنے صحابہ سے محبت کرنے والے تھے اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاپند تھے۔
    جب آخری وقت آیا تو ایک صندوق کی طرف اشارہ کیا کہ اسے کھولو کھولا گیا اس نے اندر ایک جبہ تھا کہا یہ وہی لباس ہے جس کو میں نے بدد کے دن پہنا تھا میں نے آج کے دن کے لیے سنبھال کر رکھاہوا تھا۔ مجھے اسی میں کفن دینا
    وفات کے وقت آپ کی عمر 78 سال تھی مدینہ کے والی مروان بن حکم نے جنازہ پڑھایا اور امہات المومنین نے بھی ان کی نماز جنازہ پڑھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی جنت کی خوشخبری دنیا میں پانے والے اللہ کی جنتوں نے وارث بن گئے
    اللہ ان سے راضی وہ اپنے اللہ سے راضی
    ماخوذ عشرہ مبشرہ کی زندگیوں کے سنہرے واقعات

اس صفحے کی تشہیر