سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ

عبدالحسیب نے 'سیرت صحابہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏7 نومبر 2017

  1. عبدالحسیب

    عبدالحسیب رکن

    مراسلے:
    1,225
    عشرہ مبشرہ سیریز:10

    سیدنا ابوعبیدہ بن جراح
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے جبکہ میری امت کا امین ابوعبیدہ بن جراج ہیں
    صحیح البخاری
    ان کا اصل نام عامر بن عبداللہ بن جراح اور لقب امین الامت تھا۔ ان کا شمارایسے صحابہ کرام میں ہوتا ہے جو اپنی کنیت سے مشہور ہوئے۔ آپ کی کنیت ابوعبیدہ ہے ۔
    والدہ کا نام امیمہ تھا۔
    سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ عشرہ مبشرہ میں سے تھے۔
    یہ ان خوش نصیبوں میں سے تھے جنھوں نے اسلام کی دعوت کو شروع شروع میں قبول کرلیاتھا۔ آپ کا اسلام قبول کرنے میں 8 نمبر تھا۔
    لمبے قد اور نحیف جسم کے ابوعبیدہ قریشی تھے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کا نسب ملتا تھا۔
    جب دعوت اسلام کا آغاز ہوا تو اس دین حنیف نے کائنات کے باسیوں کو ایک نیا فلسفہ دیا کہ اللہ کے کلمے کو بلند کرنے کے لیے بڑی سے بڑی قربانی بھی دی جاسکتی ہے۔
    جب کوئی کلمہ پڑھ کراسلام کی دعوت کا قبول کرلیتا ہے اس کا تعلق کسی بھی نسل سے ہو وہ دوسرے کلمہ پڑھںے والوں کا بھائی ہوتا ہے،
    اسکے برعکس اگر اس کی مخالفت میں اللہ اور اس کا رسول کا دشمن خون کا رشتہ ہی کیو نا ہو اللہ کے دلیر صحابہ نے ڈٹ کر مقابلہ کیا اور ان کا مقابلہ تلوار سے کیا۔
    اسلامی نظریے کی حفاظت کے لیے لڑی والی پہلی جنگ میں عجیب کیفیت دیکھنے کو ملی
    باپ مسلمانوں کی صفوں مین ہے بیٹا کافروں کی طرف سے لڑرہا ہے اسطرح باپ کافروں کی صفوں میں بیٹا مسلمانوں کی صفوں میں اسلام کے جھنڈے کے دفاع کے لیے کھڑا ہے۔
    اسلام کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا ایک مسلمان بیٹا اپنے کافر باپ کو واصل جہنم کرتا ہے جو کافروں کیساتھ مل کر امام کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف نکلتا ہے
    اور ان کی تلوار ثابت کردیتی ہے کوئی خونی رشتہ اسلام اور حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی عزت سے آگے نہیں ہے،
    سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کا باپ عبداللہ بدر کے میدان میں مشرکین مکہ کیساتھ تھا لڑائے کے دوران باپ بیٹے کی زد میں آگیا اور بیٹے نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت مین شرشار ہوکراپنے باپ کو قتل کردیا ،اس پر کافروں نے شور مچا دیا کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی اپنے آبا و اقربا کو بھی قتل کرتے ہیں ۔
    شروع میں سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو ذرا سا تردد تھا یہ فطرت کے تقاضوں کے عین مطابق تھا بیٹے کی باپ سے محبت کا کوئی انکار نہیں کرسکتا۔
    یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اپنے تحفظات ،خدشات اور دل میں اٹھنے والے سوالات کا اظہار کیا
    اللہ کریم نے قرآن پاک کی سورۃ مجادلہ آیت 22 میں اس بات کا فیصلہ کردیا۔۔۔
    ترجمعہ :
    جو لوگ خدا پر اور روز قیامت پر ایمان رکھتے ہیں تم ان کو خدا اور اس کے رسول کے دشمنوں سے دوستی کرتے ہوئے نہ دیکھو گے۔ خواہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا خاندان ہی کے لوگ ہوں۔۔۔۔۔الخ

    اللہ اکبر دین اسلام سے پہلے اس طرح صحابہ کرام نے محبت کا حق ادا کردیا واللہ یہ لوگ دین کیساتھ مخلص تھےتب ہی تو اللہ نے دنیا میں جنتوں کی بشارتیں دنیا مین دے دیں

    اس طرح کا واقعہ اس جنگ میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے پیش آیا اس وقت آپ کیا بیٹا مسلمان نہیں ہوا تھا مسلمان ہونے کے بعد ایک دن باپ بیٹا بیٹھے ہوئے تھے بیٹا ہنس کر بولا
    باباجان،،بدر کے موقع پر آپ میری تلوار کے آگے بہت دفعہ آئے مگر میں نے باپ ہونے کی وجہ سے تلوار روک لیتا
    یہ سن کر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بولے میرے بیٹے اگر تم میری تلوار کے آگے ایک دفعہ بھی آتے واللہ اللہ کی قسم میں تمہاری گردن اتار کر رکھ دیتا محبت مجھے تم سے بہت ہے مگر اس وقت تم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں میں تھے اس لیے کوئی اہمیت نہیں تھی تمہاری میرے آگے
    اللہ اکبر
    عزوہ احد میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک زخمی ہوا اور خود کی دو کڑیاں آنکھ کے نیچے رخسار میں دھنس گَئیں ۔
    سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی وہاں پہنچ گئے اپنے پیارے نبی کے چہرے سے اس کو نکالنا چاہا تو سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا
    میں آپ کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ یہ سعادت مجھے حاصل کرنے دیں ۔
    اور پھر کا انداز ملاحظہ فرمائیے:
    کڑیوں کو ہاتھ سے نہیں نکالا کہ پیارے نبی کو تکلیف نا ہو زیادہ بلکہ اپنے دانتوں سے ایک کڑی پکڑی اور آہستہ آہستہ نکالنی شروع کی تاکہ پیارے نبی کو زیادہ تکلیف نا ہو یوں ایک کڑی اپنے دہانے سے کھینچ کر نکال دی لیکن اس کوشش میں ان کا نچلا دانت اپنی جگہ سے اکھڑ کر نکل آیا کیونکہ کڑی اندر تک پیوست تھی۔
    سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ دوسری کڑی کھینچنی چاہی تو سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے پھر کہا
    ابوبکر میں آپ کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں یہ سعادت بھی مجھے کو حاصل کرنے دیں
    اس کے بعددوسری کڑی بھی آہستہ آہستہ نکالی اس سے دوسرا دانت بھی ٹوٹ گیا ۔پھر ساری زندگی ان کے یہ دانت ٹوٹے رہے

    مورخین نے لکھا ان کی کوئی نرینہ اولاد نہ تھی مگر ان کا نام تاریخ میں ہمیشہ محفوظ رہے گا

    ان کی شخصیت اور قائدانہ صلاحیتوں پر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو اتنا اعتماد تھا جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر قاتلانہ حملہ ہوا آپ شہادت کے رتبے پر فائز ہونے والے تھے آپ نے اپنے جانشین کے بارے میں فرمایا اگرابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ زندہ ہوتے تو میں اپنے بعد ان کی کی بیعت کی وصیت کرجاتا

    نجران سے عیسائیوں کا ایک وفد مدینہ آیا جس مین ان کے بڑے بڑے پادری اور سردار تھے،انھوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا ہمارے ساتھ کسی امین شخص کو بھیجے جو ہم سے جزیہ وصول کرے اور ہمارے آپس کی لڑائیوں کے فیصلے بھی صادر کرے
    ارشاد ہوا
    میں تمہارت ساتھ ایسے شخص کو بھیجوں گا جو کما حقہ امین ہوگا
    فرمایا
    ہر امت کا ایک امین ہوتا اس امت کے امین ابوعبیدہ ہیں​

    سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کی ساری زندگی اطاعت رسول میں گزری جہاد کے میدانوں میں آپ کے ہاتھوں مسلمانوں کو بہت سی فتوحات ملیں ایک مرتبہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بطور کمک شام جاتے ہیں ان کا استقبال سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے کیا
    جب نماز کا وقت آیا تو سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور کہا
    ابوسلیمان آگے بڑھیے اور لوگوں کو نماز پڑھائیے
    اب خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا جواب سنیں انھوں نے کہا:
    میں اس شخص سے آگے کسطرح بڑھ سکتا ہوں جس کے بارے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہو ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اس امت کے امین ابوعبیدہ بن جراح ہیں ۔

    سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نہایت متواضع تھے دنیا سے ان کی بے رغبتی کا یہ عالم تھا کہ ان کا گھر دنیاوی مال سے خالی تھا۔وہ شام کے علاقے میں اسلامی لشکر کے کمانڈر تھے

    سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جب شام آئے تو انھوں نے سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ سے کہا:
    چلیے آپ کے گھر چلتے ہیں
    انھوں نے فرمایا :
    میرے گھر جا کر کیا کریں گے؟
    وہاں میرے علاوہ اور کوئی چیز نظر نہ آئےگی
    اور واقعی ایسا ہی ہوا جب سیدنا عمرفاروق رضی اللہ عنہ ان کے گھر تشریف لے گئے تو وہاں کوئی چیز نظر نا آئی خالی گھر تھا۔
    انھوں نے کہا:
    ابوعبیدہ گھر میں کیا کوئی چیز ہے کھانے کے لیے؟؟؟
    اںھوں نے ایک کونے میں رکھے ہوئے برتن سے روٹی کے چند ٹکڑے نکال کر پیش کردئے
    سیدنا عمررضی اللہ عنہ نے اختیار روپڑے
    کیا کمانڈر ہے نا مال کی فکر نا گھر کی فکر بس اپنے رب کو راضی کرنے میں لگا ہے
    پھر آپ نے ان الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا:
    دنیا نے ابوعبدہ کے علاوہ ہم سب کو تبدیل کردیاہے
    ان کی وفات شام کے علاقے میں طاعون کی وجہ سے ہوئی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں طاعون کی وبا پھیل گئ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ اسلام فوج طاعون زدہ علاقے میں داخل نا ہو سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے اس رائے سے اختلاف کیا
    انھوں نے کہا کیا آپ تقدیر الہی سے بھاگ رہے ہیں ؟
    سیدنا عمررضی اللہ عنہ نے جواب دیا ابوعبیدہ کاش
    تمہارے علاوہ کسی اور نے یہ بات کہی ہوتی ہم تقدیر الہی سے تقدیر الہی ہی کی طرف بھاگ رہے ہیں ۔بعدازاں اس وبا کا حملہ خود ان پر ہوا اور یہی بیماری ان کی وفات کا سبب بنی۔
    وفات کے وقت ان کی عمر 58 برس تھی۔ اللہ کا شیر دلیر صحابی جس نے دنیا میں جنت کی بشارت پا لی تھی نہایت ہی عاجزی کی زندگی گزار کر اس دنیا سے رخصت ہوگیا آپ کی قبر اردن کے علاقے میں ہے
    اللہ تعالی اس مرد مجاہد پر بے شمار رحمتیں نازل فرمائے،آمین یارب
    ماخوذ:عشرہ مبشرہ کی زندگیوں کے سنہرے واقعات
    • پسند پسند x 1

اس صفحے کی تشہیر