سورہ کہف سے ملنے والے اسباق

نیازی نے 'تفسیر قرآن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏28 مارچ 2018

  1. نیازی

    نیازی رکن

    مراسلے:
    223
    مناظر احسن گیلانی رح کے حوالے سے سورۃ الکہف کی تفسیر میں استاذ نعمان علی خان فرماتے ہیں کہ امت مسلمہ کے احادیث کے مطابق 4 ادوار ہیں:

    1. خلافت علی منہاج النبوۃ
    2. ملوکیت.. کاٹ کھانے والی بادشاہتیں
    3. کفار کی مسلمانوں پر حکومت (مثلاً یورپی کالونیاں) اور پھر آہستہ آہستہ استعمار کے پنجوں سے آزادی.
    4. اسلام کی نشاۃ ثانیہ

    شیخ مناظر رح کے مطابق ہم اسوقت تیسرے دور میں ہیں اور یہی وہ دور ہے جس میں سب سے زیادہ فتنوں کا نزول متوقع ہے اور یہی وہ دور ہے جس میں عظیم ترین فتنے یعنی دجال کا ظہور ہو گا. لہٰذا سورۃ الکہف کی تفہیم کی سب سے زیادہ ضرورت بھی اسی دور میں ہے کیونکہ سورۃ کا مقصد ہی مسلمانوں کو مادہ پرستی اور دجال کے فتن کے خلاف مسلح کرنا ہے.
    اس پس منظر میں شیخ نے جو تفسیر فرمائی ہے وہ اسقدر دلنشیں اور حقیقت پسندانہ ہے کہ بندہ حیران رہ جاتا ہے.

    شیخ فرماتے ہیں کہ جب کفار کا تسلط عروج پر تھا تو یہ گویا اصحاب کہف کا دور تھا جنکی مثل بہت سے علمائے دین کو دین کی حفاظت کیلئے مدارس میں محصور ہونا پڑا گویا کہ وہ غار میں پناہ لے چکے ہوں.
    اس دوران باقی مسلمانوں نے اس تسلط سے آزادی حاصل کی لیکن ساتھ ہی دین پر اتنے سمجھوتے کر لئیے کہ جب آزادی کے بعد یہ علماء غار، یعنی مدارس سے باہر آئے تو لوگ انہیں حیرت سے دیکھنے لگے کہ "یہ کونسا اسلام ہے". اور اس نتیجے پر پہنچے کہ اب عملی زندگی، امور سلطنت اور معاشرے میں انکا کوئی کردار نہیں. انہیں مسجد و مدرسے تک ہی محدود کر دو(سیکولرازم) بالکل اسی طرح جس طرح ایک گروہ نے کہا کہ اصحاب کہف پر مسجد بنا دو.

    پھر امت کا سلسلہ وہ دوسری کہانی سے جوڑتے ہیں کہ جب مسلمان مادہ پرست ہو گئے تو انکی مثال اس دو باغوں والے جیسی ہو گئی. اسکی طرح انہوں نے بھی دنیا کو ہی سب کچھ سمجھ لیا اور آخرت سے عملاً انکار کر دیا
    (ایہو جگ مِٹّھا، اگلا کیس ڈِٹّھا...!!! )

    اور پھر طرح مادہ پرستی کی وجہ سے کائنات کی تکوین کا بڑا منظرنامہ انکی نظروں سے اوجھل ہو گیا اور وہ تیسری کہانی میں موسی علیہ السلام کی مثل ظاہری مسائل پر حیرت کا اظہار اور سوال کرنے لگے:

    اسلام کے باوجود ہم ترقی کیوں نہیں کرتے؟
    سائنس میں آگے کیوں نہیں بڑھتے؟
    ہر جگہ پیچھے کیوں ہیں؟....
    یعنی،
    "کشتی میں سوراخ کیوں کیا؟"

    بچے کیوں مر رہے ہیں؟
    ہر جگہ خون خرابہ کیوں ہے؟
    مسلمان ہر جگہ ظلم کا شکار کیوں ہیں؟...
    یعنی،
    "بے قصور بچے کو کیوں قتل کیا؟"

    اور ایک طبقہ وہ بھی ہے جو کہتا ہے کہ اسقدر کرپشن کے دور میں نیک کام کرنے کا فائدہ ہی کیا ہے؟
    درس، دعوت، وعظ و نصیحت کا کیا فائدہ؟
    نماز روزے کا کیا فائدہ؟
    حدیث میں جو آتا ہے کہ دجال آ جائے اور کوئی درخت کا بیج بو رہا ہو تو اس بیج کو بو کر رہے... اسکا کیا فائدہ؟ ...
    یعنی،
    "بے حس لوگوں کی بستی میں گرتی دیوار کھڑی کرنے کا کیا فائدہ؟"

    اور پھر آخر میں ذوالقرنین کی مثل اسلام کی حکومت اور نشاۃ ثانیہ کا دور واپس آئے گا اور اسکے بعد پھر اسی قصے کے مطابق یاجوج ماجوج ظاہر ہونگے اور یوں تاریخ اپنے اختتام کو پہنچے گی.

    نوٹ:
    دوسری آیت میں" باس شدید" کی تفسیر میں دیگر مفسرین نے آخرت کا عذاب مراد لیا ہے جبکہ مناظر احسن گیلانی رح نے آخری زمانے کی ہولناک جنگیں اور دجال سے جنگ مراد لی ہے جو واقعی سب سے زیادہ قرین قیاس ہے. وہ فرماتے ہیں کہ قرآن میں جہاں بھی "باس" کا لفظ استعمال ہوا ہے وہاں اس دنیا کی مصیبت ہی مراد ہے.

    واللہ اعلم بالصواب
  2. nabeel

    nabeel رکن

    مراسلے:
    53
    آج کل یہ سب کچھ جو نشانیاں ہے وہ پائ جا رہی ہے۔ الله ہم سب کو دجال کے فتنہ سے محفوظ رکھے۔ اور ہمیں اسلام پر چلنے کی توفیق دے۔ آمین
    لیکن کیا سورہ کہف کی تلاوت دجال کے فتنہ سے بچنے کا ذریعہ کہنا درست ہو گا۔ ؟

اس صفحے کی تشہیر