سعودی عرب کی حالیہ تاریخی جنگی مشقیں اور پاکستان

ابن آدم نے 'کالم اور اداریے' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏6 مئی 2014

  1. ابن آدم

    ابن آدم کتب کمپوزر

    مراسلے:
    600
    تحریر: حبیب اللہ سلفی​
    سعودی عرب میں مسلح افواج کے تمام شعبوں پر مشتمل دو روزہ ”شمشیر عبداللہ ”جنگی مشقیں ہوئی ہیں۔مشقوں کے اختتام پر ولی عہد اور نائب وزیر اعظم وزیر دفاع شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز کی زیر صدارت ایک پْر وقار تقریب کا اہتمام کیا گیاجس میں پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف سمیت متعدد عرب ممالک سے تعلق رکھنے والے سیاسی و عسکری قائدین نے شرکت کی۔
    [​IMG]
    جنرل راحیل شریف سعودی ولی عہد کی خصوصی دعوت پر جنگی مشقیں دیکھنے سعودی عرب پہنچے تھے۔ دیگر مہمانوں میں بحرین کے فرمانروا حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ، ابوظہبی کے ولی عہد الشیخ محمد بن زاہد آل النھیان، کویت کے نائب وزیر اعظم الشیخ خالد الجراح الصباح اور سلطنت عمان کے سیکرٹری جنرل محمد بن ناصر الراسبی شریک ہوئے۔ دو روزتک جاری رہنے والی جنگی مشقوں میں سعودی عرب کی بَری و بحری افواج کے دستوں، نیشنل ڈیفنس فورس اور فضائیہ نے بھرپور حصہ لیا۔ جنگی مشقوں کے اختتام پر منعقدہ تقریب میں سعودی ولی عہد شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز نے مختلف ممالک سے خصوصی دعوت پر آئے معزز مہمانوں کا پْرتپاک استقبال کیا۔ مہمانوں کا خیر مقدم کرنے والوں میں ولی عہد کے علاوہ مشرقی سعودی عرب کے امیر شہزادہ جلوی بن عبدالعزیز بن مساعد، مسلح افواج کے سربراہ جنرل حسین بن عبداللہ القبیل، ڈپٹی آرمی چیف جنرل عبدالرحمان بن صالح اور دیگر عہدیدار شریک تھے۔اس موقع پر سعودی عرب کی مسلح افواج کے سربراہ جنر ل حسین بن عبداللہ القبیل نے استقبالی کلمات کہے جس کے بعد ولی عہد شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز نے تمام معزز مہمانوں کی آمد پر ان کا شکریہ ادا کیا۔شہزادہ سلیمان نے”شمشیرعبداللہ”نامی جنگی مشقوں کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور کہا کہ مملکت کے تمام دفاعی اداروں نے ان جنگی مشقوں میں حصہ لیا اور اپنی پیشہ وارانہ صلاحیت کو ثابت کر دکھایا ہے۔ملک کے جنوبی، شمالی اور مشرقی علاقوں میں بیک وقت جنگی مشقیں سعودی تاریخ کا اہم ترین واقعہ ہے۔اختتامی تقریب سے قبل مختلف ممالک سے آنے والے مہمانوں نے سعودی عرب کی مسلح افواج کی جنگی مشقوں کا معائنہ کیا۔

    صحراء کی سخت گرمی میں ہونے والی جنگی مشقوں میں فوجی دستوں نے بھرپور انداز میں اپنی پیشہ وارانہ مہارت کا مظاہرہ کیا جس پر حاضرین حیران رہ گئے اور بیرون ملک سے آنے والے تمام مہمانوں نے سعودی عرب کی فوج اور اس کی دفاعی صلاحیت کو سراہا۔فوجی مشقوں کے دوران جنگی ہوائی اور بحری جہازوں، ہیلی کاپٹروں، ٹینکوں، میزائلوں اور میزائل شکن سسٹم کا بھرپور استعمال کیا گیا۔ان تاریخی جنگی مشقوں میں سعودی عرب کی مسلح افواج نے ثابت کیا کہ وہ ہر قسم کے سکیورٹی چیلنجزسے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں ، ملک کی سرحدوں اور مقدسات کے محافظ اداروں کے ہوتے ہوئے دنیا کی کوئی طاقت سعودی عرب کوان شاء اللہ میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتی اور یہ کہ مسلح افواج سعودی عرب کی طرف بڑھنے والے دشمن کے ہرہاتھ کو کاٹ دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔سعودی عسکری ماہرین کے مطابق یہ مشقیںکسی دیدہ اور نادیدہ دشمن کے لیے واضح پیغام ہے کہ مملکت سعودی عرب اپنے دفاع سے غافل نہیں اور قومی سلامتی کو لاحق کسی بھی خطرے کا پوری قوت سے مقابلہ کر سکتا ہے۔

    پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات ہمیشہ خوشگوار رہے ہیں تاہم حکومتوں کے بدلنے سے خارجہ پالیسیاں تبدیل ہوتی رہیں خاص طور پر نائن الیون کے بعد پالیسیوں میں تغیرات کے باعث بعض مرتبہ یہ چیزیں تعلقات میں اتار چڑھائو کا باعث بنتی رہی ہیں مگراس کے باوجود ان دونوں ملکوں کےتعلقات کی اپنی ایک تابناک تاریخ ہے۔ مملکت سعودی عرب نے ہر موقع پر پاکستان کا ساتھ دیا اورہر مشکل وقت میں مددکا حق ادا کیا ہے۔ سعودی عرب کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ قدرتی وسائل سے مالا مال کر رکھا ہے۔ جب کبھی بھی زلزلے و سیلاب یا تھرپارکر جیسے علاقوں میں قحط سالی کی صورتحال پیدا ہوئی سعودی عرب اسی وقت وطن عزیز پاکستان کے مصیبت زدہ عوام کا سہارا بنا ہے۔1965ء کی پاک بھارت جنگ ہو، روس کے افغانستان پر حملہ کے وقت افغان پناہ گزینوں کی امداد کا مسئلہ ہو، آزاد کشمیر و سرحد میں آنے والا خوفناک زلزلہ یا 2010ء اور 2011ء میں آنے والے خوفناک سیلاب ہوںسعودی عرب کبھی پیچھے نہیں رہا۔

    حتیٰ کہ جب پاکستان نے ایٹمی دھماکے کرنا تھے اور امریکہ ویورپ سمیت پوری دنیا کا دبائو تھا کہ پاکستان ایٹمی دھماکوں سے باز رہے۔ان مشکل ترین حالات میں بھی سعودی عرب نے اس وقت کے وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف کا حوصلہ بڑھایا اور اپنے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کروائی۔ اس طرح اگر یہ کہاجائے کہ پاکستان کے ایٹمی دھماکوںمیں سعودی عرب کا کردار ہے تو یہ بات غلط نہ ہو گی۔ یہ ساری رپورٹ سعودی اخبار المدینہ میں تفصیل سے شائع ہو چکی ہے۔سابق پاکستانی صدر آصف علی زرداری کے دور میں سعودی عرب سے شاید تعلقات اتنے مضبوط و مستحکم نہیں تھے جو موجودہ حکومت کے دور میں دیکھنے میں آرہے ہیں۔ وزیر اعظم نواز شریف اور آرمی چیف سمیت دیگر اہم ذمہ داران نے حرمین الشریفین کی سرزمین کے دورے کئے ہیں تو سعودی اعلیٰ حکام بھی متعدد مرتبہ پاکستان آچکے ہیں اور اس وقت عالمی سطح پر مسلمانوں کو درپیش مسائل سے متعلق خصوصی طور پر غوروفکر کیا گیا ہے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستانی آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے چار فروری کواپنے پہلے دورہ سعودی عرب، جنوری میں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ سعود الفیصل اور نائب وزیردفاع شہزادہ سلمان بن عبداللہ بن عبدالعزیز کے دورہ پاکستان کے دوران پاکستان سے اسلحہ کی خریداری سے متعلق تفصیلی بات چیت کی گئی ہے۔

    جنرل راحیل شریف کے دورہ ریاض کے دوران دونوں ملکوں کی مسلح افواج کی مشقیں شروع کرنے پربھی اتفاق کیا گیا ہے۔اسی طرح سعودی نائب وزیردفاع شہزادہ سلمان نے ایک اعلیٰ اختیاراتی وفد کے ہمراہ جب پاکستان آئے تو انہوںنے پاکستان کے محکمہ دفاع سے متعلق اہم اداروں کا بھی دورہ کیا۔ سعودی وفد نے مسلح افواج کے جنرل ہیڈ کوارٹر (جی ایچ کیو)، ایئر ڈیفنس کمانڈ آف پاکستان ائیر فورس، پاکستان آرڈیننس فیکٹریز اور پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس کامرہ PAC کا بھی دور ہ کیا۔ سعودی نائب وزیردفاع نے پاک، چین مشترکہ مساعی سے تیار ہونے والے”جے ایف 17 تھنڈر” کا بھی معائنہ کیا۔میڈیا میں یہ خبریں بھی آچکی ہیں کہ پاکستان اور سعودی عرب نے دفاعی اور فوجی شعبوں میں باہمی تعاون سمیت تربیت کے لئے فوجی اہل کاروں کے تبادلے پربھی اتفاق کیا ہے۔وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے بھی اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب دفاعی پیداوار کے مشترکہ منصوبے شروع کر سکتے ہیں۔

    اس سے نہ صرف دونوں دفاعی سازوسامان میں خودکفیل ہو سکتے ہیں، بلکہ مل کر یہ سازوسامان عالمی مارکیٹ میں بھی فروخت کے لئے پیش کر سکتے ہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان اس نوعیت کے تعلقات انتہائی خوش آئندہیں۔ اس وقت عالمی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں یہ باتیں اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہیں کہ امریکہ، یورپ، بھارت اور اسرائیل نظریاتی بنیادوں پر معرض وجود میں آنیو الے دو ملکوں پاکستان اور سعودی عرب کو کسی طور مضبوط و مستحکم نہیں دیکھنا چاہتے اور انہیں ہر صورت عدم استحکام سے دوچار کرنا چاہتے ہیں۔ اس مقصد کیلئے وہ خوفناک سازشیں اور منصوبہ بندیاں کر رہے ہیں۔ ان حالات میں پاکستان اور سعودی عرب کے مابین دفاعی تعلقات بہت زیادہ ضروری ہیں۔ سعودی عرب پاکستان کی امداد سے کسی طور پیچھے نہیں رہا تو پاکستان کا بھی فرض ہے کہ وہ دفاعی لحاظ سے سعودی عرب سے ہر ممکن تعاون کرے اور اس کی دفاعی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے کی کوششوں میں حصہ لے۔

    پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلمان ملکوں کو چاہیے کہ وہ عالمی صورتحال کو سمجھتے ہوئے اپنا مشترکہ دفاعی نظام اور ڈالر اور یورو کے چکر سے نکل کر اپنی مشترکہ کرنسی تشکیل دیں۔ مسلمان ملکوں کو اپنی الگ اقوام متحدہ بھی بنانی چاہیے۔ اس نوعیت کے جرأتمندانہ اقدامات اٹھا کر ہی امریکہ، اسرائیل اور ان کے اتحادیوں کو سازشوں کو ناکام بنایا جا سکتا ہے۔
    ربط
    • شکریہ شکریہ x 1

اس صفحے کی تشہیر