زبان کی حفاظت کو معمولی نہ سمجھیں

Usman Ahmed نے 'اصلاح معاشرہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏13 مارچ 2018

  1. Usman Ahmed

    Usman Ahmed رکن

    مراسلے:
    24
    اللہ تعالیٰ نے انسان کو جن بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے ان میں سے زبان ایک بہت بڑی نعمت ہے، زبان قلوب و اذہان کی ترجمان ہے، اس کا صحیح استعمال ذریعہ حصول ثواب اور غلط استعمال وعید عذاب ہے، یہی وجہ ہے کہ احادیث نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم میں ”اصلاحِ زبان“ کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔
    مومن کی شان:
    ❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليقل خيرا أوليصمت [صحيح بخاري: 6018، صحيح مسلم: 47/74]
    جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے (اسے چاہئے یا تو) وہ بھلائی کی بات کہے ورنہ خاموش رہے۔ اہل ایمان کی گفتگو بہترین اور پرتاثیر ہوتی ہے اور وہ ہمیشہ فضولیات سے احتراز کرتے ہیں۔
    ❀ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    من حسن اسلام المرء تركه مالا يعنيه [مؤطا امام مالك: 903/2 ح 737 اوسنده حسن]
    فضول باتوں کو چھوڑ دینا، آدمی کے اسلام کی اچھائی کی دلیل ہے۔

    بہترین مسلمان:
    ”سیدنا ابو موسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! مسلمانوں میں سے کون افضل ہے ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: من سلم المسلمون من لسانه ويده جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں۔“ [ بخاري : ح 11، مسلم 42/66 ]
    کہتے ہیں کہ زبان کا نشتر (لوہے كے) نیزے سے زیادہ گہرا زخم کرتا ہے لہٰذا بہترین مسلمان بننے کے لئے اپنی زبان پر کنٹرول اور دوسرے مسلمان کی عزت نفس کا خیال بہت ضروری ہے۔
    ❀ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے (ان کی دوسری بیوی سیدہ صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی بابت ) عرض کیا : آپ کے لئے صفیہ کا ایسا ایسا ہونا کافی ہے۔ بعض راویوں نے کہا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی مراد یہ تھی کہ وہ پستہ قد ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے) فرمایا لقد قلت كلمة لومج بها البحر لمزجته تو نے ایسی بات کہی ہے کہ اگر اسے سمندر کے پانی میں ملا دیا جائے تو وہ اس کا ذائقہ بھی بدل ڈالے۔ [ سنن ابي داؤد: 4875]
    ❀ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    إن دماء كم وأموالكم و أعراضكم بينكم حرام۔۔۔۔ الخ [بخاري: 67 ]
    یعنی ایک مسلمان کے لئے دوسرے مسلمان کا خون، مال اور اس کی عزت آبرو قابل احترام ہیں۔

    جنت کی ضمانت :
    ❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    من يضمن لي مابين لحييه ومابين رجليه أضمن له الجنة
    ”جو شخص مجھے اپنی زبان اور شرمگاہ کی حفاظت کی ضمانت دے تو میں اس کے لئے جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔“ [ بخاري : 6474 ]
    جس طرح زبان اور شرمگاہ کی حفاظت کرنے کی بنا پر جنت کی بشارت دی گئی ہے ایسے ہی ان دونوں کی حفاظت کی کوتاہی کرنے والوں کے لئے تنبیہ بلیغ ہے،
    ❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    أتدرون ما أكثر ما يدخل الناس النار ؟ الأجوفان: الفم و الفرج
    ”کیا تم جانتے ہو کہ لوگوں کو کثرت کے ساتھ کون سی چیز جہنم میں داخل کرے گی؟ وہ دو کھوکھلی چیزیں، زبان اور شرمگاہ ہیں۔“ [ سنن ترمذي: 2004، سنن ابن ماجه: 4246واسناده صحيح ]

    زبان کے خطرات:
    ❀ سیدنا سفیان بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے ایسی بات بتلایئے جس کو میں مضبوطی سے تھام لوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قلم ابي الله ثم استقم تم کہو میرا رب اللہ ہے، پھر اس پر جم جاؤ۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! سب سے زیادہ خطرے والی چیز جس کا آپ کو مجھ سے اندیشہ ہو کیا ہے؟ فأخذ بلسان نفسه ثم قال هذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان پکڑی، پھر فرمایا: یہ (زبان ) ہے۔ [سنن ترمذي: ح2410واسناده صحيح ]

    ❀ ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پوچھنے پر نماز، زکوۃ، روزہ، حج بیت اللہ اور جہاد کے متعلق بالتفصیل بیان فرمایا: آخر میں فرمایا: ألا أخبرك بملاك ذلك كله؟ کیا میں تجھے ایسی بات نہ بتلاؤں جس پر ان سب کا دارومدار ہے؟ میں نے کہا : بلي يا رسول الله ، اے اللہ کے رسول کیوں نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان مبارک پکڑی اور فرمایا : كف عليك هذا اس کو روک کے رکھ، میں عرض کیا، کیا ہم زبان کے ذریعے جو گفتگو کرتے ہیں اس پر بھی ہمار ی گرفت ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تیری ماں تجھے گم پائے لوگوں کو جہنم میں اوندھے منہ گرانے والی زبان کی کاٹی ہوئی کھیتی (گفتگو) کے سوا اور کیا ہے ؟ [سنن ترمذي: ح 2616وسنده حسن ]
    معلوم ہوا کہ زبان کا غلط استعمال آدمی کے اعمال (نماز، روزہ، زکوۃ، حج، جہاد ) وغیرہ کو برباد کر سکتا ہے اور جنت کی بجائے جہنم کا ایندھن بنا سکتا ہے۔ أعاذنا الله منها

    پہلے تولو۔۔۔پھر بولو:
    ہمیشہ دوران گفتگو تدبر و تفکر کو ملحوظ رکھنا چاہئے کیونکہ زبان کی ذرا سی بے اعتدالی انسان کو دنیا و آخرت کے آلام و مصائب سےدو چار کر سکتی ہے،
    ✿ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
    مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ [ 50-ق:18]
    ترجمہ: ”انسان جو لفظ بھی بولتا ہے تو اس کے پاس ہی ایک نگران موجود ہوتا ہے۔“ یعنی انسان کی ہر بات ریکارڈ ہوتی ہے۔
    ❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ”آدمی ایک بات کرتا ہے اس میں غور و فکر نہیں کرتا اور وہ اس بات کی وجہ سے مشرق و مغرب کے درمیان مسافت سے بھی زیادہ جہنم کی طرف گر جاتا ہے۔“ [صحيح بخاري: 6477، صحيح مسلم:2988/49 ]
    ❀ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ”جب انسان صبح کرتا ہے تو اس کے تمام اعضاء زبان کی منت سماجت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اتق الله فينا ہمارے بارے میں تجھے اللہ سے ڈرنا چاہئے۔ بلاشبہ ہمارا معاملہ تیرے ساتھ وابستہ ہے، اگر تو درست رہے گی تو ہم بھی درست رہیں گے اور اگر تجھ میں ٹیڑھا پن آ گیا تو ہم بھی ٹیڑھے ہوجائیں گے۔“ [ سنن ترمذي: 2407 وسنده حسن ]
    یعنی پہلے زبان درازی، گالی گلوچ ہوتی ہے پھر لڑائی جھگڑا ہوتا ہے، تو مار جسم کو ہی برداشت کرنی پڑتی ہے اسی لئے جسم کے سارے اعضاء زبان کے سامنے منت سماجت کرتے ہیں، ہر دو احادیث سے زیادہ واضح ہو گیا ہے کہ زبان کا استعمال صحیح نہ کرنے کی وجہ سے دونوں جہانوں میں خسارے کا سامنا ہے۔

    خاموشی میں نجات :
    ❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    من صمت فقد نجا
    ”جو شخص خاموش رہا وہ نجات پا گیا۔“ [سنن ترمذي : 2501 وسنده حسن] مزید تحقیق کے لئے دیکھئے [أضواء المصابيح للاستاذ حافظ زبير على زئي حفظه الله:رقم 3836]
    ❀ مزید ارشاد فرمایا:
    لا تكثروا الكلام بغير ذكر الله فإن كثرة الكلام بغير ذكر الله تعالي قسوة للقلب! وإن أبعد الناس من الله القلب القاسي [ سنن ترمذي: ح2411 و سنده حسن ]
    اللہ کے ذکر کے علاوہ زیادہ باتیں نہ کیا کرو اس لئے کہ اللہ کے ذکر کے علاوہ زیادہ باتیں دل کی سختی ہے اور لوگوں میں اللہ سے سب سے زیادہ دور سخت دل (والا آدمی ) ہے۔
    ◈ امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
    ”جاننا چاہئے کہ ہر مکلّف انسان کے لئے مناسب ہے کہ وہ ہر قسم کی گفتگو سے اپنی زبان کی حفاظت کرے، صرف وہ گفتگو کرے جس میں مصلحت واضح ہو، اور جہاں مصلحت کے اعتبار سے بولنا اور خاموش رہنا برابر ہوں تو پھر خاموش رہنا سنت ہے۔ اس لئے کہ بعض دفعہ جائز گفتگو بھی حرام یا مکروہ تک پہنچا دیتی ہے اور ایسا عام طور پر ہوتا ہے اور سلامتی کے برابر کوئی چیز نہیں۔“ [ رياض الصالحين: 389/2 طبع دار السلام ]
    یہ مضمون توحید ڈاٹ کام سے لیا گیا ہے۔
  2. nabeel

    nabeel رکن

    مراسلے:
    56
    بہت ہی اچھے موضوع کا آپ نے انتخاب کیا ہے۔ آجکل اس کے متعلق لوگوں میں آگاہی بہت ضروری ہے۔ الله آپکو اس کا اجر دے۔ آمین

اس صفحے کی تشہیر