رُقاعِ فقیر ـــــــــــــــــــــــــ فقیر دیاں لِیراں

محمد یعقوب آسی نے 'بزمِ نثر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏29 اگست 2017

  1. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی رکن

    مراسلے:
    91
    چیتا کرا دتا جے، تے لئو پھر ایہ نظم پڑھو وی ہُن! :emoji_pen_ballpoint::emoji_thunder_cloud_rain:

    اکھیاں وَنو وَنّ وِہار


    اکھ اٹھے تے سیس کٹاوے
    اکھ پھرے تے جان نوں آوے
    اکھ نِویں تے دل لے جاوے
    اکھ ہر پاسے کردی وار
    اکھیاں وَنو وَنّ وِہار
    تینوں اک نظر درکار

    نیویں اکھ تسلیم نشانی
    نیویں اکھ نے منیا جانی
    نیویں اکھ حیا دی کانی
    سدھی تیر کلیجیوں پار
    اکھیاں وَنو وَنّ وِہار
    تینوں اک نظر درکار

    نالے روون نالے ہسن
    دل دی کھول کہانی دسن
    ہاسیاں وچوں ہنجو وسن
    لِشکاں، بدّل، مارو مار
    اکھیاں وَنو وَنّ وِہار
    تینوں اک نظر درکار

    اکھیاں دے نال ملیاں اکھیاں
    عشق جھناں وچ ٹھلیاں اکھیاں
    پھیر نہ سکیاں گلیاں اکھیاں
    پُجی ہڈاں تیک پھوہار
    اکھیاں وَنو وَنّ وِہار
    تینوں اک نظر درکار

    اکھاں اگے عقل نمانی
    چپ چپیتی نمو جھانی
    جس نے اکھ دی رمز پچھانی
    دتا اپنا آپ وِسار
    اکھیاں وَنو وَنّ وِہار
    تینوں اک نظر درکار


    ’’جس دل اندر عشق سمانا‘‘
    اُس توں وڈا کون سیانا
    عقل دا جھوٹھا تانا بانا
    مکڑی جالا کچے تار
    اکھیاں وَنو وَنّ وِہار
    تینوں اک نظر درکار

    اکھ دی بولی ڈوہنگی گجھی
    اکھ دی رمز کسے نہ بجھی
    آسیؔ نوں خبرے کیہ سجھی
    اکھ دا قصہ چھوہیا یار
    اکھیاں وَنو وَنّ وِہار
    تینوں اک نظر درکار​
    ۳۰؍ دسمبر ۱۹۹۴ء
    کتاب: پِنڈا پَیر دھرُوئی جاندے (اشاعت 2015ء) محمد یعقوب آسی

    • زبردست زبردست x 1
  2. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی رکن

    مراسلے:
    91

    وہ قیامت نامے

    خط لکھنے کا تو رواج ہی جیسے مُک گیا۔ ایک چٹھی کے ہزار پہلو ہوتے تھے، ہوتے ہوتے بھلا دیئے گئے۔ نئے زمانے کے نئے وسائل اور نت نئے آلات رواج پا گئے تو چٹھی ہی نہ رہی؛ چٹھی سے جڑے جذبات کا اظہار تو ہو جاتا ہے، مگر وہ رومانویت نہ رہی۔ تہذیب کا ایک بہت اہم اور دلوں کو گرما دینے والا پہلو نظر سے اوجھل ہو گیا۔

    ایک زمانہ تھا بڑی بوڑھیاں اپنے پردیسی بیٹوں کے خط کا انتظار کیا کرتیں۔ خط آ جاتا تو اسے دیکھ کر ہی اماں کے چہرے کی آدھی جھُریاں غائب ہو جاتیں۔ پھر تلاش ہوتی کہ کون اس خط کو پڑھ کر سنائے گا۔ اور کوئی نہ ہو، ہٹی والا تو تھا ہی! جو نہ صرف خط پڑھتا بلکہ ممکنہ حد تک اماں کو سمجھانے کی کوشش بھی کرتا کہ فلاں شے اِس طرح ہوتی ہے، فلاں اُس طرح ہوتی ہے۔ ادھر اماں کو یہ فکر بھی کھا رہی ہوتی کہ میرا بیٹا روٹی پتہ نہیں کھا چکا ہے یا نہیں۔ کس نے پکائی ہو گی، سالن کیا تھا؛ وغیرہ۔ اماں وہ سارے سوال خط پڑھنے والے پر داغ دیتی؛ گویا اسی نے بیٹے کے پاس بیٹھ کر خط لکھوایا ہو ۔ فلاں بات کیوں نہیں لکھی، فلاں بات پوری کیوں نہیں لکھی۔ آئے ہائے ہائے؛ بے پایاں محبتوں کی وہ باتیں دلوں کی دھڑکنوں کو بے ترتیب کر دیتی ہیں۔ ان لمحوں میں ماں کا تمتماتا چہرہ کیا کیا رنگ نہ دکھلاتا ہو گا۔

    بیٹےکا خط آنے کی خبر ہر ملنے جاننے والے کو سنائی جاتی۔ خط کا جواب لکھنے کو پھر کسی ہٹی والے کی خدمات لی جاتیں، کاغذ بھی اسی کی ہٹی سے خریدا جاتا اور ڈاک کا دونی والا لفافہ بھی، جو ہٹی والا چونی میں دیتا۔ دونی اس کی اجرت سمجھ لی جاتی؛ خط لکھنے کی بھی اور ڈاک خانے جا کر ڈالنے کی؛ اسے سودا سلف لینے کو دن میں ایک بار تو شہر جانا ہی ہوتا تھا۔ اماں خط لکھواتے میں ایک بات چھ بار بتاتی اور سات بار پوچھتی کہ کیا لکھا ہے۔ اور ہر بار تاکید کرتی کہ کوئی ایسی بات نہیں لکھنی جو بیٹے کو ذرا بھی فکرمند کر دے۔ اس کا ابا بیمار رہتا ہے، کھیتی باڑی اب اس سے ہوتی نہیں پر یہ لکھنا نہیں ہے۔ فصل کی بوائی کے دنوں میں آ جائے تو کیا ہے، بوڑھے کی ہڈیوں کو کچھ دن آرام مل جائے گا؛ یہ بھی نہیں لکھنا۔ میری کھانسی اور جوڑوں کے درد کا بھی نہیں لکھنا! لکھ دے کہ بوائی کے دنوں میں آ جائے اس کا بیاہ بھی کرنا ہے۔ رشتوں کی گرمائش، دلوں کی ٹھنڈک اور یادوں کے جھونکوں کی وہ باتیں ہوتیں کہ لکھنے والا عمر بھر لکھتا رہے تو بھی پوری نہ ہوں۔

    جاری ہے ۔۔۔۔۔۔​
    فلک شیر صاحب، سلیمان صاحب۔
    • زبردست زبردست x 1
  3. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی رکن

    مراسلے:
    91
    اِک ذرا سی بات پر
    قیامِ پاکستان کا اعلان ’’پاکستان براڈکاسٹنگ سروس‘‘ لاہور سے ہوا تھا۔ بعد میں اس کے لئے ’’ریڈیو پاکستان‘‘ کا نام اختیار کیا گیا تھا۔ ان دنوں رواں نشریات کی ریکارڈنگ کا نظام کامل نہیں تھا، نشریات براہِ راست (لائیو) ہوتیں یا پھر پری ریکارڈڈ۔ کمپنی کے ڈائریکٹر جنرل غالباً زیڈ اے بخاری تھے؛ المعروف ’’بڑے شاہ جی‘‘۔ ان کو دورانِ کار کہیں ذرا فرصت ہوتی تو سٹاف روم میں آ کر بیٹھ جاتے۔ عملے کے وہ افراد جو اپنے وقت (نشریات) کے منتظر ہوتے یا، کر چکے ہوتے؛ وہاں گپ شپ لگا رہے ہوتے۔ بڑے شاہ جی کسی بھی غیرنمایاں جگہ پر بیٹھ جاتے، کوئی انہیں دیکھے تو سمجھے کہ اونگھ رہے ہیں۔ عملے کا کوئی فرد اس گپ شپ میں بھی کوئی لفظ یا جملہ غلط بول جاتا یا زبان کی کوئی غلطی کر جاتا تو شاہ جی اُسے فوراً ٹوک دیا کرتے۔ ایک دن کسی نے کہہ دیا: ’’شاہ جی ہم یہاں کون سی نشریات جاری کر رہے ہوتے ہیں، یہ تو محض گپ شپ ہے‘‘۔ بڑے شاہ جی کے جواب کا مفہوم تھا کہ آپ لوگ نشریات کے لوگ ہیں، آپ کی زبان، ہر قسم کی غلطیوں سے پاک ہونی چاہئے۔ یہ غلطیاں جنہیں آپ گپ شپ میں کر جاتے ہیں، یہ آپ کی عادت بھی بن سکتی ہیں۔ نشریے میں ایک لفظ غلط ادا ہو گیا، منہ سے نکلا آسمان کو پہنچا، بعد میں اُس پر جیسی بھی سر زنش ہوتی رہے نشریہ تو متاثر ہو چکا۔

    بڑے شاہ جی کی یہ بات ہمارے اہلِ قلم کے لئے ضابطے کی حیثیت رکھتی ہے۔ فیس بک اور اس نوع کے دوسرے میڈیا کو لے لیجئے؛ ہم چاہے معمول کا تبصرہ ہی کیوں نہ کر رہے ہوں، ہمیں اپنے الفاظ اور جملوں کی صحت اور معیار کے ساتھ ساتھ لہجے کا بھی خیال رکھنا ہو گا۔ ہم بول کر ایک بات کرتے ہیں تو ہمارے سامع کو علم نہیں ہوتا کہ ہمارے ذہن میں فلاں لفظ کے ہجے کیا ہیں، مگر جب ہم وہی بات لکھ کر کرتے ہیں تو ہماری لکھی ہوئی عبارت (املاء، ہجے، اعراب سمیت) ہمارے قاری کے سامنے ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر میں ایک لفظ بولتا ہوں ’’بِل کُل‘‘؛ میرا سامع مطمئن ہے کہ میں نے درست بولا؛ میں اسی لفظ کو لکھتے میں ’’بالکل‘‘ کی بجائے ’’بلکل‘‘ لکھ دوں تو میرا باشعور قاری کسی ردِ عمل کا اظہار کرے یا نہ کرے؛ بد دل ضرور ہو گا۔’’اتفاقاً، مثلاً، یقیناً‘‘ بولنے میں نون (تنوین) بولا جائے گا اور یہ جو الف آخر دکھائی دے رہی ہے (جس پر دوزبر کی علامت ہے) یہ الف صوت میں نہیں ہو گا۔ میں ان کو ’’اتفاقن، مثلن، یقینن‘‘ لکھوں گا تو لازماً غلط مانا جائے گا۔ نظیر اور نذیر بولنے میں ہم کوئی فرق نہیں کر پاتے (یہ ہمارے کلے کی ساخت کی بات ہے)، ہم ان کی املاء باہم تبدیل کرنے کے مجاز نہیں ہیں۔ ذرا، ذرّہ میں ذال کی جگہ ز، ض، ظ نہیں لے سکتا۔ زِرہ، زَری، زَر میں ذ، ض، ظ نہیں چلے گا؛ لفظ یا تو بے معنی ہو جائے گا، یا وہ کوئی اور لفظ ہو گا : نظیر (مثال) نذیر (ڈرانے والا) علم (پرچم) الم (دکھ) قلب (دل) کلب (کتا)۔ الفاظ کی ساخت اور ان میں مختلف حروف تہجی کا واقع ہونا ایک پوری تہذیب کا عکس ہوتا ہے، یہ محض آوازیں نہیں ہوا کرتیں۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہجے وہی، صوت بھی وہی مگر الفاظ مختلف! جون (شمسی سال کا چھٹا مہینہ)، جون (نسل) ؛ جوں (جیسے)، جوں (ایک خون آشام کیڑا)؛ پر (حرفِ جار)، پر (پنکھ)؛ وغیرہ۔

    اکثر معاملات میں عام سوجھ بوجھ کافی ہوتی ہے، تاہم مسلسل مطالعہ بہت ضروری ہے۔ اردو میں صدہا الفاظ ایسے ہیں ، یہاں کیا کچھ نقل کیا جائے۔ ادب سے تعلق رکھنے والا شخص کتابوں اور مطالعے سے بے گانہ نہیں رہ سکتا، اس کے پاس اور کچھ بھی نہ ہو، دو چار اچھی ڈکشنریاں ضرور ہونی چاہئیں۔ فی زمانہ انٹرنیٹ پر بے شمار کتابیں مفت ڈاؤن لوڈ کے لئے بھی دستیاب ہیں۔ جسے علم کی پیاس ہو گی، وہ اِن کتابوں کو تلاش بھی کر لے گا۔ املاء کی غلطیوں کے رواج پانے کا سب سے بڑا عنصر محنت سے جی چرانے اور مطالعے سے فرار کا رویہ ہے۔ ہمارے بہت سے اہلِ قلم نے بھی انٹرنیٹ پر میسر یونی کوڈ اور خودکار املاء کو کافی و شافی جان لیا، حالانکہ وہ ابھی اپنے تعمیری مراحل میں ہے اور اس کی تکمیل میں ابھی اچھا خاصا وقت لگے گا۔ کمپیوٹر سے ملنے والی املاء اور ہجوں کو غیر مشروط طور پر سند مان لینا (اہلِ ادب کے لئے خاص طور پر) درست رویہ نہیں۔

    علم فی نفسہٖ بہت وسیع مفاہیم رکھتا ہے۔ بات اردو زبان میں املاء و اصوات کی ہو رہی ہے۔ پڑھے لکھے مسلمان معاشرے میں قیام اللیل اور اقیمواالصلوٰۃ جیسی تراکیب اجنبی نہیں ہیں۔ قیام اللیل میں میم کے بعد کا الف اور ایک لام بولتا نہیں ہے، دوسرا لام مشدد ہے۔ آوازوں کو کافی سمجھنے کی غلطی ہمیں کسی ایسی املاء تک بھی لے جا سکتی ہے: ’قیاملّیل‘‘ ؛اقیمواالصلوٰۃ میں میم کے بعد ایک واو، دو الف، ایل لام بولنے میں نہیں آتے۔ املاء کو اصوات تک محدود کرنے کی غلطی اس کو ’’اقیمُصّلات‘‘ بنا دے گی؛ چہ عجب! ہمیں اصوات اور تہذیبی عناصر کو ساتھ لے کر چلنا ہو گا۔ ’’املاء صرف اصوات تک‘‘ کا فارمولا زیادہ سے زیادہ وہاں لاگو ہو سکتا ہے (اور وہ بھی نامکمل) جہاں ہم کسی قطعی مختلف رسم الخط کی حامل زبان (مثلاً انگریزی، فرانسیسی، چینی، روسی، جاپانی، کورین؛ وغیرہ) کا تلفظ اپنے خط میں لکھنے کی کوشش کریں۔ اس شعبے میں بھی اہلِ علم نے کچھ ضوابط اپنا رکھے ہیں، جن کا احاطہ کرنا ایک الگ علمی شعبہ ہے، جو آگے کئی شعبوں میں بٹا ہوا ہے۔ یہاں اس کا خاکہ پیش کرنا بھی محال ہے۔ اردو کا گرمکھی، ہندی، دیوناگری رسوم الخط سے فرق بھی حقیقت ہے؛ بہت سی آوازیں تک ایک دوسری تحریر میں مختلف ہیں۔ تاہم یہ فاصلہ تہذیبی قرب اور صدیوں کے معاشرتی اشتراک کی بدولت بڑی حد تک پٹ جاتا ہے، اور ہمیں بہت زیادہ اجنبیت محسوس نہیں ہوتی۔ بہ این ہمہ یہ بات کسی بھی شک وشبہ سے بالاتر ہے کہ اردو کے لئے فارسی رسم الخط ہی موزوں ہے، جیسا (عربی اور فارسی پر کچھ اضافی حروف کے ساتھ) اس وقت رائج ہے۔

    ایک بے بنیاد اور بے ڈھب طعنہ جو اردو کو دیا جاتا ہے کہ: ’’جی اس میں تو سارے الفاظ، اسم، فعل ، حرف دوسری زبانوں کے ہیں؛ اپنا کچھ بھی نہیں، اسی لئے تو اس کو لشکری کہتے ہیں‘‘، وغیرہ وغیرہ۔ ایک اندازے کے مطابق اردو میں دنیا کی ۳۰ زبانوں کے الفاظ ہیں۔ انگریزی کی ایک بہت معتبر لغت چیمبرز انگلش ڈکشنری کے ۱۹۷۶ء ایڈیشن میں ۷۹ زبانوں کے ناموں کی فہرست شامل ہے جن کے الفاظ انگریزی زبان میں شامل ہیں۔ ایسا صرف انگریزی یا اردو سے خاص نہیں۔ ماسوائے اس زبان کے جو حضرت آدم علیہ السلام کو اللہ کریم نے عطا کی تھی، دنیا کی ہر زبان اپنے لوگوں کے مکمل تہذیبی پس منظر میں شامل ان تمام زبانوں سے مستفیض ہوتی ہے جو کسی نہ کسی انداز میں ان لوگوں میں رائج رہی ہوں۔ بلکہ یوں کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ دنیا میں مختلف وقتوں میں رائج تمام زبانوں کا منبع وہی حضرت آدم علیہ السلام والی زبان ہے۔ یہ تو ایک فطری عمل ہے، اور فطرت سے فرار ممکن نہیں۔ ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ ہماری اردو اس وقت کہاں کھڑی ہے، اس کا لسانی سرمایہ کتنا ہے، اس کے متداول قواعد کیا ہیں؛ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اردو کے بیٹے ہونے کے دعویدار اپنے دعوے میں کتنے مخلص اور سچے ہیں۔

    ہمیں زبان کی صورت میں جو کچھ اپنے بزرگوں سے ملا ہے، اس کی قدر لازم ہے۔ اس میں کہیں کوئی فروگزاشت ہے تو اس کا قابلِ عمل اور قابلِ قبول حل پیش کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ عربی، فارسی، پنجابی، ہندی اور دیگر مقامی زبانیں اردو کے خمیر میں شامل ہیں؛ آپ ان کو نکال نہیں سکتے۔ اس لئے غیرضروری تعصبات سے بچے رہئے، اور زبان کی روایات کو رواں رکھئے۔ املاء، تلفظ، ہجاء، جملے کی ساخت، محاورہ، روزمرہ، ضرب الامثال، تشبیہات، علامات، رعایات، رموز، استعارے، ترکیب سازی کے ضابطے؛ ان کا اکرام کیجئے۔ اور ان کے ساتھ رہتے ہوئے آگے بڑھئے، نہیں تو آپ دوسروں سے الگ ہو جائیں گے۔

    یہ بات خاص طور پر یاد رکھنے کی ہے کہ عالمی سطح پر زبان کا درجہ اس کے خط، حروف ہجاء کی تعداد، قواعد وغیرہ کی بنیاد پر متعین نہیں ہوا کرتا، اس بات پر ہوتا ہے کہ اس زبان کو بولنے والے کتنے مؤثر ہیں اور کہاں کہاں! دنیا میں مقابلہ لفظوں سے نہیں،قومی کارناموں اور اثرپذیری سے ہوا کرتا ہے۔ آپ کے جسم میں جان نہ ہو تو آپ کی چیخ پکار بھی کوئی نہیں سنے گا، کسی پر حکم جاری کرنا تو دور کی بات ہے۔

    دورِ حاضر میں ایک اور طرزِ فکر کو ہوا دی جا رہی ہے: ’’زبان مذہب سے بالا تر ہوتی ہے، یا زبان کا کوئی مذہب نہیں ہوتا‘‘۔ زبان کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ہو گا، زبان لکھنے، بولنے پڑھنے والے کا تو کوئی نہ کوئی مذہب ضرور ہوتا ہے (لامذہبیت بھی تو ایک مذہب ہے!)۔ کوئی حمد کہتا ہے، نعت، منقبت، سلام، کہتا ہے؛ کوئی بھجن لکھتا ہے؛ کوئی اپنے دیوتاؤں کے قصیدے لکھتا ہے؛کوئی ناگ دیوتا کی مدح سرائی کرتا ہے؛ کوئی جو کچھ بھی لکھتا ہے وہ زبان کا حصہ ہے تو پھر زبان کا مذہب بھی ہے۔ ہر زبان کا مذہب ہوتا ہے! وہی جو اس کے لکھنے والے کا ہوتا ہے۔ لکھنے والا لادین ہے تو اس کی زبان بھی لادین ہے۔ یہاں کتنے لوگ ایسے ہیں؟ اردولکھنے والے پاکستانی، تقریباً سو فی صد مسلمان ہیں؛ ہندوستان کا مجھے نہیں پتہ، آدھے تو رہے ہوں گے۔ اردو ادب میں منبر و محراب کی گونج صاف سنائی دیتی ہے، مصنف چاہے ہندو ہو، پارسی ہو، سکھ ہو، بدھ ہو، جین ہو، کوئی ہو، اردو کا اسلوب اپنا ایک مجموعی رنگ رکھتا ہے۔ انگریزی ادب کو دیکھ لیجئے، وہاں کسی نہ کسی انداز میں صلیب بول رہی ہے۔ چین کی لوک داستانوں سے جدید ترین موویز تک ڈریگن کا راج ہے۔ اگرایک طبقہ زبان کو سیڑھی کے طور پر استعمال کر کے لادینیت پھیلانا چاہتا ہے تو وہ اس کا مشن ہے، چاہے کسی نے سونپا ہو۔ اس پر بحث کا فائدہ کچھ نہیں۔

    کہتے ہیں انگریز سرکار نے اپنے کسی مجسٹریٹ کو مرزا غالب کے پاس بھیجا کہ ان سے ہندوستانیوں کی زبان سیکھے تاکہ اپنے روز مرہ کے امور میں ان لوگوں کی باتیں سمجھ سکے۔ مرزا نے کہا: ’’جاؤ میاں، کسی گھسیارے سے سیکھو، میں تو قلعے کی زبان بولتا ہوں‘‘۔ مرزا کے اس قول کے متعدد پہلو ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ زبان کے بھی طبقات ہوتے ہیں۔ ایک مبتذل ہے تو ایک بازاری ہے، ایک بازار کا ہے، ایک عامیانہ ہے تو ایک عوامی ہے، ایک اشرافیہ کا لہجہ ہے تو ایک اہلِ ادب کا ہے، ایک خواتین کا ہے تو ایک اڈے کوٹھے کا ہے۔ ہر لہجے کی اپنی اپنی افادیت ہے، اپنی اپنی لفظیات ہے اور اپنا اپنا انداز ہے؛ کسی پر گرفت کرنا مقصود نہیں۔ ایک دوست نے بہت اچھی مثال دی: ’’بیٹھ، بیٹھو یار، بیٹھئے، تشریف رکھئے، تشریف فرمائیے، نشست منتظر ہے‘‘۔ زبان میں شائستگی اور شستگی جوں جوں بڑھتی جائے گی زبان کی لذت بڑھتی جائے گی۔ زبان میں جتنا جمالیاتی عنصر شامل ہو گا زبان اتنی ہی ادبی ہوتی چلی جائے گی۔ زبان میں معنی آفرینی کی سطح سے اس کی گہرائی اور گیرائی کا اندازہ ہوتا ہے۔ زبان زندگی کے جتنی قریب ہو گی، اتنی اس کی اثر پذیری بڑھے گی۔ زبان اور مٹی کا رشتہ اٹوٹ رشتہ ہے، یہ اپنی مٹی سے کٹی تو مر گئی، لوگ اپنی مٹی سے کٹ گئے تو بھی زبان مر گئی۔ لوگوں میں جان نہ رہی تو زبان ادھ موئی ہو گئی۔لوگوں نے اپنی قدروں اور قدر و منزلت کا جتنا تحفظ کیا، اور دوسروں پر جس حد تک اثر انداز ہوئے، زبان میں بھی اتنی ہی وسعت اور ہمہ گیری آتی گئی۔ گویا زبان کے یہ چار عناصر ہوئے :مٹی، خون، فکر، اور گویائی۔

    بات یہاں پہنچی کہ اگر مجھے اور آپ کو ادب تخلیق کرنا ہے، پڑھنا ہے اور ادب میں اچھی روایات قائم رکھتے ہوئے، نئی طرحیں ڈالنی ہیں تو مجھے اور آپ کو (بلا استثناء) مطالعے اور محنت کی ضرورت ہے، اور رہے گی۔مطالعہ اور محنت سے ہل من مزید کا تقاضا تیز تر ہوتاہے۔ اور علم میں وسعت آتی ہے۔

    محمد یعقوب آسیؔ (ٹیکسلا) پاکستان ۔۔۔ بدھ: ۲۰؍ ستمبر ۲۰۱۷ء​


    جناب فلک شیر چیمہ، جناب نیرنگ خیال ، جناب سلیمان ، اور دیگر اہلِ درد کے نام
    • زبردست زبردست x 1
  4. محمد یعقوب آسی

    محمد یعقوب آسی رکن

    مراسلے:
    91
    ۔رؤف امیرؔ ۔۔ ایک سیمابی شخصیت (1)۔
    یادوں کے جھروکوں سے​

    رؤف امیر مرحوم میرے سینئر مگر بے تکلف دوست تھے، اللہ غریقِ رحمت کرے۔ سیمابی مزاج پایا تھا، زبان کے کھُردرے تھے، مگر دل کے صاف۔ دوستوں کو ناراض کرنے کا فن بھی جانتے تھے اور ناراض ہونے کا بھی۔ اپنی غلطی کو تسلیم کرنا یا نہ کرنا بھی ان کے مزاج کی وقتی رَو پر منحصر ہوتا۔ کالج میں اردو کے استاد تھے۔ زبان و ادب سے ان کی وابستگی کا ایک پہلو دیکھئے۔ سال ختم ہوتا تو کہا کرتے: اس سال میں نے دو شاعر بنائے ہیں، تین بنائے ہیں؛ وغیرہ۔
    حلقے کے اجلاسوں میں اہتمام سے شریک ہوا کرتے، مگر تاخیر سے آتے۔ تنقیدی نشست میں عام طور پر خاموش بیٹھے رہتے۔ ان سے کہا جاتا کہ پیش کردہ فن پارے پر بات کریں تو کہتے: میں سن رہا ہوں۔ سارے دوست گفتگو کر چکتے تو رؤف امیر کے پاس بات کرنے کو خاصا کچھ جمع ہو چکا ہوتا، پھر وہ بے تکان بولتے۔ فن پارے کی تعریف و تحسین پر مائل ہوتے تو زمین و آسمان کے قلابے ملا دیتے، تحقیر و تنقیص پر اتر آتے تو فن پارے اور فن کار دونوں کو پاتال میں پھینک دیتے۔
    ایک دن میں نے کہا: "رؤف امیر! یار تمہاری تعریف اور تنقیص اکثر بے جا ہوتی ہے"۔ ہنس کر کہنے لگے: "یہ بات تو مجھے طاہر بخاری بھی کہا کرتا ہے"۔ ایک بات ان میں بہت اچھی تھی؛ زبانی گفتگو میں وہ جیسی بھی لاپروائی دکھاتے ہوں، تحریروں میں اپنی ادیبانہ اور ناقدانہ ذمہ داری کا ہمیشہ پاس کیا کرتے۔ ایک بات وہ بہت سنجیدگی سے کہا کرتے: "کہنے کو ہم جو چاہے کہتے رہیں، بے تکلف دوستوں میں اور بھی لچک مل جاتی ہے، یہ سب کچھ بجا۔ مگر یار! تنقید بہت ذمہ دارانہ کام ہے، بہت سنبھل کر لکھنا چاہئے۔ اس میں تنقیص اور تقریظ دونوں سے بچنا ہوتا ہے۔ آپ نے ایک شاعر ادیب کا تنقید میں کباڑا کر دیا یا اس کو آسمان پر چڑھا دیا، تو آپ کا باشعور قاری آپ کی ایسی کی تیسی کر کے رکھ دے گا"۔ نہ تو ایسا کھردرا سچ بولنے والا کوئی رہا، نہ سننے والا۔
    ۔۔۔
    فقط: محمد یعقوب آسیؔ (ٹیکسلا) پاکستان 5 ۔ اکتوبر 2017ء ۔​

اس صفحے کی تشہیر