پشتو- د شاکر صيب يو زړه پوري کلام

نزرانہ نے 'علاقائی زبانیں' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏25 مارچ 2014

  1. نزرانہ

    نزرانہ رکن

    مراسلے:
    147

    دنيا وه خامخا به چا په چا پوري خاندل
    زه سومره بختور ووم تا په ما پوري خاندل
    خبره که د ظرف شي او د وخت شي منتقي ده
    بيکا اور اورکي د نمر رنړا پوري خاندل
    د ميني ليوني د دار په سر په پوره صدق
    په زړه کي د خپل جرم په سزا پوري خاندل
    رنځوري شان پري مورد بيوسۍ ژړا کوله
    رنځور شانتي بچي ورته په خوا پوري خاندل
    انسان وو خو د خپلي مرتبي نه خبر نه وو
    دنيا ته غاړه وتے وو دنيا پوري خاندل
    چي زه درپوري خاندمه او ته راته مسکے ي
    شاکره سومره خوند کوي په تا پوري خاندل
    • پسند پسند x 2
  2. نزرانہ

    نزرانہ رکن

    مراسلے:
    147
    ایڈمن صاحب 2 مسلے ہیں۔
    ایک عنوان والی جگہ میں پشتو پر انگلش کوڈ کیسے سیلکٹ کریں گے۔
    دوسرا فونٹ انسٹال نہیں ہے او اگر ہم لفظ کی سائز بڑھانا چاہیں تو کیسے
    • معلوماتی معلوماتی x 1
  3. فلک شیر

    فلک شیر منتظم

    مراسلے:
    1,157
    لیکن اس وقت سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ آپ اس کلام کا آزاد سا ترجمہ عنایت فرمائیں ، تاکہ غیر پشتو خواں حضرات و خواتین کو سمجھنے میں آسانی ہو۔ :)
    • شکریہ شکریہ x 1
    • متفق متفق x 1
  4. نزرانہ

    نزرانہ رکن

    مراسلے:
    147
    جی ضرور مگر مجھ سے ٹھیک ہوگا یا نہیں۔ کیونکہ میں نے کوشش کی مگر وہ لہجہ اور وہ احساس میں اپنے ترجمہ میں نہ لا سکا جو شاعری میں ہے۔ چلو ایک کوشش کرتی ہوں۔
  5. نزرانہ

    نزرانہ رکن

    مراسلے:
    147
    دنيا وه خامخا به چا په چا پوري خاندل
    زه سومره بختور ووم تا په ما پوري خاندل

    دنیا تھی ضرور کوئی کسی پہ ہنستا تھا
    میں کتنا خوش قسمت تھا تو مجھ پہ ہنستا تھا
    خبره که د ظرف شي او د وخت شي منتقي ده
    بيکا اور اورکي د نمر رنړا پوري خاندل

    بات اگر ظرف کی ہو اور وقت کی ہو منتقی ہے
    کل رات ایک جگنو سورج کی روشنی پہ ہنستا تھا
    د ميني ليوني د دار په سر په پوره صدق
    په زړه کي د خپل جرم په سزا پوري خاندل

    محبت کا پاگل دار کے سر پر پورے صدق کے ساتھ
    اپنے ہی دل میں اپنے جرم کی سزا پر ہنستا تھا
    رنځوري شان پري مورد بيوسۍ ژړا کوله
    رنځور شانتي بچي ورته په خوا پوري خاندل

    ایک بیمار جیسی ماں کا اس پہ بے بسی کا رونا
    ایک بیمار جیسا بچہ اپنی ماں کے رونے پہ ہنستا تھا
    انسان وو خو د خپلي مرتبي نه خبر نه وو
    دنيا ته غاړه وتے وو دنيا پوري خاندل

    انسان تھا مگر اپنے مرتبے کا پتہ نہیں تھا اسے
    دنیا کو گلے لگا یا تھا اور دنیا اس پہ ہنستا تھا
    چي زه درپوري خاندمه او ته راته مسکے ي
    شاکره سومره خوند کوي په تا پوري خاندل

    جب میں تجھ پہ ہنستا ہوں اور تم مسکراتے ہو
    شاکر کتنا مزہ آتا ہے تم پہ ہنسنا

    کچھ عجیب سا لکھ دیا ہے مگر میری اردو اتنی اچھی نہیں ہے۔ البتہ میں تشریح اچھی کر سکوں گی شاید۔
    • پسند پسند x 1
    • زبردست زبردست x 1
  6. فلک شیر

    فلک شیر منتظم

    مراسلے:
    1,157
    عمدہ کوشش :)
  7. فلک شیر

    فلک شیر منتظم

    مراسلے:
    1,157
    خوشحال خاں خٹک کی کچھ چیزیں بھی پیش کیجیے ، بلکہ یوں کیجیے پشتو شاعری کے بڑے ناموں کا مختصر تذکرہ پیش کیجیے پہلے، پھر ان کی چیدہ چیدہ چیزیں ۔ یہ زیادہ بہتر رہے گا میرے خیال میں ۔
    خیر یہ تجویز ہے :)
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
  8. نزرانہ

    نزرانہ رکن

    مراسلے:
    147
    خوب کہا آپ نے، مگر ابھی تک کوئی الگ سیکشن نہیں بنا پشتو کے لئے۔ کوئی پراپر جگہ نہیں ہے جہاں میں اپنے پوسٹس کروں۔
  9. فلک شیر

    فلک شیر منتظم

    مراسلے:
    1,157
    آپ ادب اور شاعری میں پوسٹ کرتی رہیں، بعد میں اگر زمرہ بن گیا، تو وہاں منتقل ہو سکے گا۔
    میرے علم کے مطابق پشتو شاعری میں رزمیہ آہنگ بڑا نمایا ں ہے، میری زیادہ دلچسپی اس میں ہے۔
    • پسند پسند x 2
  10. نزرانہ

    نزرانہ رکن

    مراسلے:
    147
    میں نے لکھی ہے سب۔ جو میری فیورٹ غزل اور شاعری ہے سب میرے پاس لکھی پڑی ہے۔ ابھی کچھ شیئر کرتی ہوں،۔
    • شکریہ شکریہ x 2

اس صفحے کی تشہیر