دینی مدارس کی ضرورت واہمیت

Barkat نے 'قرآن کریم' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏12 جنوری 2018

  1. Barkat

    Barkat رکن

    مراسلے:
    1
    دینی مدارس کی ضرورت واہمیت.
    فضيلة الشیخ ذوالفقار علی طاہر رحمہ اللہ کی آخری تحریر.
    اکتوبر2017ء کے آغاز میں کراچی یونیورسٹی سے قومی سلامتی کے اداروں کے ہاتھوں کچھ تلامذہ گرفتار ہوئے،جن کا دہشت گرد تنظیموں سے تعلق تھااور وہ وطن عزیز پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں ملوث تھے۔ اس واقعہ پر ہمارا تبصرہ یہ ہے کہ دہشت گرد،تلامذہ کا روپ دھار کر،دہشت گردی کی کاروائیاں کررہے تھے۔ اس میں کراچی یونیورسٹی کا کوئی قصور ہے نہ وہاں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ وطالبات کا۔
    طلبہ کےروپ میں دہشت گردی کا ارتکاب کرنے والوں کی وجہ سے تعلیم گاہوں یا ان میں تعلیم حاصل کرنے والوں پر تنقید ناجائز وحرام ہے۔
    بالکل اسی طرح دینی طالب علموں کا روپ دھارکر دہشت گردی کرنے والوں کی وجہ سے دینی مدارس وطلبہ پر تنقید کرنا بھی ناجائز وحرام ہے۔
    تعلیم گاہیں دینی ہوں یا دنیوی، سب کا کام طلبہ میں شعور وآگہی بیدار کرنا ہے۔بلکہ دینی اداروں میں حاصل کی جانے والی تعلیم تو دنیا وآخرت،دونوں کوسنوارنے کا باعث بنتی ہے۔
    لہذا بہروپئے دہشت گردوں کی وجہ سے اس قدر خیروبھلائی کے باعث مقامات پرتنقید کومحض ظلم وزیادتی سے ہی تعبیر کیا جاسکتاہے۔

    قارئین کرام! ذیل میں اس خیرِکثیر کاتفصیلی تذکرہ کیاجاتاہے جو دینی مدارس میں تعلیم حاصل کرنے سے انسان کا نصیب بنتاہے:
    اللہ تبارک وتعالیٰ کا فرمان ہے:
    [اِنَّ الدِّيْنَ عِنْدَ اللہِ الْاِسْلَامُ۝۰ۣ ](آل عمران:۱۱۹)
    اللہ کے نزدیک دین، اسلام ہی ہے۔
    ایک اور مقام پر فرمایا:
    [وَمَنْ يَّبْتَـغِ غَيْرَ الْاِسْلَامِ دِيْنًا فَلَنْ يُّقْبَلَ مِنْہُ۝۰ۚ ]
    (آل عمران:۸۵)
    جس نے اسلام کے علاوہ کوئی اور دین تلاش کیا تو وہ قابل قبول نہیں (ہوگا)۔
    دین اسلام کی اعلیٰ ترین خوبی جو اسے دیگر تمام ادیان سے ممتاز بناتی ہے،اللہ تعالیٰ کےاِس فرمان میں مذکور ہے:
    [اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا۝۰ۭ](المائدہ:۳)
    آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کردیا ہےاور اپنی نعمت تم پر تمام کردی ہے اور تمہارے لئے بطور دین، اسلام کو پسند کرلیا ہے۔

    یہود جب اس آیت کو سنتے تواظہار افسوس کرتے اور کہتے کہ کاش یہ آیت ہمارے دین سے متعلق نازل ہوئی ہوتی۔یہود کی یہ حسرت اس بناء پر تھی کہ اس آیت میں اللہ نے اسلام کے مکمل دین ہونے کی بشارت دی ہےاگربنظرغائر اسلام کا مطالعہ کیاجائے تو یہ حقیقت روزروشن کی طرح الم نشرح ہوتی ہے کہ اسلام تمام شعبہ جاتِ زندگی سے متعلق بہترین رہنمائی کرتا ہے۔ اسلام میں عزت کی حفاظت کیلئے رجم کا قانون موجود ہے۔ مال کی حفاظت کیلئے قطع ید(ہاتھ کاٹ دینے)کاقانون موجود ہے۔ اور جان کی حفاظت کیلئے قصاص ودیت کا قانون موجود ہے۔ الغرض کہ بشمول داخلی وخارجی معاملات زندگی کے ہر معاملے سے متعلق اسلام میں رہنمائی موجود ہے۔اس قدر کہ اسلام میں قضاءِ حاجت وغیرہ کیلئے بھی احکامات موجود ہیں، یہی وجہ تھی کہ مشرکینِ مکہ صحابہ کرام سے استہزاء کرتے کہ یہ تمہارا کیسا نبی ہے جو تمہیں قضائے حاجت کا طریقہ بھی بتلاتاہے، صحابہ کرامyجواباً فرماتے کہ یہی توہمارے دین کے مکمل ہونے کی دلیل ہے کہ جس میں زندگی کا ہرمعاملہ مذکورہے۔

    الغرض:آمدم برسرمطلب :جب اسلام میں ہرمعاملے کی رہنمائی موجود ہے تو پھر آج مسلمان کیوں دربدرہیں، آج مسلمان دوسرے مذاہب کی جانب کیوں دیکھ رہے ہیں، مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے اسلام جیسی دولت سےمالامال کیا تھا تو پھر وہ آج کیوں کنگال ہیں؟ اس کا واحد سبب یہ ہے کہ دینی مدارس جو اسلام کے مضبوط قلعے تھے، مسلمانوں نے ان کی سرپرستی اور ان میں اپنے بچوں کو تعلیم دلانے سے منہ موڑ لیا۔ آج مسلمانوں کی تمام تر توجہ عصری علوم کی طرف ہے۔آج مسلمان گھرانے میں پیدا ہونے والے ہر بچے کے والدین کی اولین کوشش بچے کو دنیاوی تعلیم دلانے کی ہوتی ہے۔ البتہ بچہ جب دنیاوی تعلیم میں ہر طرح سے ناکام ہوجاتا ہے تب اسے مدرسہ کا راستہ دکھایاجاتاہے کہ یہ ڈاکٹر،انجینئر،پروفیسرولیکچرار تو نہ بن سکا اب مدرسہ میں پڑھ کر مولوی بن جائے۔ دینی مدارس سے آج کے مسلمانوں کا بس یہی تعلق بچاہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ آج مسلمان دین سے بالکل کورے ہیں، اس قدر کہ دین کے بنیادی مسائل، جن سے دین کی پہچان ہوتی ہے، سے بھی وہ بالکل نابلد ہیں۔

    دورحاضر میںدینی مدارس کی کس قدر ضرورت ہےاس کا اندازہ لگانے کیلئے آج کے مسلمان معاشرے پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالنے سے تمام صورتحال واضح ہوجاتی ہے۔ آج مسلمان مفلوک الحال ہیں۔ معاشرے میں بے دینی ،فحاشی اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی معمول بن گئی ہے، یہاں تک کہ مسلمانوں کے دلوں سے احساسِ گناہ بھی ختم ہوچکا ہے، وہ گناہ کو گناہ نہیں سمجھتے، مسلمانوں میں توحید ناپیداورشرک عام ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ جو پوری کائنات کاخالق ،مالک ورازق ہے، کو چھوڑ کر غیراللہ کے دروازوں کی خاک چھاننا، ان کے لئے منت ماننا، غرض رزق، روزی،شفاءو برکت کا غیراللہ سے سوال کرنا،آج کے مسلمان نے اپنا شیوہ بنالیاہے۔ مسلمانوں کی اس حالتِ زار پر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بالکل درست منطبق ہورہا ہےکہ:
    [وَمَا قَدَرُوا اللہَ حَقَّ قَدْرِہٖ۝۰ۤۖ ](الزمر:۶۷)
    یعنی انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حقیقی قدر کو نہیں پہچانا۔
    یہ سب کچھ دینی مدارس سے دوری کے بسبب ہے۔آج بھی اگر مسلمان اپنی موجودہ روش ترک کرکے دینی مدارس کو کماحقہ اہمیت دیں تو وہ خوشحال اور اللہ تبارک وتعالیٰ کے رحمت کے حقیقی حقدار بن سکتے ہیں۔

    مسلمان اگرعمیق نگاہ سے دیکھیں تو انہیں اپنے ہر مسئلے کاحل دینی مدرسہ سے ہی ملے گا۔چندمثالیں ملاحظہ ہوں:

    1۔ عقیدہ کی درستگی :عقیدہ کی درستگی پر انسان کی دنیوی واخروی کامیابی کاانحصار ہے۔ اپنا عقیدہ مطابقِ وحی بنانے کیلئے دینی مدارس میں تعلیم حاصل کرنا ضروری ہے۔

    2۔ طریقہ نبوی کے مطابق نماز کی ادائیگی:رسول اکرم ﷺ کا فرمان ہے کہ:[صلوا کما رأیتمونی أصلی]
    یعنی: نماز اسی طریقہ سے پڑھوجس طرح مجھے پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو۔
    رسول اللہ ﷺ کی نماز کا طریقہ دینی مدارس میں تعلیم حاصل کرنے سے ہی ملے گا۔

    3۔ امربالمعروف اور نہی عن المنکر :ہر معاشرہ کی اصلاح کیلئے بے حد ضروری ہے، اس کیلئے واعظ اور داعی کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ ضرورت بھی مدارس پوری کرتے ہیں۔

    4۔ دین اسلام میں جہاد فی سبیل اللہ کی بڑی اہمیت ہے یہی وجہ ہےکہ ہر اسلامی ریاست مجاہدین (افواج) تیار کرتی ہے۔جہاد کیا ہے؟ ایک اسلامی ریاست کی اس حوالے سے کیا ذمہ داری ہے؟ جہاد فی سبیل اللہ کی کیافضیلت ہے؟ غازی کیلئے کیا اجروثواب ہے؟ شہید کیلئے کون سےانعام واکرام ہیں؟ ایک مجاہد(فوجی) میں کون سی صفات ہونی چاہئیں، ان سوالات کے کماحقہ جوابات دینی مدارس میں تعلیم حاصل کرکے ہی لئے جاسکتے ہیں۔

    ثابت ہوا کہ مسلمانوں کے تمام مسائل کاحل دینی مدارس میں تعلیم حاصل کرنے میں ہے۔ توپھرکیوں آج مسلمان دینی مدارس سے دوری اختیار کیے ہوئے ہیں؟ اگر آج بھی مسلمان دینی مدارس سے اپنا تعلق استوار کرلیں تو ان کے تمام مسائل قرآن وحدیث کے مطابق حل ہوں گے اور اس کی برکت سے ان کی ہر قسم کی مصیبت وپریشانی ختم ہوجائے گی اور وہ آسودہ حال ہوجائیں گے۔
    آخر میں کچھ تجاویز پیش کی جاتی ہیں جو دینی مدارس کانظام چلانے کے حوالے سے ممدومعاون ثابت ہوسکتی ہیں:

    1۔ دینی مدارس میں عربی وفارسی کے ساتھ ساتھ عصری علوم کا بھی انتظام ہونا چاہئے، اس سے دینی طالبِ علم کی صلاحیت اجاگر ہوگی، اس کی گفتگو میں سلیقہ آئے گا اور وہ مختلف زبانوں کی کتب کا مطالعہ کرسکے گا، اس سے اس کیلئے دعوت وتبلیغ میں آسانی ہوجائے گی۔

    2۔ دینی مدارس کاماحول خالص دینی، مذہبی وتربوی ہونا چاہئے، سیاست،جمہوریت اور پارٹی بازی سے اساتذہ وطلبہ کو مکمل گریز کرنا چاہئے کیونکہ ان امور میں پڑنے سے اصل مقصد فوت ہوجاتا ہے، آخرت کی فکر نہیں رہتی، محض شہرت ودنیا کی کامیابی پرنظر ٹک جاتی ہے۔

    3۔ دینی مدارس کا تعلیمی وتربوی نظام علماء کے ہاتھوں میں ہونا چاہئے کیونکہ علماء ہی مدارس کے طلبہ واساتذہ کے مزاج وطبیعت سے واقف ہوتے ہیں۔ طلبہ واساتذہ سے کیسا رویہ رکھاجائے، علماء اسے بہتر جانتے ہیں کیوںکہ وہ خود ان مراحل سے گزر چکے ہوتے ہیں۔ لہذا اگر مدارس کا نظام علماء کے ہاتھوں میں ہوگا تو اس کے بہترنتائج نکل سکتے ہیں۔ البتہ علماء بطور معاون غیرعالم احباب کو اپنے ساتھ رکھ سکتے ہیں جو ادارے کے خارجی امور میں معاونت کرکے اپنی دنیاوآخرت سنوار سکتے ہیں۔

    آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ دین کے ان قلعوں کومضبوطی بخشے اور یہاں سے قال اللہ وقال الرسول(ﷺ)کی صدائیں سدا بلند ہوتی رہیں اور اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو بھی توفیق عطا فرمائے کہ وہ بھی اپنا مال واولاد دینی مدارس کیلئے وقف کریں اور اپنا کچھ وقت دینی مدارس کے علماء کے ساتھ گزاریں۔
    ایں دعا از من است واز جملہ جہاں آمین باد

اس صفحے کی تشہیر