دور حاضر میں الیکٹرونک میڈیا کے نقصانات

دفاع السلام نے 'متفرق موضوعات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏23 مئی 2013

  1. دفاع السلام

    دفاع السلام رکن

    مراسلے:
    12
    [​IMG]
    (زوجہ محمد حسین میمن)
    موجودہ دور میں شاید ہی کوئی گھر ایسا ہو جو ''ٹیلی وژن'' سے خالی ہو۔ ٹی وی (ٹیلی وژن) جیسی سائنسی ایجادات کے فوائد تو کم ہی نظر آتے ہیں مگر ان کے نقصانات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ ڈش، کیبل اور انٹرنیٹ یہ وہ آلات ہیں جن کے ذریعے فحش فلمیں، غیر اخلاقی گانیں، عریاں تصاویر مسلم معاشرے میں دکھائی جاتی ہیں۔ لہٰذا اس قسم کی تمام ایجادات کو مسلم معاشرے میں جنسی بے راہ و روی اور شہوانی خواہشات کو پھیلانے کا بہترین ذریعہ سمجھ سکتے ہیں۔
    ٹی وی کے ذریعے پھیلنے والی تباہ کاریاں اور خرابیاں کسی بھی ذی شعور سے مخفی نہیں اور اس حقیقت سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا کہ جس گھر میں بھی ٹی وی، کیبل جیسی لعنت داخل ہوئی ہے اس گھر کے افراد کے اعتقادی، ایمانی اور اخلاقی اقتدار ضرور تباہی و بربادی کا شکار ہوئے ہیں۔ بچیوں کے لباس اور لباس پہننے کاڈھنگ بدل گیا، اولاد کا والدین کے سامنے اور بہن کا بھائی کے سامنے حجاب بدل گیا۔
    مسلمان تو پہلے ہی اپنی اعتقادی اور ایمانی کمزوری کے سبب اور قرآن و سنت کی صحیح تعلیمات کو پس پشت ڈالنے کے سبب دنیا میں اپنی اقتدار کھو چکے ہیں۔ اور جو رہی سہی قدریں مسلمانوں کے پاس ہیں وہ ٹی وی، ڈش، کیبل اور انٹرنیٹ کے غلط استعمال کی مرہونِ منت ختم ہوتی جا رہی ہیں۔ مسلمانوں کے الفاظ و اصطلاحات کی تشریحات باطل کی سوچ و فکر کے مطابق ہو رہی ہے۔ جو Direct ہماری نئی نسل پر حملہ آور ہو رہی ہے۔ نہ کہ صرف نئی نسل پر بلکہ ہماری موجودہ نسل کا ۹۰٪ طبقہ اس کا شکار ہو چکا ہے۔ نہ تو ہم قرآن و سنت کے ماحول میں پلے بڑھے اور نہ ہی ہماری نئی نسل قرآن و سنت کی پاکیزہ تعلیمات کے درمیان پنپ رہی ہے۔ بلکہ غیر مسلموں کے رواج، ان کے رہن سہن، عبادات اور ان کی عادات و اطوار دیکھ کر پل بڑھ رہی ہے جو کہ یقیناً امت مسلمہ کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ ٹی وی کے ذریعے ہمارے معاشرے میں پھیلنے والے چند نقصانات مختصراً ذکر کیے جاتے ہیں۔
    نوٹ: ہم مطلق میڈیا کو برا نہیں کہہ رہے بلکہ ہم ان اشیاء کی نشاندہی کر رہے ہیں جو اسلامی تعلیمات کے واضح خلاف ہیں۔ مثلاً عریانی، فحاشی، موسیقی وغیرہ وغیرہ۔
    عبادات کا زیاں:
    ٹی وی پروگرامز کی وجہ سے مسلمان اپنی عبادات کو ٹھیک طریقے، خشوع و خضوع کے ساتھ ادا نہیں کر پاتے ہیں اور بعض اوقات تو پسندیدہ ڈراموں ، ٹالک شوز، اینٹرٹینمنٹ اور پسندیدہ فلموں یا مورننگ شوز کی وجہ سے نمازیں تک قضاء ہو جاتی ہیں۔ وقت پر مساجد میں باجماعت نمازوں کی ادائیگی متاثر ہوتی ہے اور وہ مردوں زن جو دن رات ٹی وی اسکرین کے سامنے قسط وار ڈرامے، کرکٹ میچ یا دوسرے کھیلوں کے عادی ہوتے ہیں آہستہ آہستہ ان کا دل عبادات سے ہٹ جاتا ہے۔ کیونکہ انکا دل ٹی وی کے ساتھ چسپا ہو جاتا ہے۔
    اعتقادی خرابی:
    ٹی وی پر غیر مسلموں کی تہذیب، ان کے رسم و رواج اور کفریہ ثقافت پر مبنی فلمیں اور ڈرامے دکھائے جاتے ہیں، جن کے ذریعے مسلمانوں کے اعتقاد کی خرابی پیدا ہوتی ہے اور ایک واحد الہٰ کا تصور انسانی ذہنوں سے ہٹ کر کئی دیوی، دیوتاؤں کا تصور ذہنوں میں رچ بس جاتا ہے۔ جس سے مسلمانوں کی فکر اور سوچ غلبیت سے ہٹ کر مغلوبیت کی طرف آجاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج مسلمان قوم ہندوستان سے علیحدہ ہو جانے کے باوجود ہندو کلچر میں رچی بسی ہوئی ہے۔ آج بچوں کے معصوم ذہنوں میں مسلمانی ثقافت اور مسلمانوں کی عبادت اتنی پختہ نہیں ہیں جتنا ہندؤانی رسم و رواج اور عیسائی نظریات پختگی اختیار کر چکے ہیں۔ قرآن و سنت کی تعلیمات کو پیچھے چھوڑ کر مسلمانوں نے آج خود اپنی نسل کو ڈش، ٹی وی اور کیبل جیسی لعنت کی گود میں بٹھا دیا ہے۔
    عریانی اور فحاشی:
    جب ٹی وی اسکرین پر عریاں عورتوں کو مردوں کے لیے اور خوبصورت نوجوان مردوں کو عورتوں کے لیے پیش کیے جاتے ہیں تو شہوانی خواہشات کا اُبھرنا ایک لازمی امر ہے ۔ عورتوں کو مختصر لباس زیب تن کرا کر معاشرے میں جنسی خواہشات کو اُبھارا جاتا ہے جس کی وجہ سے اخلاقی تباہ و برباد ہو جاتا ہے۔
    شریعت اسلامیہ نے مرد و زن کے لیے ستر و حجاب کے احکامات مفصل ذکر کیے ہیں اور ٹی وی پر سترو حجاب کی وہ دھجیاں بکھیری جاتی ہیں کہ الامان والحفیظ ۔ ٹی وی ، ڈش اور کیبل فلمی اداکاراؤں کو دیکھ کر ہزاروں گھروں کی پاک دامن عورتیں بھی کئی ایسے امور کا ارتکاب کر بیٹھتی ہیں جو کہ شرعاً بالکل حرام ہوتے ہیں۔ مثلاً چہرے کے بال اکھیڑنا، بھویں باریک کرنا، میک اپ کر کے ننگے منہ بازاروں میں نکلنا، دوپٹہ سر پر اوڑھنے کے بجانے صرف گلے میں ڈالنے کو کافی سمجھنا، باریک لباس پہننا، ناخن بڑھانا، غیر محرم مردوں سے خلوتیں اختیار کرنا، گھروں سے فرار اختیار کرنا۔ اور غیر محرم مردوں کو دیکھ کر ان کی خوبصورتی کا اندازہ لگانا۔
    ٹی وی ڈراموں کے ذریعے مرد و زن کو باہمی تعلقات و رابطہ قائم کرنے کے طریقے بتلائے جاتے ہیں اور ایک دوسرے کا تعارف حاصل کرنے اور نا محرم مرد و عورت کے درمیان دوستی کے رشتے قائم کرنے کے طریقے بتلائے جاتےہیں۔
    غرض کے آج ہمارے معاشرے میں جو لڑکوں اور لڑکیوں کے درمیان عشق و معاشقی کے معاملات ہیں وہ اسی ٹی وی، ڈش اور کیبل پر دکھائے جانے والے رومانوی ڈراموں اور فحش فلموں اور گانوں کی ہی مرہون منت ہے۔جس سے بچنا انتہائی ضروری ہے۔
    غیرتوں کے جنازے:
    ٹی وی جس قدر فحاشی و بے حیائی پھیلا رہا ہے یہ کسی ذی شعور سے مخفی نہیں گویا کہ ٹی وی کے فحش پروگرام لوگوں کو بے حیا و بے غیرت بننے کا درس دیتے ہیں۔ جب انسان سے حیا ختم ہو جاتی ہے تو اس کا ایمان بھی برباد ہو جاتا ہے۔
    ایک مقام پر آپ ﷺ نے فرمایا:
    ''اذا لم تستحیی فافعل ما شئت ''(صحیح بخاری، کتاب الانبیاء، رقم: ۳۴۸۳)
    ''جب تو حیا نہ کرے تو جو جی چاہے کرے''
    یہی وجہ ہے کہ وہ مرد حضرات جو بظاہر شریف نظر آتے ہیں ان کے باطن میں اس قدر غلاظت اور گندگی ہوتی ہے کہ گھر کی بیٹیوں اور بہنوں کی عزتیں اپنے گھر میں، اپنے محرم رشتہ داروں تک سے محفوظ نہیں ۔ کیونکہ انگریزی اور اردو فحاشی سے بھر پور فلمیں، جن میں کھلم کھلا جنسی معاملات ، نوجوانوں کے عشق و معاشقی کے قصّے، پیار و محبت کے مکالمے، عورتوں کے شرم و زینت کے خدوخال کو نمایاں کر کے، اس کی بے حرمتی کے مناظر دکھلائے جاتے ہیں وہ بیان کرنے کے قابل نہیں۔
    گندی اور عریاں فلموں اور ڈراموں کے ذریعے زنا اور بے حیائی کوفروغ دیا جاتا ہے۔ جس کی پاداش میں غیرتوں کے جنازے گھروں سے اٹھ جاتے ہیں اور ماں، بیوی، بہن ، بھائی اور باپ جیسے خوبصورت رشتوں میں دراڑ پڑ جاتی ہے۔
    آج ہمارے معاشرے میں ہر تیسرا گھر اس بے غیرتی کا شکار ہے اور اس کی ایک ہی وجہ ہے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی تعلیمات کو پس پشت ڈال کر یہود و نصاریٰ کی اندھی دھند تقلید کرنا۔اور جو حدود اللہ نے مقرر کیں ہیں ان حدوں کو پھلانگنا۔
    عورت کا غیر مرد کی طرف اور مرد کا غیر عورت کی طرف دیکھنا معصیت الہٰی ہے:
    اللہ سبحان و تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتے ہیں:
    ﴿ قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِھِمْ وَیَحْفَظُوْا فُرُوْجَھُمْﺚ ذٰلِکَ اَزْکٰی لَھُمْﺚ اِنَّ اللہَ خَبِیْرٌۭ بِمَا یَصْنَعُوْنَﭭ وَقُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِھِنَّ وَیَحْفَظْنَ فُرُوْجَھُنَّ ۔۔۔﴾ (النور:۳۰،۳۱)
    ''مومن مردوں سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزگی ہے جو کچھ یہ کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس سے خبر دار ہے اور مومنہ عورتوں سے کہہ دیجیے کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔''
    ان آیات کریمہ میں اللہ سبحان و تعالیٰ نے نظر کی حفاظت اور شرمگاہ کو ناجائز استعمال سے بچانے کا حکم دیا ہے۔ کیونکہ مرد کا غیر محرم عورت کو اور عورت کا غیر محرم مرد کو بلا ضرورت دیکھنا شہوت کو اُبھارتا ہے جو حفاظتِ شرمگاہ میں خلل پیدا کرتا ہے اس لیے قرآن نے پہلے اپنی نگاہوں کی حفاظت کا ذکر کیا اور پھر شرمگاہ کی حفاظت کا کیونکہ نظر میں بے احتیاطی حفظ خروج میں غفلت کا سبب ہے۔
    رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں:
    ''آنکھ کا زنا (غلط) دیکھنا ہے اور زبان کا زنا (غلط) بولنا ہے اور نفس تمنا اور خواہش کرتا ہے اور شرمگاہ ان تمام امور کی تکذیب یا تصدیق کرتی ہے۔'' (بخاری: ۶۲۴۳)
    رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں:
    ''کوئی مرد کسی مرد کی شرمگاہ کو نہ دیکھے اور نہ کوئی عورت کسی عورت کی شرمگاہ کو دیکھے۔'' (صحیح مسلم، کتاب الحیض، رقم:۶۶۱۲)
    مندرجہ بالا آیت اور حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ مرد و عورت اپنی نظر بچا کر رکھیں۔ فحش مناظر نہ دیکھیں، عریاں اور بے پردہ عورتوں کو نہ دیکھیں، بغیر ضرورت عورتوں اور مردوں کا ستر دیکھنا حرام ہے۔ اس لیے نیم برہنہ مردوں اور عورتوں کا ستر نہ دیکھیں۔
    فلموں ، ڈراموں ، اسپورٹس میں نیم برہنہ عورتوں اور مردوں کو دیکھنا غلط ہے۔ جوقرآن و حدیث کی رو سے آنکھوں کا زنا ہے اس لیے ایسے مناظر دیکھنا ترک کر کے اللہ کے حضور توبہ و استغفار کرنی چاہیے۔
    رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
    '' نگاہ ابلیس کے تیروں میں سے ایک تیر ہے، جو شخص مجھ سے ڈر کر اس کو چھوڑ دے گا میں اس کے بدلے اس کو ایسا ایمان دوں گا جس کی حلاوت وہ اپنے دل میں پائے گا۔'' (مسند احمد ، الضیعفة للالبانی: رقم:۱۰۶۰، ۵۹۷۰)
    وقت کا ضیاع:
    یہ دنیا کی چند روزہ زندگی انسان کے لیے امتحان گاہ ہے اور اس زندگی کے بارے میں اللہ تعالیٰ انسان سے سوال کرے گا کہ میں نے تجھے عمر دی تھی تو نے کہاں گزاری؟ اگر اس دنیا کی زندگی کو اطاعت الہٰی اور اطاعت رسول ﷺ میں گزارا ہوگا تو کامیاب ہوگا ورنہ خائب و خاسر و نامراد ہوگا۔
    رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں:
    '' دو نعمتیں ایسی ہیں جن کے متعلق اکثر لوگ نقصان اٹھاتے ہیں۔ ۱) صحت و تندرستی۔ ۲) فراغت۔'' (مسند احمد: ۳۴۴)
    معلوم ہوا کہ لوگوں کی اکثریت اپنی صحت اور وقت سے صحیح فائدہ نہیں اٹھاتی ، بلکہ برباد کر دیتی ہیں اور ٹی وی پروگرامز میں شریک ہو کر جہاں اور کئی گناہوں کے مرتکب ہوتے ہیں وہاں ایک وقت کا ضیاع بھی ہے جو کہ نعمت الہٰی کو برباد کرنا ہے۔
    گانا سننا اور حرام ہے:
    اللہ سبحان و تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں:
    ﴿ وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَھْوَ الْحَدِیْثِ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللہِ بِغَیْرِ عِلْمٍﺣ وَّیَتَّخِذَھَا ھُزُوًاﺚ اُولٰ۬ئِکَ لَھُمْ عَذَابٌ مُّھِیْنٌﭕ ﴾ (لقمان: ۶)
    ''اور بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو فضول باتوں کو خرید لیتے ہیں کہ بے علمی کے ساتھ لوگوں کو اللہ کی راہ سے بہکائیں اور اسے ہنسی بنائیں، یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے رسوا کرنے والا عذاب ہے۔''
    سورة لقمان کی پچھلی آیات میں اللہ سبحان و تعالیٰ اہلِ سعادت جو کتاب الہٰی سے راہ یاب اور اس کے سماع سے فیض یاب ہوتے ہیں ان کا ذکر کرنے کے بعد مندرجہ بالا آیت میں اہلِ شقات کا بیان ہو رہا ہے، جو کلامِ الہٰی کے سننے سے تو اعراض کرتے ہیں ۔ البتہ سازو موسیقی، نغمہ و سرور اور گانے وغیرہ خوب شوق سے سنتے اور ان میں دلچسپی لیتے ہیں۔ (لَھْوَالْحَدِیْثِ) سے مراد گانا بجانا ، اس کا سازو سامان ، آلات سازو موسیقی اور ہر وہ چیز ہے جو انسان کو خیر اور معروف سے غافل کر دے۔جیسے ریڈیو، ٹیپ ریکارڈ، ٹی وی، وی سی ڈی پلیئر، کیبل نیٹ ورک وغیرہ ۔ ان تمام چیزوں سے یقیناً انسان اللہ کے رستے سے گمراہ ہو جاتا ہے اور شیطان کے بہکاوے میں آ کر دین کو استہزا و تمسخر کا نشانہ بھی بناتا ہے۔( اُولٰ۬ئِکَ لَھُمْ عَذَابٌ مُّھِیْنٌ)میں وہ سب لوگ شامل ہیں جو ان کی سر پرستی، حوصلہ افزائی کرنے والے ارباب حکومت ، ان تمام نیٹ ورک کو پھیلانے والے لوگ اور گھروں میں لے کر آنے والے افراد سب شامل ہوں گے۔ (اعاذنا اللہ منہ)
    رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں:
    '' میری امت میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو زنا، ریشم، شراب اور باجے گاننے کو حلال ٹھہرائیں گے۔۔۔۔۔ اللہ ان میں سے کچھ لوگوں کو بندر اور سور بنا دے گا وہ قیامت تک اسی طرح رہیں گے۔ '' (بخاری مع فتح الباری ۵۱/۱۰، معجم الکبیر ۳۴۱۷)
    اس صحیح حدیث سے معلوم ہوا کہ باجے گاجے حلال سمجھنے والے لوگ عذاب الہٰی میں گرفتار ہوں گے۔ یہاں پر بندر اور سور کا بالخصوص ذکر کیا گیا ہے اور بندر حرص میں اور سور بے حیائی میں ضرب المثل ہے۔ یعنی حدیث میں مذکورہ صفات کے حاملین دنیا دار، شہوت پرست، حریص، لالچی اور بے حیائی و بے غیرتی میں شور کے مثل ہوں گے۔
    رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں:
    '' اس امت میں زمین کے اندر دھنسنا ، صورتیں بدلنا اور بہتان بازی پیدا ہو گی۔ ایک آدمی نے کہا اللہ کے رسول ﷺ ایسا کب ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جب گلوکارائیں، طبلے اور سارنگیاں عام ہوں گے اور شرابیں پی جائیں گی۔''
    (ترمذی:۲۲۱۲، قال للالبانی اسناد صحیح)
    مندرجہ بالا آیت اور احادیث صحیحہ سے یہ بات عیاں ہوگئی کہ گانے بجانے کے آلات شرعاً حرام ہیں۔ پھر ان پر رقص و سرور کی محفلیں قائم کرنا جو انسانی شہوات کو بھڑکانے اور انہیں لذات کی طرف مائل کرنے کا بھر پور سامان ہے۔ قطعاً درست نہیں اور کچھ لوگ جو اپنے غیر شرعی اور غیر اخلاقی عشق و محبت میں ناکام و نامراد ہو جاتے ہیں ۔ وہ غم زدہ غزلیں اور گانیں سن کر یا دیکھ کر اپنی روح کو پُر سکون کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک سخت حرام اور گناہ ہے۔ ٹی وی اور ٹیپ ریکارڈر یا سی ڈی پلئیر ان تمام امور کا مجموعہ ہے ان پر گانے ، باجے اور رقص و سرور دکھایا جاتا ہے۔ اس لیے اس کی تحریم کی ایک انتہائی مؤثر علت یہ بھی ہے اس کی موجودگی میں بھی ٹی وی کا استعمال درست نہیں۔
    حرفِ آخر:
    جن گھرانوں کے افراد ابھی تک بفضلہ تعالیٰ صوم صلوٰة کے پابند ہیں مگر ان کے گھر میں ٹی وی کی لعنت داخل ہو چکی ہے ، وہ ٹھنڈے دل سے سوچیں اور دیانتداری سے بتائیں کہ کیا یہ نہیں ہوتا کہ جب بھی ٹی وی میں ان کے اپنی پسند یا ملکی یا بین الاقوامی پروگرام خواہ کھیل ہو یا کوئی اور شعبہ آتے ہیں تو ان کی جماعت تو یقیناً رہ جاتی ہوگی اور خواتین کی نماز عجلت میں ادا ہو کر خشوع و خضوع سے خالی ہوتی ہوگی۔
    آج ہر شخص کو اس کی فکر تو ہے کہ میرے مرنے کے بعد بچوں کا کیا ہوگا ؟ مگر یہ فکر نہیں کہ بچوں کے مرنے کے بعد ان کا قبر میں کیا ہوگا؟ حشر میں کیا ہوگا؟ یعنی ان کی اس دنیاوی زندگی کی فکر تو بالعموم سبھی کو ہے جس کی حیثیت آخرت کی طویل اور ابدی زندگی کے مقابلے میں بالکل ایک خواب سی ہے۔
    اللہ سبحان وتعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں:
    ﴿ یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْٓا اَنْفُسَکُمْ وَاَھْلِیْکُمْ نَارًا وَّقُوْدُھَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ عَلَیْھَا مَلٰ۬ئِکَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا یَعْصُوْنَ اللہَ مَآ اَمَرَھُمْ وَیَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَﭕ ﴾ (التحریم: ۶)
    ''اے ایمان والو! اپنے آپ اور اپنے اہل و عیال کو آگ سے بچا لو جس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہوں گے، جس پر سخت مضبوط فرشتے مقرر ہیں جو اللہ کے حکم کی نا فرمانی نہیں کرتے اور جو انہیں حکم دیا جاتا ہے وہ اسے سر انجام دیتے ہیں۔''
    اس لیے ہمیں ہر قسم کی برائی کا اپنے گھروں سے خاتمہ کرنا چاہیے۔ چاہے وہ برائی گندے رسائل، فحش لٹریچر، جنسی خواہشات، پر مبنی کتب وغیرہ کی صورت میں ہو یا پھر ٹی وی ، انٹرنیٹ، کیبل وغیرہ کی صورت میں ہو۔ اللہ سبحان وتعالیٰ ہم سب مسلمانوں کو ہر قسم کے گناہ و معصیت سے محفوظ رکھے۔ (آمین)
    وما علینا الا البلٰغ المبین
    • پسند پسند x 1
  2. maria

    maria رکن

    مراسلے:
    2
    mjhay aik topic per essay chahiye
  3. فلک شیر

    فلک شیر منتظم

    مراسلے:
    1,187
    اردو کی بورڈ استعمال کریں
  4. فلک شیر

    فلک شیر منتظم

    مراسلے:
    1,187
    اچھی کاوش ہے ماشاءاللہ
    مگر یہ بھی ضروری ہے کہ نعم البدل... حلال اور جائز نعم البدل مہیا کیا جائے.... اس پہ لکھیں کچھ
    منفی سرگرمیوں سے بچانے کے لیے مثبت سرگرمیاں ترتیب دینا اور تجویز کرنا اہل علم و فکر کے ذمہ ہے

اس صفحے کی تشہیر