دلوں میں وسوسے اور اُن کا حل

ابو طلحہ السلفی نے 'حدیث نبوی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏24 نومبر 2014

  1. ابو طلحہ السلفی

    ابو طلحہ السلفی رکن

    مراسلے:
    529
    تحریر: حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
    عن ابن عباس: أن النبي ﷺ جاء ہ رجل فقال: إني أحدّث نفسي بالشئ لأن أکون حُمَمَۃً أحبّ إليّ من أتکلم بہ۔ قال: ((الحمد للہ الذي ردّأمرہ إلی الوسوسۃ)) رواہ أبو داود۔

    (سیدنا) ابن عباس (رضی اللہ تعالیٰ عنہما) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس ایک آدمی آیا اور کہا: میں اپنے دل میں کسی چیز کا خیال کرتا ہوں لیکن اس کے بارے میں بتانے کے بجائے (جل کر) کوئلہ بن جانا پسند کرتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: حمد و ثنا اللہ کے لئے ہے جس نے (شیطان کی) اس بات کو وسوسے تک (محدود) رکھا ہے ۔ اسے ابو داود (۵۱۱۲) نے روایت کیا ہے ۔

    تحقیق الحدیث:

    اس حدیث کی سند صحیح ہے ۔ اسے ابوداود کے علاوہ احمد بن حنبل (۲۳۵/۱ح ۲۰۹۷) عبد بن حمید (المنتخب : ۷۰۱) نسائی (الکبریٰ ۱۰۵۰۴، عمل الیوم واللیلۃ: ۶۶۸) طحاوی (معانی الآثار ۲۵۲/۲) ابن حبان (الاحسان : ۱۴۷) بیہقی (شعب الایمان: ۳۴۲،۳۴۱) اور ابن مندہ(الایمان: ۳۴۵) نے روایت کیا ہے ۔

    فقہ الحدیث:

    ۱: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ صحیح العقیدہ اہلِ حق کے دلوں میں بھی شیطان مسلسل وسوسے ڈالنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے ۔

    ۲: صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین ایمان کے اعلیٰ ترین درجوں پر فائز تھے۔ وہ شیطانی وسوسوں سے سخت نفرت کرتے تھے۔

    ۳: حممۃ جلے ہوئے کوئلے کو کہتے ہیں۔

    ۴: اللہ کے فضل و کرم پر الحمدللہ کہنا چاہئے۔

اس صفحے کی تشہیر