خواتین کی اعلٰی تعلیم

نسرین فاطمۃ نے 'تعلیم و تدریس' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏5 نومبر 2013

  1. نسرین فاطمۃ

    نسرین فاطمۃ رکن

    مراسلے:
    531


    خواتین کی اعلٰی تعلیم

    آج ہم جس دور سے گزر رہے ہیں اور جس معاشرے میں سانس لے رہے ہیں عورت کے حوالے سے یہ ایک غیر فطری اور مصنوئی معاشرہ ہے اعلٰی تعلیم بھی درحقیقت اعلٰی نہیں ادنٰی ہی ہے کہ یہ محض امتحان اور صرف امتحان کا نام ہے جس کا حامل کاغذی سندوں کا مالک تو بن جاتا ہے لیکن یہ تعلیم اسے ایک اچھا مسلمان تو کجا ایک اچھا انسان بننے میں بھی مدد نہیں دیتی۔ یہی تعلیم جو سولہ سال میں تکمیل پاتی ہے حقیتا"مواد اور علمیت کے اعتبار سے یہی نصاب بارہ سالوں میں CONDEUSE کیا جاسکتا ہے
    خاص طور پر لڑکی کے اتنے قیمتی سال گم ہوجانے سے بچائے جاسکتے ہیں ، تعلیم کو زیادہ محنت طلب بنا یاجائے تو تفریح طلب عنصر از خود نکل جائیگا ۔نقل ،رشوت اور ساز باز سے سندیں حاصل کرنا مشکل بنا دیا جائے تو قومی سرمائے اور وسائل کا سد باب بھی کیا جاسکتا ہے ۔آج کی اعلٰی تعلیم نے لڑکی کو مردوں کی طرح کیریئر طلب بنا د یا ہے اب اسکی سوچ نوکری کے گرد گھومتی ہے اسی اعتبار سے وہ تعلیم کا شعبہ بھی منتخب کرتی ہے اور ایسے شعبہ جات میں جا گھسی ہے جو اس کے شایان شان بھی نہیں ،اس کے وقار کے منافی اور اس کی نسوانیت کی توہین ہے ۔۔۔۔۔کجا یہ کہ علامہ اقبال تو مردوں کے لئے بھی علم برائے حصول زر کوزہر قاتل سمجھتے ہیں
    وہ علم نہیں زہر ہے اصرار کے حق میں
    جس علم سے حاصل ہوجہاں دو کف جو
    عورت کی اعلٰی تعلیم کی سہولت بہت سے نقصانات کی موجب بھی بن رہی ہے سولہ سال تک اعلٰی تعلیم حاصل کرنے والی لڑکی جب عملی میدان میں قدم رکھنے کے قابل ہوتی ہے تو اسے گھر بٹھا دیا جاتا ہے اس طرح لڑکی کا وقت قوم کی دولت اور جس سیٹ پر وہ آئی ہوتی ہے کسی حق دار کا حق مارا جاتا ہے
    یا پھر نوکریوں کی دوڑ میں ایک ایسے معاشرے میں جہاں مرد کے لئے بھی حصول روزگار درد سر ہے آج عورت آ کھڑی ہوئی ہے سی ایس ایس کے امتحان سے لیکر ہر میدان میں جوہر دکھانے کا شوق امڈ آیا ہے لہذا روزگار کے مسائل بھی گھمبیر تر ہوتے جار ہے ہیں کیونکہ عورت کی نوکری اعلٰی طبقے میں symbol status کے طور پر متوسط طبقے میں اسٹینڈرد بڑھانے کے شوق میں اور نچلے طبقے میں جہیز بنانے کے خاطر ہورہی ہے جبکہ گھر کی کفالت بہر طور مرد ہی کو کرنا ہوتی ہے لہذا ہر عورت کی نوکری ایک کفیل کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہے ماسوا خالصتا"اس شعبہ کے جہاں عورت کی واقعی ضرورت ہوتی ہے ۔
    سولہ سال تک سر جھکا کر محنت کرنے والی کتابوں میں گم رہنے والی جب یکایک اٹھا کر عملی زندگی کے میدان میں اتار دی جاتی ہے تو اس کا ذہن اس کا جسم اس فیلڈ کے لئے ڈھلا ہوا نہیں ہوتا وہ دماغی مشقت کرنے کی عادی ہوچکی ہوتی ہے مگر اس کا جسم جسمانی مشقت کے لئے ساتھ نہیں دیتا ،ضروری نہیں کہ شادی کے بعد ہر لڑکی کو وہی ماحول میسر آئے جس میں علم ہی اوڑھنا بچھونا ہو اور گھر کے مشقت طلب کاموں میں رعایت برتی جائے ، کتابیں تھامنے والے ہاتھ جب فرشوں پر پوچھا لگاتے گھستے ہیں تو رسنے لگتے ہیں ،لائبریریوں اور لیبارٹریوں سے نکل کر جب اچانک گھر آجانے والی رحمت بصورت دس مہمانوں کے سابقہ پڑتا ہے تو ہانڈیاں جل جل جاتی ہیں ،جو ہاتھ کپڑے دھونے کی مشقت سے اس لئے بچائے جاتے رہے ہوں کہ بچی ابھی پڑھ رہی ہے ۔۔۔۔۔ بعد اذاں وہ ہاتھ کھردرے کرنے ہی پڑتے ہیں ۔۔۔۔۔۔اور یوں غیر فطری زندگی کا زبر دست تاوان ادا کرنا پڑتا ہے ۔
    لہذا عورت کی تعلیم ضروری تو ہے بلکہ بہت ضروری مگر اس کی نوعیت اور دورانیہ یکسر بدل ڈالنے کی ضرورت ہے کم از کم مدت میں اسے زیادہ سے زیادہ علم دیکر اصل میدان میں اتاردینے کا رحجان معاشرے کے لئے بہتر بھی ہے اور فطری بھی ۔ میرا نقطہ نظر تو یہ ہے کہ دینی تعلیم اور مکمل دینی شعور عورت کو وہ فہم وہ نور اور وہ بصیرت عطا کرتی ہے جو اعلٰی سے اعلٰی تعلیم بھی اسے دینے سے قاصر ہے ،قرون اولٰی کی قابل رشک خواتین اسکی مظہر ہیں ،اصول اور کلیہ آج بھی وہی ہے ،البتہ غیر معمولی صلاحیت کی حامل طالبات ۔۔مخصوص شعبہ جات میں اعلٰی تعلیم کے مراحل طے کرلیں تو اچھی بات ہے تاہم یہ چلن نہ بن جائے کہ ہر کوئی جیسے تیسے ۔۔زور زبر دستی۔۔۔۔۔۔پرائیویٹ یا فل ٹائم طالبہ بن کر اعلٰی ڈگری لینے کی فکرمیں گھل جائے ۔عمومی چلن اور معاشرے میں عورت کا مقام عافیت وہی ہے جو اللہ نے اسے دیا ہے جس حد کو توڑنے میں اگر دنیا دار عورت گھستی ہے ۔۔۔۔۔۔SUPHERکرتی ہے تو ہم بھی کریں گے ۔۔۔۔۔ہماری نسلیں بھی کریں گی کہ یہی قائدہ ہے ۔
    خواتین کی یہ اعلٰی تعلیم بروقت شادیاں نہ ہونے کی بھی ذمہ دار ہے رشتوں میں معیار کا Crisisکھ ڑا کردینے کی بھی ذمہ دار ہے کہ لڑکی کا ہم پلہ رشتہ تعلیمی اعتبار سے تلاش کرتے عمر بیت جاتی ہے اس طرح غیر فطری تعلیم اس کی نسوانیت کو مجروح کرنے کا سبب بنتی ہے۔

اس صفحے کی تشہیر