ختم نبوت کے قانون سے چھیڑ چھاڑ اور مذہبی ہٹ دھرمی

نیازی نے 'سیاست و عدالت' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏5 اکتوبر 2017

  1. نیازی

    نیازی رکن

    مراسلے:
    223
    كچھ افراد كا ابتدا میں یہ موقف تھا كہ كچھ تبدیلی نہیں ہوئی۔ پھر جب ہر شے واضح ہو گئی تو راگ الاپنے لگے:

    ’’یہ تبدیلی نفس مضمون كو نہیں بدل رہی۔‘‘ -

    ہر طرف سے الگ الگ آوازیں آرہی تھیں کہ جی مفہوم وہی ہے ، محض الفاظ بدلے ہیں - سوال یہ ہے کہ كیا مذہبی لوگوں كے نزدیك بھی رسول عربی كی ذات ہر شے بالاتر نہیں ؟ بہت سے سوال ہیں، زخم ہیں كہ نكلتے چلے آرہے ہیں كس كس كو دیكھیں۔
    تن ہمہ داغ داغ شد
    پنبہ كجا كجا نہم
    ان مذہبی جماعتوں كا كیا ہم نے اچار ڈالنا ہے، اگر یہ رسول عربی كے حقوق كا پارلیمنٹ میں تحفظ نہیں کر سكتیں ، جماعت اسلامی كے لوگوں سے یہ شكوہ ہے كہ اگر ایسی ترمیم ہو رہی تھی تو اسے ’’پبلك اشو‘‘ كیوں نہیں بنایا۔ یہ سب كچھ ہو جانے كے بعد بولنا تو اب مجبوری ہے كہ عوام نكل چكے طوفان بپا ہو چکا ، اب تو نکلنا اور بولنا آپ کی مجبوری ہے ۔

    جمعیت علمائے اسلام والے دوست بھی اس کا كریڈیٹ لے رہے ہیں۔ حضور نہیں آپ تاخیر سے پہنچے وقت گذر چكا - اگر آپ مجرم نہیں تو مجرم كے ساتھی ہیں - عوام كا غم و غصہ دیكھ كر اگر پلٹے ہیں تو كیا فائدہ ؟ -

    آپ كو تو خود طوفان برپا كر دینا چاہیے تھا - اب یہ كہانیاں سننے كو مل رہی ہیں كہ حافظ حمد اللہ نے ترمیم پیش كی ، شور كیا ، لیكن كسی نے نہ سنی - اگر كسی نے نہ سنی تو كیا سید كونین كی ذات ہر شے سے بالا تر نہ تھی؟ استعفی منہ پر مارتے اور نكل آتے -
    ممكن ہے مجھے كوئی اہل حدیث ہونے كی بنا پر طعن كرے كہ آپ اپنے ہم مسلكوں کا ذكر كیوں نہیں كرتے تو عرض ہے كہ ان كا میں کبھی بھی ذكر نہیں كرتا اچھا نہ برا۔

    اب جب سپیكر نے اسے كلریكل غلطی قرار دے دیا تو وہ لوگ كیا كہیں گے جو "محبوب " كی گلی كے دیوانے تھے اور غلطی ماننے كو تیار ہی نہ تھے۔
    ابوبکر قدوسی

اس صفحے کی تشہیر