ختم نبوت اور پاکستان کی نظریاتی اساس پر خوفناک حملہ

نیازی نے 'سیاست و عدالت' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏4 اکتوبر 2017

  1. نیازی

    نیازی رکن

    مراسلے:
    223
    تابش قیوم
    ترجمان ملی مسلم لیگ

    ختم نبوت کا معاملہ کوئی معمولی مسئلہ نہیں ہے جس سے صرف نظر کیا جاسکے۔ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے نام پر بننے والے ملک میں اس قانون پر نقب لگایا جائے یہ کوئی اہل ایمان برداشت نہیں کرسکتا۔ گزشتہ دنوں آئین میں ترمیم کر کے ایک نا اہل وزیر اعظم کو دوبارہ پارٹی صدر بنانے کے لئے جس طرح آئین کا استحصال کیا گیا وہ ایک طرف لیکن پاکستان کے نظریاتی تشخص پر حملہ آور ایک سیاسی جماعت جو کبھی اپنے آپ کو دائیں بازو کی نمائندہ کہتی تھی آج لبرل ازم اور سیکولرازم کے لئے وہ خدمات پیش کر رہی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ناموس اور حرمت کو بھی داو¿ پر لگا دیاگیا ہے۔ مسئلہ بہت نازک اور وار اتنی چالاکی سے کیا گیا ہے کہ بعض علماءکرام اور دیگر لوگ بھی منقسم ہیں کہ اصل میں ہوا کیا ہے اور یہ اچانک شور کیسا ہے؟۔ یہ بات ذہن نشین ہونی چاہیے کہ قانونی دستاویزات میں ہر لفظ کے پیچھے ایک اہم پہلو ہوتا ہے ۔ محض تجزیاتی و جذباتی آراءقانون نہیں بنتیں بلکہ یہ دستاویزات عملی حیثیت میں قوموں کے مستقبل اور ان کی شناخت پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ میں کوشش کروں گا کہ آسان ترین انداز میں اس بحث کے کچھ ایسے پہلو سامنے رکھنے کی کوشش کروں جو کم از کم پہلے میری نظر سے نہیں گزرے اور میں نے ایک طویل تحقیق کے بعد کچھ چیزیں تلاش کی ہیں جو پیش خدمت ہیں۔

    جیسے ہی شیخ رشید صاحب نے اسمبلی میں جذباتی انداز سے یہ بات کہی کہ اراکین اسمبلی کے حلف نامہ میں سے ناموس رسالت کا قانون نکال دیا گیا ہے اور پھر کچھ نامور مذہبی شخصیات کو للکار کر کہا کہ وہ کہاں سوئے ہوئے ہیں تو پارلیمنٹ میں تو کسی نے توجہ نہیں دی لیکن سوشل میڈیا پر ایک بحث شروع ہوگئی اور شدید ردعمل سامنے آنے لگا۔ عام طور پر سوشل میڈیا پر یہ مزاج ہے کہ جھوٹی اور سنسنی خیز خبریں بہت تیزی سے پھیلتی ہیں اور پھر ختم نبوت کے مسئلہ پر تو کام بہت جذباتی ہے اور یقیناً ہونا بھی چاہیے۔ تحقیق کا حکم بھی قرآن مجید کا ہے، سمجھ دار لوگوں نے اس ترمیم شدہ بل کی دستاویز حاصل کرنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ ناموس رسالت کی شق تو موجود ہے تو پھر شور کیسا؟ جی ہاں اب یہاں سے اصل بحث کا آغاز ہوتا ہے۔

    شیخ رشید کے بیان کے بعد کچھ مذہبی جماعتوں نے فوری احتجاج کرتے ہوئے اس اقدام کی مذمت کی اورشدید غم و غصہ کا اظہار کیا جبکہ کچھ نے محتاط انداز میں تشویش ظاہر کی لیکن جوحکومت کی اتحادی مذہبی جماعتیں تھیں انہوں نے اسے پروپیگنڈا قرار دیا اور یہی شق پیش کر کے کہا کہ بتاؤ کہاں تبدیلی ہے؟ بعض نے مناظرے کا چیلنج دیا اور انگریزی سیکھنے کا مشورہ دیا ۔ اسی طرح یہ بھی کہاکہ Affirmation اور حلف ایک ہی چیز ہیں۔ اس خوفناک ترجمے پر میںبعد میں آتا ہوں پہلے یہ بتاتا چلوں کہ فرق اس شق کے الفاظ میں نہیں تھا بلکہ اس سے پہلے لکھی ایک سطر میں تھا جو اس طرح سے ہے۔

    ترمیم سے پہلے امیدوار فارم پر ختم نبوت کا اقرار یہ کہ کر کرتا تھا کہ "میں دیانت داری سے قسم کھاتا ہوں" جبکہ ترمیم کے بعداس کے الفاظ یہ ہو گئے ہیں کہ"میں دیانتداری سے اقرار کرتا ہوں" یعنی فرق "قسم" Oath اور "اقرار" Affirmation کا ہے۔ اگر یہ دونوں لفظ ہم معنی ہیں تو پھر تبدیلی کی ضرورت کیوں اور کس لئے پیش آئی؟فارم پر جہاں امیدوار دستخط کرتا ہے وہاں بھی اسی سے منسلک تبدیلی کر کے اب Statement of Oath کی جگہ Solemn Affirmation لکھ دیا گیا ہے۔
    آخر یہ Oath اور Affirmation کا معمہ ہے کیا؟
    آپ حیران ہونگے کہ جس مسئلہ کو ہمارے بعض علماءاور وزراءمعمولی سمجھ کر کہ رہے ہیں کہ یہ ایک ہی چیز ہے اس کی جڑیں 305 سال پرانی ہیں جب ایک Quakers نامی عیسائی فرقہ نے حلف لینے سے انکار کیا اور کہا کہ ہم صرف اقرار کریں گے کیونکہ کے ان کے نزدیک خدا ہر انسان میں ہے اور اسے علیحدہ سے قسم کھانے کی ضرورت نہیں اور اسی طرح کے دیگر عقائد کی بنیاد پر انہوں نے Oath بجائے Affirmation کا سہارا لیا اور 1695 میں Quakers act 1695 منظور کروایا۔ اس قانون میں بھی وہی الفاظ درج ہیں جو موجودہ ترمیم میں شامل کئے گئے ہیں

    Quakers Act 1695 (An Act that the Solemne Affirmation & Declaration of the People called Quakers shall be accepted instead of an Oath in the usual Forme; 7 & 8 Will. 3 c. 34) was passed.
    بات صرف یہاں ختم نہیں ہوتی بلکہ 200 سال قبل اسکاٹ لینڈکے ملحدین نے بھی حلف کی مخالفت یہ کہتے ہوئے کردی کے ہم تو خدا کو مانتے ہی نہیں تو پھر قسم کیوں کھائیں اور اس طرح انہوں نے بھی قانون سازی کرواکے یہ شرط ختم کروادی۔ یہ سارا کھیل دراصل اس تاریخ کا حصہ ہے جب مغرب نے چرچ اور مذہب سے اپنا رشتہ توڑ کر لادینیت اور سیکولرازم کی بنیاد رکھی۔ چارلز براڈلاف نامی ایک شخص جس نے قومی سیکولر سوسائٹی کی بنیاد رکھی تھی اسی نے Affirmation Law یا Solemn Affirmation کی بھی بنیاد رکھی۔وہ 1880 میں برطانیہ میں الیکشن جیت کر منتخب ہوا مگر اس کو حلف دینے سے روک دیا گیا کیونکہ وہ ملحد یعنی لادین تھا اور عیسائیت پر یقین نہیں رکھتا تھا۔ اس نے حلف کے بجائے اقرار کی استدعا کی جو مسترد کردی گئی اور اس سے سیٹ چھین لی گئی تاہم بعد میں ضمنی انتخابات کروائے گئے جس پر وہ ایک مرتبہ پھر جیت گیا اور پھر سے حلف سے انکار کیا جس پر اسے گرفتار کرلیا گیا‘ بالآخر یہ سلسلہ جاری رہا اور ایک تحریک کی شکل اختیار کر گیا۔ پانچویں دفعہ جاکر وہ 1886ءمیں حلف لینے پر راضی ہوا جس کے الفاظ میں اپنی مرضی کی ترمیم کی اور پھر اس نے 1888 میں Oath Act پیش کیا جس کے ذریعہ لادین لوگوں اور ملحدین کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ حلف کی بجائے فقط اختیار پر گزارا کریں۔

    یہ قانون ایک طویل جدوجہد کے بعد عمل میں آیا جس میں کلیدی کردار چارلس براڈلاف ہی کا تھا جو مغرب میں سیکولر قانون سازی کی بنیاد بنا۔ چارلز کی بیٹی بھی ملحد اور فری تھنکر تھی جسے عیسائیوں نے قتل کردیا تھا۔ یہاں یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ سیکولرازم کے علمبردار ملحد چارلز کی موت 1891 میں واقع ہوئی اور اس جنازے میں 21 سالہ ایک نوجوان موجود تھا جس کانام موہن داس گاندھی تھا جس نے آگے چل کر بھارتی سیکولر آئین کی بنیاد رکھی۔
    دیکھنے میں آیا ہے کہ مغرب میں آج بھی ایسے واقعات ہوئے ہیں کہ اپنا عقیدہ چھپا کر محض اقرار کا سہارا لے کر کئی ملحد عیسائی بن کر پارلیمنٹ کے ممبر بنے جن کی اصلیت بعد میں سامنے آئی۔ان دونوں الفاظ کے قانونی اثرات کیا ہیں یہ ثانوی بات ہے۔

    پہلا سوال یہ ہے کہ ن لیگ کو آخر 99% مسلمان آبادی والے ملک میں حلف کو اقرار میں بدلنے کی کیا ضرورت پیش آئی؟ یہ مسئلہ تو مغرب کی ان ریاستوں میں پیش آیا یا آتا رہا ہے جو مکمل سیکولر اور لادین ہیں کیونکہ وہاں بہت بڑی تعداد ان لوگوں کی ہے جو کسی بھی مذہب کو نہیں مانتے اور کسی ایسی ہستی پر یقین نہیں رکھتے جسے وہ خدا یا اس کے برابر سمجھتے ہوں اور اس کی قسم کھانے کے لیئے تیار ہوں جبکہ ایک اسلامی ملک میں جس کے آئین میں بالادستی قرآن و سنت کی ہو اور حلف اور قسم کی بے انتہا اہمیت ہو وہاں اس قسم کی خوفناک تبدیلی محض دفتری غلطی نہیں بلکہ ایک گہرا وار ہے جو باقاعدہ سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت کیا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حکمران جماعت واضح طور پر ملک کی نظریاتی اساس پر حملہ آور ہو کر اس کو لبرل ازم کی راہ پر گامزن کرنا چاہتی ہے تاکہ عالمی طاقتوں کی مکمل سپورٹ حاصل کر کے اپنا اقتدار مستحکم کیا جاسکے اور سیکولرازم کی بنیادوں کو پاکستان کے آئین میں مضبوط کیا جاسکے۔
    اب یہ بات تو واضح ہوگئی کہ یہ باقاعدہ سیکولرازم کا شب خون پاکستان کے آئین پر مارا گیا ہے مگر اس کا ختم نبوت سے کیا تعلق ہے؟ اس کیلئے ہمیں چند ایک باتوں کی طرف غور کرنا ہو گا۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف کوعدالت میں جھوٹ بولنے کی بنیادپر نااہل قرار دیا گیا جبکہ اب انتخابی اصلاحات بل کے نام پر جو ترمیم شدہ قانون قومی اسمبلی میں منظور کیاگیا ہے اس کے مطابق آئندہ جھوٹ بولنے والے کو نااہل قرار نہیں دیا جاسکے گا۔ اراکین اسمبلی کے حلف نامہ میں ختم نبوت کی شق سے متعلق دعویٰ کیا جارہا ہے کہ اس کی عبارت جوں کی توں ہے لیکن اس میں ڈیکلریشن پلس اوتھ کی جگہ صرف ڈیکلریشن/ایفرمیشن لکھ کر اوتھ کا لفظ ختم کر دیا گیا ہے یعنی قسم اور حلفا اقرار کے الفاظ کلی طور پر حذف کر دیے گئے ہیں۔ ہم اگر ان باتوں کی جانب تھوڑا غور کریں تو اس کے خوفناک نتائج واضح طور پر سمجھ میں آتے ہیں اور صاف پتہ چلتا ہے کہ یہ سب کچھ گہری سازش کے تحت کیا گیا ہے۔ ختم نبوت کے حوالہ سے اس تبدیلی کے بعد اب اگر کوئی مرزائی ختم نبوت کا جھوٹا اقرار کر کے اسمبلی پہنچ جائے اور بعد میں اس امر کا پتہ چلے کہ یہ تو مسلمان نہیں بلکہ قادیانی ہے تو حالیہ ترمیم کی وجہ سے صرف جھوٹ بولنے کی بنیاد پر اسے نااہل قرار نہیں دیا جاسکے گاکیونکہ حلف کے الفاظ تو پہلے ہی حذف کر دیے گئے ہیں۔ یعنی اس انداز میں قانونی تبدیلی کی گئی ہے اور تھوڑا جھول رہ جائے اور آئندہ ملحد قسم کے لوگوں اور ختم نبوت کو تسلیم نہ کرنے والے قادیانیوں کو فائدہ پہنچایا جاسکے۔ ڈاکٹر محمد مشتاق، ڈین فیکلٹی آف شریعہ اینڈ لاءاسلامک یونیورسٹی اسلام آباد نے اس موضوع سے متعلق ایک اور اہم نقطہ کی طرف اشارہ کیا ہے‘ اسے بھی سمجھنا ضروری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نئے قانون کی سب سے خطرناک ترین حقیقت یہ ہے کہ 2002ءکے قانون کی دفعہ 7 (ذیلی دفعہ سی) کی منسوخی کے بعد اب قادیانی یا لاہوی گروپ کے کسی ووٹر کو مسلمانوں کی ووٹرلسٹ سے نکالنے کا کوئی قانونی طریقہ باقی نہیں رہا۔ اس سے یہ بات قطعی طور پر معلوم ہوجاتی ہے کہ یہ تبدیلیاں کس کے کہنے پر اور کس کو خوش کرنے کے لئے کی گئی ہیں!میرا سوال ہے کہ یہ تمام حقائق واضح ہونے کے بعد کیا اب بھی کسی ثبوت کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے ؟میں سمجھتاہوں کہ ختم نبوت اور پاکستان کے نظریاتی تشخص کو پامال کرنے کی اس ناپاک جسارت کی بلا تفریق مذمت کرنی چاہئے اور اس تبدیلی کو نا صرف فوری طور پر واپس لیا جانا چاہیے بلکہ اس سازش کے پیچھے کارفرما عناصر کے اصل عزائم کو قوم کے سامنے لاکر قانونی کاروائی کرنی چاہئے تاکہ آئندہ چور راستوں سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے متفقہ آئین اور نظریہ کے خلاف ہونے والی سازشوں کو روکا جاسکے۔

اس صفحے کی تشہیر