حدیث ”الجنة تحت أقدام الأمهات“ کا تحقیقی جائزہ

عمر اثری نے 'حدیث نبوی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏5 مئی 2018

  1. عمر اثری

    عمر اثری رکن

    مراسلے:
    22
    حدیث ”الجنة تحت أقدام الأمهات“ کا تحقیقی جائزہ

    تحقیق: عمر اثری بن عاشق علی اثری

    ”الجنة تحت أقدام الأمهات“ کے الفاظ کے ساتھ ایک حدیث لوگوں کے درمیان بہت مشہور ہے۔ زیر نظر تحریر اسی کی تحقیق پر مشتمل ہے۔

    حدیث کا متن:
    عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْجَنَّةُ تَحْتَ أَقْدَامِ الْأُمَّهَاتِ»
    تخریج: مسند الشهاب القضاعي ط مؤسسة الرسالة - بيروت: 1/102 (رقم الحدیث: 119)، الفوائد لأبي الشيخ الأصبهاني ط دار الصميعي للنشر والتوزيع، الرياض: 58 (رقم الحدیث: 25)، التاريخ لأبي الشيخ الأصبهاني: ص 253 (كما في سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة للألباني ط دار المعارف، الرياض - الممكلة العربية السعودية: 2/59 رقم الحديث: 593)، الرباعيات لابي بكر الشافعي: 2/25/1 (كما في سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة للألباني ط دار المعارف، الرياض - الممكلة العربية السعودية: 2/59 رقم الحديث: 593)، الكنى والأسماء للدولابي ط دار ابن حزم - بيروت/ لبنان: 3/1091 (رقم الحدیث: 1911)، الترغيب والترهيب لقوام السنة ط دار الحديث - القاهرة: 1/281 (رقم الحدیث: 448)، موجبات الجنة لابن الفاخر ط مكتبة عباد الرحمن: 110 (رقم الحديث: 143)، طبقات المحدثين بأصبهان والواردين عليها ط مؤسسة الرسالة - بيروت: 3/568، الجامع لأخلاق الراوي وآداب السامع للخطيب البغدادي ط مكتبة المعارف - الرياض: 2/231 (رقم الحدیث: 1702)، تفسير الثعلبي ط دار إحياء التراث العربي، بيروت - لبنان: 7/272، البر والصلة لابن الجوزي ط مؤسسة الكتب الثقافية، بيروت - لبنان: ص 66 (رقم الحدیث في الباب: 8 وفي الكتاب: 44)، أحاديث وحكايات للسلفي ط مخطوط نُشر في برنامج جوامع الكلم المجاني التابع لموقع الشبكة الإسلامية: ص 30 (رقم الحدیث: 22)، الإيماء إلى زوائد الأمالي والأجزاء ط أضواء السلف: 1/370 (رقم الحديث: 428)
    حدیث کی سند: یہ روایت مذکورہ تمام مصادر میں «منصور بن المہاجر عن ابی النضر الابّار عن انس بن مالک عن النبی ﷺ» کے طریق سے مروی ہے۔
    ترجمہ: انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جنت ماؤں کے قدموں تلے ہے۔

    حدیث کا حکم: یہ حدیث اس سند سے ضعیف ہے اور وجہ ضعف یہ ہے کہ اسمیں ”ابو النضر الابار“ نامی راوی مجہول ہے۔ علامہ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    لم أجد له ترجمة في شيء من كتب الرجال (1)
    ترجمہ:
    مجھے کتب رجال میں سے کسی میں بھی اسکا ترجمہ نہیں ملا۔

    تنبیہ: کئی محدثین نے اس حدیث کے ایک اور راوی ”منصور بن المہاجر“ پر کلام کیا ہے اور اس کو مجہول قرار دیا ہے، چنانچہ علامہ زرکشی، علامہ شیبانی اور علامہ سخاوی رحمہم اللہ بیان کرتے ہیں:
    (ابو الفضل) ابن طاہر رحمہ اللہ کا قول ہے کہ اس روایت میں منصور اور ابو النضر غیر معروف راوی موجود ہیں اور یہ حدیث منکر ہے۔ (2)

    علامہ عجلونی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    اس میں منصور اور ابو النضر غیر معروف راوی موجود ہیں۔ (3)

    علامہ محمد درویش حوت البیرونی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    اس میں مجہول راوی موجود ہیں، لہذا یہ منکر ہے۔ (4)

    لیکن صحیح یہ ہے کہ اس حدیث کی علت صرف اور صرف ابو النضر ہے۔ منصور بن مہاجر اس حدیث کی علت نہیں ہیں کیونکہ ان سے ثقات کی ایک جماعت نے روایت کیا ہے اور محدثین کی ایک جماعت کا موقف یہ ہے کہ اگر مجہول سے ثقات کی ایک جماعت نے روایت کیا ہو اور اسکی مرویات کو منکر بھی نہ قرار دیا گیا ہو تو اسکی روایت قبول کی جا سکتی ہے۔ اس موقف کے قائلین میں امام بزار، امام ذہبی، حافظ ابن کثیر، حافظ عراقی اور ابن حجر عسقلانی رحمہم اللہ وغیرہ ہیں۔ بلکہ امام ذہبی رحمہ اللہ نے اسکو جمہور کی طرف منسوب کیا ہے۔ لہذا زیر بحث راوی ”منصور بن مہاجر“ قابل استشہاد ہے۔ اسی لئے علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس راوی پر ایک جگہ کلام کرتے ہوئے فرمایا:
    منصور بن مهاجر، روى عنه جمع من الثقات منهم يعقوب بن شيبة، ولم يذكروا فيه توثيقا، ولذلك قال الحافظ في ”التقريب“: ”مستور“
    قلت: فمثله يستشهد به على أقل الدرجات

    (5)
    ترجمہ:
    منصور بن مہاجر سے ثقات کی ایک جماعت نے روایت کیا ہے ان میں سے یعقوب بن شیبہ بھی ہیں۔ اور لوگوں نے منصور کے سلسلے میں کوئی توثیق نہیں ذکر کی ہے، اسی لئے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ”تقریب“ میں منصور کے متعلق فرمایا کہ ”یہ مستور ہے۔“
    (علامہ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں) میں کہتا ہوں کہ اس (منصور) جیسے (راوی) سے کم سے کم استشہاد کیا جا سکتا ہے۔

    یہی بات علامہ غماری رحمہ اللہ نے بھی کہی ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں:
    ما نقله عن ابن طاهر من أن منصور بن مهاجر وأبا النضر الأبار لا يعرفان باطل، فمنصور بن مهاجر معروف، روى عنه يعقوب بن شيبة ومحمد بن عبد الملك الدقيقى والحسن بن على الحلوانى ومحمد بن إسماعيل الحسانى وإسحاق بن وهب العلاف وعلى بن إبراهيم بن عبد المجيد وأبو هاشم سهم بن إسحاق بن إبراهيم وعلى بن إبراهيم الواسطى وآخرون، وروى له ابن ماجه في التفسير وله ترجمة في التهذيب (6)
    ترجمہ:
    ابن طاہر رحمہ اللہ کے حوالے سے (شارح نے) جو یہ بات نقل کی ہے کہ منصور اور ابو النضر غیر معروف ہیں تو یہ باطل ہے۔ (کیونکہ) منصور بن مہاجر معروف ہے۔ اس سے یعقوب بن شیبہ، محمد بن عبد الملک الدقیقی، حسن بن علی الحلوانی، محمد بن اسماعیل الحسانی، اسحاق بن وہب العلاف، علی بن ابراہیم بن عبد المجید، ابو ہاشم سہم بن اسحاق بن ابراہیم، علی بن ابراہیم الواسطی اور دوسرے لوگوں نے روایت کیا ہے اور ابن ماجہ رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر میں اس (منصور) سے روایت لی ہے۔ (مزید یہ کہ) اسکا ترجمہ ”تہذیب“ میں موجود ہے۔

    یہاں یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ علامہ غماری رحمہ اللہ نے ”ابو النضر الابار“ کو بھی معروف بلکہ ثقہ قرار دے دیا ہے۔ علامہ غماری رحمہ اللہ کے الفاظ ملاحظہ فرمائیں:
    وأبو النضر الأبار هو جرير بن حازم كما ذكره الدولابى في الكنى، وهو ثقه من رجال الجميع (7)
    ترجمہ:
    ابو النضر الابار کا نام جریر بن حازم ہے، جیسا کہ امام دولابی رحمہ اللہ نے (اپنی کتاب) ”الکنی“ میں ذکر کیا ہے اور یہ کتب ستہ کے ثقہ راوی ہیں۔

    عرض ہے کہ علامہ غماری رحمہ اللہ سے یہاں سہو ہوا ہے۔ انھوں نے ابو النضر الازدی العتکی کو ابو النضر الابار سمجھ لیا ہے، کیونکہ ابو النضر جریر بن حازم نام کے دو راوی ہیں۔ ان میں سے ایک کا لقب ”الابار“ ہے جبکہ دوسرے کا ”الازدی العتکی“ ہے۔ جیسا کہ الکنی والاسماء للدولابی میں درج ہے۔ (8)

    خلاصہ کلام یہ ہے کہ اس حدیث کی علت صرف اور صرف ”ابو النضر الابار“ ہے جیسا کہ وضاحت کی جا چکی ہے۔
    فائدہ نمبر1: جہاں بھی (مثلا تفسیر ثعلبی وغیرہ میں) ابو النضر کی جگہ ابو النصر (صاد مہملہ کے ساتھ) ہے وہ غلطی ہے۔ جیسا کہ علامہ البانی رحمہ اللہ نے وضاحت کی ہے۔ (واضح رہے کہ علامہ البانی رحمہ اللہ نے تفسیر ثعلبی کے متعلق وضاحت نہیں کی ہے. بلکہ انھوں نے ”صفۃ الجنۃ لابی نعیم“ کے محقق پر تنقید کی ہے)۔ (9)

    فائدہ نمبر 2: جن لوگوں نے (مثلا دیلمی، زرکشی، ابن المبرد اور سیوطی رحمہم اللہ وغیرہ نے) اس حدیث کو صحیح مسلم کی طرف منسوب کیا ہے ان سے سہو ہوا ہے۔ چنانچہ علامہ مناوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    وأعجب من ذلك أن المصنف في الدرر عزاه إلى مسلم باللفظ المذكور من حديث النعمان بن بشير فيا له من ذهول ما أبشعه (10)
    ترجمہ:
    اور اس سے بھی زیادہ تعجب خیز بات یہ ہے کہ مصنف نے ”درر“ میں اس حدیث کو مسلم کی طرف مذکورہ لفظ کے ساتھ نعمان بن بشیر کی حدیث سے منسوب کیا ہے۔ یہ انکی بہت بھیانک چوک ہے۔

    اور علامہ درويش الحوت فرماتے ہیں:
    وَمن عزاهُ لمُسلم فقد ذهل (11)
    ترجمہ:
    جس نے بھی اس حدیث کو امام مسلم رحمہ اللہ کی طرف منسوب کیا ہے اس سے چوک ہوئی ہے۔

    مذکورہ بالا تفاصیل سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہ حدیث اس سند سے ضعیف ہے اور اسکی علت صرف ”ابو النضر الابار“ ہے۔ چنانچہ علماء کی ایک جماعت نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے جن کے نام حسب ذیل ہیں:
    1) ابن القیسرانی (ابن طاہر) (12)

    2) ابن تیمیہ (13)

    3) زرکشی (14)

    4) سخاوی (15)

    5) عبد الرحمن بن علی شیبانی شافعی اثری (16)

    6) محمد طاہر بن علی ہندی فتنی (17)

    7) مناوی (18)

    8) مرعي بن يوسف بن أبى بكر بن أحمد الكرمى (19)

    9) عجلونی (20)

    10) صنعانی (21)

    11) عبد القادر بن بدران الدومی الحنبلی (22)

    12) علامہ البانی (23)

    13) ابو اسحاق الحوینی (24)

    لیکن سنن نسائی، ابن ماجہ اور طبرانی وغیرہ میں صحیح سند سے روایت موجود ہے، جو زیر بحث حدیث کو تقویت دیتی ہے، جس کی بنا پر زیر بحث حدیث حسن لغیرہ کے درجہ تک پہونچ جاتی ہے۔ وہ روایت اس طرح سے ہے:
    عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ جَاهِمَةَ السَّلَمِيِّ، أَنَّ جَاهِمَةَ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَدْتُ أَنْ أَغْزُوَ وَقَدْ جِئْتُ أَسْتَشِيرُكَ، فَقَالَ: هَلْ لَكَ مِنْ أُمٍّ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَالْزَمْهَا، فَإِنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ رِجْلَيْهَا
    ترجمہ: معاویہ بن جاہمہ سلمی سے روایت ہے کہ جاہمہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں جہاد کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں، اور آپ کے پاس آپ سے مشورہ لینے کے لئے حاضر ہوا ہوں، آپ ﷺ نے (ان سے) پوچھا: کیا تمہاری ماں موجود ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: انہیں کی خدمت میں لگے رہو، کیونکہ جنت ان کے دونوں قدموں کے نیچے ہے۔
    یہ حدیث سنن نسائی (رقم الحديث: 3104)، ابن ماجہ (رقم الحديث: 2781) اور حاکم (ط دار الحرمين: 2/125 رقم الحديث: 2557) میں ”حجاج بن محمد عن ابن جریج بہ“ کے طریق سے مروی ہے اور امام حاکم رحمہ اللہ نے اسکی تصحیح کی ہے جبکہ امام ذہبی رحمہ اللہ نے انکی موافقت کی ہے۔ محدث عصر علامہ البانی رحمہ اللہ نے بھی اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔ اس طرح زیر بحث حدیث کو مذکورہ بالا حدیث سے تقویت ملتی ہے اور وہ حسن لغیرہ کے درجہ تک پہونچ جاتی ہے۔ چنانچہ علامہ سیوطی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے (25) جبکہ زرقانی نے اسے صحیح کہا ہے۔ (26)

    فائدہ: جہاد میں شامل ہونے کی بجائے ماں کی خدمت کا حکم صحابی رسول جاہمہ رضی اللہ عنہ کے خاص ظروف و حالات کی بنا پر تھا، کیونکہ یہ حکم نبی اکرم ﷺ نے ہر اس صحابی کو نہیں دیا جن کی (بوڑھی) والدہ زندہ تھیں اور وہ جہاد میں شامل ہونے کا ارادہ رکھتے ہوں۔ اگر یہ بات سب کے لئے ہوتی تو ہر وہ صحابی جن کی والدہ باحیات تھیں کبھی جہاد میں شامل نہ ہو پاتے۔

    تنبیہ بلیغ:
    زیر بحث حدیث ”الجنة تحت أقدام الأمهات“ کچھ زیادتی کے ساتھ «موسى بن محمد بن عطاء» کے طریق سے مروی ہے۔

    حدیث کا متن:
    عنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَال: قَال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَنَّةُ تَحْتَ أَقْدَامِ الأمهات من شئن أدخلن، ومَنْ شئن أخرجن
    ترجمہ: ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ماؤں کے قدموں تلے جنت ہے وہ جسے چاہیں گی (جنت میں) داخل کر لیں گی اور جسے چاہیں گی باہر نکال دیں گی۔
    تخریج: الكامل في ضعفاء الرجال لابن عدي ط دار الكتب العلمية - بيروت-لبنان: 8/64، ميزان الاعتدال في نقد الرجال للذهبي ط دار المعرفة للطباعة والنشر، بيروت - لبنان: 4/220، لسان الميزان لابن حجر ط مكتب المطبوعات الإسلامية: 8/217، ذخيرة الحفاظ لابن القيسراني ط دار السلف - الرياض: 2/1232 (رقم الحديث: 2644)

    فائدہ: علامہ البانی رحمہ اللہ نے سلسلہ الضعیفہ (27) میں اور مسند شہاب قضاعی کے محقق حمدی عبد المجید السلفی نے مسند شہاب قضاعی کی تحقیق (28) میں اس حدیث کے متعلق لکھا ہے کہ اسکی تخریج امام عقیلی نے بھی کی ہے۔ لیکن کافی تلاش کے باوجود امام عقیلی رحمہ اللہ کی کتاب ”الضعفاء الکبیر“ میں یہ روایت نہیں مل سکی۔
    یہاں علامہ البانی رحمہ اللہ کے بشمول جن لوگوں نے اسکی تخریج کو ”الضعفاء الکبیر للعقیلی“ کی طرف منسوب کیا ہے ان کو سہو لاحق ہوا ہے اور اسکا اقرار خود علامہ البانی رحمہ اللہ نے بھی کیا ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں:
    وقد كنت اعتمدت عليه هناك فعزوته إلى العقيلي، والآن، فقد تبين أن هذا العزو خطأ؛ فإن الحديثين لم يروهما العقيلي مطلقاً؛ فلعله سقط من قلم الحافظ أو الناسخ كلمة ابن عدي؛ فإن الصواب: ”وقال ابن عدي: منكر الحديث“ (29)
    ترجمہ:
    میں نے انھیں پر اعتماد کرتے ہوئے اس حدیث کو عقیلی کی طرف منسوب کر دیا تھا، لیکن اب مجھ پر یہ واضح ہو چکا ہے کہ یہ نسبت غلط تھی کیونکہ ان دونوں روایات (حدیث ”الجنة تحت أقدام الأمهات“ اور حدیث ”إن للمساكين دولة“) کو امام عقیلی نے سرے سے روایت ہی نہیں کیا ہے۔ بہت ممکن ہے کہ حافظ یا ناسخ کے قلم سے کلمہ ”ابن عدی“ ساقط ہو گیا ہو، کیونکہ صحیح یہ ہے کہ ”ابن عدی نے کہا: منکر الحدیث“۔

    حدیث کا حکم: یہ روایت اس سند سے موضوع ہے۔ کیونکہ اسکی سند میں ایک راوی ”موسی بن محمد بن عطاء الدمیاطی“ ہے جس پر سخت جرحیں کی گئی ہیں۔ چانچہ لسان المیزان (30) میں ہے:
    ابو زرعہ اور ابو حاتم نے اسکی تکذیب کی ہے۔
    نسائی فرماتے ہیں:
    ليس بثقة

    دارقطنی وغيره فرماتے ہیں:
    متروك

    ابن حبان فرماتے ہیں:
    لا تحل الرواية عنه؛ كان يضع الحديث

    ابن عدی فرماتے ہیں:
    كان يسرق الحديث

    ابن يونس فرماتے ہیں:
    روى عن مالك موضوعات، وهو متروك الحديث

    عبد الغنی بن سعيد فرماتے ہیں:
    ضعيف

    ابو نعیم الاصبہانی فرماتے ہیں:
    لا شيء

    منصور بن اسماعیل بن ابی قرہ فرماتے ہیں:
    كان يضع الحديث على مالك والموقري

    اسی لئے علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث پر موضوع ہونے کا حکم لگایا ہے۔ (31)

    خلاصہ التحقیق:
    سابقہ تفصیل کی روشنی میں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہ حدیث اپنی سند سے ضعیف ہے، البتہ دوسری شاہد حدیث سے تقویت کی بنا پر حسن لغیرہ کے درجہ تک پہونچتی ہے، لیکن ”من شئن أدخلن، ومَنْ شئن أخرجن“ کے اضافہ کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنہما والی حدیث موضوع ہے۔
    واللہ تعالی اعلم بالصواب۔

    حواشی:
    (1) سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة للألباني ط دار المعارف، الرياض - الممكلة العربية السعودية: 14/938 (رقم الحدیث: 6903)
    (2) اللآلئ المنثورة في الأحاديث المشهورة المعروف بالتذكرة في الأحاديث المشتهرة للزركشي ط دار الكتب العلمية: ص 193، تمييز الطيب من الخبيث فيما يدور على ألسنة الناس من الحديث لابن الديبع الشيباني ط دار الكتاب العربي بيروت - لبنان: ص 66، مقاصد الحسنة في بيان كثير من الأحاديث المشتهرة على الألسنة للسخاوي ط داو الكتاب العربي: ص 287 (رقم الحديث: 373)
    (3) كشف الخفاء ومزيل الإلباس عما اشتهر من الأحاديث على ألسنة الناس ط مؤسسة الرسالة: 1/401 (رقم الحديث: 1078)
    (4) أسنى المطالب في أحاديث مختلفة المراتب للحوت ط دار الكتب العلمية - بيروت: 121 (رقم الحدیث: 544)
    (5) سلسلة الأحاديث الصحيحة للألباني ط مكتبة المعارف للنشر والتوزيع، الرياض: 4/630 (رقم الحديث: 1979)
    (6) المداوي لعلل الجامع الصغير وشرحي المناوي للغماري ط دار الكتبي: 3/370
    (7) حوالہ سابق۔
    (8) الكنى والأسماء للدولابي ط دار ابن حزم - بيروت/ لبنان: 3/1091 (رقم الحدیث: 1911)
    (9) تفصیل کے لئے دیکھیں: سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة للألباني ط دار المعارف، الرياض - الممكلة العربية السعودية: 14/938 رقم الحدیث: 6903
    (10) فيض القدير شرح الجامع الصغير للمناوي ط المكتبة التجارية الكبرى - مصر: 3/361 رقم الحدیث: 3642
    (11) أسنى المطالب في أحاديث مختلفة المراتب للحوت ط دار الكتب العلمية - بيروت: 121 رقم الحدیث: 544
    (12) جیسا کہ کئی محدثین نے انکا قول نقل کیا ہے، البتہ مجھے انکی مطبوع کتب میں یہ قول نہیں مل سکا۔
    (13) أحاديث القصاص ط المكتب الإسلامي: 90 (رقم الحديث: 70
    (14) اللآلئ المنثورة في الأحاديث المشهورة المعروف بالتذكرة في الأحاديث المشتهرة للزركشي ط دار الكتب العلمية: ص 193
    (15) مقاصد الحسنة في بيان كثير من الأحاديث المشتهرة على الألسنة للسخاوي ط داو الكتاب العربي: ص 287 (رقم الحديث: 373)
    (16) تمييز الطيب من الخبيث فيما يدور على ألسنة الناس من الحديث لابن الديبع الشيباني ط دار الكتاب العربي بيروت - لبنان: ص 66
    (17) تذكرة الموضوعات للفتني ط دارة الطباعة المنيرية: ص 202
    (18) فيض القدير شرح الجامع الصغير للمناوي ط المكتبة التجارية الكبرى - مصر: 3/361 رقم الحدیث: 3642
    (19) الفوائد الموضوعة في الأحاديث الموضوعة ط دار الوراق - الرياض: ص 120 (رقم الحديث: 147)
    (20) كشف الخفاء ومزيل الإلباس عما اشتهر من الأحاديث على ألسنة الناس ط مؤسسة الرسالة: 1/401 (رقم الحديث: 1078)
    (21) التنوير شرح الجامع الصغير للصنعاني ط دار السلام - الرياض: 5/301 (رقم الحديث: 3626)
    (22) شرح كتاب الشهاب ط وزارة الأوقاف والشؤون الإسلامية - الكويت: ص 264 (رقم الحديث: 370)
    (23) ضعيف الجامع الصغير وزيادته للألباني ط المكتب الإسلامي: ص 394 (رقم الحديث: 2666)، حقوق النساء في الإسلام وحظهن من الإصلاح المحمدي العام لمحمد رشيد رضا ط المكتب الإسلامي: ص 194
    (24) یوٹیوب:

    (25) الجامع الصغير للسيوطي ط طبعة قديمة: 1/363
    (26) مختصر المقاصد الحسنة للزرقاني ط المكتب الإسلامي: ص 109 (رقم الحديث: 348)
    (27) سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة للألباني ط دار المعارف، الرياض - الممكلة العربية السعودية: 2/59، رقم الحديث: 593
    (28) مسند الشهاب القضاعي ط مؤسسة الرسالة - بيروت: 1/102، رقم الحدیث: 119
    (29) سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة للألباني ط دار المعارف، الرياض - الممكلة العربية السعودية: 13/617
    (30) لسان الميزان لابن حجر ط مكتب المطبوعات الإسلامية: 8/217
    (31) سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة للألباني ط دار المعارف، الرياض - الممكلة العربية السعودية: 2/59 (رقم الحديث: 593)

اس صفحے کی تشہیر