جماعت الدعوہ کی سیاست

نیازی نے 'سیاست و عدالت' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏5 اگست 2017

  1. نیازی

    نیازی رکن

    مراسلے:
    217
    فیس بک سکالرز کی مسلسل پیشن گوئیاں پڑھ رہا ہوں کہ جیسے جماعتہ الدعوہ اور حافظ سعید اب گئے کام سے، غداری کر دی اپنے شہداء سے اور جس کی تلافی شاید ممکن نہیں اور روند ڈالا اپنے اس ویژن کو کہ ہم جمہوریت کے اس گند کو ہرگز قبول نہیں کریں گے. بس اب جماعت اختتام پزیر ہو جائے گی. ایک صاحب تو مجھ سے پوچھ رہے تھے کہ سنا ہے جماعتہ الدعوہ ایم کیو ایم سے الحاق کر رہی ہے. ہاں ٹھیک ہی ہے، ہو سکتا ہے اسی بہانے وہ بھی راہ راست پے آ جائیں... ایک اچھے بھلے سیاسی پارٹی سے تعلق رکھنے والے بھائی صاحب بولے، ارے بھائ بہت عمدہ کام شروع کر دیا آپ لوگوں نے، چلو آپکے پاس پہلے سے عسکری ذہن رکھنے والے لوگ تو موجود ہی ہیں، اس بہانے سیاست میں ذرا رعب جما رہے گا...لا حول ولا قوہ...!
    دوستو! آج سے 27 سال پہلے بھی یہ جمہوریت موجود تھی، اس وقت سے ہی حافظ صاحب کو جمہوریت کا مشورہ دینے والے چلے آرہے ہیں. میرے اطمینان کے لیے اتنا بھی کافی ہے کہ حافظ صاحب نے اس فیصلہ کو قبول کرتے کرتے 27 سال لگا دیے. نظریہ ضرورت کو اپنے لیے زندہ رکھنے والے، تھوڑی سی وسعت جماعت کے لیے بھی کسی کونے کھدرے سے نکال لیں اور یہ بات قابل ذکر کیوں نہیں کہ جماعتہ الدعوہ نے کب اپنے کارکنان کو ضائع کیا ہے؟ ہاں اب کوئی اتنے پائے کے تجزیے پیش کر کےخود ہی ضائع ہونا چاہے تو ست بسم اللہ.... یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ جماعت کے کارکنان کی مکمل تربیت جمہوریت مخالف کی گئی ہے اور کارکنان کے لیے اس فیصلہ کو ہضم کرنا کافی مشکل مرحلہ ہے مگر مجھے حضرت حفصہ رضی اللہ عنھا کی وہ بات یاد آ گئی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے فرمانے لگیں کہ آپ اپنا جانور ذبح کر دیجیے آپکو دیکھ کر سب کرنے لگیں گے. بسا اوقات کچھ فیصلے حکمتاً اور ترجیحاً تربیت اور ذہن سازی کے برعکس کرنا ہوتے ہیں مگر یقین صرف امیر کی اطاعت اور اسکی دور اندیشی پر ہوتا ہے. مجھے یہ بھی یاد ہے کہ امیر کے اجتہادی فیصلے اگر نیک نیتی پر مبنی ہوں تو صحیح ہونے پر دوہرے اور غلط ہونے پر اکہرے اجر کے باعث بن جاتے ہیں.
    عرض کرتا چلوں کہ مجھے وہ وقت بھی یاد ہے کہ جب حافظ صاحب محترم نے اجتماع میں ہزاروں کے جم غفیر سے مخاطب ہو کر یہ کہا تھا کہ جو جمہوریت کہ گند میں داخل ہوا وہ اپنے کام سے گیا اور باطل طریقے سے تبدیلی نہیں لائی جاسکتی، جی جی کہا تھا مگر حافظ صاحب محترم کا مطمع نظر اس وقت کی وہ حکمت عملی بھی جہاد کو جاری و ساری رکھنے کے لیے تھی اور آج کی یہ حکمت بھی جہاد کو قائم و دائم رکھنے کے لیے ہی ہے. ویسے آپ سے ایک بات پوچھنا چاہ رہا ہوں کہ جس شخص نے دہائیوں اپنے گلستان کو خوں سے سینچا ہو، کبھی اس سے بھی جا کے پوچھو کہ ایسی کیا اذیت آپہنچی کہ سب ارادے ہی بدل گئے، مجھے ایک ذمہ دار اور جماعت میں اچھا مقام رکھنے والے دوست کی بات اچھی لگی اور اطمینان ہوا کہ حافظ صاحب محترم نے یہ فیصلہ بڑی کراہت سے کیا ہے. امیر محترم بتا رہے تھے۔۔۔
    "کہ ہمارا مقصد ہرگز الیکشن لڑنا۔۔۔
    ووٹ مانگنا۔۔۔ جمہوریت کے گند میں لتھڑنا۔۔۔
    اور انسانوں کے بنائے نظام کا غلام بننا نہیں۔۔۔
    ہم رجسٹرڈ ہوکر ، سیاست کا نام لیکر صرف اپنے اوپر پابندیوں کے دروازے بند کرنا چاہتے ہیں۔۔۔ ہمارا منہج اور راستہ کوئی نیا نہیں بلکہ چودہ سو سال پہلے طے ھو چکا، جس پر ہم چل رہے ہیں۔۔۔"
    میں امیر محترم کی ان باتوں سے مطمئن بھی ہوا اور اللہ سے عافیت کی دعا بھی کی۔۔۔
    لیکن۔۔۔کچھ نا سمجھ کارکنان اور ذمہ داران کے تبصرے سن کر حیران و پریشان ہوگیا۔۔۔ حتی کہ اس نتیجہ پر پہنچا کہ آزمائش اور امتحان کی شکلیں اور بھی بہت ساری ھیں۔۔۔!!!

    ہمارے بزرگوں کے مقاصد نیک اور نیتیں خالص ہیں۔۔۔ وہ آزمائش کی اس گھڑی میں کراہتاً سیاست کے روپ کو دھار رھے ھیں۔۔۔
    مجھے اپنی یونیورسٹی کا وہ وقت بھی یاد آگیا کہ جب ہماری BZU انتظامیہ کے ساتھ کچھ انتظامی امور پر ان بن ہوگئی تھی، معاملہ ہڑتال تک جا پہنچا اور ہمارے ڈیپارٹمنٹ کی ہڑتال 3 دن جاری رہی مگر ہمارا احتجاج کسی کام نہ آیا. پھر حکمت بدلی اور اک سیاسی پارٹی سے مزاکرات کئے تو ساری گتھی خود ہی سلجھتی معلوم ہوئی...

    ہم بھی اپنے اردگر موجود بہت سارے کام انگلی ٹیڑھی کرکے نکلوا لیتے ہیں اور کسی کے پوچھنے پر کہہ دیتے ہیں کہ اور کیا کرتے؟ کوئی اور حل ہی نہیں چھوڑا گیا ہمارے لیے، اس کے علاوہ کوئی راہ نظر نہیں آ رہی تھی.

    مجھے یقین ہے کہ حافظ صاحب محترم نے کچھ ایسے ہی انگلی ٹیڑھی کرلی ہے کہ حکومت سے الجھنا بھی نہیں اور جہاد بھی جاری رکھنا ہے.........
    ,جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی,
    واللہ اعلم بالصواب.

    منقول

اس صفحے کی تشہیر