جدید سامان زینت کے متعلق شریعت اور میڈیکل سائنس کے فیصلے

بنت مشتاق نے 'متفرق موضوعات (خواتین)' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏19 اپریل 2014

  1. بنت مشتاق

    بنت مشتاق رکن

    مراسلے:
    150
    جدید سامان زینت کے متعلق شریعت اور میڈیکل سائنس کے فیصلے
    اصل کتاب کا تعارف
    حسن و جمال کے حصول کے انداز اور مصنوعی آرائش کے اسباب و سامان ویسے تو بکثرت ہو چکے ہیں ۔ لیکن میں یہاں صرف خاص خاص اور مشہور و معروف اشیاء کے بیان پر ہی اکتفا کروں گا ۔ جیسے کہ:

    "مختلف آرائش کے پوڈر ، ہونٹوں کو سرخ کرنے والی سرخی ( لپ اسٹک) رنگین ملعون عدسے ( کلر آئی لینزز) بالوں کو رنگین بنانا ، بالوں کو ڈرائی کرنا ، ناخنوں کو نیل پالش لگانا ، مصنوعی ناخن لگانا ، آنکھوں کے گرد مختلف رنگ استعمال کرنا، مصنوعی پلکیں لگانا ، مصنوعی سرمے لگانا، بالوں کے سٹائل بنانا، بال اکھیڑنا، جسم کو گودنا، دانتوں کو تیز کرنا، مصنوعی بال لگانا، تنگ کپڑے پہننا، اونچی ایڑی کا استعمال کرنا، بے پردہ پھرنا، کھلے چہرے پھرنا۔۔۔۔ اور دیگر مختلف اظہار زینت کے انداز وغیرہ۔"

    اب ہم مذکورہ اشیا ء اور مذکورہ رنگوں کے بارے میں اطبا ء ، ڈاکٹر ز ، میڈیکل پروفیسرز، اور ماہرین جلد، میڈیکل سپیشلسٹ اور متعدد علما ء کے اقوال و آرا ء اور فیصلوں کو قدرے تفصیل سے بیان کرتے ہیں ۔
  2. بنت مشتاق

    بنت مشتاق رکن

    مراسلے:
    150
    آرائش کے پوڈر
    ان پوڈروں کے اجزائے ترکیبی کون سے ہیں؟
    کیا تم اس بات کو سچ جانو گی کہ بین الاقوامی مشہور و معروف آرائش کے پوڈر زندہ انسانی جنین ( شکم مادر میں موجود بچہ) کی بافتوں سے بنائے جاتے ہیں ۔؟کیا تجھے یہ بھی معلوم ہے کہ متحدہ امریکہ کی ریاستوں میں تقریباً چار ہزار جنین اس مقصد یا اسی طرح کے دوسرے مقاصد کے حصول کے لیے جنین مافیا کے ذریعے داخل ہو رہے ہیں ؟ وہ ان رنگین پوڈروں کو بنانے کے لیے بے دریغ انسانی قتل کر رہے ہیں۔

    جرم کا پھندا
    بر اعظم افریقہ کے ایک بین الاقوامی پر رونق اور گنجان آباد ایئر پورٹ پر ایک جرمن سفید فام خاتون کو گرفتار کیا گیا جو مذکورہ بین الاقوامی ایئر پورٹ پر ایک سفید فارم بچے کو " واکر" میں لیے جا رہی تھی ۔لیکن بچھے کو دی گئی مدہوش کرنے والی اس " دوائی" کا اثر ختم ہو گیا جو اسے اٹھاتے ہوئے دی گئی تھی ۔ قریب تھا کہ قتل کی سازش کامیاب ہو جاتی اور طیارہ پرواز کر جاتا مگر اچانک بچے کی چیخ و پکار نے سازشی منصوبہ نا کام بنا دیا ۔ ایئر پورٹ کے ارباب بست و کشاد مکمل تحقیقات کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ بچہ اغوا ء کیا گیا ہے ۔اور ایسے ہی کتنے ہی بچوں کو یورپ کی چند کمپنیوں کے ہاتھوں "لپ بھر" ڈالروں کے عوض فروخت کیا جاتا تھا ۔بعد میں ان کے بدن کے حصوں کو قیمہ کر کے گردے ، دل ، آنکھوں کی پتلیوں ، لبلبے ، ہڈیوں اور جگر کو بلکہ خون اور جلد تک کو بھی فروخت کیا جاتا تھا۔

    بعض جدید تحقیقات نے جو امریکہ اور مغربی یورپ کی ریاستوں میں بڑی بڑ ی "آرائشی پوڈر بنانے والی کمپنیوں " نے جاری کی ہیں ۔ آرائشی پوڈروں کی صنعت سازی میں انسانی جنین کی بافتوں کے بڑھا چڑھا کر فوائد بیان کیے ہیں ۔ یہاں سے ایک نئے انداز سے جرائم کی راہیں کھل گئی ہیں ۔کہ جن میں کئی ایک جہتیں شریک جرم ہو رہی ہیں (اور یہ جرم مختلف صورتوں میں مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔)ان میں سے ایک "انسانی اعضاء کی تجارت کرنے والا "مافیا" بھی شامل ہے ۔ ان میں سے بعض افراد نے "جنین کی چوری " کرنے کے لیے سپیشل کورسز بھی کر رکھے ہیں ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس جرم کو "قانونی جرم" ہی قرار دے دیا جائے۔

    مذکورہ جرم میں اس گینگ کے بعض افراد ،عورتوں کے حمل گروانے میں ، شکم مادر کے بچے حاصل کرنے اور پھر انہیں خاص قسم کے برتنوں اور تھیلوں میں محفوظ کرنے (جو خاص اس مقصد کے لیے تیا ر کیے جاتے ہیں ۔ پھر جنہیں انسانی جلد کو خوبصورت بنانے والے خاص صابن بنانے والے اداروں کو فروخت کر دیا جاتا ہے۔یا انسانی جلد کو غذا دینے والی بعض کریموں اور پوڈروں کو تیار کرنے والے اداروں کو بیچ دیا جاتا ہے)کے جرم میں گرفتار کیا گیا ہے اس گروہ کے ساتھ بعض ڈاکٹرز بھی ملے ہوتے ہیں ۔

    جنرل سیکر ٹری کی رپورٹ
    ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں "قبل از ولادت بچوں کے حقوق کی نگہداشت کرنے والی بین الاقوامی انجمن" کے جنرل سیکرٹری " فلا ڈدیمیر" نے اس معاملے کے ضمن میں چند ماہ کی محنت سے ایک خفیہ رپورٹ تیار کی ۔ اور اس میں اس بات کی بڑی اچھی طرح وضاحت کی کہ کس طرح انسان وحشی بن بیٹھا ہے کہ تجارتی مقاصد اور مکروہ فریب نسوانی میک اپ کے سامان ) کے اعراض کے لیے اس نے اپنے ہی وجود کو خود قتل کرنا شروع کر دیا ہے ۔

    اس جرم کے آثار اور خدوخال تو اب عالمی سطح پر ظاہر ہونے شروع ہو گئے ہیں ۔ اور اس موضوع پر طبعی حلقوں میں بھی چہ مگوئیاں شروع کر چکی ہیں ۔ جب سے 1305 ھ 1975 ھ میں ( الصیحۃ الصامتہ ) ( خاموش چیخ) کے نام سے ایک فلم سینماوں میں چلائی گئی ہے ۔ عالمی سطح پر " حمل گرانے" کے حامیوں کی طرف سے ایک ہنگامہ برپا کر دیا گیا ہے ۔ انہوں نے اس فلم کی ریلیز کرنے والے پر اعتراض کیا کہ وہ خود " حمل گرانے" میں حجت تسلیم کیا جاتا ہے ۔ کیونکہ اس نے اپنی نگرانی میں تقریبا 60 ہزار کیس میں ڈیل کیے اور بذات خود اسے نے پانچ ہزار کیس کیے ہیں۔

    یہ فلم بذریعہ الٹرا ساونڈ لی گئی ایک "صحت مند جنین" کی تصویر دکھانے سے شروع ہوتی ہے جو ابھی تک پیدا نہیں ہوا۔ یہ فلم اس کے سر کو تن سے جدا کرنے اور اس کے جسمانی اعضا ء کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے پر ختم ہوتی ہے ۔ وہ بچہ رحم مادر میں ایک " محیط سیال" میں تیرتا ہو دکھایا گیا ہے ۔ جسے حمل گرانے والے جدید آلے جیلو ٹین کے ذریعے ٹکڑے ٹکڑے ہو کیا گیا ہے ۔ اس فلم میں اس بات کو بھی واضح طور پر دکھایا گیا ہے کہ شکم مادر کا وہ بچہ زندہ ہے ۔ لیکن ابھی تک پیدا نہیں ہوا ۔جسے "حمل گرانے " کے عمل کے دوران بہت سے آلام و مسائب سے دو چار ہونا پڑا ہے ۔ اور فلم اس بات کو بخوبی بیان کرتی ہے ۔ کہ رحم مادر میں بچے کی تڑپنے اور پھڑکنے کی حرکات و سکنات اس حالت کو واضح کر رہی ہیں کہ وہ "حمل گرانے والے (نشتر نما) آلے " سے جو کہ اس کے لیے موت لانے کا سبب بن رہا ہے ، دور بھاگتا ہے ۔ اس ننھے سے دل کی دھڑکن بھی تیز ہو رہی ہے اور وہ ایسی شدت سے چیخ و پکار کر رہا ہے جیسے کوئی پانی میں ڈوبنے والا چیخ و پکار کرتا ہے ۔

    اس " فلمی ریل" نے یہ بھی نمایاں کیا ہے کہ جو نہی وہ " جنین" موت کے خطرات کا سامنا کرتا ہے اس کے دل کی دھڑکنیں انتہائی زیادہ بڑھ جاتی ہیں ۔ حتیٰ کہ اس کے دل کی دھڑکن فی منٹ 200 تک پہنچ جاتی ہیں ۔اور تمام ڈاکٹری طبی مراجع کے اعتبار سے یہ تعداد غیر فطری تعداد ہے ۔ جب کہ ابھی اس بچے کی عمر 12 ہفتے بتائی گی ہے ۔

    یوگو سلاویہ کی ایک صحافی خاتون " بادوریدا " نے یہ بات تحریر کی ہے کہ " زندہ انسانی جنین سائنسی تجربات کرنے اور زیب و زینت کے آرائشی سامان بنانے میں استعمال کیے جاتے ہیں۔'

    اس رپورٹ کے آخر میں انگلستان کے حوالے سے یہ بات بھی بیان کی گئی ہے کہ لندن کا ایک " امراض نسواں اور زچہ بچہ کا مشہور سپیشلسٹ " صابن بنانے والی ایک خاص کیمیائی کمپنی کو جنین فروخت کرتا ہے ۔

    جھینگر سے بھی
    یہ ایک دوسری خبر ہے وہ کہتا ہے کہ " زیب و زینت کا سامان بنانے والی ایک ہندوستانی فرم کی ۔۔۔۔ جو چہرے پر لگانے والی کریمیں تیار کرتی تھی ۔۔۔۔ خفیہ نگرانی کی گی ۔ جس کے بارے میں گاہکوں کو معلوم ہوا کہ کریموں میں جھینگر بھی ملایا جاتا ہے ۔ (جھینگر ایک قسم کا کیڑا ہے جو نمی کی وجہ سے کونوں ، کھدروں میں پیدا ہو جاتا ہے اور کپڑوں کو کاٹ دیتا ہے )

    اس فرم نے اس حقیقت کا اعتراف بھی کیا ہے کہ وہ چہرے پر لگانے والی کریموں میں پروٹین کی مقدار کو بڑھانے کے لیے پسے ہوئے جھینگر بھی استعمال کرتے ہیں ۔ شاید کہ ان کے لیے "انسانی جنین" کا حسول قدرے مشکل ہو تو انہوں نے جھینگر استعمال کرنے شروع کر دیے ۔

    یہ چند خود غرضی پر مبنی شرمناک حقائق ہیں ۔ اور یہ ان گندے قبیح اور بد سورت چہروں سے خوشنما پردوں کو ہٹا رہے ہیں جو ان تہذیب و تمدن کے دعویداروں نے اوڑھ رکھے ہیں ۔ در حقیقت یہ لوگ انسانیت کا خون چوسنے والے ہیں ۔

    میری مسلمان بہن!۔۔۔۔ تو کس طرح ان کی بنائی ہوئی چیزوں کو قبول کر کے ان کی تیار شدہ کریمیں اور پوڈر ز استعمال کر رہی ہے ۔؟ جو ان گندے حشرات یا انسان کے جنین ( یعنی رحم مادری میں قبل از ولادت معصومین سے جو ابھی میت کے حکم میں ہوتے ہیں بنائے ہیں۔

    ڈاکٹرز کی آراء و تجاویز
    زیبائشی پوڈرز "جوانی دانے "زیادہ پیدا کرتے ہیں ۔
    مصر کی لیڈی ڈاکٹر "وفا رمضان" جو ایک پروفیسر اور "طنطا ہسپتال" میں جلدی امراض کے شعبے اور ڈیپارٹمنٹ کی ہیڈ ہیں ۔ اپنی تحقیق کا خلاصہ با ایں الفاظ تحریر کرتی ہیں ۔:
    "میک اپ کے پوڈر انسانی جلد میں سوزش اور سوجن پیدا کرتے ہیں ۔ اور کچھ کریمیں ایسی ہیں جو "جوانی دانے"زیادتی کرنے کا سبب بنتی ہیں ۔ کیونکہ ان کریموں کے بکثرت استعمال سے ان دانوں کو غذا ملتی رہتی ہے ۔۔۔۔ پھر یہی ڈاکٹر چہرے کو ساف رکھنے ، ریاضت کرنے اور جسمانی حرکات سے فطری علاج کرنے اور ان میک اپ کے پوڈروں کے استعمال کو چھوڑنے کی نصیحت کرتی ہیں جو آج کل کی نوجوان لڑکیوں میں تیزی سے پھیل رہے ہیں۔"


    آرائشی پوڈرز۔۔۔۔ بڑھاپا جلد لانے کا سبب
    جدید تحقیقات اور معلومات اس بات کو بیان کرتی ہیں کہ بڑھاپا جلد لانے میں موروثی عوامل کے ساتھ ساتھ کچھ خارجی اسباب بھی پائے جاتے ہیں ۔ متذکرہ بالا ڈاکٹر یہ بھی بیان کرتی ہیں کہ:

    "ان خارجی اسباب میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ان آرائش و زیبائش والے سازو سامان کو بکثرت استعمال کرنا۔ کیونکہ انسانی جلد کے مسام آہستہ آہستہ اس مواد کو جذب کرتے رہتے ہیں۔ جو بالآخر انسانی جلد میں سوزش اور بیماری سے جلد متاثر ہونے والی کیفیات پیدا کرتے ہیں ۔ کیونکہ ان میں شام ثقیل معدنیات مثلاً سیسہ اور پارہ وغیرہ کو "کاکاو کت درخت کے آئل" میں پگھلا کر تیار کیا جاتا ہے ۔اور یہ بات کسی سے بھی پوشیدہ نہیں ہے کہ جلد بڑھاپے کا آ جانا کتنے ہی نفسیاتی امراض مثلاً دلی افسردگی ، طبعی ملال اور حزن و غم وغیرہ کا پیش خیمہ ہے۔

    خون ، جگر اور گردوں پر ان کے مہلک اثرات
    جلدی امراض کے ڈاکٹر "وھبہ احمد حسن" کہتے ہیں :
    "انسانی جلد پر میک اپ کرنے کے بہت سے نقصانات ہیں ۔ کیونکہ یہ سامان آرائش ثقیل معدنیات مثلاً سیسہ اور پارہ وغیرہ کے مرکبات سے تیار کیے جاتے ہیں۔ اور پھر انہیں "کوکو آئل" میں پگھلا کر تیار کیا جاتا ہے ۔ اسی طرح کچھ رنگین مواد کی تیاری میں پٹرول کے مثتقات بھی ملائے جاتے ہیں اور یہ سب آکسائیڈ انسانی جلد کے لیے ضرر رساں اور نقصان دہ ہیں ۔ انسانی جلد کے مساموں کا ایسے مواد کو آہستہ آہستہ جذب کرتے رہنا بہت سی کمزوریوں اور احساسات کو جنم دیتا ہے ۔ اگر ان میک اپ والے زیبائش کے سامان کو تا دیر اور بکثرت استعمال کیا جائے تو اس کا جگر ، گردوں اور خون کی وریدوں اور شریانوں کو بنانے والی بافتوں پر بٹا برا اثر پڑتا ہے ۔ کیونکہ اس سامان کی تیاری میں شامل اجزاء کی خاصیت کہ باہمی تعاون اور اشتراک سے بربادی اور تباہی لانا ۔ پھر انسانی جسم ان کے اثرات سے جلد چھٹکارا بھی نہیں پا سکتا ۔

    میک اپ کے لیے پیش کردہ تمام چیزوں کے خطرناک اثرات
    مشیر خاص برائے امراض جلد و سپیشلسٹ برائے امراض اعضائے مخصوصہ ڈاکٹر محمود ماجد البیار یوں کہتے ہیں:

    یہ سب " سامان آرائش و تجمیل" کیمیائی مادوں سے تیار کیے جاتے ہیں ۔ جو بعض استعمال کرنے والوں کے حق میں نہایت ہی ضرر رساں ہو سکتے ہیں۔ یا تو براہ راست جلد انسانی پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔ یا پھر غیر معمولی طور پر مختلف انواع کے امراض جلد کے لیے اسے ہموار بنا دیتے ہیں ۔خاص ص طور پر حساس جلد کے مریضوں کے لیے ۔ سورج کی شعاعوں پر یہ ضرر رساں تا ثیر پیدا کرتے ہیں ۔ انسانی جسم پر ایسے مواد کی موجودگی میں ان شعاعوں کا نہایت برا اثر ہوتا ہے ۔"

    میں نے اپنے بعض "طبعی مقالہ جات "میں اس بات کو بیان کیا ہے کہ چہرے پر لگائے جانے والے پوڈر ، بدن کے مساموں کو بند کرنے کا سبب بنتے ہیں ۔ اور جسم میں سوزش وغیرہ بھی پیدا کرتے ہیں ۔ سب سے بڑھ کر یہ بات ہے کہ ان میں ایتھلین کا رنگ بھی ہوتا ہے ۔

    جناب ڈاکٹر" سمیر زمو " جو کہ امراض جلد اور امراض اعضائے مخصوصہ کے مشیر خاص ہیں اور جامعۃ الملک عبد العزیز (جدہ سعودی عرب)میں شعبہ "الدراسات والابحات العلمیہ " کے نگران ہیں ۔عورت کی توجہ اس سوال کی جانب مبذول کروا کر اس سے یوں دریافت کرتے ہیں:

    "تجھے اس خطرناک حد تک ان میک اپ والی اشیاء کو استعمال کرنے کی ضرورت ہی کیا پڑی ہے ؟کیا تجھے اتنی زیادہ مقدار میں استعمال کرنے کی واقعی حاجت ہے ؟کیا تجھے تیری جوانی سے بڑھ کر کوئی اور جوانی اور خوبصورتی سے بڑھ کر کوئی اور خوبصورتی دے سکتی ہیں ؟

    پھر خود ہی جواب دیتے ہوئے یوں کہتے ہیں :
    "تیرا چہرہ تو ان چیزوں کو آزمانے کے لیے ایک معمل یعنی تجربہ گاہ اور لیبارٹری بن چکا ہے ۔ میں تجھے یہ بات بھی کہے دیتا ہوں کہ کبھی ذرا اپنے شوہر کے چہرے کی رنگت پر بھی نگاہ ڈال ۔ تا کہ تیرے اوپر انکشاف ہو کہ دونوں کے چہرے کی رنگتوں میں کوئی فرق نظر آتا ؟ شاید تو اس کے بعد اپنے چہرے کی رنگت کی حفاظت کرنے کی خاطر ان اشیاء سے رک جائے اور اپنے ہی ہاتھوں اپنے چہرے سے یہ "سلوک بد" چھوڑ دے ۔"

    چہرے کو سفید بنانے والی کریموں کی حقیقت سمجھنے کیلے ذرا اس واقعے کو غور سے پڑھ لے :

    (ف ،ع)کہتی ہے کہ :میں ایک گندمی رنگ کی نوجوان لڑکی ہوں ۔ مجھے یہ رنگت کچھ پریشان رکھنے لگی تو میں نے اپنے اہل خانہ کی لا علمی میں ان کریموں کو استعمال کرنا شروع کر دیا ۔ ایک لمبے عرصے تک انہیں مسلسل استعمال کیا ، ابتدا میں تو مجھے نئی رنگت کی جھلک بڑی بھلی بھلی لگی ۔ لیکن صرف تین سال کے لگا تار استعمال کے بعد ہی یہ بات ملاحظہ کی کہ میرے چہرے کی رنگت کچھ عجیب و گریب سی ہی بنتی جا رہی ہے ۔ چہرے پر سیاہ اور بھورے رنگ کے داغ دھبے پھیلتے جا رہے ہیں۔ تو مجھے لیڈی ڈاکٹر نے اس امر سے آگاہ کیا کہ صرف یہ میرے مذکورہ کریموں کا استعمال کرنے سے تبدیلی رو نما ہو رہی ہے ۔ اس نے مجھے ان کے دوسرے خطرناک نتائج سے بھی خبردار کیا کہ یہ کریمیں اور بھی خطرناک امراض کا باعث ہو سکتی ہیں ۔ تب سے اب تک میں زیر علاج ہوں ۔ میرے چہرے کی رنگت مزید سیاہی مائل ہوتی جا رہی ہے ۔ بلکہ یوں لگ رہا ہے جیسے کسی کپڑے میں پیوند لگا دیا گیا ہو۔ (بعض عورتیں یوں بھی کہہ دیتی ہیں ہم تو اتنے عرصے سے یہ پوڈر اور اشیا ء استعمال کر رہی ہیں لیکن ہمیں تو کچھ نہیں ہوا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ان اشیا ء کا اثر بد ضروری تو نہیں کہ ایک دن ایک رات یا ایک ماہ یا دو ماہ میں ہی ظاہر ہو جائے ۔ اس میں زیادہ مدت بھی تو لگ سکتی ہے ۔ جیسا کہ اس واقعہ میں ہوا ہے ۔اور اس سے کم مدت بھی ہو سکتی ہے ۔ ۔ لیکن دوسرا نقصان تو صرف ان چیزوں کو خریدتے اور استعمال کرتے ہی شروع ہو جاتا ہے ۔ انسان جس قدر صحتمند و توانا ہو گا اس کی جلد ان کریموں کے خلاف اتنی دیر تک ہی قوت مدافعت کرتے ہوئے اس کے برے اثرات قبول کرنے میں رکاوٹ بنی رہے گی ۔ ایک وقت آئے گا کہ جلد کی قوت مدافعت کمزور پر جائے گی اور وہ دفاع کرنا چھوڑ دے گی ۔ یوں ان کریموں وغیرہ کے برے اثرات غالب آ کر جلد کو نقصان پہنچانا شروع کر دیں گے ۔ اگر خاتون جسمانی و روحانی طور پر زیادہ صحت مند ہو گی تو ان چیزوں کے اثرات بد ممکن ہے دیر بعد شروع ہوں اگر کمزور ہے تو جلد ، کیونکہ جلد میں خود کار مدافعاتی قدرتی نظام ، بیرونی حملہ آور وائرس و بیکٹیریا کے خلاف آخری حد تک ہر ممکن مزاحمت کرتا ہے اور ان کو جلد پر اثر انداز ہونے سے نہ صرف روکتا ہے بلکہ مقابلہ کر کے ختم کرتا رہتا ہے ۔)

    ذرا سوچیے! اگر اللہ تعالیٰ چاہتے تو اس نوجوان لڑکی کے چہرے کی رنگت کو سفید بھی بنا سکتے تھے ۔ (مگر اس نے ایسا نہیں کیا ) تو پھر بعض لوگ پھر کیوں اللہ تعالیٰ کی خلقت کو تبدیل کرنے کے لیے کوشاں رہتے ہیں !؟

    علما ء اکرام کے اقوال و فتاویٰ
    سماحۃ الشیخ عبد العزیز بن باز ؒ ان " آرائشی پوڈروں" کے حکم بارے سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا:

    ان پوڈروں کی قدرے تفصیل ہے : اگر تو ان سے خوبصورتی حاصل ہو تی ہے اور یہ چہرے کو نقصان نہیں پہنچاتے ، نہ ہی کسی ایسی ضرر رساں حالت کو پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں تو ان کے استعمال میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ لیکن اگر ان کے استعمال میں نقصان ہے یا کسی نقصان کا یہ پیش خیمہ ہیں تو ام کے ضرر رساں ہونے کی وجہ سے یہ منع ہیں۔

    "اطبا ء کے اقوال" میں ان کا نقصان دہ اور خطرناک ہونا پیشگی بیان ہو چکا ہے ۔ (اس سے ان کی ممانعت واضح ہو گئی)

    جبہ کہ فضیلۃ الشیخ محمد بن عثیمین ؒ یوں فرماتے ہیں :

    "ایسا میک اپ کرنے سے ہمیں منع کیا گیا ہے ۔ اگرچہ کچھ دیر کے لیے یہ چہرے کو خوبصورت بنا دیتا ہے ۔ لیکن یہ بڑے بڑے نقصان چونکہ پیدا کرنے والا ہے جیسا کہ طبعی اعتبار سے ثابت شدہ ہے ۔ کیونکہ جب کوئی خاتون عمر رسیدہ ہو جاتی ہے تو چہرہ بذات خود ہی تبدیل ہو جاتا ہے ۔ تو ایسے میک اپ وغیرہ کا کیا فائدہ ہو؟"(فتاویٰ منار الاسلام )
  3. بنت مشتاق

    بنت مشتاق رکن

    مراسلے:
    150
    سرخی(لپ اسٹک)
    یہ ایسے کیمیائی رنگوں سے عبارت ہے جو انتہائی نقصان دہ معدنیات میں حل کیے جاتے ہیں ۔ جیسے کہ کانوں سے نکلنے والا کوئلہ اور کلوروفام وغیرہ۔ یہ سب چیزیں اپنی اپنی تہہ میں مندرجہ ذیل دو خطرات میں سے ایک خطرہ تو ضرور رکھتی ہیں ۔ دائمی زہر یا کینسر ( پھوڑے)

    میڈیکل سائنس کیا کہتی ہے
    کینیڈا میں " ادراہ ہائے صحت " نے جس نتیجے کا ایک "ہیلتھ کانفرنس " کے اختتام پر اعلان کیا ہے اور عالمی ادارہ صحت(W.H.O )نے بھی جس پر لوگوں کو آگاہ کیا ہے کہ ایسے تمام عناصر اور مرکبات جن میں "کلورو " خاصیت پائی جاتی ہے ۔ خاص طور پر "کلوروفارم "ان میں کینسر پیدا کرنے والے جراثیم پائے جاتے ہیں ۔ انہوں نے ان تمام مقالہ جات کو بھی نشر کیا ہے اور 1393ھ میں تمام دوا ساز اداروں تک انہیں پہنچایا گیا اور یہ بات خاص و عام کو معلوم ہے کہ یہ چیزیں آرائش و زیبائش سازو سامان اور خصوصاً "لپ اسٹک" میں استعمال کی جاتی ہیں ۔ جیسا کہ بعض ڈاکٹروں نے بھی لپ اسٹک کے متعلق بعض علمی حقائق کا ذکر کیا ہے ۔ ان میں سے یہ باتیں بھی ہیں کہ یہ روشنی کو جذب کرتی ہے اور لبوں میں خشکی اور ہونٹوں میں پھٹن پیدا کرتی ہے ۔ اسی طرح منہ کے ارد گرد جلد پر سیاہی مائل گہرا رنگ بھی پیدا کرتی ہے ۔

    ایک مقامی رسالے نے "حسیناوں کے ہونٹوں پر گاڑیوں کے تیل" کے عنوان سے ایک مضمون شائع کیا ہے ۔ جس میں یہ بھی لکھا ہے کہ" آرائشی پوڈروں کے کثرت استعمال میں خواہ کسی تقریب کی مناسبت سے ہوں یا بلا موقع ، عورت کے لیے کئی ایک خطرات کا پیش خیمہ ہے ۔ جبہ یہی پوڈر آہستہ آہستہ موت کو بھی قریب لے آتے ہیں ۔ وہ اس طرح کہ ان کی تیاری کے مراحل میں دھوکہ اور ملاوٹ زور پکڑ رہی ہے ۔ جس کا ثبوت یہ ہے کہ ایک عربی ملک میں سیکورٹی کے اہل کاروں نے "سامان میک اپ" بنانے والے ادارہ کے افراد کو بڑی مقدار میں ملاوٹ اور دھوکہ دہی کی بنیاد پر گرفتار کیا ہے ۔ ان اداروں میں سے ایک میں "گاڑیوں کے استعمال شدہ تیل " کو استعمال کر کے "الروج"اور "مانیکیر" نامی لپ اسٹک بنائی جاتی تھی ۔ (جریدہ"المدینہ" شمارہ 9259)

    علما ء کے فیصلے
    فضیلۃ الشیخ محمد بن عثیمین ؒ سے لپ اسٹک کے استعمال کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے جواباً ارشاد فرمایا :

    "لپ اسٹک کے بارے میں جب یہ بات معلوم ہو چکی ہے کہ یہ ہونٹوں کے لیے نقصان دہ ہےتو اس ضرر کی بنا پر اس کا استعمال ممنوع ہے ۔مجھے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس سے ہو نٹوں میں پھٹن بھی پیدا ہو جاتی ہے ۔جب یہ باتیں ثابت شدہ ہیں تو ایسی نقصان دہ اور ضرر رساں اشیا ء کا استعمال انسان کے لیے منع ہوا۔(فتاویٰ منار الاسلام ۔831/3)

    اگرچہ بعض لوگ اس کے عادی بھی ہیں اور اس کے استعمال سے مانوس بھی ۔ اقوال اطبا ء کے ضمن میں اس کا نقصان دہ ہونا پیشتر ازیں بیان ہو چکا ہے ۔

    بڑی آفت تو یہ ہے کہ تازہ ترین ایک ایسی لپ اسٹک بھی بن چکی ہے کہ جس سے ہونٹ ہمیشہ سرخ ہی رہتے ہیں۔ چنانچہ میک اپ کے ایسے استعمال کے متعلق علام ء اکرام نے حرمت کا فتویٰ صادر فرمایا ہے ۔ " اقسام میک اپ" کے ضمن میں فضیلۃ الشیخ محمد بن عثیمین ؒ کا تفصیلی جواب ان شا ء اللہ آگے آ رہا ہے ۔
  4. بنت مشتاق

    بنت مشتاق رکن

    مراسلے:
    150
    لینز (عینی عدسے)
    EYE LENZS
    یہ دو طرح کے ہیں:
    · طبعی عدسے
    · برائے حصول حسن و جمال

    طبعی لینز تو کسی ماہر ڈاکٹر کے مشورہ سے استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ لیکن پھر بھی گھٹیا اور کاروباری قسم کے لینز سے احتیاط کرنی چاہیے ۔ بعض "طبی تنظیموں نے بازار میں پائے جانے والے مختلف اقسام کے لینز سے دور رہنے کے لیے بار بار خبر دار کیا ہے ۔کیونکہ ان کے آنکھوں پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ اس طرح بعض "عدسہ ساز کمپنیوں"نے بھی اس امر سے خبردار کیا ہے کہ آنکھوں پر سجائے جانے والے بعض لینز ایسے بھی بنائے جا رہے ہیں جو آنکھوں کے جالی دار پردے کے لیے کئی قسم کے اضرار و نقصان کا سبب بنتے ہیں ۔(جریدہ "المدینہ "شمارہ 9334)

    رہا معاملہ رنگین عدسات تجمیل کا ، تو ان میں اللہ تعالیٰ کی خلقت کو تبدیل کرنے کا معنی سادق آتا ہے ۔ اور یہ عمل بلا مقصد ہے ۔ اس سے عورت اصلی حالت کی بجائے کہ جس پر اللہ تعالیٰ نے اسے تخلیق فرمایا ہے بالکل دوسری نقلی حالت میں آ جاتی ہے ۔ قرآن کریم میں ہمیں اللہ تعالیٰ نے ابلیس مرددو کے متعلق خبردار فرمایا ہے ۔ اس نے اللہ تعالیٰ سے وعدہ کر رکھا ہے ۔

    (والا مرنھم فلیغیرن خلق اللہ) النسا ء 119/14
    "اور میں ان کو یہ بات سجھاوں گا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی بناوٹ کو بدل دیں۔"
    مزید براں ان عدسات کو بلا ضرورت و بلا حاجت خریدنے میں اسراف اور فضول خرچی بھی ہوتی ہے۔ آج کل ان کی قیمت 600 سے 700 ریال تک ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کا فرمان گرامی ہے :


    (ان المبذرین کانو اخوان الشیٰطین)الاسراء 17/29
    (مال) بے جا اڑانے والے فضول خرچ لو گ شیطان کے بھائی ہیں ۔"
    اور دوسری طرف اللہ نے سیاہ آنکھیں "جنتی خواتین" کی بیان کی ہیں اور ان سیاہ آنکھوں کی تعریف فرمائی ہے ۔ لیکن کتنے افسوس کی بات ہے کہ بعض دنیاوی خواتین کی فطرت الٹی ہو چکی ہے ۔ وہ صرف اسی بات پر بضد ہیں کہ وہ بلیوں اور دوسرے حیوانات کی مانند بن کر رہیں ، ان کی ہی پیروی کریں اور باہم نفرت پھیلانے والے جعل سازی ہی اختیار کیے رہیں۔


    علما ء کے فیصلے
    "مجلس کبار علما ء کے اعلیٰ رکن فضیلۃ الشیخ صالح الفوزان ؒ فرماتے ہیں :

    "ضرورت کے تحت عدسات کو استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ البتہ بلا ضرورت استعمال کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے اور اس کو ترک کرنا ہی احسن ہے ۔ خصوصاً جب وہ مہنگے ترین ہو کیونکہ ان کا شمار "حرام کردہ اسراف" میں ہو گا ۔ اس کے علاوہ ان میں تدلیس تلبیس ، دھوکہ اور فریب بھی داخل ہو جاتا ہے ۔ کیونکہ یہ آنکھوں کو اصلی حالت کی بجائے بلا ضرورت ہی غیر اصلی حالت میں ظاہر کرتےہیں۔"(مجلۃ الدعوۃ (الریاض) شمارہ 1311
  5. بنت مشتاق

    بنت مشتاق رکن

    مراسلے:
    150
    بالوں کو رنگنے والا سامان آرائش و زیبائش
    میڈیکل سائنس کی ریسرچ
    مجھے ایک "علمی سائنسی " ورکشاپ یاد ہے ۔ جس کا اعلامیہ تھا کہ "بالوں کو رنگنے والے سامان اور کینسر کی بعض اقسام کے مابین ایک خاص تعلق ہے۔"اس سائنسی ورکشاپ میں امریکہ کے "کینسر سے متعلق قومی ادارے کے ماہرین" نے دو ہزار افراد جن میں عورتوں کی اکثریت تھی ،کی ریسرچ رپورٹ حاصل کی ۔ نتیجہ یہ سامنے یا کہ ان میں سے چھ سو افراد کینسر کا شکار ہو چکے ہیں ۔

    جس طرح ماہرین اور سپیشلسٹ حضرات نے بطور خاص اس امر کا اظہار کیا ہے کہ عورت کے کمزور ہونے کے ایک سے زیادہ اسباب ہیں اور ان میں سے اکثر وقوع پذیر ہو رہے ہیں ۔ بالوں کو لمبے عرصے تک دھوپ میں رکھنا، رنگوں کو استعمال کرنا ، سمشوار ( ایک خاص شمپو) کا استعمال ، ربڑ کی پٹیوں کا استعمال کرنا اور بالوں کو مضبوط کرنے والی اشیا کا استعمال کرنا وغیرہ۔ بالوں کو رنگنا تو بہت سے خطرات کا پیش خیمہ ہے ۔ اس کا استعمال تو بالوں کی قدرتی چمک اور قدرتی مضبوطی کا تباہ کر کے رکھ دیتا ہے ۔ (مجلۃ اقراء ۔ شمارہ 831)

    جلدی امراض کے پروفیسر ڈاکٹر محمد حسن الحفناوی کہتے ہیں : "سشوار تو بالوں کا دشمن ہے ۔ اسی طرح بالوں کو رنگنا بھی ۔ یہ دونوں چیزیں بالوں کے لیئے بیشتر نقصانات کا باعث بنتی ہیں اور سر کی جلد کو کمزور بناتی ہیں ۔(دیکھیے المسلمون شمارہ 343)

    جبکہ ڈاکٹر ایمن محمد عثمان جو امراض جلد اور امراض اعضائے مخصوصہ کے سپیشلسٹ ہیں ،کہتے ہیں:

    "بہت سی عورتیں تو صرف بالوں کے معاملے میں ہی فضول خرچی کی انتہا کر دیتی ہیں ۔ مختلف رنگوں کا استعمال کرتی ہیں ۔ یہی چیزیں نتیجتا بالوں کی شکست و ریخت کا سب سے اہم سبب بنتی ہیں ۔ کیونکہ ان رنگوں میں ایسے ایسے کیمیائی مواد شامل کیے جاتے ہیں۔جو بالوں کے لیے نقصان دہ ہوتے ہیں ۔ "(الدعوۃ شمارہ 1453)

    جبکہ مسز عبد الغفار جو کہ جدہ کے "السلام ہسپتال" میں امراض جلد کی مشیر خاص ہیں نہایت افسوس کے ساتھ کہہ رہی ہیں کہ :

    "کتنے دکھ کی بات ہے کہ عورتوں کی اکثریت اپنے بالوں سے نہایت غلط انداز میں برتاو کر رہی ہیں۔ایک ہی وقت میں ان کی جہالت اور ان کی حماقت دونوں عیاں ہو رہی ہیں۔بالوں کو رنگنے، منفرد اور گھنگریالے بنانے میں مختلف زہریلے کیمیکلز اور ان کے تیارہ مرکبات استعمال کرتی ہیں۔ یہی مواد بالآخر پریشان کیفیت میں بالوں کے گرنے پر منتج ہوتا ہے ۔ انجام کار ایسی خاتون ڈاکٹر کے پاس جانے کے سوا کوئی چارہ کار نہیں پاتی ۔ جبکہ وہ خود اس بات کو فراموش کر چکی ہوتی ہے کہ ان بالوں کے گرانے میں وہ خود ہی تو ایک بڑا سبب بنی ہے ۔"

    پھر وہ اپنی بات کو یوں آگے بڑھا رہی ہیں :

    "بالوں کی خوبصورتی کو قائم رکھنے اور ان کی نگہداشت کے سلسلے میں جو نصیحت میں تمام عورتوں کو کرنا چاہتی ہوں ۔ وہ یہ ہے کہ بالوں کو منفرد بنانے ، رنگنے اور گھنگریالے بنانے میں جو کیمیائی مواد وغیرہ استعمال کرتی ہیں ان سے رک جائیں ۔ اسی طرح استشوار ( شیمپو) کو بھی کثرت سے استعمال نہ کیا کریں ۔ کیونکہ یہ تو بالوں کے لیے بہت سے ضرر رساں کیفیات (بیماریاں) پیدا کرنے سے بڑھ کر انہیں گرانے تک بھی آ جاتی ہے ، اور ان کے عوض میں انہیں قدرتی اشیا ء کے استعمال کا مشورہ دیتی ہوں ، جیسے کہ سرخ مہندی ہے لیکن اس میں بھی کالے رنگ سے اجتناب ہی رکھیں ۔"

    سرخ مہندی لگانے کا ایک نرالا انداز
    بالوں پر سرخ مہندی لگانے کا ایک دل پسند اور انوکھا طریقہ یوں ہے جس سے حتیٰ الامکان استفادہ بھی ہو سکتا ہے جس سے بڑا پیارا ،تانبا نما رنگ بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ "گیندے کے پھول" لے کر تقریباً چھے گھنٹے تک ابلے پانی میں بھگو دیں ۔ پھر پھولوں سے پانی نتھار لیں ۔اس پانی سے سرخ مہندی کو گوندھ لیں ۔ اس میں پسی ہوئی "چائے کی پتی" کے تین چمچ اور پسے ہوئے لونگ کے سفوف کا ایک چھوٹا چمچ ڈال کر مکس کریں ۔ پھر اس مہندی کو تین گھنٹے تک بالوں میں لگائے رکھیں ۔بعد ازاں اسے پانی اور بچوں کے خالص شیمپو سے دھو ڈالیں ۔ آخر میں ان بالوں کو تولیے سے صاف کر کے ایک دن تک کھلا چھوڑ دیں ۔

    علماء کے اقوال
    فضیلۃ الشیخ صالح الفوزان ؒ فرماتے ہیں:

    "عورت کا اپنے سفید بالوں کو رنگنا مقصود ہے تو کالے رنگ سے بچ کر رہے ، کیونکہ رسول کریم ﷺ نے کالے رنگ سے روک دیا ہے ۔ اور اگر عورت نے اپنے کالے بالوں کو رنگ دے کر کسی دوسری رنگت میں تبدیل کرنا ہے تو جہاں تک مجھے نظر آتا ہے یہ ناجائز ہے ۔ کیونکہ اس تبدیلی کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہے۔کیونکہ بالوں کے حوالے سے "سیاہی" ہی خوبصورتی ہے ۔ یہ کوئی بد صورتی تو ہے نہیں جو کسی تبدیلی کی محتاج ہو ، اور اس میں ویسے بھی کافر عورتوں کی مشابہت ہوتی ہے ۔

    اس میں "میش" نامی خضاب بھی داخل ہے ۔ اگر اس رنگ کی تہہ چڑھ جاتی ہو تو پھر یہ حرام ہے ۔ وہ اس وجہ سے کہ وضو کرتے ہوئے پانی بالوں تک پہنچ ہی نہیں پاتا ۔ اور فضیلۃ الشیخ محمد بن عثیمین ؒ اپنی رائے کا یوں اظہار فرماتے ہیں ۔:

    "اگر یہ رنگ وغیرہ کافروں سے حاصل کیئے جاتے ہیں اور ان سے مقصود بھی ان عورتوں کی مشابہت ہے تو یہ بالکل حرام ہیں کیونکہ کفار سے مشابہت اختیار کرنا حرام ہے، بلکہ یہ اندازہ تو ان سے "دوستی لگانے "کا ہے اور کفار سے دوستی حرام ہے اور ان سے مشابہت اختیار کرنا تو کفر کی ایک قسم بھی ہے ۔ نبی اکرم ﷺ کے فرمان گرامی

    (من تشبہ بقوم فھو منھم )

    "جس نے کسی قوم سے مشابہت اختیار کی تو وہ ان میں سے ہی ہو گا۔ (ابو داود 4031 و احمد 9250/2) کی روشنی میں۔
  6. بنت مشتاق

    بنت مشتاق رکن

    مراسلے:
    150
    نیل پالش اور مصنوعی ناخن لگانا
    بعض عورتیں اپنے ناخنوں کو لمبا کرنا چاہتی ہیں یا اپنے ناخنوں کے ساتھ مصنوعی ناخن جوڑ کر خلاف فطرت کام کرنا چاہتی ہیں ۔ اس کے بارے میں ایک شاعر کا کہنا ہے :
    قل للخلیعۃ ارسلت اظفارھا
    انی لخوف کدت امصی ھارباَ

    "اس آوارہ بے حیاء کو کہہ دو جس نے اپنے ناخن بڑھا رکھے ہیں میں تو ان سے خوف کھا کر بھاگے جا رہا ہوں ۔"
    ان المخالب للو حوش تخالھا
    فمتی راینا للظبا ء مخالباَ

    "جنگلی درندوں کے پنجے تو ان کی نگہداشت کرتے ہیں مگر ہم نے کبھی ہرنیوں کے پنجے نہیں دیکھے "
    بالامس انت قصصت شعرک غیلۃ
    ونقلت عن وضع الطبیعۃ حاجباَ

    "کل تو نے اپنے بالوں کو کتر ا لیا اور قدرتی وضع قطع سے آگے بڑھ کر اپنے ابرو کو بھی تبدیل کر لیا تھا۔"

    وغدا نراک نقلت ثغرک للقفا
    وازحت انفک رغم انفک جانباَ

    "اور شاید آنے والے کل کو ہم تجھے ایسا بھی دیکھ لیں کہ تو اپنے منہ کو بھی پچھلی جانب تبدیل کروا لے اور پھر اپنی ناک کو بھی ذلت و رسوائی کی وجہ سے کسی دوسری جانب موڑ لے ۔"

    میڈیکل سائنس کی ریسرچ
    ایک علمی اور سائنسی مباحثے میں کہ جس کا ایک یونیورسٹی نے اہتمام کیا تھا ، طلبا کے ناخنوں کے نیچے سے باقی ماندہ ذرات و مواد لے کر اس کا جائزہ لینا قرار پایا ۔ چنانچہ اس مواد کو خاص قسم کی پلیٹوں اور طشتریوں میں منتشر کیا گیا ۔ پھر ان طشتریوں کا مائیکروسکوپ (یعنی خورد بین) کے ذریعے معائنہ کیا گیا ،تو نتیجتا یہ بات سامنے آئی کہ مختلف انواع و اقسام کے ضرر رساں اور مہلک جراثیم سینکڑوں کی تعداد میں انسانی جسم میں داخل ہونے کے منتظر بیٹھے ہیں ، اس مواد میں موجود ہیں ۔اور وہ کھانا کے تناول کرنے کے لمحات میں بطور خاص متحرک ہوتے ہیں ۔
    جبکہ ان طلبہ میں سے ایک کا یہ بھی کہنا تھا :
    "میں تو اپنے ناخنوں کی بڑی نگہداشت کرتا ہوں حتیٰ کہ انہیں روزانہ دھوتا رہتا ہوں "تو ہم یہ کہیں گے کہ:
    · شریعت مطہرہ نے لمبے ناخن رکھنے سے منع فرمایا ہے ۔ جیسا کے علما ء کے ضمن میں بات آگے آ رہی ہے ۔
    · ناخنوں کو صرف دھو لینا ہی جراثیموں اور میل کچیل سے صاف نہیں رکھ سکتا بلکہ یہ بات تو ہر کسی کو معلوم ہے کہ پانی ناخنوں کی زیریں سطح تک با آسانی نہیں پہنچ سکتا۔


    باقی رہی بات ناخنوں کو پالش لگانے کی ۔ تو اس سلسلے میں جلدی امراض اور امراض تناسل کے ڈاکٹر ماجد الاق ر کہتے ہیں کہ ناخنوں کو کیمیائی مواد سے پالش کرنے کے ناخنوں پر انتہائی مضر رساں اثرات ہیں ۔ اور اس طرح بھی کہ یہ کیمیائی مواد ظاہری آب و ہوا اور ناخن کے مابین فاصلہ پیدا کر دیتے ہیں ۔ ناخن قدرتی اور نمی کے مابین باہمی تبادلہ میں بھی رکاوٹ بن جاتے ہیں ۔

    مزید ڈاکٹر موصوف کہتے ہیں کہ:

    عام طور پر اس پالش کے استعمال سے ناخن زرد ہونے شروع ہو جاتے ہیں ۔ ان کی قدرتی چمک بھی ختم ہونی شروع ہو جاتی ہے ۔ آہستہ آہستہ بھر بھرے ہو کر جلد ٹوٹنے لگتے ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ ناخنوں کے گرد و نواح کی انسانی جلد میں سوزش اور کھجلی رہنے لگتی ہے ۔

    رہا معاملہ مصنوعی ناخنوں کے استعمال کا تو ڈاکٹر البیار ہی نے اس بات کی تو ثیق بھی کر دی ہے کہ :

    "یہ مصنوعی ناخن اصل ناخنوں کو نقصان پہنچاتے ہیں ۔ جس کے نتیجے میں کئی طرح کے عیوب پیدا ہونے شروع ہو جاتے ہیں ۔ انسانی جلد پر ہیجان اور اشتعال کی کیفیت رونما ہونے لگتی ہے اور مختلف اقسام کی سوزشیں اور سوجنیں جنم لے لیتی ہیں ۔(جریدہ "المدینہ" 9125)

    علما ء کے فیصلے
    ناخنوں کو لمبا کرنے اور رکھنے کے متعلق سماحتہ الشیخ عبد العزیز بن باز ؒ فرماتے ہیں :

    "ناخنوں کو لمبا کرنا خلاف سنت ہے ۔ نبی اکرم ﷺ سے ثابت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا :فطرت میں پانچ چیزیں داخل ہیں ۔ ختنہ کروانا ، استرا استعمال کرنا، مونچھوں کو کترانا ، بغلوں کے بال اکھیڑنا اور ناخنوں کو کاٹنا"۔۔۔۔اور انہیں چالیس راتوں سے زیادہ چھوڑنا بھی جائز نہیں ہے ۔ جس طرح کے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے ۔ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمارے لیے مونچھیں کاٹنے ، ناخن تراشنے ، بغلوں کے بال اکھیڑنے اور زیر ناف بال مونڈنے میں وقت مقرر فرما دیا ہے ۔ کہ ہم ان میں سے کوئی کام بھی چالس راتوں سے زیادہ ترک نہ کریں۔"(سنن ابی داود / کتاب الرجل)ویسے بھی ناخنوں کو لمبا کرنے میں چوپائیوں اور بعض کافروں سے مشابہت بھی ہو جاتی ہے ۔ (دیکھیے :فتاویٰ المراۃ ص 127)

    اور فضیلۃ الشیخ محمد بن عثیمین ؒ فرماتے ہیں: کتنی حیرانی اور تعجب کی بات ہے کہ جو لوگ تہذیب و تمدن کے دعویدار ہیں وہ اپنے ناخن باقی رکھتے ہیں ۔خواہ ان میں میل کچیل اور گندگی ہی کیوں نہ اٹکی ہو۔اس سے یہ بات بھی تو لازم آتی ہے کہ انسان کی حیوان اور چوپائے سے مشابہت ہوتی ہے ۔

    کچھ عورتوں کا عذر ہوتا ہے کہ اگرچہ ہمارے ناخن لمبے ہیں مگر ہم ان کو صاف رکھنے کا خاص اہتمام کرتی ہیں ۔ ان کے لیے بھی شریعت کا یہی حکم ہے کہ وہ ناخن کٹوا دین ۔ وہ کتنی ہی صفائی رکھیں ۔ لیکن کیا وہ جواب دے سکتی ہیں کہ جب وہ بیت الخلا میں اپنے مخصوس حصے کی سفائی کے لیے ہاتھ کا استعمال کرتی ہیں تو گندگی کے جراثیم ان کے لمبے سرنگ نما ناخنوں میں جا کر چھپ نہیں جاتے۔

    باقی رہا "المناکیر" (نیل پالش) کا معاملہ تو اس کے بارے میں فضیلۃ الشیخ محمد بن عثیمین ؒ سے دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا ہے :"جب عورت نے نماز پڑھنی ہو تو ایسے رنگوں کا استعمال اس کے لیے ناجائز ہے ۔ کیونکہ یہ رنگ پانی کا جسم تک پہنچنے میں رکاوٹ بنتے ہیں ۔ اور ہر وہ چیز جو پانی کے جسم کی سطح تک پہنچنے میں رکاوٹ بنے وضو ء کرنے والے کے لیے اس کا ستعمال جائز نہیں ہے ۔ البتہ جب عورت نے نماز نہ پڑھنی ہو (یعنی ایام ماہواری میں ہو ) تو اس حال میں اگر وہ ایسا کر لے تو اس پر کوئی حرج نہیں ہو گا ۔ لیکن یہ خاص کافر عورتوں کا فعل ہے ۔ اس لیے ہر اس فعل کا کرنا جائز نہیں ہو گا جس سے ان سے مشابہت ہوتی ہو ۔(الفتاویٰ المراۃ ص 127)

    ہمارے شیخ العلامہ عبد العزیز بن باز ؒ یو ں فرماتے ہیں :

    "ان چیزوں کو چھوڑے رکھنا ہی زیادہ بہتر اور قابل احتیاط ہے ۔ البتہ دونوں تہار توں ، یعنی صغریٰ اور کبری کے حصول سے قبل ایسی چیزوں کو زائل کرنا واجب ہو گا "(بے وضو ء ہونے کے بعد وضو کرنا طہارت صغریٰ ہے جبکہ غسل جنابت اور غسل بعد از ایام مخسوصہ کرنا طہارت کبریٰ ہے)

    اس نیل پالش کو مسح علی الخفین (موزوں اور جرابوں پر مسح کرنے) پر قیاس کرنا یہ فحش غلطی اور شرمناک جہالت ہے ۔ الشیخ محمد بن عثیمین ؒ اس سلسلے میں فرماتے ہیں :

    "میں نے بعض لوگوں سے سنا ہے جو اسے موزوں کی جنس سے ہونے کا فتویٰ دیتے ہیں اور یوں کہتے ہیں کہ اگر عورت گھر میں مقیم ہے تو ایک دن رات تک اسے استعمال کر کے مسح کر سکتی ہے اور اگر وہ مسافر ہے تو تین ایام تک مسح کر سکتی ہے لین یہ فتویٰ غلط اور مبنی بر خطا ہے۔"
  7. بنت مشتاق

    بنت مشتاق رکن

    مراسلے:
    150
    ابرو کے بال نوچنا
    ڈاکٹروں کے فیصلے

    ڈاکٹر وھبہ احمد حسن ابرو کے بالوں کو نوچنے کے متعلق بتاتے ہیں :

    ابرو کے بالوں کو مختلف طریقوں سے زائل کرنا ، پھر مختلف میک اپ کے سامان اور ابرو سنوارنے والی قلموں کے استعمال سے آنکھوں کی جلد پر انتہائی نقصان دہ اثرات مرتب ہوتے ہیں کیونکہ یہ ثقیل معدنیات کے مرکبات سے بنائی جاتی ہیں ۔ وہ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ:"مختلف طریقوں سے ابرو کے بالوں کو زائل کرنے سے جلد کو نقصان پہنچانے والے کیڑے اور جراثیم چمٹ جاتے ہیں ۔ جلد کے خلیات اور مسام بڑھ جاتے ہیں کہ جہاں پر بالوں کے زائل نہ کرنے کے اوقات میں قابل توجہ اور ضخیم قسم کے بال جنم لے لیتے ہیں ۔بلاشبہ ہم تو طبی اور پیدائشی ابروں کو دیکھتے ہیں کہ وہ بالوں ، پیشانی اور چہرے کی گولائی نرم رکھتے ہیں ۔

    علما ء کے فیصلے

    شیخ العلامہ مفتی اعظم سعودیہ عبد العزیز بن باز ؒ فرماتے ہیں :

    "حاجبین (یعنی دونوں ابروں ) کے بال کاٹنے یا ہلکے کرنے ناجائز ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ سے یہ ثابت ہے کہ آپ ﷺ نے بال اکھاڑنے والی اور بال اکھڑوانے والی پر لعنت فرمائی ہے۔ اور اہل علم نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ ابروں کے بال اکھاڑنا بھی اس میں داخل ہے ۔(فتاویٰ المراہ" ص 127)

    جبکہ فضیلۃ الشیخ عبداللہ بن جبرین فرماتے ہیں :

    "کہ ابروؤں کے بال کاٹنا ، مونڈنا ، اکھیڑنا اور انہیں ہلکا بنانا سب ناجائز ہیں ۔اگرچہ ایسی خاتون کا خاوند اس پر راضی ہی کیوں نہ ہو ۔ کیونکہ ایسا کرنے میں حسن و جمال نہیں ہے ۔ بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی خلقت اور پیدائش کو بدلنے کے زمرے میں آتا ہے اور وہ اللہ ہی احسن الخالقین (سب سے خوبصورت بنانے والا )ہے ۔ ا پر تو وعید بھی وارس ہے بلکہ ایسا کرنے والے پر آپ ﷺ نے لعنت فرمائی ہے ۔ اس لیے یہ فعل حرمت کا تقاضا کرتا ہے ۔

    اسی طرح فضیلۃ الشیخ صالح الفوزان ؒ فرماتے ہیں :

    "عورت کا اپنے ابروؤں کے بالوں کو اتارنا حرام ہے ۔ کاٹ کر ،اکھیڑ کر یا کسی بھی اور طریقے سے۔ کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے بال اکھاڑنے والی اور بال اکھڑوانے والی پر لعنت فرمائی ہے۔

    النا مصۃ:اس عورت کو کہتے ہیں جو اپنے ابرو کےبال خود اکھاڑے۔

    المتنمصۃ:اس عورت کو کہتے ہیں جو کسی دوری سے یہ مطالبہ کرے ۔ یا اس سے اپنی ابرو کے بال اکھڑوائے ،کتروائے یا اتروائے۔
  8. بنت مشتاق

    بنت مشتاق رکن

    مراسلے:
    150
    آئی شیڈز اور مصنوعی پلکیں لگانا
    آنکھوں کے گرد رنگ لگانے (آئی شیڈز Eye shades بنانے) سے متعلق ڈاکٹروں نے بہت سے علمی تجزیے پیش کیے ہیں۔ان کے مطابق تق کالا رنگ تو ہے ہی کاربن کی ایک شکل اور سیاہ لوہے کے آکسائیڈ ۔ جبکہ نیلا رنگ تو صرف نیلے تانبے کی آکسائیڈ ہے ۔ اسی طرح دوسے نیلے مواد اور سبز رنگ ۔ وہ بھی کروم (ایک دھات) کی آکسائیڈ کا رنگ ہی ہے ۔ جبکہ (براؤن) بھورا رنگ بھی صرف جلائے ہوئے لوہے کی آکسائیڈ ہی ہے ۔ اسی طرح زرد رنگ بھی لوہے کی آکسائیڈ بھی ہے ۔ ۔۔ یہ سب کے سب کیمیائی مواد آنکھوں اور آنکھوں کے قرب و جوار کے لیے کئی طرح کے نقصانات کا سبب بنتے ہیں ۔

    جس طرح کہ ڈاکٹروں نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ ان اشیا ء کے مرکبات میں شامل مواد لمبی پائدار اور زہریلی بیماریاں ہی پیدا کرتے ہیں ۔ مثلا ہیگزائٹ کلوروفین اور فینیلین ثنائی لامین وغیرہ ۔جن کے نتیجے میں آنکھوں کے سخت پردے میں زخم اور پھنسیاں جنم لیتے ہیں ۔ اور مزید ان سطحی زخموں کی بنا پر جو جراثیموں کی آماجگاہ بن جاتے ہیں ، وہ جرا ثیم آنکھوں میں گندا اور متعفن مواد پیدا کرتے ہیں۔ بالآخر پلکیں جھڑنا شروع ہو جاتی ہیں ۔ تو اس عیب اور نقص کو دور کرنے کے لیے عورت مصنوعی پلکیں لگانے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ رہا معاملہ مصنوعی پلکیں لگانے کا اور اس مصنوعی مواد وغیرہ کا جن سے طبعی پلکوں کو چمکایا جاتا ہے تو اس سلسلے میں اطبا ء کا کہنا ہے کہ :یہ نکل کو تیزاب سے ملا کر بنایا جاتا ہے یا پھر مصنوعی ربڑ کی مختلف اقسام سے۔ اور یہ دونوں چیزیں ہی آنکھوں کے پیو ٹوں میں سوزش پیدا کر کے پلکوں کو گرانے کا سبب بنتی ہیں ۔(المجلۃ العربیہ شمارہ 66)
  9. بنت مشتاق

    بنت مشتاق رکن

    مراسلے:
    150
    پسینے کو ختم کرنے والی اشیا ء
    ڈاکٹروں نے ذکر کیا ہے کہ یہ سب اشیا ء کیمیائی مادوں سے تیار کی جاتی ہیں جو انتہائی خطرناک قسم کے ہوتے ہیں ۔کیونکہ یہ مادے پسینے کی رگوں کے سوراخوں اور مسا جوں کے گردا گرد خلیات کو پھولا دینے اور ابھار پیدا کرنے کا عمل کرتے ہیں۔ جس سے ان مساجوں کے سوراخ قدرے کم ہو جاتے ہیں۔ تو وقتی طور پر انسانی جلد کی سطح پر پسینے کا اخراج کم ہو جاتا ہے ۔ یا کچھ دیر تک کے لیے ختم ہو جاتا ہے ۔ تو اس عمل کے دوران یہ رگوں کی نالیاں پسینے کو اندر ہی اندر روک لیتی ہیں ۔گویا کہ اس عمل کے دوران یہ رگیں پانی کے چھو ٹے چھوٹے تل اور پیپ کے چھوٹے چھوٹے گڑھے ہوتے ہیں ۔

    علما ء کے بیان کے مطابق ۔۔۔۔جیسا کہ قبل ازیں گزر چکا ہے ۔۔۔۔ہر وہ چیز جو صحت انسانی یا دین و مذہب کے لیے نقصان دہ ہو ۔ اس باز رہنا چاہیے ۔ اس کو چھوڑنا چاہیے اور اس سے بچنا ہی چاہیے ۔
  10. بنت مشتاق

    بنت مشتاق رکن

    مراسلے:
    150
    مصنوعی سرمہ
    میڈیکل سائنس کی تحقیق

    قاہرہ یونیورسٹی میں "کلیتہ الطب" کے شعبہ بیکٹیریا کی ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ اور پروفیسر ڈاکٹر عصمت احمد بیان کرتی ہیں کہ:

    "تمام اسباب زینت" خواہ وہ جدید ہیں یا قدیم ،امراض چشم کے پھیلنے میں ،خصوصاً عورتوں کے حوالے سے ، ابتدائی مورد الزام یہی اسباب ہیں ۔ گزشتہ چند سا لوں میں اس امر کو دیکھا گیا ہے کہ جب سے "الکحل العربی" (عربی سرمہ) کی تیاری میں ملاوٹ اور دھوکہ دہی زیادہ ہوئی ہے ، آنکھوں کی سوزش اور جلن میں اسی نسبت سے اضافہ ہوا ہے ۔کیونکہ اس "الکحل العربی" میں جتنی مقدار میں سیسہ ملایا جا رہا ہے ۔۔۔۔جو کہ انتہائی خطرناک ک مادہ ہے ۔۔۔۔ اسی نسبت سے یہ سوزش بڑھتی جا رہی ہے ۔ ان تیزاب سے ملی دھاتوں کا آنکھ کے طبقہ ملتحمہ اور بافتوں کی تہوں میں جذب ہونا مختلف بیماریوں کو پیدا کرتا ہے مثلاً آنکھ کے پپوٹوں اور طبقہ ملتحمہ کا حساس بن جانا ۔ آنکھ میں شدید سوزش رہنا ،اور بعض اوقات تو آنکھوں کے اعصاب تک کو تباہ و برباد کر دیتا ہے ۔

    پھر ڈاکٹر عصمت اس بات کو بڑے تاکیدی انداز میں بیان کرتی ہیں کہ سرمہ ایسی حالت میں آنکھوں میں لگائیں کہ گرد و غبار نہ ہو یعنی آنکھیں دھلی ہوئی ہوں ۔ لیکن آنکھوں میں بار بار سرمہ استعمال کرنا یا سرمہ کی صفائی میں زیادہ عرصہ کا گزر جانا بھی آنکھوں میں سوزش کے اسباب میں سے ہے ۔

    لہذا یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ آنکھوں میں بکثرت سرمے کا استعمال آنکھوں کے لیے نقصان دہ اور مضر ہے ۔ لہذا سرمے کے استعمال سے قبل لازماََ آنکھوں کو نیم گرم پانی سے دھو لینا چاہیے۔

    ڈاکٹر عصمت میک اپ کا سامان یا سرمہ استعمال نہ کرنے کی نصیحت کرتی ہیں ۔ مگر انتہائی ناگزیر حالات میں اور وہ بھی انتہائی قلیل مقدار میں ۔ وہ ان میں موجود چیزوں کو باریک ترین بنانے کا بھی کتی ہیں۔ ان اشیا کی تیاری میں بڑی مقدار میں صرف پٹرول اور پٹرول سے حاصل شدہ مواد کی ہوتی ہے ۔یہی چیز ہے جو زیادہ حساسیت پیدا کرتی ہے ۔خواہ انسانی جلد ہو یا آنکھیں ۔رہی بات "الکحل العربی " کی تو گذشتہ سالوں میں جو چیز سامنے آئی ہے وہ یہی ہے کہ اس کی صفائی ستھرائی کا وہ اہتمام نہیں کیا جا رہا جو اس کے بارے میں پہلے معروف تھا ۔ (جریدہ "الیوم"شمارہ 66601)

    جامعہ الازھر کے شعبہ طب برائے چشمگان کا اس امر پر اتفاق ہے کہ "عربی سرمہ" میں موجود سیسہ کی مقدار حاملہ کے بطن میں موجود "جنین" کی ذہنی پسماندگی کا سبب بنتی ہے ۔ جامعہ القاھرہ کے "کلیۃ الطب" من آشوب چشم کے پروفیسر ڈاکٹر عصمت صبری ان تحقیقات پر بھروسہ کرتے ہیں جو پسماندہ بچوں کے مختلف نمونوں کی تحقیقات پر جاری کی جاتی ہیں ۔ان کے سامنے یہ بات آئی ہے کہ خون میں سیسہ کی مقدار (80) مائیکرو گرام سے بھی بڑھی ہوئی ہے ۔اسی طرح ان کے سامنے یہ بات اس وقت آئی جب اس نے بہت سی ماؤں کے الٹرا ساونڈ کیئے کہ ہڈیوں میں مرکب سیسہ کی مقدار بھی پائی گئی ہے ۔یہ مادہ حاملہ کے بطن میں جنین پر لپٹی جھلی میں سے ہوتا ہوا اس بچے تک پہنچ جاتا ہے ۔ تو اس طرح یہ سیسے کا زہریلا مواد بچے تک پہنچ کر اس کی ذہنی پسماندگی کا باعث بنتا ہے ۔

    جامعہ الازھر میں شعبہ طب برائے امراض چشم کے پروفیسر ڈاکٹر اسامہ خاطر نے دونوں نمونوں پر عملی تجربات کیے ہیں۔پہلا نمونہ تو ایسے سرمہ کا ہے جسے مغربی صحرا کے ایک خاص پتھریلے علاقے سے لایا جاتا ہے کہ جس کے پتھروں کو بڑی اچھی طرح پیسا جاتا ہے جسے بعد میں"اثمد" سرمے کے نام سے معروف کروایا جاتا ہے ۔

    جبکہ دوسرا نمونہ عام پائے جانے والے ہندی سرمہ کا تھا ۔ جسے "السرای" سرمہ سے ملا کر بنایا جاتا ہے ۔ تو ان دونوں تجربات کا نتیجہ۔۔۔۔ڈاکٹر اسامہ خاطر کے بقول ۔۔۔۔ہوش ربا اور دل دہلا دینے والا تھا ۔ سیسہ کی مقدار ۔۔۔۔اور وہ ایک ایسا مادہ ہے جو جسم میں جمع شدہ یا اپنی تہہ دار حالتوں میں چمٹا ہوتا ہے ۔۔۔۔"اثمد" کے ساتھ اس کی نسبت 8،38٪ ہوتی ہے جبکہ "السرای" کے ساتھ اس کی نسبت صرف 2٪ ہوتی ہے۔

    جامعہ القاہرہ میں شعبہ امراض چشم کے پروفیسر ڈاکٹر طہ الشیوی مزید یہ اضافہ کر رہے ہیں ۔ کہ الکحل العربی دوران خون میں کمی پیدا کرنے کے علاوہ اعصابی کھینچاؤ ،مرگی اور ہڈیوں کی تکالیف بھی پیدا کرتا ہے ۔

    یہ رہیں باتیں اطبا ء کی ۔ اس سلسلے میں علما ء کیا فرماتے ہیں ؟

    علما ء اکرام کے فیصلے

    تمام جہانوں کے سب علما ء کے امام اور سردار تو رسول اللہ ﷺ ہیں اور وہی تمام ڈاکٹروں میں سب سے بہترین ڈاکٹر ہیں ۔ صحیح حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا :

    اکتحلوا بالاثمد فانہ یجلو البصر وینبت الشعر

    "اثمد سرمہ استعمال کیا کرو کیونکہ وہ بینائی کو تیز کرتا ہے اور بالوں کو اگاتا ہے"(الترمذی ، ابواب الالباس )

    اور دوسری روایت میں یوں آتا ہے :

    (ان خیر اکحالکم الاثمد)

    "تمہارے سب سرموں میں سے بہترین سرمہ اثمد ہے"
    اور جو ابھی ڈاکٹروں نے "اثمد" کے متعلق ذکر کیا ہے وہ ملاوٹ شدہ ہونے پر محمول کیا جائے گا ۔ جیسے ڈاکٹر(عصمت) نے اشارہ کیا ہے ۔ اصلی اور صاف شفاف اثمد مراد نہیں ہے ۔جس پر ہمارے نبی اکرمﷺ نے ہمیں رغبت دلائی ہے ۔

    ہمارے شیخ علامہ محمد بن عثیمین ؒ سے مراد مردوں کے سرمہ لگانے پر استفسا ر کیا گیا تو انہوں نے یوں جواب دیا:

    "سرمہ لگانے کی دو قسمیں ہیں،ایک ہے بصارت کو تقویت دینے ،آنکھ کے پردوں کو جلا بخشنے اور انہیں صاف ستھرا کرنے کے لیے سرمہ لگانا ، اظہار زینت کا کوئی ارادہ نہ ہو تو اس قسم کا سرمہ لگانے میں کوئی حرج نہیں ہے بلکہ یہ کام تو کرنا چاہیے کیونکہ نبی کریم ﷺ اپنی دونوں آنکھوں میں سرمہ لگایا کرتے تھے ۔ خاص طور پر جب وہ اصلی اثمد ہو ۔اور سرمہ لگانے کی دوسری قسم یہ ہے کہ اس سے مقصود صرف اظہار زینت و زیبائش اور نمائش جمال ہو اور یہ صرف عورتوں کے لیے خاص ہے کیونکہ عورت سے یہی امر مقصود ہے کہ اپنے شوہر کے لیے خوبصورت بن کر رہے۔"
    لیکن اس سلسلے میں ملاوٹ شدہ اور نقلی اقسام سے بچنا چاہیے۔

اس صفحے کی تشہیر