تعارف ۔۔۔علما ء و محدثین۔۔سید لبید غزنوی

سیّد لبید غزنوی نے 'متفرق موضوعات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏17 اپریل 2017

  1. سیّد لبید غزنوی

    سیّد لبید غزنوی رکن

    مراسلے:
    267
    تعارف ان عظیم لوگوں کا جن کی عظمت روز روشن کی طرح عیاں ہے ۔۔۔
    اس لڑی میں ۔۔آپ حضر ات کو ان لوگو ں سے متعارف کروایا جائے گا جنہوں نے اسلام کی خدمت کی ہے ۔۔اور ان کی کاوشیں مسلم ہیں ۔۔
    امید ہے یہ ایک نفع بخش لڑی ہو گی اور آپ حضرات اس سے فائدہ اٹھائیں گے ۔۔
    اور خصوصی توجہ سے نوازیں گے ۔۔۔
    تو اس سلسلے کا پہلا تعارف آج پیش کرتا ہوں ۔۔


    نام :سید بدیع الد ین شاہ راشدی
    ولدیت: سید احسان اللہ شاہ راشدی
    ولادت: سید بدیع الد ین شاہ راشدی16مئی1926ء بمطابق1342ہجری میں گوٹھ فضل شاہ(نیو سعید آباد)ضلع حیدرآباد سندھ میں پیدا ہوئے۔
    ابتدائ تعلیم وتربیت :دینی تعلیم کا آغاز اپنے مدرسہ(دارالارشاد)سے کیا۔یہ انکا آبائ مدرسہ تھا۔3ماہ قلیل مدت میں حفظ القرآن کی تکمیل کی۔اس کے بعد اپنے والد محترم سید احسان اللہ شاہ راشدی سے تفسیر حدیث اور فقہ کا علم حاصل کیا۔
    اساتذہ:اپنے والد گرامی سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد جن اساتذہ سے علم حاصل کیا انکی تعداد 18 ہے۔اور وہ سب کے سب حنفی المسلک تھے۔انکے بعد جن سے استفادہ کیا انکے نام درج ذیل ہیں۔
    1:مولانا سید محب اللہ شاہ راشدی
    2:مولاناابوالوفاء امرتسری
    3:مولاناحافظ عبداللہ محدث روپڑی
    4:مولاناابو اسحاق نیک محمد امرتسری
    5:مولاناابو سعیدشرف الدین محدث دہلوی
    درس و تدریس:فراغت کے بعد اپنے گاؤں میں درس وتدریس کا سلسلہ جاری کیااور پھر اپنی ساری زندگی درس وتدریس ‘وعظ و تبلیغ ‘دعوت وارشاد اور تصنیف وتالیف میں بسرکردی۔آپ کے تلامذہ کی فہرست کافی طویل ہے۔
    دعوت کتاب و سنت اورتردید شرک وبدعت کے سلسلہ میں ٖٖٖآپ مصائب وآلام سے بھی دوچار ہوئے ہیں لیکن آپ کے پایہ استقلال میں زرہ بھر بھی لغزش نہ آئی۔آپ تقلیدیان احناف کے خلاف سینہ سپر رہے۔
    سید بدیع الد ین شاہ راشدی بلند پایہ کے مناظر تھے آپ نے احناف سے بہت مناظرے کیے ۔ آپ صرف مناظر ہی نہیں بلکہ اعلی پایہ کے خطیب اور مقرر بھی تھے۔مدینتہ النبی میں کئی سال مقیم رہے اور وہاں درس حدیث دیتے رہے ۔ آپ ایک بلند پایہ عالم دین تھے تمام اسلا می علوم پر آپکی نظر وسیع تھی۔
    کثیر المطالعہ تھے اور تصنیف و تالیف کا شوق بھی رکھتے عربی اردو اورسندھی میں کتابیں لکھی ہیں۔
    وفات : سید بدیع الد ین شاہ راشدی 8جنوری 1996ء میں کراچی میں فوت ہوئے۔اور اپنے آبائی گاؤں گوٹھ فضل شاہ (نیو سعید آباد)میں دفن ہوئے۔
    حوالہ:تذکرۃالنبلاء فی تراجم العلماء از عبدالرشید عراقی
  2. سلیمان

    سلیمان منتظم

    مراسلے:
    1,590
    مزید مراسلات کا انتظار ہے.
  3. سیّد لبید غزنوی

    سیّد لبید غزنوی رکن

    مراسلے:
    267
    حاضر ہیں جناب ہم ۔۔۔
  4. سیّد لبید غزنوی

    سیّد لبید غزنوی رکن

    مراسلے:
    267

    نام : محب اللہ شاہ راشدی
    کنیت:ابوالقاسم
    ولدیت: سید احسان اللہ شاہ راشدی
    ولادت:2اکتوبر1921ءبمطابق 29محرم 1340ہجری میں گوٹھ پیر جھنڈا میں پیدا ہوئے۔
    تعلیم وتربیت:ابتدائی تعلیم اپنے والد محترم سید احسان اللہ شاہ راشدی سے حاصل کی بعدازاں مولانا ابوالوفاءامرتسری سے اجازہ حدیث حاصل کیا۔مولانا عبدالحق محدث بہاولپوری سے بھی اکتساب فیض کیا۔ مولانا شرف الدین دہلوی اور حمیدالدین سے بھی علم حاصل کیا۔
    درس وتدریس: فراغت کے بعد اپنے آبائی گاؤں میں درس وتدریس کا سلسلہ جاری کیااور پھر اپنی ساری زندگی درس وتدریس میں بسر کر دی۔آپ کے تلامذہ کی تعداد بہت زیادہ ہے۔
    تصنیف وتالیف:سیدمحب اللہ شاہ راشدی تصنیف و تالیف کا بھی عمدہ ذوق رکھتےتھےاردو عربی میں کتابیں لکھی ہیں تفضیل حسب ذیل ہے۔
    1۔حواشی صحیح بخاری (عربی)مولانا عطاءاللہ حنیف بھوجیانی اور مولانا ارشادالحق اثری نے اس پر بہترین تقاریز لکھیں ہیں۔
    2۔القواطع الرحمانیہ فی الرد علی القادنیہ
    3۔المنھج السوی فی الملاحظات علی تفسیر الغزنوی (مولانا فضل احمد غزنوی حیدآبادی کی تفسیری تحریروں پر تبصرہ)
    4۔اظہار النوایہ الواقعہ فی کتاب پیغام ہدایت
    5۔السعی الاشیث فی تحقیق اللقب بأ ہل الحدیث
    مولانا سید محب اللہ شاہ راشدی کا کتب خانہ نادر کتابوں پر مشتمل ہے۔جسمیں نادر ونایاب مخطوطات کے علاوہ عربی تفاسیر ،شروح حدیث ،اسماءالرجال اور فقہ اربعہ پر بےشمار کتابیں موجود ہیں۔
    وفات:سید محب اللہ شاہ راشدی کا انتقال 21 جنوری 1995ء کو ہوا۔
    حوالہ:تذکرۃالنبلاء فی تراجم العلماء از عبدالرشید عراقی

  5. سیّد لبید غزنوی

    سیّد لبید غزنوی رکن

    مراسلے:
    267

    نام: مولانا ابوالوفاءثناءاللہ امر تسری
    ولدیت: مولانا ابوالوفاء ثناءاللہ امرتسری صاحب کے والد صاحب کا نام خضر تھا۔
    ولادت:انکی ولادت جون 1868ء بمطابق 1277ہجری میں ہوئی۔
    تعلیم تربیت:مولانا کے والد کی وفات تب ہوئی جب ابھی وہ صرف سات سال کے تھے۔انکے بھائی نے انکو رفوگری پر لگا دیا انکی عمر جب چودہ سال ہوئی تو والدہ بھی وفات پا گئیں ۔اسی سال مولانا کو پڑھنے کا شوق ہوا۔اور مولانا احمداللہ رئیس کے مدرسہ تائید الاسلام میں داخل ہو گئے اور درس نظامی کی ابتدائی کتابیں پڑہیں۔اسکے بعد مولانا نے وزیرآباد میں حافظ عبدالمنان محدث وزیرآبادی سے تفسیر حدیث فقہ اور دوسرے علوم حاصل کیے۔وزیر آباد سے تکمیل کے بعد سید نزیر حسین دہلوی کی خدمت میں حاضر ہوے اور استادکی سند دکھا کر تدریس کی اجازت حاصل کی دہلی سید نزیر حسین دہلوی سے اجازہ لے کر سہارن پور مدرسہ مظاہر العلوم میں پہنچے اور کچھ عرصہ یہیں قیام اور پھر دیوبند تشریف لے گئے۔دیوبند میں مولانا محمودالحسن سے علوم عقلیہ ونقلیہ اور فقہ وحدیث کی تعلیم حاصل کی۔دیوبند سے فراغت کے بعد مولانا ثناءاللہ کان پور مدرسہ فیض عام چلے گئے اور وہاں احمدحسن کان پوری علم معقول ومنقول کے علاوہ حدیث میں بھی استفادہ کیا۔
    درس وتدریس:کان پور سے فراغت کے بعدمولانا اپنے وطن امرتسر واپس آئے اور مدرسہ تائید الاسلام میں جہاں سے تعلیم کا آغاز کیا تھا درس وتدریس مامو ر ہوئے۔
    کلمات ثناء:شیخ الاسلام مولانا ابوالوفاءثناءاللہ امر تسری جیسی جامع کمالات ہستی صدیوں میں کہیں پیدا ہوتی ہے۔مولانا ثناء اللہ پوری ملت اسلامیہ کامشترکہ سرمایہ تھے۔وہ بیک وقت مخالفین اسلام کے چوطرفہ حملوں کا جواب دیتے تھے اور فضائے ہندوپاک پر عظمت اسلام اور وقار دین محمدی کاپھریرا لہراتے تھے ۔
    سید سلیمان ندوی نے مولانا کی تعریف کرتے ہوئے لکھا ہے (اسلام اور پیغمبر اسلام خلاف جس نے بھی زبان کھو لی اور قلم اٹھایا اس کے حملے کو روکنے کے لئے ان کا قلم شمشیر بے نیام ہوتا تھا اور اسی مجاہدانہ خدمت میں انہوں عمر بسر کی۔
    مولانا ابوالوفاءثناءاللہ امر تسری بیک وقت مفسر ،محدث اور مقرر تھے معلم بھی تھے ادیب بھی تھے دانشو ر ،خطیب،نقاد،صحافی، مبصر ،متکلم تھے اور فن مناظرہ کے تو امام تھے۔ سیاسیات ہند میں انکی خدمات آب زر سے لکھے جانے کے لائق ہیں۔اللہ تعالی نے آپ کو ہمہ جہت خوبیوں سے نوازاتھا توکل ،زہدو ورع،حلم وصبر،تقویٰ واتقاء،دیانت وامانت،عدالت وثقاہت،متانت و سنجیدگی،حق گوئی و بےباکی اور حاضر جوابی میں اپنی مثال نہیں رکھتے تھے آپ نے دینی قومی ملی اور سیاسی خدمات انجام دیں۔
    مولانا ابوالوفاءثناءاللہ امر تسری اسلام کی سربلندی اور پیغمبر اسلام کے دفاع میں سرگرم رہے اور ساری زندگی دین کی خالص اشاعت کتاب و سنت کی ترویج،شرک وبدعت تردید وتوبیخ اور ادیان باطلہ کا رد کر نے میں گزاری۔اللہ نے پنجاب کی سرزمین سے ایک ایسا عظیم مرد مجاہدہمیں عطاء کیا جس نے ایک جھوٹے نبی کی سرکوبی کی۔
    تصنیفات و تالیفات: مولانا ابوالوفاءثناءاللہ امر تسری رد عسائیت میں اسلام اور مسیحیت لکھی (اس کتاب کی اہل علم وقلم بہت تعریف کی ہے ۔اور مولانا کو خراج تحسین پیش کیا ہے)
    تردید آریہ میں ایک کتاب ( تغلیب الاسلام) کےنام سے لکھی ۔ایک اور کتاب (تبرءاسلام) کے نام سے لکھی۔رد قادنیت میں بھی کتابیں لکھیں۔ مولانا حبیب الرحمان نے ایک مجلس میں مولانا مرحوم کے بارہ میں فرمایا....ہم لوگ 30 سال میں بھی اتنی معلومات قادیانی فتنہ کے بارہ حاصل نہیں کر سکتے جتنی معلومات اور واقفیت مولانا ثناءاللہ کو ہے۔ مولانا نے تفسیر نویسی میں بھی کام کیا ہے اور اہل تقلید پر علمی تنقید کی ہے اور انکے باطل نظریات کا قلع قمع کیا ہے ۔تفسیر پر (تفسیر ثنائی ) کے نام سے تفسیر لکھی ہے
    ایک اور تفسیر اردومیں ( تفسیر بالرائے)لکھی اس تفسیر میں مولانا نے تفاسیر و تراجم قرآن قادیانی ،چکڑالوی،بریلوی اور شیعہ وغیرہ کی اغلاط کی نشاندہی کی ہے اور ساتھ ساتھ اصلاح بھی کی ہے۔ مولانا کی تصانیف ،رسائل و جرائد کی تعداد کم و بیش 174ہے۔
    وفات: مولانا ابوالوفاءثناءاللہ امر تسری 15مارچ 1948ءسرگودھا میں فوت ہوئے۔
    حوالہ: (تذکرہ النبلاء فی تراجم العلماء از عبدالرشید عراقی )

  6. سیّد لبید غزنوی

    سیّد لبید غزنوی رکن

    مراسلے:
    267
    نام: مولانا ابوالکلام آزاد کا نام محی الدین تھا تاریخی نام فیروز بخت ہے۔
    ولادت:17اگست 1888ءمیں مکہ معظمہ میں ہوئی۔
    تعلیم وتر بیت:14سال کی عمر میں جامعہ ازہر مصر سے مشرقی علوم کا نصاب پڑھا ۔
    درس تدریس وتصنیفات: مولانا ابوالکلام آزاد کی ادبی زندگی کا آغاز 15 سال کی عمر میں ہوا۔20 نومبر 1903ء میں لسان الصدق کے نام سے ایک ماہوار رسالہ جاری کیا۔ مولانا حالی کی نظر سے یہ رسالہ گزرا انہوں نے بہت تعریف کی۔مولانا ایک اخبار الہلال کے نام سے کلکتہ سے جاری کیا۔
    مولانا ابوالکلام آزاد ایک تفسیر (ترجمان القرآن)کے نام سے لکھی۔اسکو تفسیر کی بجائے ترجمہ و حواشی کہنا زیادہ مناسب ہو گا آپ کے بعض حواشی ان کی مفسرانہ بصیرت آئینہ دار ہیں۔اس کے علاوہ مولانا نے تذکرہ ،مسئلہ خلافت اور جزیرۃ العرب ،قول فیصل ، جامع الشواہد فی دخول غیر المسلم فی المساجد، غبار خاطر ،کاروان خیال اور ،India wins freedom،لکھی ہیں۔
    کلمات ثناء:مولانا ابوالکلام ٖآزاد کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔
    امراض ملت کے ماہر طبیب،فلسفیانہ اور مجتہدانہ دماغ کے حامل ،جنگ آزادی کے عظیم رہنما، استقامت کے پہاڑ، عفوو حلم کے پیکر،مختلف علوم فنون کےامام ،مجتہد، دانائے راز،مفسر قرآن،محدث،مؤرخ و محقق، جادو بیاں مقرر، شعلہ نوا خطیب،مخلص وبے لوث زعیم تھے ۔زہانت و ذکاوت،فہم وفراست، فکر و تدبر کی گہرائی،دیدہ وری اور نکتہ رسی میں کوئی انکا معاصر نہ تھا۔علوم اسلامیہ کا بحر زخار تھے اور علم وفضل کے اعتبار سے اپنے دور انکا کوئی ہم پلہ نہ تھا۔مولانا ابوالکلام صرف سیاست میں ہی عبقری نہ تھے بلکہ علم میں بھی کامل اور فلسفہ و کلام کے بھی بادشاہ تھے ۔خطابت جلال وجمال کی حسین آمیزش،طرز نگارش والہانہ بھی اور عالمانہ بھی اسمیں نقل بھی عقل بھی اور نظم ونثر میں بے مثل... ...مختصر یہ کہ مولانا آزاد جیسی جلیل القدر، نادرہ روزگار اور عہد آفرین ہستی مدتوں بعد پیدا ہوتی ہے۔جو افکار وتصورات کی دنیا اور قوموں و ملتوں کی زندگی میں انقلاب برپا کر دیتی ہے۔اور تاریخ کا نیا دور شروع کرتی ہیں اور تعمیر وترقی کی راہ میں اپنے نقش قدم رہنمائی کیلئے چھوڑ جاتی ہیں۔
    وفات:مولانا ابوالکلام آزاد 22 فروری 1958ءکو بروز ہفتہ دہلی میں انتقال فرمایا انکو جامع مسجد لال قلعہ کے درمیان پریڈ گراؤنڈ میں سپردخاک کیا گیا۔
    حوالہ: (تذکرۃ النبلاء فی تراجم العلماء از عبدالرشید عراقی )

اس صفحے کی تشہیر