بیان اور بیان حلفی کا فرق

نیازی نے 'سیاست و عدالت' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏4 اکتوبر 2017

  1. نیازی

    نیازی رکن

    مراسلے:
    223
    یوں سمجھیں کہ

    شہباز شریف کا زرداری کو سڑکوں پر گھسیٹنے کا بیان۔
    عمران خان کا 35 پنچروں کا بیان۔
    نواز شریف کا جناب سپیکر یہ ہیں وہ ذرائع کا بیان۔۔
    زرداری کا وعدہ قرآن و حدیث نہیں کہ بدلا نہ جا سکے کا بیان۔
    وغیرہ جیسے بیانات قانونا صرف بیان تھے بیان حلفی نہیں تھے اسی لئے قوم کے سامنے دسیوں بار اس قسم۔کے جھوٹ بولنے کے باوجود سب سیاست دان آج بھی صادق ہیں۔۔

    جبکہ نواز شریف کا اپنے اثاثوں کی بابت الیکشن کمیشن کودیا گیا بیان قانون کی نظر میں بیان حلفی تھا اسی لئے اس میں محض دس ہزار کی قابل وصول تنخواہ کا نہ بتانا بھی جھوٹ سمجھا گیا اور اسے نا اھل کر دیا گیا۔۔

اس صفحے کی تشہیر